1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتل حسين يزيد نہيں بلکہ کوفي شيعہ ہيں , يزيد بريء ہے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏جون 16، 2012 #11
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    (1)‎‏
    yeh safah hazrat ali awr
    hazrat usman k mutalliq nahi lihaza is ka jawab mujh par lazim nahi. (2) ap ki pichla jawab sirf guman par mabni tha kya guman din me hujjat hai?(3) kisi shaksiyat ko us ke majmui tanazur me dekha jata hai. Hazrat Ali ka jannaty hona awr hazrat ammar k bare me mashhur hadis tujhe 1baghi jamat qatl kare gi niz wo kasir ahadis jo manaqibe ali me warid hai aqalmand ke liye kafi hai jabke yazid ke bare khud muhaddisin ne jo kaha ap jante hai.(4) harrah awr makkah par lashkar kashi to bhi baqi hai.
     
  2. ‏جون 16، 2012 #12
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    qsas ka mutalbah qatilun se nahi kiya jata. Yeh wazeh qarina hai ke us zamane ke log yazid ko in sari batun ka zeme dar samajhte the .isi liye kisi ne mutalba na kiya. Jaise hajjaj ka mamlah hai.
     
  3. ‏جون 16، 2012 #13
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یعنی آپ کے پاس جواب ہے ہی نہیں ۔

    آپ لوگوں کی باتیں بدگمانی ہیں بلکہ جھوٹ پرمبنی ہیں ، یزیرکوقاتل حسین قراردینا یا قتل حسین پر راضی کہنا جھوٹ ہے۔
    میں نے گمان نہیں بلکہ سوال کیا ہے کہ قصاص کا مطالبہ کیوں نہ کیا گیا ، اوراس کے جواب میں آپ نے آگے مان لیا کہ قصاص کا مطالبہ نہیں ہوا پھر یہی بات یزید کی براءت کی دلیل ہے، کیونکہ یزید کا قتل حسین سے کوئی تعلق نہیں اب اعتراض یہ تھا کہ پھر اسے نے قصاص کیوں نہ لیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ قصاص کا مطالبہ بھی نہ ہوا اوریہ اس بات کا ثبوت ہے ، قصاص کے حوالے سے بھی یزید کا کردار بے داغ ہے۔

    علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا انکار نہیں ہے جو آپ مناقب علی رضی اللہ عنہ کا حوالہ دے رہے ہیں ۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک عمل علی رضی اللہ عنہ کاہے اس پرکوئی اعتراض نہیں تو پھر وہی عمل یزید سے ہوا تو اس پراعتراض کیوں نہیں ۔
    بلکہ عمل کی یہ یکسانیت تو یزید رحمہ اللہ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے خلیفہ راشد علی رضی اللہ عنہ کی سنت کی پیروی کی ، اور خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کا حکم صحیح حدیث میں موجود ہے ، والحمدللہ۔

    اور اہل جمل پر لشکرکشی اور صفین میں خونریزی یہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟
    یزید رحمہ اللہ نے تو صرف مکہ ومدینہ کے چند لوگوں کے خلاف کاروائی کی جبکہ علی رضی اللہ عنہ نے تو مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کے خلاف کاروائی کی یہ سب کیا ہے؟؟؟؟؟؟
     
  4. ‏جون 16، 2012 #14
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    واہ !
    کیا خوب بات کہی !

    اگرقصاص کا مطالبہ قاتلوں سے نہیں کیا جاتا تو پیارے اس بات کا رونا کیوں روتے ہو کہ قاتلوں نے قصاص نہیں لیا ۔

    پیارے کچھ تو سوچھ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو۔
    اگرقاتلوں سے قصاص کا مطالبہ نہیں ہوتا تو کیا قاتلوں سے قصاص کا شکوہ بجاہے !!!!!!!

    یا للعجب !
    یہ کیسا جواب دے دیا آپ نے !
    ذرا سوچو کہ اگر قاتلوں سے قصاص کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تو قاتلوں سے عدم قصاص کا شکوہ کیا معنی رکھتا ہے !!!!!!!!
     
  5. ‏جون 16، 2012 #15
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    kufr tuta khuda khuda kar ke.
     
  6. ‏جون 16، 2012 #16
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جناب والا میری پچھلی پوسٹ کا مطلب یہ ہے کہ اگرآپ یزید کو قاتل حسین رضی اللہ عنہ مانتے ہیں تو پھر یہ شکوہ کیوں کرتے ہیں کہ اس نے قصاص نہیں لیا ؟؟؟

    آپ یہ شکوہ کرنے میں حق بجانب نہیں ہیں آپ کی ذمہ داری ہے کہ یزید رحمہ اللہ کا قاتل حسین رضی اللہ عنہ ہونا ثابت کریں۔
     
  7. ‏جون 16، 2012 #17
    Abdulallam

    Abdulallam مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2012
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    62
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    shekh muhtarm bahes bahut ulajh gai hai . Agar ap 1 1 point par bat kare to behtar hai. Ya phir yazid ki shkhsiyat par 1 naya safah shuru karen. Jis ka unwan ho hazrat yazid rahmatullah alaih salaf salihin ki nigah me.
     
  8. ‏جون 16، 2012 #18
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    آج سے تین دن تک میں سفر پررہوں گا ۔
    فی الحال ایک دوسرا موضوع پوسٹ کرکے مجھے سفر پر نکلنا ہے باقی باتیں تین چار دن کے بعد ۔
    والسلام
     
  9. ‏جولائی 03، 2012 #19
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    سے کہتے ہیں ناصبیت اور خارجیت کے معاویہ کے بارے میں بات ہو تو صحابی کا تقدس یاد آجاتا ہے اور جب باری آئے داماد رسول ص کی تو جو بکواس جس کے منہ میں آئے وہ کر دے ۔ لعنت ایسے منج پر ۔۔۔۔
    باقی جنگ جمل میں اماں عائشہ صدیقہ رض اپنے لشکر کو لے کر حضرت علی رض کے مقابلہ میں آئی تھی اور یہ جنگ دھوکے سے شروع کروائی گئی تھی کیونکہ اطراف کے لوگ دستبردار ہونے کے لئے تیار تھے اور اس جنگ کے بعد اماں اتنا روتی تھی کہ دوپٹہ بھیگ جاتا اور فرماتیں کہ کاش میں اس سے پہلے ہی اٹھا لی جاتی ان کو اپنے عمل پر پچھتاوا تھا ۔
    اور جنگ صفین تو نبی اکرم ص کے فرمان کے مطابق باغی لوگوں کے خلاف۔۔
     
  10. ‏جولائی 03، 2012 #20
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جنگ کا سبب کیا تھا اس سے بحث نہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس اس جنگ کی قوت تھی تو قاتلین عثمان سے قصاص کی قوت کیوں نہ تھی؟

    باٖغی لوگوں کی سرکوبی کے لئے بھی علی رضی اللہ عنہ کے پاس طاقت تھی لیکن قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی قوت نہ تھی۔



    اوریہ بھی کیا انصاف ہے کہ:

    علی رضی اللہ عنہ کی خلافت جسے امت کی ایک عظیم تعداد نے قبول نہیں کیا اس متنازع خلافت سے لوگ اختلاف کریں تو وہ باغی ہیں اوران سے لڑنے میں علی رضی اللہ عنہ حق بجانب ہیں۔

    لیکن یزیدرحمہ اللہ کی خلافت جسے پوری امت بشمول صحابہ کرام نے تسلیم کرلیا اس سے نہ صرف اختلاف کرنے والے بلکہ اس کے خلاف خروج کرنے والے بھی باغی نہیں ! اور یزید رحمہ اللہ کو کوئی حق نہیں ان کے خلاف کاروائی کرے۔


    اگریزیدرحمہ اللہ کے مخالفین باغی نہیں ہیں۔
    تو علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین بھی قطعا باغی نہیں ہیں۔

    نیز

    اگراہل شام کے خلاف کاروائی کرنے میں علی رضی اللہ عنہ حق پرتھے ۔
    تو اہل مدینہ ومکہ کے خلاف کاررائی کرنے میں یزید رحمہ اللہ بھی حق پرتھے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں