1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فیس بک: دارالافتاء

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏دسمبر 10، 2017۔

  1. ‏دسمبر 10، 2017 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    https://www.facebook.com/groups/daruliftawalirshad/

    دارالعلوم کورنگی کراچی والوں کی طرف سے فیس بک پر یہ آن لائن دارالافتا پیج کا اجرا کیا گیا ہے۔ کیا اسی قسم کا پیج محدث گروپ کی طرف سے قائم کیا جاسکتا ہے؟

    مجھے معلوم ہے کہ اس قسم کے پیجز کو چلانا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لئے آن لائن فعال دینی ماہرین اور ان کے مسقل معاونین کو ہمہ وقت چوکس رہنا پڑے گا۔ فضول قسم کے بحث و مباحثوں سے بھی واسطہ پڑے گا۔ وغیرہ وغیرہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فیس بک جس تیزی سے نوجوانوں میں مقبول ہورہا ہے اور نوجوانوں کا بیشتر وقت فیس بک پر کٹتا ہے، ایسی صورتحال میں اس میڈیم کو یونہی انفرادی لوگوں پر چھوڑنے کی بجائے اگر ٹیم ورک کے ساتھ کام کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک قرآن و حدیث کا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ اسی پیج میں دیئے جانے والے جوابات کے ذریعہ محدث فتوی اور فورم تک عام لوگوں کی رسائی میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک انفرادی تجویز ہے، جس سے اتفاق بھی کیا جاسکتا ہے اور عدم اتفاق بھی۔
     
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 10، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,340
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بہت سے فتوی گروپ موجود ہیں. بس فرق یہ ہے کہ ان گروپس میں مفتیان کرام کا تعلق علم سے نہیں جہل سے ہے....... ابتسامہ
     
  3. ‏دسمبر 10، 2017 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    پھر تو فیس بک پر ایسے فتویٰ گروپ کا ہونا اور بھی ضروری ہے، جن کا تعلق جہل سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کے علم سے ہو
     
    • متفق متفق x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 10، 2017 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,340
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    لیکن میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اس وقت علماء سے زیادہ جوڑنے کی ضرورت ہے. کوشش یہ کی جائے کہ عوام صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائے.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 11، 2017 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    آپ کی دونوں باتیں درست ہیں۔

    لیکن لوگوں کو علما سے جوڑنے کی ضرورت کب نہیں رہی۔ علمائے کرام مساجد، دارالعلوم اور اپنے دیگر مراکز میں سدا سے موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے عوام الناس نے ان مراکز کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب صرف کل وقت طلبا ہی ان مراکز سے اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ جبکہ عوام الناس بوجوہ ان مستقل اداروں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عوام الناس کے دلوں میں علمائے کرام کی عزت نہیں یا وہ علمائے کرام کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو عوام کبھی بھی علمائے کرام کی کال پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں باہر نہ نکلتے۔

    مسئلہ یہ ہے کہ اب عوام کا موڈ تبدیل ہوچکا ہے۔ اب وہ اپنے درمیان علمائے کرام کو دیکھنا، سننا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب حقیقی علما کی جگہ "نام نہاد علما" ان کے درمیان پہنچتے ہیں تو وہ خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں۔ پھر یہی عوام ان نام نہاد علما کے کہنے پر جلسہ جلوس بھی نکالتے ہیں، دھرنا بھی دیتے ہیں، پولیس کی لاٹھیاں بھی کھاتے ہیں، جیل بھی جاتے ہیں۔ عوام یہ سب کچھ "علمائے کرام کی محبت" ہی میں تو کرتے ہیں۔ تو کیا عوام کے اس موجودہ رویہ کو دیکھتے ہوئے حقیقی علما کا فرض نہیں کہ وہ بھی اپنے تخت سے نیچے اتر کر عوام کے ہجوم میں آن کر ان کی حقیقی رہنمائی فرمائیں۔

    یہ بھی درست ہے کہ مسلمانوں کو صرف سوشیل میڈیا کی حد تک محدود نہیں رہ جانا چاہئے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج عوام کی بھاری تعداد اپنا سب سے زیادہ وقت، فیس بک پر گزار رہی ہے۔ یہاں معمولی معمولی لوگوں کے ہزاروں فالوورز ہیں جبکہ نمایاں اور مشہور لوگوں کے لاکھوں۔ چنانچہ میں نہیں سمجھتا کہ حقیقی علما کو یہ میدان خالی چھوڑ دینا چاہئے۔ گو انفرادی طور پر بہت سے علما اس میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ لیکن ان کی انفرادی کاوشیں، عوام الناس کی دینی پیاس بجھانے کے لئے انتہائی ناکافی ہیں۔ پھر اس میڈیم کے ذریعہ دین دشمن اور نام نہاد علما عوام کو جو غلط تعلیم دے رہے ہیں، ان کا تدارک بھی نہیں ہوپاتا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف مسالک سے محاذ آرائی کئے بغیر سوشیل میڈیا ہی کے ذریعہ عوام تک درست دینی تعلیم اور فتاویٰ پیش کئے جائیں۔ آج کی عوام بہت ذہین ہے۔ ان کا آئی کیو لیول بھی بہت ہائی ہے۔ وہ درست اور غلط دونوں قسم کے معلومات کی عام دستیابی کی صورت میں بہت جلد درست معلومات کو قبول اور غلط معلومات کو رد کردیتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے سامنے صرف اور صرف غلط دینی معلومات ہی تواتر کے ساتھ پیش کئے جاتے رہیں تو پھر وہ انہی کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 11، 2017 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,150
    موصول شکریہ جات:
    2,634
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مجھے تو دار العلوم کورنگی والوں کا یہ کام پسند آیا!
    فیس بک ، ٹويٹر وغیرہ اس دور جدید کے ابلاغ کے ذرائع ہیں، جیسے اخبار و رسائل میں علماء سے سوال و جوب کیئے جاتے ہیں، اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہیئے!
    جامع ابو بکر کراچی والوں کو ذرا ہلائیں جلائیں! یہ کام فیس بک پر کسی جامع سے کیا جانا بہتر ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں