1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن مجید میں اسماء الرجال

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏جون 10، 2017۔

  1. ‏جون 10، 2017 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,361
    موصول شکریہ جات:
    367
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    السلام علیکم وحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیوخ کیا اس آیت سے محدثین نے استدلال کیا ہے فن اسماء رجال پر ؟؟
    قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿4﴾ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ﴿5﴾ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ﴿6﴾

    قال عطاء : أو شيء تأثرونه عن نبي كان قبل محمد صلى الله عليه وآله وسلم
    قال مقاتل : أو رواية من علم عن الأنبياء .
    وأصل الكلمة من الأثر وهي الرواية . يقال أثرت الحديث آثره أثرة وأثارة وأثرا : إذا ذكرته عن غيرك .

    تفسير القرآن فتح القدير الجامع بين فني الرواية والدراية
     
  2. ‏جون 10، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,376
    موصول شکریہ جات:
    2,188
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام وحمۃ اللہ وبرکاتہ

    قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴿4﴾
    آپ ان سے کہئے : بھلا ديکھو اللہ کے سوا جنہيں تم پکارتے ہو، مجھے دکھاؤ تو سہي کہ زمين کي کيا چيز انہوں نے پيدا کي ہے يا آسمانوں کي تخليق ميں ان کا کچھ حصہ ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس سے پہلے کي کوئي کتاب الہي يا علمی روايت ميرے پاس لاؤ ۔(ترجمہ مولانا عبدالرحمن کيلانی ؒ )

    اس آیت کی تفسیر میں حافظ صلاح الدين يوسف صاحب لکھتے ہيں :
    يعني کسي نبي پر نازل شدہ ميں يا کسي منقول روايت ميں يہ بات لکھي ہو تو وہ لا کر دکھاؤ تاکہ تمہاري صداقت واضح ہو سکے ۔
    بعض نے اثارہ من علم کے معني واضح علمي دليل کے کئے ہيں اس صورت ميں کتاب سے نقلي دليل اور اثارہ من علم سے عقلي دليل مراد ہوگي يعني کوئي عقلي اور نقلي دليل پيش کرو پہلے معني اس کے اثر سے ماخوذ ہونے کي بنياد پر روايت کے کيے گئے ہيں يا بقیۃ من علم پہلے انبياء عليم السلام کي تعليمات کا باقي ماندہ حصہ جو قابل اعتماد ذريعے سے نقل ہوتا آيا ہو اس ميں يہ بات ہو ۔انتہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور امام ابن کثیر لکھتے ہیں :
    {أو أثارة من علم} أي: دليل بين على هذا المسلك الذي سلكتموه {إن كنتم صادقين} أي: لا دليل لكم نقليا ولا عقليا على ذلك؛ ولهذا قرأ آخرون: "أو أثرة من علم" أي: أو علم صحيح يأثرونه عن أحد ممن قبلهم، كما قال مجاهد في قوله: {أو أثارة من علم} أو أحد يأثر علما.
    یعنی (اثارۃ من علم ) سے مراد واضح ،ٹھوس دلیل ہے ، جبکہ کچھ قراء نے (اثرۃ من علم ) پڑھا ہے ، جس کا معنی ہے پہلوں سے منقول صحیح علمی روایت ، جبکہ جناب مجاہدؒ کا کہنا ہے کہ اس سے مراد (علم ماثور نقل کرنے والا عالم )ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور علامہ راغب اصفہانی (المفردات ) میں لکھتے ہیں :
    أَثَرُ الشيء : حصول ما يدلّ علي وجوده، يقال : أثر وأثّر، والجمع : الآثار . قال اللہ تعالي: ثُمَّ قَفَّيْنا عَلى آثارِهِمْ بِرُسُلِنا «1» [ الحديد/ 27]
    اثرالشيئ ( بقيہ علامت ) کسي شي کا حاصل ہونا جو اصل شيئ کے وجود پر دال ہوا اس سے فعل اثر ( ض) واثر ( تفعيل ) ہے اثر کي جمع آثار آتي ہے قرآن ميں ہے :? { ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا } [ الحديد : 27] پھر ہم نے ان کے پيھچے اور پيغمبر بھيجے ،
    مزید لکھتے ہیں :
    َوْ أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ [ الأحقاف/ 4] ، وقرئ : (أثرة) «4» وهو ما يروي أو يكتب فيبقي له أثر .
    اور آيت { أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ } ( سورة الأَحقاف 4) ميں اثارۃ سے مراد وہ علم ہے جس کے آثار ( تاحال ) روايت يا تحرير کي وجہ سے باقي ہوں ۔(المفردات فی غریب القرآن )

    اور مصطلح الحدیث کی قدیم ترین کتاب (المحدث الفاصل بين الراوي والواعي ) میں مشہور تابعی فقیہ زاہد جناب مطر الوراق (المتوفی ۱۲۹ ھ) سے بالاسناد نقل کیا ہے :
    عن مطر في قوله عز وجل: {أو أثارة من علم} [الأحقاف: 4] قال: «إسناد الحديث» یعنی
    يا علمی روايت ميرے پاس لاؤ ‘‘ سے مراد اسناد حدیث ہے ‘‘
    (نیز دیکھئے : شرف أصحاب الحديث ،باب فضل الاسناد )
     
    Last edited: ‏جون 10، 2017
    • علمی علمی x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 11، 2017 #3
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,361
    موصول شکریہ جات:
    367
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں