1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبروں کی زیارت کا شرعی حکم کیا ہے؟؟

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از islamkingdom_urdu, ‏ستمبر 25، 2018۔

  1. ‏ستمبر 25، 2018 #1
    islamkingdom_urdu

    islamkingdom_urdu مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2018
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    قبروں کی زیارت
    مُردوں کے لیے دعا اور نصیحت کی غرض سے قبروں کی زیارت کرنا مسنون ہے آپ ﷺ نے فرمایا " میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ پس تم زیارت کرو بے شک وہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

    اور قبر کی زیارت کے وقت یہ دعاء منقولہ پڑھے " السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإِنا إِن شاء الله بكم لاحقون "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

    یا " السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين، وإِنا إِن شاء الله بكم للاحقون "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے] " أسأل الله لنا ولكم العافية "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

    اگر مُردوں کےلیے اپنے الفاظ میں مغفرت اور رحمت کی دعاء کردی تو یہ بھی کوئی حرج نہیں ہے......

    قبروں پر آگ جلانا۔
    ابن عباس رضي الله عنه سے مروی ہے فرماتے ہیں " آپ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر، ان پر مساجد بنانیوالوں پر اور چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے "[اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

    قبروں پر بیٹھنا یا ان پر تیل ملنا یا اس پر عمارت بنانا۔
    حضرت جابر رضي الله عنه سے مروی ہے کہ " آپ ﷺ نےقبروں پر چونا کرنےسے اور اس پر مجاورت اختیار کرنے سے اور عمارت بنانے سے منع کیا ہے " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

    قبروں کے ذریعے برکت حاصل کرنا، ان پر طواف کرنا اور مُردوں سے دعا کرنا۔
    اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ مردے نفع اور نقصان دے سکتے ہیں تو یہ شرک ہے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی نفع اورنقصان کا مالک نہیں ہوں۔ اللہ نے فرمایا " کہہ دیجیے کہ میں کسی نفع یا نقصان کا مالک نہیں ہے مگر اللہ جو چاہے " (اعراف : 188)۔

    قبروں کا طواف کرنا جائز نہیں ہے
    مسجدوں میں دفن کرنا یا قبروں پر مسجدوں کو بنانا یا انکی طرف نماز پڑھنا۔
    آپ ﷺ نے فرمایا " اللہ نے یہودونصاریٰ پر لعنت کی ہے کہ انہوں نےاپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا "
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں