1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قدیم مصاحف قرآنیہ … ایک تجزیاتی مطالعہ

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مئی 30، 2012۔

  1. ‏مئی 30، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    قدیم مصاحف قرآنیہ … ایک تجزیاتی مطالعہ

    حافظ محمد زُبیر تیمي​

    قدیم مصاحف کے مطالعے میں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی مصحف کے قدیم ہونے کے دلائل کیا ہو سکتے ہیں؟ مختلف علماء نے کسی مصحف کے زمانہ کتابت کو معلوم کرنے کے لیے دو ذرائع کا ذکر کیا ہے جو درج ذیل ہیں:
    (١) عربی زبان کی کتابت میں حروف ‘خط‘ رسم اور تحریر کی خصوصیات اوران کے ارتقاء کے متعدد مراحل کی روشنی میں کسی مصحف کے زمانے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ عربی زبان کے حروف کی کتابت کے ارتقائی مراحل جاننے کے لیے آثارِ قدیمہ ایک اہم مصدر ہیں مثلاً حجاج بن یوسف کے زمانے میں جاری کیے گئے دراہم پر موجود عربی تحریر‘اس دور میں سکے جاری کرنے کی ڈائیوں کی تحریریں‘ بنو أمیہ کے دور کے سکوں کی تحریریں‘ مروان بن حکم کے بنائے گئے قبہ پر موجود عربی تحریریں‘ بنو امیہ کے دور میں قائم کیے گئے قبہ صخرہ کی عربی تحریریں وغیرہ۔ عربی زبان کے حروف اور رسم کے ارتقائی مطالعہ کے لیے درج ذیل مصادر کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے:
     
  2. ‏مئی 30، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ الکتابات في العصر الراشدي المسکوکات (۲۰۔۴۰ھ)
    ٭ البردیتان المؤرختان (۲۲ھ)
    ٭ مصادر الحروف العربیة علی النقود الأمویة المعربة وغیر المعربة (۴۱۔۱۳۲ھ)
    ٭ الدراھم الإسلامیة الساسانیة للحجاج بن یوسف الثقفي في المتحف العراقي
    ٭ کتابة قبة نسیج من الحریر للخلیفة مروان بن الحکم (۶۴ھ)
    ٭ کتابة قبة الصخرة (من الفیفساء) مؤرخة (۷۲ھ)
    ٭ کتاب دراسات في تاریخ الخط العربي منذ بدایته إلی نھایة العصر الأموي‘ صلاح الدین المنجد
    ٭ أصل الخط العربي و تطورہ حتی نھایة العصر الأموي‘ سهیلة یاسین‘ جامعة بغداد
    ٭ مصاحف صنعاء من القرن الأول الھجري والثاني و الثالث‘ مجموعة مقالات متنوعة‘ کویت
    ٭ صبح الأعشي للقلقشندی
    ٭ الفہرست لابن ندیم
    The Quranic Art of Calligraphy and Illumation, Martin Lings, Wester Ham Press, England.
    The Abbasid Tradition Qurans of the 8th to 10th centyries, Francois Derocthe.
     
  3. ‏مئی 30، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) کاربن ۱۴ ٹیسٹ کے ذریعے بھی کسی مصحف کے زمانہ کے بارے معلومات جمع کی جاتی ہیں۔اس طریقے کے ذریعے ان اَشیاء کے زمانہ فنا کو معلوم کیا جاتا ہے جن میں کوئلہ‘لکڑی‘ ہڈی‘ درختوں کے پتے یا چمڑا وغیرہ استعمال ہوا ہو۔ چونکہ قدیم مصاحف چمڑوں پر لکھے جاتے تھے لہٰذا ان کے زمانہ کتابت کو معلوم کرنے کے لیے اس طریقے کو بھی کثرت سے استعمال کیا جاتاہے۔یہ طریقہ فزکس‘ کیمسٹری اور ٹیکنالوجی کے اِرتقاء کی پیداوار ہے لہٰذا ایک سائنسی طریقہ ہے۔ اگرچہ یہ اس قدر مستند نہیں ہے جس قدر پہلا طریقہ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کاربن ٹیسٹ کے ذریعے کسی شے کی موت کا زمانہ معلوم ہوتا ہے نہ کہ پیدائش کا۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ قرآن کے کسی قدیم نسخے کا ایک ورق لے کر اس ورق کے ضائع ہونے والے بعض حصے کا ضائع ہونے کا زمانہ معلوم کیا جاتا ہے لیکن وہ مصحف لکھا کب گیا‘ یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
    ان دوذرائع میں درج ذیل کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے:
     
  4. ‏مئی 30، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٣) چوتھی صدی ہجری سے چودہویں صدی ہجری کے مابین لکھے جانے والے مصاحف کے آخر میں بعض اوقات کاتب کا نام اور تاریخ کتابت بھی درج ہوتی ہے جس سے اس مصحف کی کتابت کے زمانے کے بارے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔
    (٤) کسی مصحف کے آخر میں بعض اوقات کاتب کا نام درج ہوتا ہے۔ اس کاتب کی تاریخ پیدائش و وفات سے بھی اس مصحف کے زمانے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔
    (٥) تاریخی اخبار و آثار سے بھی کسی مصحف کے زمانہ کے بارے ظن کی حد تک علم حاصل ہو تاہے۔
     
  5. ‏مئی 30، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    قدیم مصاحف کا اجمالی تعارف
    مسلمان محققین کی تحقیق کے مطابق اس وقت عالم اسلام اور عالم کفر کی لائبریریوں میں تقریباً ۹۶ ایسے نادر مصاحف موجود ہیں جو پہلی پانچ صدی ہجری کے دورانیے میں لکھے گئے ہیں۔ ان مصاحف میں سے عراق میں ۱۸‘ ترکی میں ۱۶‘ مصر میں ۱۴‘ تیونس میں ۸‘ امریکہ میں ۸‘ برطانیہ میں ۸‘ ایران میں ۶‘ افغانستان میں ۵‘ روس میں ۴‘ ہندوستان میں ۴‘ سعودی عرب ‘ فلسطین‘ مغرب اقصی‘ پاکستان‘ یمن اور ویٹی کن سٹی میں سے ہر ایک میں ایک ایک نسخہ موجود ہے۔ ان میں سے بعض نسخے کامل ہیں جبکہ بعض ناقص۔ صنعاء ‘ یمن سے حال ہی میں دریافت شدہ ایک صد سے زائد قدیم مصاحف ان کے علاوہ ہیں۔ ذیل میں ہم ممالک کے اعتبار سے بعض قدیم نسخہ قرآنیہ کا تعارف پیش کر رہے ہیں:
     
  6. ‏مئی 30، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ترکی میں قدیم مصاحف
    (١) خط کوفی میں ایک مصحف توپ کاپی سرائے میوزم ‘ استنبول میں موجود ہے جس کا نمبر'1'ہے۔ا س مصحف پر لکھا ہے کہ اس مصحف کو حضرت عثمان﷜نے ان قراء صحابہ﷢ کی املاء پر لکھا تھاجنہوں نے اللہ کے رسول﷤ سے قرآن حاصل کیا تھا۔بعض محققین کا کہنا یہ ہے کہ یہ مصحف بذاتہ قدیم تو ہے لیکن حضرت عثمان﷜نے کوئی مصحف نہ لکھا تھا لہٰذا اس کے کاتب کوئی اور ہیں۔
    (٢) خط کوفی میں ایک نسخہ توپ کاپی سرائے میوزم میں موجود ہے جو چمڑے پر لکھا ہو اہے۔ اس کے اوراق کی تعداد ۱۴۷ ہے۔ اس کا نمبر 36E.H.29ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ یہ حضرت علی بن ابی طالب﷜ کی کتابت سے ہے۔
    (٣) توپ کاپی سرائے میوزم سے ملحق لائبریری ’أمانة خزینة‘ میں بھی ایک نادر نسخہ موجود ہے۔ اس نسخے پر لکھا ہے کہ اسے ۵۲ھ میں عقبہ بن عامرa نے لکھاہے۔ اس کا نمبر'40'ہے۔اس نسخے میں کاتب کے نام اور تاریخ کتابت کا اضافہ بعد میں کسی نے کیا ہے۔ لہٰذا بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ نسخہ اس تاریخ سے بعد کے زمانے میں لکھا گیا ہے۔
     
  7. ‏مئی 30، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٤) ’أمانة خزینة‘ میں ایک نسخے کے آخر میں لکھا ہے کہ اس کے کاتب جعفر بن محمد بن زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب﷜(متوفی ۱۴۸ھ) ہیں۔ اس کے اوراق کی تعداد ۱۶۲ ہے۔ نامکمل مصحف ہے۔ اس کا نمبر'39'ہے۔
    (٥) آثارِ اسلامیہ میوزم‘ استبول میںچمڑے پر لکھا ہوا ایک مصحف موجود ہے جس کا نمبر'457' ہے۔ شروع‘ درمیان اور آخر سے اس کے کچھ اوراق غائب ہیں۔اس مصحف کے بارے قدیم مصاحف کے ماہر ڈاکٹر صلاح الدین المنجد کا کہنا ہے کہ میں نے جتنے بھی قدیم مصاحف کا مشاہدہ کیا ہے‘ یہ ان میں سے سب سے زیادہ قدیم معلوم ہوتاہے۔ڈاکٹر المنجد کے بقول یہ مصحف اپنے انداز تحریر کی روشنی میں پہلی صدی ہجری کے اواخر میں لکھا گیا ہے۔
    (٦) جامعہ استنبول کی لائبریری میں ایک مصحف معروف عربی خطاط ابن بواب بغدادی(متوفی ۴۱۳ھ) کے خط سے لکھا ہوا موجود ہے۔ اس کا نمبر'449'ہے۔
    (٧) مذکورہ بالا لائبریری میں خط کوفی میں ۳۶۱ھ میں لکھا ہوا ایک مصحف بھی موجود ہے جس کا نمبر'A 6778'ہے۔
     
  8. ‏مئی 30، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    برطانیہ میں قدیم مصاحف
    (١) برمنگھم میں چمڑے پر خط کوفی میں لکھا ہواایک قدیم نادر نسخہ موجود ہے جس کے بارے محققین کا کہنا ہے کہ یہ دوسری صدی ہجری کا نسخہ ہے۔ اس کے اوراق کی تعداد ۳۹ ہے۔ یہ ایک نامکمل نسخہ ہے۔ اس کا نمبر '1563' ہے۔ اسی طرح دوسری صدی ہجری کا ایک اور قدیم نسخہ چمڑے کے اوراق پر لکھا ہوا ہے۔ اس کے صفحات کی تعداد ۹ ہے۔اس کا نمبر '1572' ہے۔ یہ بھی ایک نامکمل مصحف ہے۔
    (٢) پانچویں صدی ہجری سے متعلق ایک نسخہ پرنسٹن یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔ اس کے اوراق کی تعداد ۲۰۶ ہے۔ اس کا نمبر '1156' ہے۔
    (٣) برطانوی میوزیم‘ لندن میں چمڑے پر لکھا ہوا ایک نامکمل نسخہ موجود ہے جس کے اوراق کی تعداد ۱۱۲ ہے۔ ماہرین فن کے ہاں یہ اموی دور خلافت کے آخری دور کا نسخہ معلوم ہوتاہے۔ برطانوی میوزم میں یہ سب سے قدیم مخطوطہ ہے۔
    (٤) علاوہ اَزیں میوزیم میں ۴۰۲ھ میں لکھا ہوا ایک مصحف بھی موجود ہے جس کے کاتب کا نام سعد بن محمد بن اسعد کرخی ہے۔ ۴۲۷ھ میں لکھا ہوا ایک نسخہ بھی یہاں موجود ہے۔
     
  9. ‏مئی 30، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    عراق میں قدیم مصاحف
    دوسری صدی ہجری کا کوفی خط میں لکھا ہوا ایک نسخہ عراقی میوزم لائبریری‘ بغداد میں موجود ہے۔اس مصحف کے ۳۰ اوراق موجود ہیں۔ ایک نامکمل مصحف ہے۔اسی طرح تیسری صدی ہجری کا ایک اور نامکمل مصحف بھی اس لائبریری میں موجود ہے۔
    روضہ حضرت حسین﷜‘کربلا میں ایک قدیم مصحف موجود ہے۔یہ چمڑے پر خط کوفی میں لکھا ہو اہے۔ امام سجاد﷫ (متوفی ۱۱۸ھ ) کی طرف منسوب ہے۔ ’الحضرۃ العباسیۃ‘ میں دوسری او ر تیسری صدی ہجری کے کئی ایک قدیم مصاحف موجود ہیں۔
     
  10. ‏مئی 30، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    تیونس میں قدیم مصاحف
    (١) دار الکتب الوطنیۃ‘ تیونس میں چمڑ ے پر لکھا ہوا ایک قدیم نسخہ موجو دہے جو ۲۹۵ھ میں لکھا گیا۔یہ نسخہ خط کوفی میں ہے۔
    (٢) اس لائبریری میں معز بن بادیس صنہاجی (متوفی ۴۹۴ھ) کا نسخہ بھی موجو دہے جو خط کوفی میں چمڑے پر لکھا ہوا ہے۔ ان کے علاوہ بھی اس لائبریری میں کئی ایک قدیم مصاحف موجو دہیں۔
    (٣) نیلے رنگ کے چمڑے پر خط کوفی میں ایک نسخہ ’قیروان‘ میں موجود ہے۔ یہ تیسری صدی ہجری کا مصحف ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں