1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاتل حسين يزيد نہيں بلکہ کوفي شيعہ ہيں , يزيد بريء ہے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏جون 14، 2013 #81
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    ماشاء اللہ امام غزالی کے فتوہ کا حوالہ دیا جارہا ہے یزید کے بارے میں تو کیا امام غزالی کے دیگر اقوال بھی آپ ایسی طرح قبول فرمالیں گے جیسے اس قول کو
     
  2. ‏جون 14، 2013 #82
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    آئیں قرآن کے بعد اصح ترین کتاب صحیح بخاری کی مدد سے دیکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے قتل میں یزید ملوث ہے یا نہیں

    حدثني محمد بن الحسين بن إبراهيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني حسين بن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا جرير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن محمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس بن مالك ـ رضى الله عنه ـ أتي عبيد الله بن زياد برأس الحسين ـ عليه السلام ـ فجعل في طست،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجعل ينكت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقال في حسنه شيئا‏.‏ فقال أنس كان أشبههم برسول الله صلى الله عليه وسلم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكان مخضوبا بالوسمة‏.‏
    ترجمہ از داؤد راز
    مجھ سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حسین بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سرمبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا (کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا) اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ انہوں نے وسمہ کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔
    صحیح بخاری :کتاب فضائل اصحاب النبی :حدیث نمبر : 3748
    اس حدیث میں بیان ہوا کہ یزید کے کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے پاس جب امام حسین علیہ السلام کا سر انور لایا گیا تو بد بخت عبیداللہ بن زیاد اس پر لکڑی سے مارنے لگا

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یزید نے امام حسین علیہ السلام کے قتل کا حکم نہیں دیا تو پھر کربلا کے سب سے قریبی گورنر کے پاس اس طرح سر انور پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس سے یہی ثابت ہورہا کہ یزید کی افواج نے اپنی کارکردگی یزید کے گورنر کو پیش کی اور دیگر تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد امام حسین کے سر مبارک کو گورنر کوفہ نے یزید کے سامنے پیش کرنے کے لئے شام روانہ کیا
    نوٹ : اس روایت میں امام بخاری نے الحسين ـ عليه السلام لکھا ہے اور داؤد راز نے اس کا ترجمہ حسین رضی اللہ عنہ کیا ہے کیا یہ بھی ایک قسم کی تحریف ہے؟

    یزید نے اپنے لشکر کے ذریعے سے اہل مدینہ کے دل میں خوف ڈالا نہ صرف خوف ڈالا بلکہ اہل مدینہ کی جان اور آبرو بھی یزیدی لشکر نے پامال کی یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اہل مدینہ کو صرف ڈرانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ڈرانے والوں کے لئے وعید اور اللہ اور اس کے فرشتتوں اور تمام لوگوں کی لعنت

    من أخافَ أهلَ المدينةِ أخافه اللهُ وعليه لعنةُ اللهِ والملائكةِ والناسِ أجمعينَ
    الراوي: السائب بن خلاد المحدث:الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 6/373
    خلاصة حكم المحدث: إسناد صحيح على شرط الشيخين


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرمارہیں ہیں کہ اہل مدینہ کو ڈرانے والے پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت اور یہاں اہل مدینہ کی جان مال آبرو کو پامال کرنے والے کو دعائیہ کلمات سے یاد کیا جارہا ہے کیا ایسی کو انکار حدیث کہا جاتا ہے ؟

    البدایۃ و النہایۃ میں اہل مدینہ کا ایک قول ابن کثیر نے نقل کیا ہے
    اہل مدینہ سے مروی ہیں کہ وہ یزید کو شراب پینے والا اور بعض بری حرکات کرنے والا سمجھتے تھے-
    البداية والنهاية، ج 8، ص 258، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الأولى 1408، هـ - 1988 م

    اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آتیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
    سورۃ الاحزاب: 14
    اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حرہ کی طرف اشارہ ہے جس میں یزیدی فوج نے مدینہ شریف کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا

    عن ابنِ عباسٍ قال جاء تأويلُ هذه الآيةِ على رأسِ ستين سنةً { وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لآتَوْهَا } يعني إدخالَ بني حارثةَ أهلَ الشامِ على أهلِ المدينةِ في وقعةِ الحَرَّةِ
    الراوي: [عكرمة مولى ابن عباس] المحدث:ابن حجر العسقلاني - المصدر: فتح الباري لابن حجر - الصفحة أو الرقم: 13/76
    خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح


    یزیدی افواج نے کعبۃاللہ کی کس طرح بے حرمتی کی یہ سب آپ جیسے صاحبان علم کو بتانے کی ضرورت نہیں یہ بھی ہر صاحب علم کو معلوم ہے کہ شہر مکہ کسی کے لئے حلال نہیں رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ

    فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ( إن الله حبس عن مكة الفيل ، وسلط عليهم رسوله والمؤمنين ، ألا وإنها لم تحل لأحد قبلي ، ولا تحل لأحد بعدي ، ألا وإنما أحلت لي ساعة من نهار ، ألا وإنها ساعتي هذه حرام

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے (شاہ یمن ابرہہ کے) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی

    الراوي: أبو هريرة المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم:6880
    الراوي: أبو هريرة المحدث:البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 2434
    الراوي: أبو هريرة المحدث:مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 1355
    الراوي: أبو هريرة المحدث:الألباني - المصدر: صحيح أبي داود - الصفحة أو الرقم: 2017
    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    کیا اب بھی یزید جیسے لعنتی شخص کو کوئی دعائیہ کلمات سے یاد کرکے ان احادیث کا انکار کرے گا ؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 14، 2013 #83
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    آپکے بیان کردہ دلائل میں جو بات ہے اسکا جواب اسی مضمون میں موجود ہے ۔
    اور ان میں سے کسی بھی دلیل سے یزید کا ملعون ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 14، 2013 #84
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    بہرام صاحب!۔۔۔
    روایات میں قصہ گوئیوں کی روش کے لئے یہ لنک ملاحظہ کیجئے۔
    محترم وہ دور گیا جب قصے کہانیاں سنا کر ہمدردیاں سمیٹی جایا کرتی تھیں۔۔۔
    اور نفرت کے بیج بوئے جاتے تھے آج ہمارے درمیان ایسے علماء اور شیوخ موجود ہیں۔۔۔
    جنہوں نے شیعہ رافضیوں کی حقیقت کا پردہ فاش کرکے اُمت کو اُنکی ناپاک اور غلیظ سازشوں سے محفوظ کردیا۔۔۔
    یہ اسی مشکل کشاء کا کرم ہے جو ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی اور اللہ کے بندے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رب ہے۔۔۔ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بالترتیب حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھم کو خلیفہ بنایا۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 15، 2013 #85
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53


    اگر ایسے علماء موجود ہیں جو رافضیوں کی حقیقت کا پردہ فاش کر رہے ہیں تو ایسے شیوخ بھی موجود ہیں جو ناصبیوں کی کرتوتوں کے بھید کھول رہے ہیں۔ باقی رہا حضرت معاویہ کا معاملہ تو وہ بادشاہ تھے خلیفہ نہیں تھے۔
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 15، 2013 #86
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    جناب اہل سنت کو ہمیشہ ہی ناصبی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہا ہے ۔یزید ہمارے لئے محترم شخصیت نہیں ہے لیکن حضرت امیر معاویہ صحابی ہیں اور متفقہ خلیفہ جن کو امام حسن اور حسین خلیفہ مان لیں آپ کے نہ ماننے سے کوئی اثر نہیں پڑتا ۔
     
  7. ‏جون 16، 2013 #87
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    کسی نے کیا خوب کہا ہے:

    معاوية رضي الله عنه هو الميزان في حب الصحابة
    کہ حبِ صحابہ کی کسوٹی سیدنا معاویہ﷜ ہیں۔

    http://www.saaid.net/Doat/Althahabi/7.htm
     
  8. ‏جون 16، 2013 #88
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ہاں یہ تو اچھی بات ہے ناصبیت کا بھی پردہ فاش ہونا چاہئے۔۔۔
    تاکہ شیعہ رافضیوں اور ناصبیوں کی علامات اور عقائد اہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے۔۔۔
    لوگوں کے سامنے آئیں۔۔۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
  9. ‏جون 16، 2013 #89
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

    اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رض سے فرمایا کہ
    لا یحبک الا مومن ولا یبغضک الا منافق
     
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 16، 2013 #90
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بہت کچھ فرمایا ہے۔۔۔
    میں آپ کی بات کی تائید کرتا ہوں۔۔۔
    لیکن التماس یہ ہے۔۔۔
    کہ جب عربی عبارت پیش کیا کریں تو اردو ترجمہ اور ساتھ حوالہ۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں