1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

قتل غیرت ایک غیر انسانی ‘غیر اسلامی اور غیر آئینی رویہ((ظفر اقبال ظفر))

'جامعہ لاہور الاسلامیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جنوری 22، 2017۔

  1. ‏جنوری 22، 2017 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    ((ظفراقبال ظفر))
    قتل غیرت ایک غیر انسانی ‘غیر اسلامی اور غیر آئینی رویہ :
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور ضابطہ اخلاق ہے جو زندگی کے جملہ پہلووں کی طرف رہنمائی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی مذاہب میں صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو عالمگیریت ہونے کا دعوی کر سکتا ہے کیونکہ امن و عافیت ‘ اخلاق و کردار ‘ ایثار و محبت ‘ معاشرت و ثقافت ‘ سیاست و عسکریت ‘اصول معیشت کا جو لا ریب نظام اسلام نے دنیا کو دیا دیگر مذاہب میں شرمندہ خواب بن کر رہ جاتا ہے ۔اسلا م ہی وہ مذہب ہے جس نے لوگوں کو رہنے سہنے اور میل جول مفاہمت و مخاصمت کی صورت میں اتفاق ‘ صلح ‘ رواداری ‘ اخوت ‘ محبت ‘برداشت ‘ صبر وتحمل ‘ درگزر ‘صلہ رحمی ‘اپنائیت اور بھائی چارے کا جو عظیم المثال درس دیا اس سے معاشرہ امن و عافیت اور تحفظ انسانی کا گہوارہ بن جاتا ہے ۔اسلامی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ کہلاتاہے جو جرائم کا خاتمہ ہی نہیں کرتا بلکہ اس جرم کے تمام اسباب و محرکات کی روک تھام اور مجرم کی اصلاح کے لیے جو قوانین وضع کرتا ہےدنیا کے تمام نظام ان قوانین کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں ۔آج دینا میں دہشت گردی ‘ قتل و غارت گری ‘ انسانی سمگلنگ ‘ قتل غیرت جیسے بڑھتے ہوئے جرائم معاشروں کو دیمک کی طرح آئے روز کھائے جا رہے ہیں ۔مگر کوئی تہذیب اور مذہب سوائے اسلام کے اس کے تدارک کے لیے کوئی مؤثرنظام پیش نہیں کر سکتےجس سے امن و عافیت اور احترام انسانیت کے لیے کوئی واضع ہدایات موجودہو۔یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے دنیا کو غیر مبہم حدود تعزیرات کا ایک ایسا نظام دیا جس سے جرائم کا خاتمہ ہوا اور مجرموں نے امن عافیت کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ وہ معاشرے جو انسانیت کے احترام سے عاری اورانسانی جانوں سے کھیلنا اپنا خاص مشغلہ سمجھتے تھےدائرہ اسلام میں داخل ہونے اور اسلامی تعلیمات کو فوقص کرنے کے بعد قانون کے رکھوالے اور انسانیت سے ہمدردگی اور ایثار و قربانی کا درس دینے لگے۔اسلام کی آمد سے قبل عورت جو کسی بھی معاشرے اور خاندان کی بنیادی اکائی کی حثیت رکھتی ہے جس سے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور معاشرے تشکیل پاتے ہیں ۔ جو گھرواور خاندانوں کی زینت کے ساتھ ساتھ انسان کےلیے سکون اور اطمعنان کا بعث ہے ۔اس سے اس قدر غیر انسانی و غیر اخلاقی برتاؤں کیا جاتا تھا کہ انسانیت شرمندہ خواب بن جاتی ۔اسلام کی آمد سےقبل دنیا خصوصا عرب معاشرہ بد عنوانی ‘ڈاکہ زنی ‘زنا بالجبر ‘دختر کشی ‘اور قتل غیرت گری کی آماجگاہ بنا ہواتھا۔عورت کی عزت و توقیر نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہ ملتی تھی ۔ دنیا عورت کو صرف نفسانی خواہش اور لونڈی سے ذیادہ حیثیت دینے کو تیار نہ تھی۔جائیداد ‘تعلیم و تعلم اور جملہ حقوق سے محروم کر دیا جاتا تھا ۔خاوند کی وفات کے بعد سرپرست اس کی جائیداد پر قابض ہو جاتا تھا اور اس کو آگے نکاح کر نے کی آجازت سے محروم کر دیتا تھا۔ اسطرح عورت ایک تماشا بن کر ر ہ جاتی ۔عورت ظلم و ستم برداشت کرتی رہتی-اس معاشرے میں قانون کی غیر انسانی و غیر اسلامی روش کے سبب کسی کو آپنے پر ہونے والے جرم کو بیان کرنے کی اجازت نہ تھی - اس کا آپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بیان کرنا کسی جرم سے کم تصور نہ کیا جاتا تھا ۔اسلام کا آفتاب اس وقت طلوع ہوا جب ہر طرف ظلم و ستم کی تاریک راتیں عدل و انصاف کی کرنوں کو آپنے اندر ضم کیئے تھیں ۔اسلام نے آکر عورت کو سب سے قبل جینے کا حق دیا اور انسانی احترام کے سبب عورت کے قتل پر قصاص کو لازم قرار دیتے ہوئے عدل و انصاف کے اسلامی اصولوں میں مرد و عورت میں امتیازی سلوک کو ختم کردیا ۔اسطرح اسلام نے عورت کو نکاح کا حق دیتے ہوئے اس کی رضا کو صحت نکاح کے لیے شرط قرار دیا ۔والدین کی مرضی سے کیے نکاح کو جس میں عورت کی رضا شامل نہ ہوفسخ قرارد یا ۔اسلام نے عورت کو وراثت کا حق ہی نہیں دیا بلکہ قرآن مجید میں اس کے حصص کو بیان کردیا ۔اسلام نے عورت کو مرد کی طرح تعلیم حاصل کرنے کو فرض قرار دیا ۔اگر نیک چلن خاوند کی فرما بردار عورت ہے تو بیوی ہونے کی حیثیت سے اس کو (خیر مطاع الدنیا المراۃ الصالح ) کا لقب عطا فرمایا۔اسلام نے عورت کو بیٹی کے روپ میں رحمت اور بہن کے روپ میں ایثار اور قربانی کا سبب قرار دیا ۔عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو فرمایا (لاتقلھما اف ولا تنہر ھما) کہیں فرمایا اللہ ماں کی دعا کو رد نہیں کرتا ۔کہیں فرمایا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔اسلام نے عورت کو آپنے دائرہ کار میں رہ کر تمام جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے باپردہ گھر سے باہر جلباب ( لمبی چارد )اوڑ کر نکلنے کا حکم دیا اور اسطرح مرد کو آپنی نظر جھکا کر چلنے کا حکم دیا ۔اسلام نے عورت کی فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو زیب و زینت سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ:
    عورت کی تمام تر زیب و زینت صرف خاوند کے لیے ہو غیر اس کو دیکھ نہ سکے نہ کسی غیر کے سامنے ظاہر کرے ۔اسلام نے مفاسدات کے اسباب میں ایک سبب عورت کو غیر محر م سے بات کرتے وقت نرم لہجے سے بات کرنے سے منع کر دیا تاکہ کسی خبیث النفس کے دل میں نرم لہجے سے بات کرنے سے کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو۔ اسلام نے عورت اور مرد کی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے زنا سے منع کیا اور نفسانی و فطرتی خواہش کی تکمیل کے لیے نکاح کا رستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ۔اسلام نے عورت کو خاوند کہ جبر وتشدد سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے خلع کا حق دیا ۔اسلام نے عورت کی تمام جائز ضروریات کی تمکیل کے لیے اس کے نفقع کا ذمہ دار باپ اور بھائی کے بعد خاوند اور اس کے بعد بیٹے کو بنایا۔نبی کریمﷺ نے زنا کی اجازت مانگنے والے کو فرمایا کے اگر تیری ماں اور بہن و بیٹی سے کوئی ایسا کرے تو تیرا کیارد عمل ہوگا ؟ تو اس نے فرمایا میں اس کو جان سے مار دونگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کے ساتھ تو یہ فعل کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے وہ بھی کسی کی ماں ‘بہن اور بیٹی ہے ۔تو اسطرع نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو عورت کی عزت اور عفت و عصمت سے آگاہ کیا ۔آج پوری دنیا خصوصا پاکستانی معاشرے میں آئے روز کسی نہ کسی جگہ کسی کی آبروریزی ہوتی ہے تو کہیں کئی قیمتی جانیں غیرت کے نام پر قتل کی نظر ہو جاتے ہیں ۔غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے واقعات میں ریکارڈ اضافہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادراوں کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔مگر اس کے اسباب و محرکات کی روک تھام کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے ۔ آخر ان واقعات کے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں ؟یہ جاننے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔مندرجہ ذیل وجوہات کی بناپر غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ۔
    قتل غیرت کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں ۔
    ٭اسلام تعلیمات سے انحراف اور عدم واقفیت۔
    ٭شک و شبہ اور خاندانی عنا پسندی ۔
    ٭بچے اور بچیوں کے نکاح شرعی میں جان بوجھ کر تاخیر ۔
    ٭میڈیا کا غیر اخلاقی اور غیر اسلامی پر گرام نشر کرنا۔
    ٭مذہبی اور اسلامی نصاب پر مبنی تعلیمی ادراوں کی بجائے ایسے ادارو ں کا انتخاب جس میں موسیقی ‘ کنگ‘بانسری اور باجا جیسے قبیح آلات کی تعلیم کو تفریح کا درجہ دیا جاتا ہو اور حیا باختہ پروگرام کیے جاتےہو مردو زن کے اختلاط کے نام پر بے حیائی اور آوارگی جیسے تفریح ٹور کو انجوائے اور فریشمنٹ کا نام دیا جاتا ہو ان میں آپنے بچوں کو داخل کروانے میں دلچسپی رکھنا ۔
    ٭بچوں اور بچیوں کی اسلامی نہج پر تربیت نہ کرنا۔
    ٭لڑکے اور لڑکیوں کو فری ہینڈ اور آزادی دینا ۔
    ٭بچوں کی مصروفیا ت پر والدین کی عدم توجہ ۔
    ٭انٹر نیٹ ‘اسمارٹ فون‘ کیبل ‘اور لہوولہب وآلات موسیقی کا آزادانہ استعمال ۔
    ٭مغربی تہذیب و تمدن کی نقالی ۔
    ٭ بغیر محرم کے عورت کا گھر سے باہر آزادانہ گھومنا۔
    ٭ریاست میں لاقانونیت کا راج۔
    ٭غیر ملکی این جی اوز کا ہمارے تعلیمی نظام پر حملہ ۔
    ٭عورت پر معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دینا ۔
    ٭غیر اسلامی قانون سازی اور گھر سے بھاگنے والے جوڑوں کی قانونی حوصلہ آفزائی ۔
    ٭خاندان کا عورت کی کفالت سے انکار ۔
    ٭عورتوں کا اداکاری ‘گلوکاری ‘عشقیہ شاعری ‘آلات موسیقی ‘اور کھیل کے میدانوں میں دلچسپی لینا۔
    ٭عدم برداشت اور بے صبری کی ہجانی کفیت ۔
    ٭سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور فرینڈ شپ ۔
    ٭نكاح شرعی میں بلا وجہ تاخیر۔

     
    Last edited: ‏جون 19، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں