1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قادیانیت کے حق میں مولانا وحید الدین خاں سے ایک سوال !

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از marhaba, ‏اگست 14، 2013۔

  1. ‏نومبر 01، 2013 #21
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,776
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
     
  2. ‏مارچ 10، 2014 #22
    جاء الحق

    جاء الحق مبتدی
    جگہ:
    چناب نگر
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2014
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    مرزائی اپنی طرف سے یہ بہت بڑا اشکال پیش کرتے ہیں کہ حضرت عيسى عليه
    السلام کے نزول من السماء سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی ، لیکن یہ اشکال تار
    عنکبوت سے بھی کمزور ہے کیونکہ ختم نبوت کا مطلب ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے
    بعد نبوت منقطع ہو چکی اب آپ کے بعد کوئی نیا نام انبیاء کی فہرست میں شامل نہیں
    ہو سکتا، اب کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا جیسا کہ خود نبی کریم صلى الله عليه
    وسلم نے خود وضاحت فرما دی کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان الرسالۃ والنبوۃ قدانقطعت فلا رسول
    بعدی ولا نبی " اس میں کوئی شک نہیں کہ رسالت و نبوت منقطع ہو چکی ہے ، میرے
    بعد اب نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول ۔ " ( مسند الامام احمد : ج 3 ص267 ح13860
    ، ترمذی : 2272 ، فضائل الطبرانی : ص 338 ، 339 ، حاکم : 391/4 ، ابن ابی شیبہ
    :531/11 وسندہ صحیح )​
    اس حدیث کو امام ترمذی نے " حسن صحیح " امام الضیاء ( 2645)
    نے " صحیح " کہا ہے ۔ امام حاکم نے اس کی سند کو بخاری و مسلم کی شرط پر
    " صحیح " کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔ یہ حدیث
    تنصیص و تصریح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو
    سکتا ۔​
    نیز فرمایا : سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے
    ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ایھا الناس
    انہ لا نبی بعدی ولا امۃ بعدکم " اے لوگو ! میرے بعد کوئی نبی نہیں ، تمہارے
    بعد کوئی امت نہیں ۔ " ( المعجم الکبیر للطبرانی : 115/8 ح7535 ، السنۃ لابن
    ابی عاصم : 1095 وسندہ صحیح )​
    ایک اور حدیث شریف ہے : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فضلت عی الانبیاءبست ، اعطیت جوامع
    الکلم ، ونصرت بالرعب ، واحلت لی المغانم ، وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا وارسلت
    الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون " مجھے چھ چیزوں میں انبیاءعلیہم السلام پر
    فضیلت دی گئی ہے ۔ مجھے جامع کلمات عطا کےے گئے ہیں ، رعب و دبدبہ کے ساتھ میری
    نصرت کی گئی ہے ، مال غنیمت میرے لیے (بشمول امت ) حلال قرار دیا گیا ہے ۔ میرے
    لیے ( بشمول امت ) ساری کی ساری زمین مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی
    گئی ہے ۔ میں پوری دنیا کے لئے رسول​
    بنا کر بھیجا گیا ہوں ، مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔ " ( صحیح
    مسلم ، كتاب المساجد)​
    امام احمد بن حنبل رحمه الله اپنی مسند میں حضرت ابوالطفيل رضى الله
    عنه سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : لا
    نبوة بعدى الا المبشرات، قبل وما المبشرات يا رسول الله؟ قال الرؤيا الحسنة أ و
    قال الرؤيا الصالحة، میرے بعد نبوت نہیں صرف مبشرات ہیں، پوچھا گیا کہ اے الله کے
    رسول یہ مبشرات کیا ہیں؟ تو فرمایا نیک اور اچھے خواب (مسند احمد ، جلد 39 صفحه
    213 ح 23795 طبع مؤسسة الرسالة)​
    خود مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ "نبی کریم صلى الله
    عليه وسلم نے خاتم النبيين کی تشریح لا نبى بعدى کے ساتھ فرمائی" (حمامة
    البشرى، روحانى خزائن جلد 7 صفحه 200)، مرزا قادیانی نے خود "خاتم
    النبيين" کا ترجمہ کیا ہے "ختم کرنے والا نبیوں کا" (ازاله اوهام،
    روحانى خزائن جلد 3 صفحه 431)،​
    مرزا قادیان نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ "حضرت محمد مصطفى صلى الله
    عليه وسلم کے بعد کسی دوسرے مدعى نبوت اور رسالت کاذب اور کافر جانتا ہوں میرا
    یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفى الله سے شروع ہوئی اور جناب رسول الله
    محمدمصطفى صلى الله عليه وسلم پر ختم ہو گئی " (مجموعه اشتهارات جلد 1 صفحه
    231 ، اشتهار نمبر 67)، وہ بھی یہ لکھا کرتا یہ "واضح رہے کہ ہم بھی مدعى
    نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں" (مجموعه اشتهارات جلد دوم صفحه 297)، لیکن یہی مرزا
    قادیانی جب گمراہ ہوتا ہے اور خود دعوائے نبوت کرتا ہے تو پھر ایک نئی نبوت ایجاد
    کرتا ہے جسکا نام "ظلى بروزى ناقص امتى نبوت" رکھتا ہے ، جبکہ نبوت کی
    یہ قسم نہ قرآن میں نہ حدیث میں، عجیب بات یہ ہے کہ مرزائی امت قرآن کریم کی کچھ
    آیات جنکے اندر مطلق نبی یا رسول کا ذکر ہے دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ انکا اپنا دعوا
    یہ ہے کہ "ہر قسم کی مستقل نبوت آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد بند ہے، آپ
    کے بعد قیامت تک کوئی مسقل نبی پیدا نہیں ہو سکتا چاہے وہ نئی شریعت والا نبی ہو
    یا نہ ہو " وہ بھی صرف ظلى بروزى ناقص امتى نبوت کو جاری بتاتے ہیں اب انکا
    فرض تھا کہ دلیل بھی اپنے دعوے یعنی ظلى بروزى ناقل امتى نبوت کے بارے میں پیش
    کرتے لیکن وہ جانتے ہیں کہ ایسی کوئی نبوت ہے ہی نہیں اس لئے وہ کبھی الله يصطفى
    من الملائكة رسلاً ومن الناس پڑھتے ہیں کبھی يا بنى آدم اما يأتينكم رسل پڑھتے ہیں
    اور کبھی دوسری آیات جنکے اندر صرف رسول یا نبی کا ذکر ہے، اگر ان آیات سے نبوت کا
    جاری ہونا ثابت ہوتا ہے کہ پھر مطلق نبوت کا جاری ہوتا ہے جس میں مستقل نبوت بھی
    آتی ہے لیکن خود مرزائی امت بھی مستقل نبوت کے جاری ہونے کے منکر ہیں ، ہمارا
    چیلنج ہے کہ مرزائی حضرات قرآن وحديث سے ثابت کریں کہ حضرت آدم عليه السلام سے لے
    کر آنحضرت صلى الله عليه وسلم تک کہیں ظلى بروزى ناقص امتى نبوت کہیں نظر آتی ہے؟
    قرآن وحديث میں ایسی کوئی نبوت ملتی ہے؟ ، علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے
    "رسول" کے لفظ کے بارے میں لکھا ہے کہ "رسولوں سے مراد وہ لوگ ہیں
    جو خدا تعالى كى طرف سے بھیجے جاتے ہیں خواہ وہ نبی ہوں یا رسول یا محدَّث يا مجدد
    ہوں" (ايام الصلح، روحانى خزائن جلد 14 صفحه 419 حاشيه) اب میں ان مرزائی
    حضرت سے سوال کرتا ہوں کہ بالفرض ہم آپ کی بات ایک منٹ کے لئے تسلیم بھی کرلیں کہ
    الله يصطفى من الملائكة رسلاً ومن الناس سے قیامت تک رسولوں کا آنا ثابت ہوتا ہے
    تو اگر قیامت تک مجدد یا محدًّث بھی آتے رہیں تو مرزا نے رسول ج کا جو مطلب بیان
    کیا ہے اسکے مطابق آیت کی مراد پوری ہوجاتی ہے اسکے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی
    پھر بھی کوئی ضرورت نہیں ، باقی رہی یہ بات کہ حدیث شریف میں حضرت عيسى بن مريم
    عليهما السلام کے بارے میں "نبى الله عيسى" کے الفاظ آئے ہیں اور بیان
    ہوا ہے کہ وہ نازل ہونگے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی آئے گا تو ہم مرزائی امت سے
    پوچھتے ہیں کہ کیا حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام اللہ کے نبی نہیں؟ جو ایک بار
    نبی بن گیا وہ اس سے نبوت چھینی نہیں جاتی ، آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے یہ خبر
    دی ہے کہ وہی عيسى عليه السلام تشریف لائیں گے جو الله کے نبی ہیں اسمیں پتہ نہیں
    مرزائی مربیوں کو کیا عجیب بات نظر آتی ہے؟ یہی بات مرزا قادیانی بھی اپنی اس
    الہامی کتاب میں لکھ چکا تھا جو اسنے اپنے بقول تجدید دین اور اصلاح کی خاطر لکھی
    تھی میری مراد ہے "براہین احمدیہ" ، مرزا نے لکھا تھا "جب حضرت
    مسیح عليه السلام دوباره دنيا میں تشریف لائیں گے تو انکے ہاتھ سے دین اسلام جمیع
    آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا " (روحانى خزائن جلد 1 صفحه 593)، اور مزے کی
    بات یہ بات مرزا نے سورة الصف كى آيت هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره
    على الدين كله سے ثابت کی ہے ، میرا سوال ہے کہ کیا اس وقت قرآن كى وه 30 آيات مرزا
    کے علم میں نہ تھیں جن سے بقول مربی حضرات وفات عيسى عليه السلام ثابت ہوتی ہے؟​
    الله کے نبی حضرت عيسى عليه السلام ہی قرب قیامت آسمان سے نازل ہونگے اور چونکہ الله کی آخری شريعت اور آخری نبی حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے آنے کے بعد گذشتہ تمام شریعتیں منسوخ ہو چکیں اب قیامت تک شريعت محمديه ہی چلے گی تو وہ اپنے نزول کے بعد اپنی نبوت اور اپنی شريعت کی تبلیغ نہیں کریں گے بلکہ شريعت محمديه پر ہی عمل پیرا ہونگے نیز انکی بعثت اصطلاحى کا زمانہ محدود تھا اور صرف ایک قوم بنی اسرائیل کے لئے تھا ، اگرچہ وہ نبی تھے، نبی ہیں اور نبی کی مرتبے پر فائز رہینگے لیکن امت محمدیہ میں جب آئیں گے تو خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم کے تابع ہو کر رہینگے اور یہ بھی یاد رہے کہ حضرت عيسى عليه السلام کو نبوت اب نہیں ملے گی بلکہ پہلے مل چکی ہے انکا نام تو پہلے ہی انبیاء کی فہرست میں شامل ہے
    الغرض آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے آخری نبی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے بعد
    کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہو سکتا جس جس نے نبی بننا تھا وہ بن چکے آپ کے بعد کوئی
    نیا نام انبیا کی لسٹ میں شامل نہیں ہوگا ، مرزائی مذھب تضاد در تضاد کا مجموعہ ہے
    ، ایک طرف یہ اجراء نبوت کے نعرے لگاتے ہیں دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اس امت
    میں مرزا قادیانی کے بعد اب کوئی ظلى بروزى نبى بھی نہیں ہو سکتا (تشحيذ الاذهان،
    مارچ 1914 صفحه 31 قاديان)، نیز خود مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو آخری نبی اور خدا
    کی راہوں میں آخری راہ اور آخری نور لکھا ہے (دیکھیں روحانى خزائن جلد 20 صفحه 70
    اپنے آپ کو سلسلہ موسویہ کے آخری نبی حضرت عيسى عليه السلام کی طرح سلسلہ محمدیہ
    کا آخری نبی لکھا ہے) نیز دیکھیں (روحانى خزائن جلد 20 صفحه 35 اپنے آپ کو سب سے
    آخر لکھا ہے) نیز دیکھیں (روحانى خزائن جلد 19 صفحه 61 اپنے آپ کو خدا کی راہوں
    میں سب سے آخری راہ اور خدا کےنوروں میں سے سب سے آخری نور لکھا ہے)، اب میں پوچھتا
    ہوں کہ مرزا کے بعد نبوت کو تم نے کیوں بند کر دیا؟ تم نے مرزا قادیان کو خاتم
    الانبياء بنا لیا کیوں؟​
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 09، 2014 #23
    مبشر شاہ

    مبشر شاہ رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2013
    پیغامات:
    173
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    70

    جاء الحق بھائی بہت عمدہ ماشا اللہ
    کافی معلومات فراہم کی گئی ہیں ایک گزارش ہے کہ اگر مرزائی کتب کے اصل سکین پیش کر دئیے جائیں تو مضمون میں جان پڑ جائے شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں