1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن سانوں سمجھاوے(1400سال میں پہلی بار قرآن پاک کا پنجابی میں منظوم ومفہوم

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از speaktruth753, ‏جون 03، 2017۔

  1. ‏جون 03، 2017 #1
    speaktruth753

    speaktruth753 مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2017
    پیغامات:
    45
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    علامہ خورشید کمال کی کتاب '
    قرآن سانوں سمجھائے
    ' کو پنجابی زبان میں قرآن کا پہلا مکمل منظوم مفہومی ترجمہ قرار دیا جاتا ہے۔ انھیں اس کام کی تکمیل میں 12 برس لگے۔ صبا ناز کی ڈیجیٹل ویڈیو

    علامہ خورشید کمال کی کتاب 'قرآن سانوں سمجھائے' کو پنجابی زبان میں قرآن کا پہلا مکمل منظوم مفہومی ترجمہ قرار دیا جاتا ہے۔

    ماضی میں پنجابی میں قرآن کے کئی تراجم ہو چکے ہیں لیکن وہ سارے نثری تراجم ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کے کچھ حصوں کو منظوم شکل میں بھی پیش کیا جا چکا ہے لیکن 'قرآن سانوں سمجھائے' اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ پنجابی زبان میں قرآنی مفہوم کی پہلی مکمل منظوم شکل ہے۔
    خورشید کمال کا ادبی سفر سنہ 1972 میں شروع ہوا تھا اور وہ 18ویں صدی کے صوفی شاعر بابا بُلھے شاہ، سلطان باہو اور بابا فرید کے کلام کی تشریحات بھی لکھ چکے ہیں۔
    قرآنی مفہوم کو پنجابی نظم میں ڈھالنے میں انھیں 12 برس لگے اور اب تک اس کتاب کے چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
    خورشید کمال نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اِسے منظوم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اشعار کی شکل میں جو بات کی جائے وہ جلدی یاد ہو جاتی ہے، لہٰذا انھوں نے جس صنف کا انتخاب کیا وہ نظم ہے۔
    ان کا کہنا ہے 'میری کوشش تھی کہ اِسے نظم کی شکل میں لکھا جائے تا کہ یہ کتاب وزن میں آجائے کیونکہ جو چیز وزن میں ہوتی ہے اس کا ایک میزان ہوتا ہے اور قرآن دراصل میزان ہی ہے جس میں آیات ہیں اور آیات میں اللہ کی بات پِنہاں ہے۔'
    انھوں نے واضح کیا کہ یہ قرآن کا ترجمہ نہیں بلکہ مفہوم ہے جس کی روح اور اس کے مطالب انھوں نے شاعری کی شکل میں نہایت آسان فہم انداز میں بیان کیے ہیں۔


    خورشید کمال قرآن کے علاوہ حضرت علی کے خطبات پر مشتمل کتاب 'نہج البلاغہ' کا بھی منظوم پنجابی ترجمہ بھی کر چکے ہیں
    اس کی مثال 'بِسم اللہ الرحمن الرحیم' کے مفہوم سے عیاں ہے اور یہ شعر کی صورت میں کچھ اس طرح سے لکھا گیا ہے کہ:
    کر شروع اللہ دے نام توں بوہے مہر دے کُھل جان سارے
    اس رحم کرن والے دی پئی رحمت آپ پُکارے
    خورشید کمال نے بتایا کہ پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک مذہبی حلقوں کی جانب سے ان کے کام پر کوئی تنقید سامنے نہیں آئی جبکہ ادبی حلقوں نے اُن کی کاوش کو سراہا ہے۔
    خورشید کمال قرآن کے علاوہ حضرت علی کے خطبات پر مشتمل کتاب 'نہج البلاغہ' کا بھی منظوم پنجابی ترجمہ بھی کر چکے ہیں جس کے


    بارے میں اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ بھی اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے اور ان سے قبل کسی نے 'نہج البلاغہ' کو پنجابی زبان میں منظوم نہیں کیا

    اس لنک پر کلک کریں اور بی بی سی اردو کی خصوصی ویڈیو رپورٹ دیکھیں
    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-40131953
     
    Last edited by a moderator: ‏جولائی 07، 2019
  2. ‏جولائی 06، 2019 #2
    محمد مرتضی

    محمد مرتضی رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 31، 2016
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    تفسیر محمد پنجابی نظم میں لکھی گئی تفسیر بھی موجود ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں