1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبرنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اذان کی آواز سننے والی روایت !

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏ستمبر 10، 2011۔

  1. ‏ستمبر 10، 2011 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    سعیدبن عبدالعزیز کہتے ہیں کہ جب ایام حرہ کا واقعہ پیش آیا تو تین دنوں تک مسجد نبوی میں اذان اوراقامت نہیں ہوئی ، اورسعیدبن المسیب ان دنوں مسجد نبوی ہی میں ٹہرے رہے آپ کہتے ہیں جب نماز کا وقت ہوجاتا تو قبر نبوی سے اذان کی آواز سنائی دیتی اورمیں یہ آواز سن کر اقامت کہتا اورنماز اداکرتا۔


    یہ رویات سعیدبن المسیب کے حوالے سے دولوگوں نے بیان کیا ہے

    سعيد بن عبد العزيز،التنوخى۔
    أبو حازم، سلمة بن دينار۔
     
  2. ‏ستمبر 10، 2011 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    سعيد بن عبد العزيزکی روایت


    امام دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرنا مروان بن محمد، عن سعيد بن عبد العزيز، قال: لما كان أيام الحرة لم يؤذن في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا، ولم يقم، ولم يبرح سعيد بن المسيب المسجد، وكان لا يعرف وقت الصلاة إلا بهمهمة يسمعها من قبر النبي صلى الله عليه وسلم فذكر معناه[سنن الدارمي 1/ 227]۔

    یہ روایت مرسل ہے کیونکہ ’’سعیدبن عبدالعزیز‘‘ واقعہ حرہ کے وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔
    واقعہ حرہ 63 ہجری میں پیش آیا (عام کتب تاریخ).

    اور’’سعیدبن عبدالعزیز‘‘ کی پیدائش 90 ہجری میں ہوئی ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں:
    وُلِدَ: سَنَةَ تِسْعِيْنَ، فِي حَيَاةِ سَهْلِ بنِ سَعْدٍ[سير أعلام النبلاء 8/ 32]۔

    یعنی موصوف واقعہ پیش آنے کے 27 ستائیس سال بعدپیداہوئے پھر ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ کسی اورسے سناہے اوراس کانام نہیں لیا ، لہٰذا روایت مرسل ہے۔

    یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ’’سعیدبن عبدالعزیز‘‘ نے یہ روایت ’’سعیدابن المسیب‘‘ سے سنی ہو کیونکہ ’’سعیدبن عبدالعزیز‘‘ کی پیدائش 90 ہجری میں ہوئی ہے جیساکہ اوپر حوالہ پیش کیا گیا اوران کے پیداہونے کےتقریبا تین سال بعد ہی ’’سعیدابن المسیب‘‘ کی وفات ہوگئی ۔
    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ، وَعَلِيُّ بنُ المَدِيْنِيِّ: تُوُفِّيَ سَنَةَ ثَلاَثٍ وَتِسْعِيْنَ.[سير أعلام النبلاء ط الرسالة 4/ 246]۔

    معلوم ہوا کہ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ ’’سعیدبن عبدالعزیز‘‘ نے یہ روایت ’’سعیدابن المسیب‘‘ سے سنی ہو۔
     
  3. ‏ستمبر 10، 2011 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ابوحازم سلمہ بن دینار کی روایت


    امام ابن سعدرحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أخبرنا الوليد بن عطاء بن الأغر المكي قال: أخبرنا عبد الحميد بن سليمان عن أبي حازم قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: لقد رأيتني ليالي الحرة وما في المسجد أحد من خلق الله غيري، وإن أهل الشام ليدخلون زمرا زمرا يقولون: انظروا إلى هذا الشيخ المجنون، وما يأتي وقت صلاة إلا سمعت أذانا في القبر ثم تقدمت فأقمت فصليت وما في المسجد أحدغيري.[الطبقات الكبرى لابن سعد 5/ 132]۔

    امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    أَخْبَرَنَا أبو بكر بن عبد الباقي، قال: أنبأ أبو محمد الجوهري إذناً، قال: أنبأ ابن حيويه، قال: أنبأ ابن معروف، قال: أنبأ الفهم، قثنا ابن سعد، قال: أنبأ الوليد بن عطاء، قال: أنبأ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي لَيَالِيَ الْحَرَّةِ وَمَا فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ من خلق الله غيري، وأن أهل الشام ليدخلون زُمَرًا يَقُولُونَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ الْمَجْنُونِ، وما يأتي وقت صلاة، إلا سمعت أذاناً في الْقَبْرِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ، فَأَقَمْتُ فَصَلَّيْتُ، وَمَا فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ غَيْرِي.[مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن ط الراية 2/ 301]

    امام ابن ابی خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنا مُحَمَّد بن سُلَيْمَان لوين ، قال : حدثنا عَبْد الحميد بن سُلَيْمَان ، عن أبي حازم ، عن سعيد بن الْمُسَيَّب ، قال : لقد رأيتني ليالي الْحَرَّة وما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدٌ غيري ، ما يأتي وقت صلاةٍ إلا سمعت الآذان مِن القبْر [تاريخ ابن أبي خيثمة 4/ 119]۔

    امام لالکائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي لَيَالِي الْحَرَّةِ وَمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ غَيْرِي، وَمَا يَأْتِي وَقْتَ صَلَاةٍ إِلَّا سَمِعْتُ الْأَذَانَ مِنَ الْقَبْرِ، ثُمَّ أُقِيمُ فَأُصَلِّي، وَإِنَّ أَهْلَ الشَّامِ لَيَدْخُلُونَ الْمَسْجِدَ ُمَرًا، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ الْمَجْنُونِ [كرامات الأولياء للالكائي: 9/ 183]۔

    امام ابونعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَهْلٍ الْخَشَّابُ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي لَيَالِيَ الْحَرَّةِ وَمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي وَمَا يَأْتِي وَقْتُ صَلَاةٍ إِلَّا سَمِعْتُ الْأَذَانَ مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ أَتَقَدَّمُ فَأُقِيمُ وَأُصَلِّي وَإِنَّ أَهْلَ الشَّامِ لَيَدْخُلُونَ الْمَسْجِدَ زُمَرًا فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا إِلَى الشَّيْخِ الْمَجْنُونِ [دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 567]۔

    ان تمام سندوں میں‌ ایک ’’عبد الحميد بن سليمان الخزاعى‘‘ موجود ہے جوضعیف ہے۔

    امام دارقطنی نے اسے ضعفاء ومتروکین میں‌ ذکر کیا ہے۔
    عبد الحميد بن سليمان مدني [الضعفاء والمتروكون للدارقطني ص: 27]۔

    امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لم يكن عبد الحميد بن سليمان أخو فليح بن سليمان بثقة،[معرفة الرجال لابن معين 1/ 57]۔

    امام علی ابن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    كان فُلَيْح، وأخوه عبد الحَمِيْد، ضَعِيْفٌين[سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني - الفاروق ص: 48]۔

    امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    عبد الحميد بن سليمان أخو فليح ، ليس بقوي [الجرح والتعديل موافق 6/ 14]۔

    امام ابوزرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ضعيف الحديث [الجرح والتعديل: 6/ 14، وسندہ صحیح]۔

    امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    عبد الحميد بن سليمان أخو فليح ضعيف [الضعفاء والمتروكين ص: 72]۔

    امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    كَانَ مِمَّن يخطىء ويقلب الْأَسَانِيد فَلَمَّا كثر ذَلِك فِيمَا روى بَطل الِاحْتِجَاج بِمَا حدث صَحِيحا لغَلَبَة مَا ذكرنَا على رِوَايَته[المجروحين لابن حبان 2/ 141]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    عبد الحميد بن سليمان اخو فليح عن أبي الزناد ضعفوه جدا[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 44]۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    عبد الحميد بن سليمان الخزاعي الضرير أبو عمر المدني نزيل بغداد ضعيف[تقريب التهذيب موافق رقم 1/ 249]
     
  4. ‏ستمبر 11، 2011 #4
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,209
    موصول شکریہ جات:
    9,942
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏ستمبر 11، 2011 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا۔
     
  6. ‏ستمبر 11، 2011 #6
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی جان۔ قبوری شریعت کی تشہیر میں مصروف برصغیر کے دونوں مشہور گروہ اس روایت کو قبروں سے فیض پانے کی دلیل کے طور پر اس زبان زد عام روایت کو پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ آمین۔
     
  7. ‏ستمبر 11، 2011 #7
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    جزاک اللہ خیرا۔

     
  8. ‏ستمبر 11، 2011 #8
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا۔

     
  9. ‏ستمبر 13، 2011 #9
    ٹائپسٹ

    ٹائپسٹ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    186
    موصول شکریہ جات:
    987
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے۔
     
  10. ‏ستمبر 18، 2011 #10
    ابن قاسم

    ابن قاسم مشہور رکن
    جگہ:
    الہند
    شمولیت:
    ‏اگست 07، 2011
    پیغامات:
    253
    موصول شکریہ جات:
    1,073
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں