1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قادیانیت کے حق میں مولانا وحید الدین خاں سے ایک سوال !

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از marhaba, ‏اگست 14، 2013۔

  1. ‏اگست 14، 2013 #1
    marhaba

    marhaba رکن
    جگہ:
    قطر
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2011
    پیغامات:
    99
    موصول شکریہ جات:
    261
    تمغے کے پوائنٹ:
    68

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    قادیانیت کے حق میں مولانا وحید الدین خاں سے ایک سوال !
    مولانا وحید الدین خاں حفظہ اللہ من کل سوء ۔۔ سے ایک سوال کیا گیا، جس کا مقصد مرزا غلام احمد قادیانی کے نبئ برحق ہونے کا امکان نکالنا یا نبوت کے دعوی کے لئے راہ ہموار کرنا تھا ۔۔۔ مولانا نے اس کا جو جواب دیا ،اسے سنئے ۔۔۔ اورمذہب قادیانیت کے بارے میں مولانا کی رائے کا اندازہ لگائیے ۔۔۔۔ اور اپنے ذہن سے غلط وسوسے نکالئیے ۔۔۔۔ ورنہ اللہ کی پکڑ کا انتظار کیجئے ۔۔۔۔ مولانا نے جو جواب دیا اس جواب نے تو قادیانیت کی جڑ ہی کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اکثر لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت پر لکھتے رہتے ہیں حالانکہ سب سے پہلی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ پہلے یہ تو ثابت ہوکہ کیا رسول اللہ کے بعد کسی اور نبی کے آنے کا امکان ہے یا نہیں ؟؟؟ پہلے امکان تو ثابت ہو ۔۔۔۔ پھر آگے دعوائے نبوت کے بارے میں بات ہوگی ۔۔۔۔ جب امکان ہی نہیں تو دعوائے نبوت کیسا ؟؟؟ ۔۔۔ بغور سماعت فرمائیں اس تقریر کا Stress and Spirituality - Jan 1st 2012 دورانیہ 1:33:59 یہ تقریر جنوری 1، 2012 کی ہے ۔۔۔۔۔ اللہ ہمیں صحیح سوچ اور سمجھ دئے ۔۔۔ اور ایک دوسرے کے شر سے محفوظ رکھے ۔۔۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 15، 2013 #2
    لبید

    لبید مبتدی
    جگہ:
    ربوہ
    شمولیت:
    ‏فروری 23، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    سلام۔جناب اطلاعا عرض ہے کہ مولانا صاحب نے قرآن و حدیث کا مطالع نہیں کیا وگرنہ وہ یہ بات نہ کرتے کیوں کہ قرآن مجید نے فرمایا کہ اللہ یصطفی من الملائکۃ رسل ومن الناس ۔۔نیز نبی پاک صلعم فرما چکے کہ عیسی نبی اللہ آئے گا۔۔اب یا مولانا کی مانیں یا قرآن کی۔۔۔
     
  3. ‏ستمبر 16، 2013 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قرآن وسنت کی ہی مانیں ۔ لیکن اس طرح مانیں جس طرح ماننے کا حق ہے مطلب تمام نصوص کتاب وسنت کو مانیں ۔
    کچھ کو ماننا او رکچھ کو چھوڑ دینا یہ قرآن وسنت کی ماننا نہیں بلکہ شیوہ یہود ہے ۔ أفتؤمنون ببعض الکتب و تکفرون ببعض ۔
    حضور صلی اللہ کا ارشاد ہے انا خاتم النبیین لا نبی بعدی اس کو مانیں ۔ یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ آپ کے بعد سلسلہ نبوت کا امکان ہی ختم ہوگیا ہے ۔
    اور حضور بعد جو دعوی نبوت کرے اس کو کذاب و دجال قرار دیں جیساکہ حضور صلی اللہ نے احادیث میں پیشین گوئی فرمائی تھی کہ کچھ دجال و کذاب لوگ دعوی نبوت کریں گے ۔
    حضرت عیسی علیہ السلام قرب قیامت تشریف لائیں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں اور کروائیں گے ۔
    ان سے پہلے جو اپنے آپ کو عیسی قرار دے اس کو بھی جھوٹا قرار دیں ۔
    امام مہدی بھی قرب قیامت ہوں گے اور ان کی خاص علامات او رنشانیاں ہوگی مثلا ان کا قریش میں سے ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم نام ہوا وغیرہ لہذا اگر کوئی ہندوستان سے اٹھ کر مہدی ہونے کا دعوی شروع کردے تو پھر اس کو بھی اکذب الکاذبین کے لقب سے نوازیں ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 17، 2013 #4
    لبید

    لبید مبتدی
    جگہ:
    ربوہ
    شمولیت:
    ‏فروری 23، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    بالکل صیح قرآن نے فرما دیا کہ خاتم النبیین کوئی نبی نہ آئے گا۔۔مگر آپ خود فرما گئے کہ عیسی نبی اللہ آئے گا تو پتا چلا کی اس سے مراد ہے کہ آپکی مخالفت میں کوئی نہ آے گا بعدی کا صرف ۱ مطلب نہین ہوتا۔۔فبای حدیث بعد اللہ و آیاتہ یومنون۔۔۔۔

    جو مر گیا وہ تو آ ہی نہیں سکتا ۔۔اور ویسے بھی یہ اپکی اپنی سوچ ہے۔۔۔

    جناب آپکے معزز علماء بنفس خود سو سال پہلے کہہ چکے کہ یہ وقت ہے امام مہدی کے آنے کا۔۔۔،،یہ اعتراض تو کفار بھی کرتے رہے کہ نبی صلعم کی جگہ ان دو بستیوں میں سے کوئی نبی کیوں نا بن گیا
     
    • ناپسند ناپسند x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 17، 2013 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964


    1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لو کان بعدی نبی کان عمر أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی ۔
    اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبوت ملتی ۔ لیکن چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس لیے آپ کے بعد نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ہوئے اور نہ ہی کسی اور کو نبوت ملے گی ۔ رہا آپ کا مخالفت و عدم مخالفت والا فلسفہ تو یہ بالکل باطل ہے ۔ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپ کی مخالفت میں دعوی نبوت کرنا تھا اس وجہ سے نبی نہیں بن سکے ؟؟
    ’’ بعد ‘‘ کا ایک معنی ہوتا ہے یا ہزار معانی ہوتے ہیں یہاں کسی تأویل کی گنجائش نہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خود وضاحت کردی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی آ ہی نہیں سکتا ۔
    حضرت عیسی علیہ السلام بحیثیت نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آ چکے ہیں نہ کہ آپ کے بعد ان کو نبوت دی جائے گی کہ آپ اس سے ختم نبوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کریں ۔ اب دوبارہ جب حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے توشریعت محمدی پر عمل پیرا ہوں گے ۔
    ویسے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں حضور نے خود بتایا ہے کہ آپ دوبارہ پھر تشریف لائیں گے ۔۔۔ قرآن کی کس آیت یا کس حدیث میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسی جب دوبارہ آئیں گے تو ان کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہو گا ؟
    یہاں آپ سے ایک سوال ہے : کہ اگر آپ کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی سلسلہ نبوت چلتا رہا ہے تو مرزا قادیانی سے پہلے کتنے لوگ نبوت سے سرفراز ہوئے ہیں ؟

    2۔ امام مہدی کی علامات جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بتائی گئی ہیں آپ ان کو مانتے ہیں کہ نہیں ؟ انہیں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ وہ قریشی ہوں گے ۔۔۔ کیا مرزا قادیانی قریشی تھا ؟

    آپ یہ بھی بتائیں آپ کے نزدیک مرزا غلام قادیانی ’’ مجدد ‘‘ ’’ مہدی ‘‘ ’’ نبی ‘‘ تینوں میں سے کون سا درجہ رکھتا ہے ؟

    3۔ کفار حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ سچے نبی تھے ، پر اعتراض ھوی نفس کی بنیاد پر کرتے تھے جبکہ ہم ایک جھوٹے شخص پر احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا پر اعتراض کرتے ہیں ۔ فأین ہذا بذاک ؟
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 17، 2013 #6
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    خضر بھائی ہم آپ کے ساتھ ہیں
     
  7. ‏ستمبر 18، 2013 #7
    لبید

    لبید مبتدی
    جگہ:
    ربوہ
    شمولیت:
    ‏فروری 23، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    ز
    یہ حدیث غریب ہے اور اسکا ۱ ہی راوی ہے اور وہ راوی حجاج کے اس لشکر مین شامل تھا جس نے کعبہ پر سنگ باری کی تھی۔تہذیب التہذیب۔نیز امام سیوطی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔


    نبوت تھی یا نئی ملی اسکی تو بحث ہی نہیں نبی کے آنے کی بحث ہے چاہے نیا ہو یا پورانا۔۔۔شریعت محمدی پر کیسے عمل کریں گے؟؟کیونکہ وہ تو پابند ہی موسوی شریعت کے تھے؟؟انکو ہماری شریعت کہاں سے آئے گی؟ نیز قرآن فرما رہا و رسولا الی بنی اسرائیل اور یہ جملہ اسمیہ ہے جسمیں زمانہ کی کوئی قید نہیں۔۔نیز وہ تو فوت بھی ہو چکے مردہ واپس نہیں آ سکتے
    ویسے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں حضور نے خود بتایا ہے کہ آپ دوبارہ پھر تشریف لائیں گے ۔۔۔ قرآن کی کس آیت یا کس حدیث میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسی جب دوبارہ آئیں گے تو ان کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہو گا ؟؟
    قرآن نے جب کہا کہ عیسی فوت ہو گیا تو پھر مردہ کیسے واپس آ سکتا ہے؟؟؟ جب مردہ نہیں آے گا تو کوئی اور ہی آے گا نا
    کوئی ایک بھی نہیں کیونکہ فرمایا اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ کہ اللہ کو زیادہ علم ہے کہ کس کو رسول بنائے۔۔نیز حدیث مین ۱ نبی کے آنے کا پہرحال ذکر ہے

    ۱۔ایک حدیث مین ہے کہ مہدی اولاد ابن عباس میں سے ہوگا۔۲۔میں ہے حسن رضہ کی نسل سے ہوگا۔۳۔وہ بنی فاطمہ میں سے ہوگا۔ اب بتاو کیا کیا ثابت کرو گے؟؟

    تینوں۔۔۔۔

    3
    کفار بھی اپکی طرح ہی حضور صلعم کو جھوٹا مانتے تھے کذاب اشر کے الفاظ ہیں
     
    • ناپسند ناپسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 18، 2013 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    1۔ امام سیوطی کا حوالے دیں کہاں انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ؟ اگر مان بھی لیا جائے کہ امام سیوطی نےاس کو ضعیف قرار دیا ہے تو بہت سارے علماء نے اس حدیث کو صحیح بھی تو کہا ہے جیسا کہ امام ذہبی ( تلخیص المستدرک ح رقم4495 ) اور ابن شاہین (شرح مذاہب أہل السنۃ ح رقم 140) وغیرہما کثیر ۔ کس بنیاد پر آپ ایک کی بات کو لے رہے ہیں اور دوسروں کی بات کو چھوڑ رہے ہیں ؟
    2۔ نبی کے آنے کی بحث ہے ۔ اوریہ تفصیل بحث قرآن وسنت میں موجود ہے جو نبی آئیں گے وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے ۔ حدیث میں ہے :
    عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « ((والذي نفسي بيده: ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً أو معتمراً، أو ليثنينهما)) » رواه مسلم.
    اور یہ بھی بحث موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوی نبوت کرنے والے لوگ کیسے ہوں گے چنانچہ حدیث میں ہے :
    عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، قريب من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله " (خرجہ الشیخان )
    گویا حدیث میں اگر یہ ہے کہ نبی آئے گا تو یہ بھی موجود ہے کہ ان کا نام عیسی بن مریم ہوگا ۔ اور حدیث میں یہ بھی وضاحت کے ان کے علاوہ حضور صلی اللہ کے بعدجو لوگ نبی ہونے کا دعوی کریں گے وہ کس درجے کے لوگ ہوں گے ؟
    3۔ شریعت موسی کے پابند وہ اس وقت تھے اب جب دوبارہ آئیں گے تو شریعت محمدی کے ہی پابند ہوں گے چنانچہ ایک روایت میں ہے :
    إنه والله لو كان موسى حيا بين أظهركم ما حل له إلا أن يتبعني (مسند أحمد ، مسند دارمی قال الألبانی : حديث حسن أخرجه الدارمي, وأحمد وغيرهما وقد خرجته في "إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل" "1589 " )
    اس حدیث کے مطابق اگر محمد صلی اللہ کو نبوت ملنے کے بعد حضرت موسی بھی آ جائیں تو ان کو شریعت محمدی کی ہی اتباع کرنی پڑے گی ۔
    4۔ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ ہے یا خبریہ ہے یا طلبیہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب قرآن وسنت میں کوئی چیز بطور نص کے بیان کردی جائے تو پھر اس طرح کی موشگافیوں کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ بنی إسرائیل کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کونبی بنا کر بھیجا گیا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو پہلی تما شریعتیں منسوخ ہو گئیں ۔ اگر آپ کے استمرار والے قاعدے پر عمل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا کہ اس وقت کے عیسائی پھر حق پر تھے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا تھا ۔ کیا خیال ہے ؟
    اگر مان بھی لیا جائے تو یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نبوت عیسی چلتی چلتی مرزا قادیانی تک پہنچ گئی ہے ۔۔۔ کس جگہ قرآن وسنت میں لکھا ہوا کہ حضرت عیسی کی جگہ پر مرزا قادیانی آئے گا ؟
    دوسری بات حضرت عیسی علیہ السلام اس دنیا سے فوت ہوکر نہیں گئے بلکہ اللہ نے ان کو بغیر موت کے اوپر اٹھا لیا ہے :
    و ما قتلوہ و ما صلبوہ و لکن شبہ لہم وإن الذین اخلتفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم إلا اتباع الظن و ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ إلیہ وکان اللہ عزیزا حکیما ۔
    اور مزید قرآن کریم میں یہ ہے کہ ویکلم الناس فی المہد و کہلا ۔۔۔
    کہل بڑھاپے کی عمر کو کہتے ہیں ۔۔ یعنی حضرت عیسی بڑھاپے کی عمر میں بھی لوگوں سے بات کریں گے ۔۔ اور قرآن کی یہ پیشین گوئی ابھی پوری ہونی باقی ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام جوانی کی عمر میں ہی اللہ کے پاس چلے گئے تھے ۔
    بہر صورت اگر اس موت و حیات والی بحث کو ایک طرف کرکے حضرت عیسی علیہ السلام کی موت کو مان بھی لیا جائے تو پھر بھی احادیث رسول کا انکار نہیں کیا جا سکتا جن میں کہا گیا ہے کہ حضرت عیسی واپس آئیں گے کیونکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کو پورا کرنا ہے ۔
    7۔ جس کے آنے کا ذکر ہے اس کا نام عیسی بن مریم ہے نہ کہ غلام احمد قادیانی ۔ ہاںآپ چاہیں تو آپ کو مرزا قادیانی کا وصفی نام دجالون کذابون والی روایت میں مل جائے گا ۔
    8۔ بہر صورت ان سب میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ وہ مرزا قادیانی کے آباء و اجداد کی نسل سے ہوگا ۔آپ دوسروں کی فکر چھوڑیں آپ اپنے متنبی کی نشانیاں تلاش کریں ۔
    9۔ کفار حضور کو غلط القاب ھوی نفس کی بنا پر دیتے تھے جبکہ ہم مرزا صاحب کو حدیث رسول جو کہ اوپر مذکور ہے اس بنا پر کہتے ہیں ۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 19، 2013 #9
    لبید

    لبید مبتدی
    جگہ:
    ربوہ
    شمولیت:
    ‏فروری 23، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    9
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    1
    ۱۔امام سیوطی کی کتاب جامع الصغیر باب الام۔۔۔نیز میں نے عرض کی کہ وہ آپکا اس حدیث کا جو راوی ہے وہ خانہ کعبہ پر پتھر برساتا رہا ہے ملاحظ ہو تہذیب التہذیب۔۔۔اب آپ اس جیسے کی حدیث کو مانیں تو اللہ کی پناہ ہی ہے۔۔۔
    ۲۔جناب قرآن تو فرما رہا کہ عیسی فوت ہوگیا۔۔۔نیز آپکے یہ ۳۰ دجال حضرت اقدس مرزا صاحب کے دعوی سے پہلے گزر گئے۔۔۔بلکہ اکمال الاکمال نے 500سال پہلے یہ لکھا کہ یہ تعداد پوری ہوچکی۔۔نیز نواب صدیق خان صاحب نے بھی ایسا ہی لکھا۔۔الحججہ الاکرمۃ۔۔۔
    ۳۔یہی حدیث عیسی علیہ السلام کے متعلق بھی ہے کہ لو کان موسی و عیسی حیین۔۔۔میں نے پہلے کہا کہ وہ فوت ہوگے۔۔۔میں نے پہلے بھی پوچھا تھا کہ محمدی شریعت انکو کون سکیھائے گا؟؟؟؟؟
    ۴۔بالکل نبی تھے کیونکہ اب وہ وفات پا چکے۔جناب جب عیسی علیہ السلام آئیں گے اور کہیں گے کہ میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے آیا ہوں حلانکہ قرآن کہہ رہا ہوگا کہ و رسولا الی بنی اسرائیل تو کیا کرو گے؟ آیت منسوخ مانو گے؟؟۔۔میری بات سے تو نصاری کوئی فائدہ نہ ہوگا کیونکہ جیسے موسی ،سلیمان عہ یہود کی طرف تھے ویسے ہی عیسی بھی۔۔۔ہاں مگر یہ تمہارے عقیدہ انکو فائدہ دے گا ۔۔اگر نصاری یہ کہتے کہ جب عیسی نے واپس آجانا ہے تو پھر اپکو ماننے کا فائدہ؟؟اور ویسے بھی یہ انکا ہی عقیدہ ہے کہ عیسی واپس آئیں گے۔۔۔
    میں نے پہلے کہا کہ مردہ واپس نہیں آ سکتا۔۔جب عیسی کی موت ہو گئی تو ثابت ہوا کہ کوئی دوسرا آئے گا۔۔جناب یہ کس نے کہا کہ وہ جوانی میں کہیں چلے گئے تھے۔۔حوالہ؟؟ اور عرض ہے کہ کہل کہتے ہیں ۳۰ سے ۴۰ سال کے عرصہ کو اور یہ تو آپ کا اپنا عقیدہ ہے کہ انکا رفع ۳۳ سال مین ہوا تو کہل میں کلام بھی کر لیا۔۔واپس لانے کی کیا ضرورت؟۔۔۔جبکہ حدیث صاف کہہ رہی کہ انہوں نے ۱۲ہ کی عمر پائی۔۔
    ۵۔جسکا نام ہے وہ فوت ہو گیا۔۔۔نسل والی بات آپ نے کی تھی اب اس طرح غصہ تو نہ کرو نا۔۔۔
     
  10. ‏ستمبر 20، 2013 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امام سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب الجامع الصغير و زيادته جو میرے پاس ہے اس کی عبارت کچھ یوں ہے :
    لو كان بعدي نبي لكان عمر ابن الخطاب ( حم ت ك - عن عقبة بن عامر ، طب - عن عصمة بن مالك )
    (الفتح الكبير في ضم الزيادة إلى الجامع الصغير ص 46 دار الكتاب العربي ، بيروت)
    راوی پر جرح اگر واقعتا آپ تحقیقی بنیادوں پر کر رہے ہیں تو حدیث کی پوری سند پیش کرکے اس میں مجروح راوی کی تعیین کردیں ۔ سند میں ایک سے زیادہ راوی ہیں پتہ نہیں آپ کس کی بات کر رہے ہیں ۔ اور اگر اس مجروح راوی کے بارے میں آئمہ کے اقوال پیش کرکے اس کو نا قابل اعتبار ثابت کردیں پھر تو کیا ہی بات ہے۔
    بہرصورت چونکہ بہت بڑے بڑے آئمہ فن نے اس حدیث کو ’’ صحیح یا حسن ‘‘ قرار دیا ہے جیسا کہ ذہبی اور ابن شاہین کا حوالہ اوپر میں ذکر کر چکا ہوں ، اس لیے ہمارے نزدیک تو یہ حدیث قابل قبول ہے اگر آپ واقعتا دلائل کے ساتھ آئمہ فن سے اس حدیث کا ضعیف ہونا ثابت کردیں تو بات آگے چل سکے گی ابھی تک تو آپ نے صرف ایک سیوطی کا حوالہ دیا ہے اور وہ بھی غیر درست ہے ۔ اگر آپ مضعفین حدیث کی تلاش میں کامیاب ہو گئے تو پھر اگلا مرحلہ شروع ہوگا کہ کچھ علماء نے حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور کچھ نے اس کو ضعیف ۔ آپ حدیث کو ضعیف قرار دینے والوں کی بات کو کس بنیاد پر ترجیح دے رہے ہیں ؟
    سر دست ہم ایک اور روایت نقل کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپ اس پر کیا رد عمل کا اظہا رکرتے ہیں :
    حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن أبي صالح، عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إن " مثلي ومثل الأنبياء من قبلي، كمثل رجل بنى بيتا فأحسنه وأجمله، إلا موضع لبنة من زاوية، فجعل الناس يطوفون به، ويعجبون له، ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة؟ قال: فأنا اللبنة وأنا خاتم النبيين " ( صحیح البخاری رقم 3535)
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال یوں ہے کہ ایک آدمی نے ایک گھر بنایا اس کی تزیین و آرائش کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ۔ لوگ اس کو دیکھتے اور تعجب کا اظہار کرتے کہ ( اتنا خوبصورت گھر بنایا ہے ) یہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی ؟
    پھر حضور نے فرمایا میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں ۔
    اب اس نبوی مثال سے ختم نبوت کا مسئلہ روز روش کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ حضور کے تشریف لانے سے پہلے صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی بچی تھی جب حضور آئے تو مکان مکمل ہوگیا اور اب مزید کسی کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔
    اور نزول عیسی فی آخر الزمان کو لے کر یہاں اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے ۔
    ہاں بحیثیت نبی وہ اس نبوت کی عمارت کا حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پہلے بن چکے ہیں ۔
    بلکہ یہاں اہم بات یہ ہے کہ آخری زمانے میں مسیح علیہ السلام وہ آئیں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عمارتِ نبوت کا حصہ بن چکے ہیں ۔
    نہ کہ مرزا قادیانی یا کوئی دوسرا تیسرا ۔
    قرآن کی کس آیت میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہوگئے ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ و ما قتلوہ و ما صلبوہ و لکن شبہ لہم ۔۔۔ و ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ إلیہ ۔
    رہا یہ مسئلہ کہ متنبیوں کی تعداد (30 ) ایک خاص زمانے تک پوری ہو چکی ہے لہذا اب جو بھی دعوی نبوت کرے گا وہ جھوٹا نہیں ہوگا تو یہ بات بالکل جہالت پر مبنی ہے
    پہلی بات : حضور نے یہ بشارت دی ہے کہ تیس لوگ آئیں گے یہ کہیں نہیں کہا کہ 30 سے زیادہ نہیں آئیں گے ، یعنی 30 کا اثبات ہے اس سے زیادہ کی نفی نہیں ہے ۔
    اگر قاعدہ و اصول یہی ہے تو آپ ان لوگوں پر کیا حکم لگائیں گے جنہوں نے مرزا قادیانی کے بعد بھی دعوی نبوت کیا ہے ؟ کیا وہ بھی پھر سچے نبی ہوں گے ؟ کیونکہ تیس کے عدد سے تو وہ بھی اوپر ہیں آپ کے مطابق ۔
    اس حدیث کی ایک توجیہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ یوں بیان فرماتے ہیں :
    وليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقا فإنهم لا يحصون كثرة لكون غالبهم ينشأ لهم ذلك عن جنون أو سوداء وإنما المراد من قامت له شوكة وبدت له شبهة كمن وصفنا وقد أهلك الله تعالى من وقع له ذلك منهم وبقي منهم من يلحقه بأصحابه وآخرهم الدجال الأكبر وسيأتي بسط كثير من ذلك في كتاب الفتن إن شاء الله تعالى ۔ ( فتح الباری ج 6 ص 617 )

    بفرض محال اگر قاعدہ و اصول یہی ہے جو آپ نے بیان فرمایا تو آپ ان لوگوں پر کیا حکم لگائیں گے جنہوں نے مرزا قادیانی کے بعد بھی دعوی نبوت کیا ہے ؟ کیا وہ بھی پھر سچے نبی ہوں گے ؟ کیونکہ تیس کے عدد سے تو وہ بھی اوپر ہیں آپ کے مطابق ۔

    جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی تھی ۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ انہوں نے حضرت عیسی سے محمدی شریعت پر عمل کروانا ہے تو ان کو سکھائیں گے کیسے ؟ تمام تفصیلات سے ہمارا باخبر رہنا ضروری نہیں ۔

    سبحان اللہ ! جب ہم آپ سے مرزاقادیانی کے دعوی نبوت کے امکانات پر بات کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ امکان ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عیسی نبی اللہ آئے گا ۔
    جب یہ کہا جاتا ہے کہ جو آئے گا اس کا نام عیسی ہے لہذا یہ قادیانی کہاں سے آ گیا ؟ تو آپ کہتے ہیں کہ عیسی تو فوت ہو گئے وہ کیسے آ سکتے ہیں ؟
    ایک ہی حدیث میں دو باتیں : نبی کا آنا اور اس کا نام عیسی بن مریم ہونا ۔ آپ پہلی بات کو مانتے ہیں اور دوسری کا انکا رکرتے ہیں کیوں ؟
    مجھے اس کی وجہ جو سمجھ آئی ہے وہ یہ کہ دونوں کا انکا رکرنے سے بھی مرزا قادیانی جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور دونوں کو ماننے سے بھی ۔ لہذا تؤمنون ببعض الکتب و تکفرون ببعض والا شیوہ یہود صرف اس لیے اپنایا جا رہا ہے تاکہ جھوٹے کو سچا ثابت کیا جا سکے ۔
    اور ساتھ آپ نے ایک اور شوشہ یہ چھوڑ دیا ہے کہ عیسی علیہ السلام کا آنا یہ قرآن کی آیت ’’و رسولا إلی بنی إسرائیل ‘‘کے خلاف ہے ۔
    سوال یہ ہے کہ جب حضرت عیسی بنی إسرائیل کی طرف آئے تھے اور آپ کے استمرار والے قاعدہ (یہ الگ بات ہے کہ یہ بھی آپ کے سوء فہم کا نتیجہ ہے ) سے اب بھی وہ بنی اسرائیل کے لیے ہی ہیں امت محمدیہ میں نہیں آسکتے تو پھر آپ کے قادیانی کی گنجائش کہاں سے نکلتی ہے ؟
    دلیلیں آپ کی بنی إسرائیل کے بنی والی ہیں اور نبی امت محمدیہ میں ثابت کر رہے ہیں آپ سے گزارش ہے کہ آپ عیسائیوں میں جا کر کوشش کر لیں شاید وہاں آپ کو کوئی کامیابی حاصل ہو جائے ۔ ( لا سمح اللہ )

    آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ مردہ واپس نہیں آ سکتا لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں چلا کہ جو فوت ہو جائے وہ واپس نہیں آ سکتا پھر احادیث میں جس نبی کے آنے کا ذکر ہے اس کا نام عیسی بن مریم کیوں ہے ؟
    اگر کسی دوسرے نے آنا ہوتا تو نام بھی اسی کا ہوتا ۔
    لہذا احادیث میں عیسی بن مریم کا نام ہونا یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حضرت عیسی زندہ ہیں ( کیونکہ بقول آپ کے مردہ تو آ ہی نہیں سکتا ) اور وہ ہی تشریف لائیں گے ۔

    کہل کے حوالے سے میں نے جو بات کی تھی یہ قول ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت نقل کیا ہے :
    قال الحسن بن الفضل: وكهلا يعني ويكلم الناس كهلا بعد نزوله من السماء وفي هذه نص على أنه سينزل من السماء إلى الأرض ويقتل الدجال.
    اور اس قول کی کی تائید ان متواتر احادیث سے ہوتی ہے جن میں نزول عیسی کی پیشین گوئی ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں