1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

قرآن خوانی کی شرعی حیثیت

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہر امیر, ‏جنوری 22، 2017۔

  1. ‏جنوری 29، 2017 #41
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,168
    موصول شکریہ جات:
    667
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    مشورہ ان شاء اللہ مفید ثابت هوگا
     
  2. ‏جنوری 29، 2017 #42
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,127
    موصول شکریہ جات:
    321
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

  3. ‏جنوری 29، 2017 #43
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    562
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    محترم
    لیکن حبیب الرحمان کاندھلوی صاحب تو متنازعہ شخصیت ہیں۔ اور ان کو منکرین حدیث کہا جاتا ہے ۔ یہ اسی فورم پر مجھے معلوم ہواہے۔
     
  4. ‏جنوری 30، 2017 #44
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    947
    موصول شکریہ جات:
    297
    تمغے کے پوائنٹ:
    123

    اس کے لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ پہلے خود انکے نقطۂ نظر کو پڑھیں اور پھر کوئی رائے قائم کریں۔ایک انصاف پسنداور غیر جانبدار شخص کو ایسا ہی رویہ زیب دیتا ہے۔میں کسی بھی مذہبی شخصیت کے متعلق پھیلائی گئی کسی خبر کو ”وحی ِ الہٰی“ نہیں سمجھتا ۔کیا طبقۂ خاص کی طرف سے اہلِ حدیث حضرات کے متعلق غلط تاثر نہیں دیا جاتا کہ یہ ( نعوذ باللہ )گستاخِ رسولﷺ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ تو کیا ہمیں ان کے علمی ورثہ سے اس لیے استفادہ نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں لوگ ”گستاخِ رسولﷺ و اولیاء کرامؒ“ کہتے ہیں؟
    لوگ کسی خاص شخص کے متعلق جو کہتے ہیں اس پر فیصلہ صادر نہ کرو ،بلکہ پہلے مذکورہ شخص کو سنو کہ وہ کیا کہتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 30، 2017 #45
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,127
    موصول شکریہ جات:
    321
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

  6. ‏فروری 02، 2017 #46
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,765
    موصول شکریہ جات:
    2,478
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    عامر عدنان بھائی نے بلکل درست فرمایا ہے!
    اس کے کئی دلائل و ثبوت اس فورم پر آپ کی ڈھائ سو کے قریب مراسلہ میں جو کہ اب تک ہیں دیکھے جا سکتے ہیں، ابھی اسی تھریڈ سے ایک ثبوت پیس کرتا ہوں:
    اب اس شخص کی گمراہی میں کیا شک کی اجا سکتا ہے کہ جس بات پر اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے، اب اس رافضیت کی بکواس کو گمراہی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے!
    یہ بکواس رافضی کرتے ہیں کہ کہ وہ عشاء کے بعد تراویح کی نماز کے قائل نہیں، اور رافضی اسے عمر رضی اللہ کی نئی بنائی گئی نماز قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے!
    یہاں نماز تراویح موضوع نہیں۔
    فورم پر تراویح کے متعلق تلاش کریں!
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 04، 2017 #47
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    562
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    محترم
    انسانی ارتقائ کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ ہر گذرتے دن کے ساتھ اس کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اور وہ کچھ کر دکھا رہی ہے جو اس سے پہلے ممکن نہ تھا۔ یعنی ذہنی وسعت بتدریج عروج پر ہے ۔ پھر آپ اس سے کیوں چمٹے بیٹھے ہیں کہ جو متاخرین نے کر لیا وہ حرف آخر ہے اس سے آگے نہ کچھ کہا جا سکتا ہے نہ کچھ سو چا جا سکتا ہے۔
    سوالات کا ذہن میں پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔اور ان کی نوعیت کچھ بھی ہوسکتی ہے ۔
    آپ کی تحریروں میں ہمیشہ جارحانہ انداز نظر آتا ہے ۔ ممکن ہے اللہ رب العزت نے آپ کو جو علم عطا کیا ہو وہ کسی کے پاس نہ ہواور آپ صرف تحریر کا مضمون دیکھ کر غیب کا یہ حال بتا سکتے ہو ں کہ یہ شخص دل سے گمراہ ہے
    عین ممکن ہے فورم کی انتظامیہ کے رکن کی حیثیت سے آپ کے اختیارات لا محدود ہوں اور آپ جو کچھ کہنا چاہیں کسی کو بھی کہہ سکتے ہیں اور کسی کی بھی رکنیت منسوخ کر سکتے ہیں۔
    ایک حدیث کا مفہوم دیکھ لیں میں تو جاہل ہوں آپ عالم ہیں شاید آپ اس کو صحیح سمجھ سکیں۔
    " آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بدو صحابی کو کچھ نہ کہا جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔


    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور جب تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک امام پر سب کو جمع نہیں کیا سب اس
    مروجہ تراویح کے بہترین
    طریقے سے محروم رہے ۔
     
  8. ‏فروری 04، 2017 #48
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    562
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    محترم
    آپ کی بات سو فیصد درست ہے ۔میں نے ان کتب مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت پڑھی ہیں ۔ لیکن ان کا اسلوب تحریر محترم شخصیات کے بارے میں کافی عامیانہ ہوجاتا ہے جو مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں آیا۔
    میں ان کی اس کتا ب کا مطالعہ کرتا ہوں پھر آپ کو مطلع کرتا ہوں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
     
  9. ‏فروری 04، 2017 #49
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,765
    موصول شکریہ جات:
    2,478
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    پہلی ساری باتیں تو خیر پر تو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ''ساڑھ پھونکا'' ہے، اسے تو ہم در گذر کرتے ہیں!
    آپ نے یہ جو فرمایا ہے:
    اگر آپ اسی حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے الفاظ پڑھیں ، تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ خود کسے بہتر قرار دے رہے ہیں!
     
  10. ‏فروری 04، 2017 #50
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    562
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    عمر ؓ نے فرمایا ، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں ۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے ۔

    میں تو کہہ چکا ہوں آپ کے موقف کے خلاف کوئی بھی بات آپ کے نزدیک بھاڑ جھونکے کے مترادف ہے ۔ شکریہ آپ نے میری بات کی توثیق کی۔
    محترم میں نے بھی فرنچ میں نہیں کہا تھا ۔ میں اب بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ تروایح مروجہ طریقہ سے پڑھنا سنت نبوی نہیں ہے ۔سنت صحابی ضرور ہے ۔
    جو بعینہ اسی طریقہ پر پڑھتا ہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ حدیث کے مطابق قیام الیل ادا کر تا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں