1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قبولیتِ دعاء کے مخصوص زمان و مکان

'اذکار وادعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏نومبر 03، 2017۔

Tags:
  1. ‏نومبر 03، 2017 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قبولیتِ دعا کے مخصوص زمان و مکان

    سوال: ایسے کونسے اوقات، جگہیں اور کیفیات ہیں جن میں دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: "فرض نمازوں کے بعد" کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا والد کی اپنی اولاد کیلئے دعا قبول ہوتی ہے، یا والد کی اپنے اولاد کے خلاف بد دعا قبول ہوتی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ ان تمام سوالات کا جواب دیں ، جزاکم اللہ خیراً
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    الحمد للہ:

    دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں:

    1- لیلۃ القدر :
    چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت فرمایا جب انہوں نے کہا: "مجھے بتلائیں کہ اگر مجھے کسی رات کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ لیلۃ القدر کی ہی رات ہے ، تو اس میں میں کیا کہوں؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو: (اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ)[یا اللہ! بیشک تو ہی معاف کرنے والا ہے، اور معافی پسند بھی کرتا ہے، لہذا مجھے معاف کر دے]

    2- رات کے آخری حصے میں :
    یعنی سحری کے وقت دعا کرنا، اس وقت اللہ تعالی آسمان دنیا تک نزول فرماتا ہے، یہ اللہ سبحانہ وتعالی کا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہےکہ انکی ضروریات اور تکالیف دور کرنے کیلئے نزول فرماتا ہے، اور صدا لگاتا ہے: "کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اسکی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھے سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگے، تو اسے بخش دوں" بخاری: (1145)

    3- فرض نمازوں کے بعد:
    ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: "کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟" آپ نے فرمایا: (رات کے آخری حصے میں، اور فرض نمازوں کے آخر میں)" ترمذی: (3499)، اس حدیث کو البانی نے "صحیح ترمذی" میں حسن قرار دیا ہے۔

    یہاں اس بات میں مختلف آراء ہیں کہ عربی الفاظ"دبر الصلوات المكتوبات"سے کیا مراد ہے؟ سلام سے پہلے یا بعد میں؟

    اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے شاگرد ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سلام سے پہلے ہے، چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: "ہر چیز کی "دُبُر" اسی چیز کا حصہ ہوتی ہے، جیسے "دبر الحیوان" یعنی حیوان کا پچھلا حصہ" زاد المعاد(1/305)

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    جن دعاؤں کا تذکرہ "دبر الصلاۃ" کی قید کے ساتھ آیا ہے، ان سب کا وقت سلام سے پہلے ہے، اور جن اذکار کا تذکرہ " دبر الصلاۃ " کی قید کے ساتھ آیا ہے، تو یہ سب سلام کے بعد کے اذکار ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ}
    چنانچہ جب تم نماز مکمل کر لو؛ تو اللہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے، اور پہلو کے بل کرو۔ [النساء : 103]
    مزید کیلئے دیکھیں : "كتاب الدعاء "از شیخ محمد الحمد :صفحہ: (54)

    4- اذان اور اقامت کے درمیان:
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی)
    ابو داود :(521) ترمذی: (212) اسی طرح دیکھیں: صحیح الجامع (2408)

    5- فرض نمازوں کی اذان اور میدان معرکہ میں گھمسان کی جنگ کے وقت:
    چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دو چیزیں کبھی رد نہیں ہوتیں، یا بہت ہی کم رد ہوتی ہیں، اذان کے وقت، اور میدان کار زار کے وقت جب گھمسان کی جنگ جاری ہو) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ روایت صحیح ہے، دیکھیں: صحیح الجامع: (3079)

    6- بارش کے وقت:
    چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: (دو دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے وقت کی دعا) ابو داود نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے "صحیح الجامع": (3078) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    7- رات کے کسی حصے میں دعا
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (رات کے وقت ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان دنیاوی اور اخروی خیر مانگے تو اسے وہ چیز دے دی جاتی ہے، یہ گھڑی ہر رات آتی ہے) مسلم: (757)

    8- جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: (اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے کھڑے ہو کر دعا مانگے تو اللہ تعالی اسے وہ چیز عطا فرماتا ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھڑی کے انتہائی مختصر ہونے کا اشارہ بھی فرمایا۔
    بخاری: (935) مسلم: (852)
    اس کے بارے میں آپ سوال نمبر: (21748) کا جواب بھی ملاحظہ کریں۔

    9- زمزم پیتے وقت کی دعا :
    چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: (زمزم کا پانی ہر اس مقصد کیلئے ہے جس مقصد سے پیا جائے ) امام احمد نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے "صحیح الجامع" (5502) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    10- سجدے کی حالت میں دعا:
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (بندہ اپنے رب کے قریب ترین سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے کثرت سے سجدے کی حالت میں دعا کرو) مسلم: (482)

    11- مرغ کی آواز سننے کے وقت:
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تم مرغ کی آواز سنتے ہو تو اللہ سے فضل الہی مانگا کرو، کیونکہ اس وقت مرغ فرشتے کو دیکھتا ہے) بخاری: (2304) مسلم: (2729)

    12- " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ " پڑھ کے دعا مانگنا :
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ذو النون[یونس علیہ السلام ] کی دعا مچھلی کے پیٹ میں یہ تھی: " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ " اور ان الفاظ کے ذریعے کوئی بھی مسلمان اللہ تعالی سے دعا مانگے تو اللہ تعالی اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے) ترمذی، البانی رحمہ اللہ سے اسے "صحیح الجامع" (3383) میں صحیح قرار دیا ہے۔
    قرآن مجید کی جس آیت میں ان الفاظ کا ذکر ہے ان کی تفسیر بیان کرتے ہوئے قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    {وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ [87] فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ} اور مچھلی والا جب غصے کی حالت میں چل نکلا، اور یہ سمجھا کہ ہم اس پر گرفت نہیں کریں گے، پھر اس نے اندھیروں میں پکارا: بیشک تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالموں میں سے ہوں [87] پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی، اور غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ [الأنبياء: 87- 88] قرطبی فرماتے ہیں ان آیات میں اللہ تعالی نے یہ لازم قرار دیا ہے کہ جو بھی اسے پکارے گا، تو وہ اسکی دعا قبول کریگا، جیسے یونس علیہ السلام کی دعا قبول کی، اور اسی طرح نجات بھی دے گا جیسے یونس علیہ السلام کو نجات دی، اس کی دلیل آیت کا آخری حصہ ہے: " وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ " [اور ہم اسی طرح مؤمنوں کو نجات دینگے]۔
    "الجامع لأحكام القرآن" (11/334)

    13- مصیبت پڑنے پر
    " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرَاً مِنْهَا" کے ذریعے دعا کرنا:

    صحیح مسلم : (918) میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (کوئی بھی مسلمان کسی بھی مصیبت کے پہنچنے پر حکم الہی کے مطابق کہتا ہے: " إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرَاً مِنْهَا " [بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں، اور اسی کی طرف لوٹیں گے ، یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما، اور مجھے اس سے اچھا بدلہ نصیب فرما]تو اللہ تعالی اسے اِس سے اچھا بدلہ ضرور عطا فرماتا ہے) مسلم: (918)

    14- میت کی روح پرواز کر جانے پر لوگوں کا دعا کرنا:
    ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، [آپ فوت ہوچکے تھے] اور آپکی آنکھیں پتھرا گئی تھیں، آپ نے انکی آنکھیں بند فرمائیں، اور ارشاد فرمایا: (جس وقت روح قبض کی جاتی ہے، نظر اسکا پیچھا کرتی ہے) یہ سن کر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ میں سے کسی نے چیخ ماری، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اپنے لئے اچھے کلمات ہی بولو؛ کیونکہ تم جو بھی کہو گے فرشتے اس پر آمین کہہ رہے ہیں) مسلم: (2722)

    15- بیمار آدمی کے پاس دعا کرنا:
    صحیح مسلم: (919) میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم مریض کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے تمہاری ان باتوں پر آمین کہتے ہیں) ۔۔۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت ابو سلمہ فوت ہوگئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپکو خبر دی کہ : "ابو سلمہ فوت ہوگئےہیں " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم یہ کہو: " اَلَّلهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلَهُ وَأَعْقِبْنِيْ مِنْهُ عُقْبىً حَسَنَةً "[یا اللہ! میری اور اس کی مغفرت فرما، اور مجھے اس سے اچھا بدلے میں عطا فرما]) ام سلمہ کہتی ہیں : میں نے یہ الفاظ کہے، تو اللہ تعالی نے مجھے ابو سلمہ سے بہتر خاوند عطا کیا، یعنی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم"

    16- مظلوم کی دعا:
    ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مظلوم کی بد دعا سے بچنا ، کیونکہ اللہ اور مظلوم کی بد دعا کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا) بخاری: (469) مسلم: (19)
    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (مظلوم کی بد دعا قبول ہوتی ہے، چاہے وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو، اس کے فاجر ہونے کا نقصان اُسی کو ہوگا) احمد نے اسے روایت کیا ہے، مزید کیلئے دیکھیں: صحیح الجامع: (3382)

    17- والد کی اپنی اولاد کے حق میں دعا، روزہ دار کی روزے کی حالت میں دعا، اور مسافر کی دورانِ سفر دعا:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (تین قسم کی دعائیں رد نہیں ہوتیں: والد کی اپنی اولاد کے حق میں، روزے دار، اور مسافر کی دعا) بیہقی نے اسے روایت کیا ہے، اور یہی روایت : صحیح الجامع: (2032) اور سلسلہ صحیحہ : (1797) میں موجود ہے۔

    18- والد کی اپنی اولاد کیلئے بد دعا:
    صحیح حدیث میں ہے کہ: (تین دعائیں قبول ہوتی ہیں:مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور والد کی اپنی اولاد کے لئے بد دعا) ترمذی: (1905) مزید دیکھیں: (372)

    19- نیک اولاد کی اپنے والدین کیلئے دعا:
    صحیح مسلم: (1631) کی حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (جب انسان مر جائے تو تین ذرائع کے علاوہ اس کے تمام عمل منقطع ہو جاتے ہیں: صدقہ جاریہ، نیک اولاد جو مرنے والے کیلئے دعا کرے، یا علم جس سے لوگ مستفید ہوں)

    20- ظہر سے پہلے زوال شمس کے وقت دعا:
    چنانچہ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد اور ظہر کے فرائض سے قبل چار رکعت نماز اد اکیا کرتے تھے، اور آپ نے فرمایا: (اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرے نیک اعمال اوپر جائیں) اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، اور اسکی سند صحیح ہے، مزید کیلئے دیکھیں: تخریج المشکاۃ: (1/337)

    21- رات کے وقت کسی بھی لمحے آنکھ کھلنے پران مسنون الفاظ کے بعد دعا کرنا:
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص رات کے وقت بیدار ہوا، اور اس نے یہ کہا:
    "لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
    [اللہ کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں، وہ یکتا و تنہا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تعریفیں اسی کیلئے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، الحمد للہ، سبحان اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ اکبر، نیکی کرنے کی طاقت، اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ کے بغیر نہیں ہے] پھر اس نے کہا: یا اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دعا مانگی تو اسکی دعا قبول ہوگی، اور اگر وضو کرکے نماز پڑھی تو اس کی نماز بھی قبول ہوگی) بخاری: (1154).

    اسلام سوال و جواب
     
  2. ‏نومبر 03، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اللہ تعالی کے ہاں دعا کی قبولیت کیلیے کیا شرائط ہیں؟

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    الحمد للہ:

    دعا کیلیے متعدد شرائط ہیں:

    1- صرف اللہ تعالی سے دعا مانگے؛ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا: (تم جب بھی مانگو تو اللہ تعالی سے مانگو اور جب بھی مدد چاہو تو صرف اللہ تعالی سے مدد چاہو) ترمذی (2516)نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے اسے صحیح الجامع میں صحیح قرار دیا ہے۔

    حقیقت میں یہ حدیث اس آیت کی ترجمان ہے:
    ( وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُو مَعَ اللَّهِ أَحَداً )
    ترجمہ: اور بے شک مساجد اللہ کیلیے ہیں اس لیے اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔[الجن:18]

    یہ شرط بہت ہی عظیم اور اہم ترین شرط ہے، اس کے بغیر دعا قبول ہی نہیں ہوتی اور اس کے بغیر کوئی عمل بھی اللہ تعالی کے ہاں پیش نہیں کیا جاتا، کچھ لوگ ہیں جو مردوں سے مانگتے ہیں، انہیں اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان وسیلہ بناتے ہیں، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نیک لوگ انہیں اللہ تعالی کے قریب کر دیں گے، انہیں اللہ تعالی کے سامنے سفارشی بناتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالی کے ہاں ان کا کوئی مقام نہیں ، اس لیے نیک لوگوں کو اللہ تعالی کے ہاں وسیلہ بناتے ہیں اور اللہ تعالی کی بجائے انہی سے دعائیں کرتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ( وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ )
    ترجمہ: اور جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، جب بھی مجھے کوئی دعا کرنے والا پکارتا ہے اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔[البقرة:186]

    2- شرعی طور پر جائز وسیلوں میں سے کوئی وسیلہ اپنائے۔

    3- جلد بازی سے پرہیز کرے؛ کیونکہ جلد بازی دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے، جیسے کہ ایک حدیث میں ہے کہ: (تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہے: دعا تو بہت کی ہے لیکن قبول ہی نہیں ہوتی) بخاری: (6340) مسلم: (2735)

    اسی طرح صحیح مسلم : (2736)میں ہے کہ : (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا اور جلد بازی نہیں مچاتا) کہا گیا: اللہ کے رسول! "جلد بازی مچانے سے کیا مراد ہے؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ یہ کہنے لگ جائے کہ: میں نے بہت دعا کی انتہائی زیادہ دعائیں مانگیں، لیکن اللہ میری دعا قبول نہیں فرماتا، وہ یہ کہہ کر تھک ہار جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے)

    4- دعا میں کوئی گناہ یا قطع رحمی والی بات نہ ہو، جیسے کہ پہلے حدیث میں گزرا ہے کہ: (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا)

    5- اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے اپنے بارے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں) بخاری: (7405) مسلم: (4675) اور اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ: (اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے تمہیں قبولیت پر پورا یقین ہونا چاہیے) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح الجامع : (245) میں حسن قرار دیا ہے۔

    چنانچہ اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھنے والے پر اللہ تعالی خیر و برکات کے دریا بہا دیتا ہے، اللہ تعالی اس پر اپنا فضل فرماتا ہے، اللہ تعالی کی طرف سے اس پر جود و سخا برسا دی جاتی ہے۔

    6- حضورِ دل سے دعا مانگے، دل میں اللہ تعالی کی عظمت اجاگر ہونی چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جان لو! بیشک اللہ تعالی کسی بھی غافل دل سے کوئی دعا قبول نہیں فرماتا) ترمذی: (3479) نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اسے صحیح الجامع: (245) میں حسن قرار دیا ہے۔

    7- کھانا پینا حلال ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ( إنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ )
    ترجمہ: بیشک اللہ تعالی متقی لوگوں سے ہی قبول کرتا ہے۔[المائدة:27]
    دوسری جانب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے شخص کی دعا کی قبولیت کو ناممکن قرار دیا جس کا کھانا، پینا، اور پہننا حرام کا ہو، چنانچہ حدیث میں ہے کہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ لمبے سفر میں پراگندہ بال اور دھول میں اٹا ہوا آسمان کی جانب ہاتھ پھیلا کے کہے: یا رب! یا رب! ، حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، پینا حرام ہے، لباس حرام سے بنا اور اس کی نشو و نما بھی حرام پر ہوئی؛ تو اس کی دعا کیسے قبول ہو!) مسلم: (1015)

    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: (حرام کھانے سے دعا میں قوت ختم ہو جاتی ہے اور دعا میں کمزوری آ جاتی ہے)

    8- دعا میں حدود سے تجاوز مت ہو؛ کیونکہ اللہ تعالی کو دعا میں حد سے تجاوز پسند نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ )
    ترجمہ: تم اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چھپ کر پکارو، بیشک وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔[الأعراف:55]

    اس بارے میں مزید تفصیلات کیلیے سوال نمبر: (41017) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    9- دعا میں مشغول ہو کر کسی ضروری کام کی ادائیگی میں کوتاہی نہ برتے،
    مثلاً: کوئی فوری اور ضروری کا م جیسے والد کی خدمت اس حجت سے نہ چھوڑے کہ دعا میں مشغول ہوں، اس کے متعلق عبادت گزار جریج کے واقعے میں واضح اشارہ موجود ہے کہ جب انہوں نے اپنی والدہ کی آواز سن کر اس کا جواب نہ دیا اور اپنی نماز میں مشغول رہے تو ان کی والدہ نے ان کے خلاف بد دعا کر دی نتیجتا اللہ تعالی نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔

    امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "علمائے کرام کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جریج کیلیے صحیح عمل یہ تھا کہ اپنی والدہ کی بات کا جواب دیتے؛ کیونکہ وہ نفل نماز ادا کر رہے تھے اور اس نفل نماز کو جاری رکھنا بھی نفل ہی تھا واجب نہیں تھا، جبکہ والدہ کی بات کا جواب دینا، ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا واجب ہے ان کی نافرمانی حرام ہے۔۔۔ "
    "شرح صحیح مسلم" از نووی: (16/82)

    مزید کیلیے آپ محمد بن ابراہیم حمد کی عربی کتاب: "الدعاء" ملاحظہ کریں۔

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں