1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبر اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنے کی دعاء

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Naeem Mukhtar, ‏جنوری 29، 2018۔

  1. ‏جنوری 29، 2018 #1
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar مبتدی
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    السلام علیکم مجھے رہنمائی چاہیے جو مطلوبہ حدیث مبارکہ میں دعا ہے اسے انفرادی طور پے کیسے پڑھا جائے اور براہ کرم عربی دعا اعراب سے ریپلائی فرمائیں ۔



    سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں اپنے ایک خچر پر جا رہے تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اتنے میں وہ خچر بدکا اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا دے وہاں پر چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کوئی جانتا ہے کہ یہ قبریں کن کی ہیں؟
    ایک شخص بولا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ کب مرے؟ وہ شخص بولا کہ شرک کے زمانہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کا امتحان قبروں میں ہوتا ہے۔ پھر اگر تم ( اپنے مردوں کو ) دفن کرنا نہ چھوڑ دو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ تم کو قبر کا عذاب سنا دیتا، جو میں سن رہا ہوں۔
    اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھپے اور کھلے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم چھپے اور کھلے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔ لوگوں نے کہا کہ ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

    (صحیح مسلم)

    Sent from my SM-G570F using Tapatalk
     
  2. ‏جنوری 29، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,234
    موصول شکریہ جات:
    2,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    پہلے آپ یہ حدیث مکمل عربی ،اردو کے ساتھ بغور دیکھ لیجئے :
    ــــــــــــــــــــ
    عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "
    (صحيح مسلم وكتاب الجنة وصفة نعيمها )
    سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ زید بن ثابت سے سنی، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے باغ میں ایک خچر پر جا رہے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اتنے میں وہ خچر بھڑکا اور قریب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا دے۔ وہاں پر چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی جانتا ہے یہ قبریں کن کن کی ہیں؟“ ایک شخص بولا: میں جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کب مرے؟“ وہ بولا: شرک کے زمانہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کا امتحان ہو گا قبروں میں، پھر اگر تم دفن کرنا نہ چھوڑ دو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تم کو قبر کا عذاب سنا دیتا جو میں سن رہا ہوں۔“ بعد اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی جہنم کے عذاب سے۔“ لوگوں نے کہا: پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی جہنم کے عذاب سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی قبر کے عذاب سے۔“ لوگوں نے کہا: پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی قبر کے عذاب سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”: پناہ مانگو اللہ کی چھپے اور کھلے فتنوں سے۔“ لوگوں نے کہا: پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی چھپے اور کھلے فتنوں سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پناہ مانگو اللہ تعالیٰ کی دجال کے فتنہ سے۔“ لوگوں نے کہا: پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی دجال کے فتنہ سے۔))
    ــــــــــــــــــــــــــ
    اب اس دعاء کے واحد کے صیغوں کیلئے بھی صحیح مسلم ہی کی حدیث شریف دیکھئے :
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے نماز میں تشہد پڑھے تو چار چیزوں سے پناہ مانگے، کہے:
    «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
    یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے۔“

    أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ "، قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ، فَكَذَبَ، وَوَعَدَ، فَأَخْلَفَ ".
    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے:
    «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»
    ”یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں میں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے، یا اللہ! پناہ مانگتا ہوں میں تیری گناہ اور قرضداری سے“، ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! آپ اکثر قرض داری سے کیوں پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی قرض دار ہوتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلافی کرتا ہے۔“
    (صحیح مسلم ،کتاب المساجد )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے،
    «اللَّهُمَّ فَإِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِى مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»
    یعنی یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے فتنہ سے عذاب سے، جہنم کے اور قبر کے عذاب سے اور امیری کے فتنہ سے اور فقیری کے فتنہ کی برائی سے اور پناہ مانگتا ہوں میں تیری دجال مسیح کے فتنہ کے شر سے۔ یا اللہ! میرے گناہوں کو دھو دے برف اور اولے کے پانی سے اور پاک کر دے میرا دل گناہوں سے جیسے تو نے پاک کر دیا سفید کپڑے کو میل کچیل سے اور دور کر دے گناہوں کو مجھ سے جیسے تو نے دور کیا مشرق کو مغرب سے (پورب کو پچھم سے) یا اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری، سستی، بڑھاپے، گناہ اور قرضداری سے۔
    (صحیح مسلم ،کتاب الذکر والدعاء )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    تو اس طرح ان احادیث سے آپ کے سوال کا جواب یعنی اس دعاء کے واحد کا صیغہ درج ذیل ہوگا :
    اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ))
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 15، 2018 #3
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar مبتدی
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    بہت بہت شکریہ جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں