1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتل حسين يزيد نہيں بلکہ کوفي شيعہ ہيں , يزيد بريء ہے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏جولائی 06، 2012 #41
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    شکریہ،
     
  2. ‏جولائی 08، 2012 #42
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    اگر چند لوگوں نے نہ بھی ان کی خلافت کو تسلیم کیا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق رض کی خلافت کو بھی شروع میں سب نے تسلیم نہیں کیا تھا ۔
    باقی رہی اماں عائشہ صدیقہ رض کا حضرت علی رض کی بیعت نہ کرنا اس وجہ سے نہ تھا کہ وہ حضرت علی رض کو اس کے قابل نہ سمجھتی تھی بلکہ ان کا اپنا ایک نقطہ نظر تھا یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں انہیں اپنے اس موقف پر پچھتاوا ضرور تھا۔


    شام میں اگر صحابہ کرام رض موجود بھی ہو تو فیصلہ اکثریت پر ہوتا ہے اقلیت پر نہیں ۔
     
  3. ‏جولائی 17، 2012 #43
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    سب کے پاس دلائل ختم ہو گئے ہیں کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  4. ‏جولائی 18، 2012 #44
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا، تینوں باتیں درست نہیں اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، بنا بریں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق یزید سے حسن ظن رکھنے پر بھی ہوتا ہے۔
     
  5. ‏جولائی 18، 2012 #45
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    تو پھر یہ بتائیں کہ کوفہ اس کے زیر اثر تھا کہ نہیں ۔ اگر تھا تو اس نے اپنے گورنر کو کیا سزا دی کسی مستند حوالے سے ثابت کریں ۔ اگر سزا نہیں دی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ سب جانتا تھا اور اس کے کہنے پہ سب کچھ ہو ا۔ واقعہ کربلا کے بعد واقعہ حرہ اور خانہ کعبہ پر حملہ بھی آپ کے نزدیک ایسے جرائم نہیں کہ ہم اسے مجرم سمجھیں کچھ تو عقل سے کام لیں ایک بندے نے اپنے تین سالہ دور میں اللہ کی زمین کو ظلم و جور سے بھر دیا اور آپ کہتے ہیں حسن ظن رکھیں پھر فرعون اور نمرود کے بارے میں آپ حسن ظن رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. ‏جولائی 18، 2012 #46
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہ فرعون اور نمرود کیا مسلمان تھے؟؟؟۔۔۔
     
  7. ‏جولائی 18، 2012 #47
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اگر ایسا ہوتا تو آج تک یہ رافضی اور شیعہ حضرات جو یزید رحمہ اللہ علیہ کو اپنی سازش کا حصہ بنانا چاہ رہے ہیں وہ کب کے کامیاب ہوچکے ہوتے۔۔۔ جہاں تک اس خوش فہمی کا تعلق ہے جو آپ کو پتہ نہیں کیسے ہوگئی تو وہ بھی دور کر لیجئے۔۔۔ یزید رحمہ اللہ علیہ کا ظالم ہونا یا ظلم کرنا کبھی بھی ثابت نہیں ہوپائے مگر رافضیت اور شیعت کی قلعی کھل چکی ہے صدیوں پہلے۔۔۔ اوپر آئمہ حضرات کے فرامین موجود ہیں۔۔۔ دوسری اہم بات یزیدرحمہ اللہ علیہ کو لیکر اعتراض کرنے والے پہلے گروہ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چل جائے گا کے یہ اس گھتی کا سرا کس کےہاتھ میں ہے آپ کی بات ہورہی ہے۔۔۔ لہذٰا آپ اپنی حد میں رہیں اور ہمیں اپنی حد میں رہنے دیں کیونکہ ہر فورم کے کچھ اصول وقوانیں ہوتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کے مجھے ان کا سامنا کرنا پڑے جیسے اللہ کے بندے کے ساتھ ہوا۔۔۔ شکریہ۔۔۔
     
  8. ‏جولائی 18، 2012 #48
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    ِیزید حمہ اللہ علیہ کو فی الواقع حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے مؤاخذہ کرنا اور انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کردینا چاہیے تھا۔ لیکن جس طرح ہر حکمران کی کچھ سیاسی مجبوریاں ہوتی ہیں جن کی بنا پر بعض دفعہ انہیں اپنے ماتحت حکام کی بعض ایسی کاروائیوں سے بھی چشم پوشی کرنی پڑ جاتی ہے جنہیں وہ صریحا ً غلط سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسی سیاسی مجبوری ہو جس کو یزید نے زیادہ اہمیت دے دی ہو گو قتل حسین رضی اللہ عنہ کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے تھی۔ اسے بھی آپ اس کی ایک غلطی شمارکرسکتے ہیں اور بس۔۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیجئے کہ ان کی خلافت کے مصالح نے انہیں نہ صرف قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے چشم پوشی پر مجبور کردیا بلکہ انہیں بڑے بڑے اہم عہدے بھی تفویض کرنے پڑے۔ حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ بھی کچھ کم المناک اور یہ جرم بھی کچھ عظیم جرم نہ تھا لیکن اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے خلاف کچھ نہ کرسکے۔
     
  9. ‏جولائی 18، 2012 #49
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,178
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جن باتوں کا جواب دیا جا چکا ہو، انہیں بار بار بلا وجہ دُہرانا صحیح نہیں۔
     
  10. ‏جولائی 19، 2012 #50
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    ظالم بادشاہ تو تھے یزید کے طرح۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں