1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاضی بننے کیلئے کیا کیا شرطیں ہونی ضروری ہیں

'حکومت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏ستمبر 26، 2012۔

  1. ‏ستمبر 26، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقال الحسن أخذ الله على الحكام أن لا يتبعوا الهوى،‏‏‏‏ ولا يخشوا الناس ‏ {‏ ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا‏}‏ ثم قرأ ‏ {‏ يا داود إنا جعلناك خليفة في الأرض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب‏}‏،‏‏‏‏ وقرأ ‏ {‏ إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا للذين هادوا والربانيون والأحبار بما استحفظوا ـ استودعوا ـ من كتاب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون‏}‏،‏‏‏‏ وقرأ ‏ {‏ وداود وسليمان إذ يحكمان في الحرث إذ نفشت فيه غنم القوم وكنا لحكمهم شاهدين * ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما‏}‏،‏‏‏‏ فحمد سليمان ولم يلم داود،‏‏‏‏ ولولا ما ذكر الله من أمر هذين لرأيت أن القضاة هلكوا،‏‏‏‏ فإنه أثنى على هذا بعلمه وعذر هذا باجتهاده‏.‏ وقال مزاحم بن زفر قال لنا عمر بن عبد العزيز خمس إذا أخطأ القاضي منهن خصلة كانت فيه وصمة أن يكون فهما،‏‏‏‏ حليما،‏‏‏‏ عفيفا،‏‏‏‏ صليبا،‏‏‏‏ عالما سئولا عن العلم‏.‏
    وقال الحسن أخذ الله على الحكام أن لا يتبعوا الهوى،‏‏‏‏ ولا يخشوا الناس ‏ {‏ ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا‏}‏ ثم قرأ ‏ {‏ يا داود إنا جعلناك خليفة في الأرض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب‏}‏،‏‏‏‏ وقرأ ‏ {‏ إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا للذين هادوا والربانيون والأحبار بما استحفظوا ـ استودعوا ـ من كتاب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون‏}‏،‏‏‏‏ وقرأ ‏ {‏ وداود وسليمان إذ يحكمان في الحرث إذ نفشت فيه غنم القوم وكنا لحكمهم شاهدين * ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما‏}‏،‏‏‏‏ فحمد سليمان ولم يلم داود،‏‏‏‏ ولولا ما ذكر الله من أمر هذين لرأيت أن القضاة هلكوا،‏‏‏‏ فإنه أثنى على هذا بعلمه وعذر هذا باجتهاده‏.‏ وقال مزاحم بن زفر قال لنا عمر بن عبد العزيز خمس إذا أخطأ القاضي منهن خصلة كانت فيه وصمة أن يكون فهما،‏‏‏‏ حليما،‏‏‏‏ عفيفا،‏‏‏‏ صليبا،‏‏‏‏ عالما سئولا عن العلم‏.‏
     
  2. ‏ستمبر 26، 2012 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    تشریح : اسی لیے اصول قرار پایا کہ مجتہد کو غلطی کرنے میں بھی ثواب ملتا ہے پس قاضی سے بھی غلطی کا امکان ہے۔ اللہ اسے معذور رکھے گا اور اس کی غلطی پر مواخذہ نہ کرے گا۔ الا ان یشاءاللہ۔ صلیبا کا ترجمہ یوں بھی ہے کہ وہ حق اور انصاف کرنے پر خوب پکا اور مضبوط ہو۔ آیت میں حضرت داؤد کے فیصلے کا غلط ہونا مذکور ہے جس سے معلوم ہوا کہ کبھی پیغمبروں سے بھی اجتہاد میں غلطی ہوسکتی ہے مگر وہ اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ ان کو مطلع کردیتا ہے۔ مجتہدین سے غلطی کا ہونا عین ممکن ہے۔ ان کی غلطی پر جمے رہنا یہی اندھی تقلید ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا اتخذوا احبارہم و رہبانہم اربابا من دون اللہ الایۃ۔

    شافعیہ نے کہا قضا کی شرط یہ ہے کہ آدمی مسلمان متقی پرہیز گار مکلف آزاد مرد سنتا دیکھتا بولتا ہو تو کافر نابالغ یامجنون یا غلام لونڈی یا عورت یا خنثیٰ یا فاسق بہرے یا گونگے یا اندھے کی قضا درست نہیں۔ اہل حدیث اور شافعیہ کے نزدیک قضا کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے یعنی قرآن اور حدیث اور ناسخ اور منسوخ کا عالم ہونا اسی طرح قضایائے صحابہ اور تابعین سے واقف ہونا اور ہر مقدمہ میں اللہ کی کتاب کے موافق حکم دے۔ اگر اللہ کی کتاب میں نہ ملے تو حدیث کے موافق اگر حدیث میں بھی نہ ملے تو صحابہ کے اجماع کے موافق اگر صحابہ میں اختلاف ہو تو جس کا قول قرآن و حدیث کے زیادہ موافق دیکھے اس پر حکم دے اور اہل حدیث اور محققین علماءنے مقلد کی قضا جائز نہیں رکھی اور یہی صحیح ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں