1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآنی تعویذ اور امام شعبی کی روایت؟؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از بنت عبد السمیع, ‏جنوری 15، 2018۔

  1. ‏جنوری 15، 2018 #1
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ١٥٩ - حدثنا ابن أبي زائدة، عن ابن أبي خالد، عن فراس [ص: ٢١٦] ، عن الشعبي قال: «لا بأس بالتعويذ من القرآن يعلق على الإنسان»
    الكتب » حديث يحيى بن معين رواية أبي بكر المروزي »۔
    کیا یہ روایت ٹھیک ہے۔
    اگر ہاں تو کیا قرآنی تعویذ جائز ھونگے؟
     
  2. ‏جنوری 15، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ روایت درست ہے ۔
    اگر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتی تو ہم بلا جھجک کہتے کہ قرآنی تعویذ درست ہیں ۔ لیکن یہ امام شعبی کا قول ہے ، قرآنی تعویذ کے متعلق سلف میں اختلاف ہے ۔
    اس حوالےسے فورم پر کافی سارا مواد موجود ہے ، یہ ٹیگ دیکھیں :
    تعویذ
    قرآنی تعویذ
     
  3. ‏جنوری 16، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,366
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وفي كتاب معرفة العلل وأحكام الرجال عن عبد الله بن أحمد بن حنبل قال:{ حدثني أبي, قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة, قال: أخبرني إسماعيل بن أبي خالد, عن فراس, عن الشعبي قال: لا بأس بالتعويذ من القرءان يعلق على الإنسان}. اهـ
    اس کی سند بالکل صحیح ہے ،
    لیکن صحیح بات یہی ہے کہ :
    سلف امت کا قرآن سے حقیقی عملی تعلق تھا ، وہ قرآن کے جملہ حقوق سے نہ صرف واقف تھے ،بلکہ ان حقوق قرآنیہ کو شب و روز ادا کرتے تھے ،
    جب کہ بعد میں آنے والوں نے قرآن مجید کو صرف ورد و وظیفہ اور دم تعویذ کی کتاب بنا کر رکھ دیا ؛
    بلکہ بڑے عرصہ سے اس سے فال نکالنے کا دھندا بھی جاری ہے ؛
    سچ کہا ہے :
    طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
    تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں

    جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
    پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں

    جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
    اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں

    جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
    پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں

    دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
    کہے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں

    نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
    اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولا یا جاتا ہوں

    یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
    یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں

    کس بزم میں مجھ کو بار نہیں ، کس عُرس میں میری دُھوم نہیں
    پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں

    ماہر القادریؒ

     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں