1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتل حسين يزيد نہيں بلکہ کوفي شيعہ ہيں , يزيد بريء ہے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏جون 16، 2013 #91
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    انہوں نے تو مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لئے شرائط پر صلح کی تھی اس لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ معاویہ کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے۔
     
  2. ‏جون 16، 2013 #92
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تو کس نے مشورہ دیا تھا حضرت حسن کو صلح کرنے کا۔۔۔
    یہ ایک سوال ہے سرکشی نہیں۔۔۔ ایسا نہ ہو آپ ہم پر ناصبیت کا خطاب چسپاں کردیں۔۔۔
     
  3. ‏جون 16، 2013 #93
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    یہ ان کی اپنی بصیرت تھی انہوں نےجو مناسب سمجھا کر دیا ۔
     
  4. ‏جون 16، 2013 #94
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ان کی اس بصیرت کو اللہ تعالیٰ کی موافقت حاصل تھی، جس کی تعریف نبی کریمﷺ نے بہت پہلے ہی فرما دی تھی:

    قالَ الحسَنُ : ولقدْ سَمِعْتُ أبَا بَكْرَةَ يقولُ : رأيتُ رسولَ اللهِ ﷺ علَى المنْبَرِ، والحَسَنُ بنُ عليٍّ إلى جنبِهِ، وهوَ يُقْبِلُ علَى الناسِ مَرَّةً وعليهِ أخْرَى، ويقولُ: « إنَّ ابنِي هذا سيدٌ ، ولعَلَ اللهَ أنْ يُصْلِحَ بهِ بينَ فِئَتَينِ عَظِيمَتَينِ من المسلمينَ » ... صحيح البخاري
    سیدنا ابو بکرہ﷜ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ کو منبر پر دیکھا اور ان کے پہلو میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما موجود تھے، نبی کریمﷺ کبھی لوگوں کو دیکھتے اور کبھی حسن﷜ کو اور پھر فرمایا: ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، شائد کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرا دیں۔‘‘
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 16، 2013 #95
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہ بصرت اللہ وحدہ لاشریک نے آپ رضی اللہ عنہ کے والد کو کیوں نہیں دی؟؟؟۔۔۔
    یہ نقطہ اعتراض نہ سمجھا جائے قطعی طور پر کیونکہ حدیث پیش کی جاچکی ہے۔۔۔
    مگر پھر بھی مشکل کشا، مولا علی کے نام سے پکارے جانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ اس بصیرت سے کیونکر محروم رہے؟؟؟۔۔۔
     
    • متفق متفق x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 16، 2013 #96
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    پہنچی وہیں پہ مٹی جہاں کا خمیر تھا۔

    آپ یہ ثابت کریں کہ حضرت علی رض نے جتنی لڑائیاں اپنے دور خلافت میں لڑی ہیں ان میں سے کسی ایک میں پہل کی ہو ۔ آپ کے نزدیک بصیرت یہ ہے کہ ایک خلیفہ وقت جسے لوگوں نے اپنی مرضی سے چنا ہے وہ ایک ایسے آدمی کے سامنے ہتھیار ڈال دے جو نہ ذات میں اس جیسا نہ صفات میں اس کی مثل بلکہ دوسرے فریق کا مقصد صرف اور صرف حکومت حاصل کرنا ہے چاہے کتنی ہی گردنیں تن سے جدا ہو اسے کوئی پرواہ نہیں۔۔ کچھ ہوش کے ناخن لیں ۔ بات کرنے سے پہلے سوچیں تو صحیح کہ یہ بات کہاں تک پہنچی گی۔ اگر حضرت علی رض میں بصیرت نہیں تھی تو پھر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تربیت فرمائی تھی نعوذ باللہ اس تربیت میں کوئی اثر نہ تھا ۔ رافضیت کا رد کریں ضرور کریں لیکن اپنے ایمان کو بھی بچا کر رکھیں۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 16، 2013 #97
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    محترم آپ کی اس چار لائن کے جواب میں چالیس سوالات ہیں۔۔۔
    لیکن ہمیں اپنے موضوع میں ہی رہنا ہے۔۔۔
    بقول آپ کے
    مجھے بس یہ بتائیں کے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے
    جن کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہتھیار ڈالنا گوارہ نہیں کیا؟؟؟۔۔۔
    رہی خلیفہ بننے کی باتیں تو یہ دوسرا موضوع ہے۔۔۔
    اس کو ہم یہاں پر شامل نہیں کریں گے۔۔۔
    اب ذرا وہ بصیرت استعمال کیجئے جو آپ کو عطاء کی گئی ہے۔۔۔
    اورہاں مہاوا درست کرلیں۔۔۔
    پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 16، 2013 #98
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    مجھے تو کہیں نظر نہیں آیا کہ میرے ان دلائل کا جواب اس مضمون میں ہے مہربانی فرما کر نشاندہی فرمادیں شکریہ
     
  9. ‏جون 17، 2013 #99
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132


    ایک بار پھر انکار حدیث
    الخلافةُ في أمَّتي ثلاثونَ سَنةً ، ثمَّ مُلكٌ بعدَ ذلِكَ
    الراوي: سفينة أبو عبدالرحمن مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم المحدث:الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 2226
    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔''
    سنی کتب کے مطابق کس خلیفہ نے کتنے سال خلافت کی
    حضرت ابو بکر کی خلافت 2 سال 3 ماہ
    حضرت عمر کی خلافت 10 سال 6 ماہ
    حضرت عثمان کی خلافت 12 سال
    حضرت مولا علی علیہ السلام کی خلافت 4 سال 9 ماہ
    حوالہ : صحیح تاریخ السلام والمسلمین : صفحہ 168
    http://www.kitabosunnat.com/kutub-l...3067-sahih-tarekh-al-islam-wal-muslimeen.html
    اس طرح یہ خلافت کا عرصہ بنتا ہے 29 سال 6 ماہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خلافت 30 سال رہے گی میں 6 ماہ اب بھی باقی ہیں باقی کے 6 ماہ کس کے پاس خلافت رہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ باقی کے 6 ماہ خلافت حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس رہی جن کا آپ نے ذکر تک نہیں کیا اور ان 30 سالوں کے بعد یہ خلافت ملوکیت میں بدل گئی
    کیسا ہوا ناصبیت کا پردہ فاش !!! جواب کا انتظار رہے گا
     
  10. ‏جون 17، 2013 #100
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    مہاوا نہیں محاورہ ہوتا ہے آپ اپنی اردو درست کرلیں شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں