1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاری محمد حنیف ڈار امام و خطیب مسجد مرکز پاکستان ابوظہبی متحدہ عرب امارات اور سنت کی اقسام

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏مارچ 21، 2017۔

  1. ‏مارچ 22، 2017 #11
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    میں آپ سے متفق ہوں - کل ہی ان کا بلاگ مجھے ملا - ابھی پڑھ رہا ہوں- جلد ہی ان صاحب کی جھوٹی باتوں کو سامنے لاؤں گا -
     
  2. ‏مارچ 22، 2017 #12
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,297
    موصول شکریہ جات:
    701
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اصولا یہ کام پہلے کرنا چاہیئے تها ۔ آپ بہت جلد متاثر هو جانیوالوں میں سے ہیں ۔ آپ اپنے تمام مراسلات پر تنقیدی نظر خود ڈالیں اور جب خود مطمئین هو جائیں تب ہی پوسٹ کیا کریں ۔

    جلد بازی میں غلطیوں کے امکانیات شدید ہو جاتے ہیں اور غلطیوں کی پکڑ تو بے شک هونی هے ۔

    اللہ سبکو هدایت دے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 23، 2017 #13
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    جی بالکل
     
  4. ‏مارچ 23، 2017 #14
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اگلی حاضری میں ان شاءاللہ اس پہ کچھ لکھتا ہوں
     
  5. ‏مارچ 23، 2017 #15
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    آپ شائد یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میں نے ان کے بلاگ کو پڑھا نہیں - تو میرے بھائی میں نے کہا ہے کہ ان کا بلاگ میں نے دیکھا ہی اس پوسٹ کے بعد ہے- میں نے فیس بک سے ان کا تھریڈ پڑھا تو اس کو یہاں پیش کیا- ساتھ میں اس کا لنک بھی دیا - آپ نے دیکھا نہیں - اور اس پر راۓ بھی لکھی-
     
  6. ‏مارچ 23، 2017 #16
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی اسکو کہتے ہیں حق کو باطل سے گڈ مڈ کرنا یعنی جس حدیث سے حدیث کی اتباع کرنا نکلتی ہے اسکو ہی الٹ استعمال کیا جا رہا ہے
    دیکھیں بھائیو جب اللہ کے نبی ﷺ نے یہ کہ دیا کہ میری کچھ باتیں دین کے معاملے میں ہوتی ہیں اور کچھ دنیا کے معاملے میں تو تم دین والی باتوں کو لازم پکڑو مگر دنیاوی باتوں میں اختیار ہے یعنی اس میں بھی اتباع منع نہیں بلکہ مشوری کے طور پہ لی جائے گی تو اب اگلا مسئلہ یہ کھڑا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی کون سی احادیث ہمارے لئے دینی معاملہ ہیں اور کون سی چیزیں دنیاوی یا مشوری کے طور پہ لی جائیں
    تو اس مسئلہ کا حل میں پہلے تو خود اس فکری غیر حلال زادے (حفظ ماتقدم کے طور پہ فکری حرام زادہ نہیں لکھا @خضر حیات بھائی) کی بات نقل کرتا ہوں وہ اسی پوسٹ میں آگے لکھتے ہیں
    یعنی وہ خود یہ کہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ جاننے کے لئے کہ کون سی بات ہمارے لئے دین ہے یا صرف مشورہ پھر صحابہ کو ہی دیکھنا پڑے گا تو بھائی اوپر خضر بھائی کون سی ہیر رانجھا سنا رہے ہیں ہم سب بھی تو یہی کہتے ہیں
    دیکھیں آپ تو لوگوں کو گمراہ بنا رہے ہیں مگر یعرفونھم کما یعرفون ابناءھم کی طرح آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ فقہاء نے جو اصول بنائے ہیں ان میں یہ بھی اصول شامل ہیں کہ کسی حدیث میں حکم کے فرض ہونے کے لئے کون سے الفاظ ہوتے ہیں اور سنے ہونے کے لئے کون سے الفاظ اور مستحب ہونے کے لئے کون سے الفاظ وغیرہ اور تو اور یہی اصول خالی حدیث کے لئے نہیں بلکہ قرآن کے لئے بھی بنائے گئے ہیں پھر لوگوں میں اپنی دجالی پھیلانے کی کیا ضرورت ہے

    میں نے ایک جگہ فورم پہ موجود فواد صاحب کے بارے بھی لکھا ہے اور ان فکری غیر حلال زادے کے بارے بھی غالب کی غزل لکھوں گا کہ
    جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
    نرالا نرالا دجل دیکھتے ہیں
    مزید تفصیل جلد ہی ان شاءاللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں