1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن پاک ہے تحریف لفظی سے مگر ایک فرضی سوال۔۔۔۔؟

'علوم قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از اعتصام, ‏دسمبر 28، 2012۔

  1. ‏دسمبر 28، 2012 #1
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔
    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔
    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔

    سوال ہر اھل علم سے کہ اگر کوئی قرآن کو تحریف سمجھے کیا وہ کافر ہے؟ اس کے کفر پر دلیل چاہیے تا کہ میرے علم میں اضافہ ہوجائے یا پھر ایک مغالطہ دور ہوجائے۔۔۔

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔۔۔

    شیخ الفضیلہ رفیق طاہر توجہ فرمائیں
     
  2. ‏دسمبر 28، 2012 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تحریف سے مراد آپ کیالیتےہیں؟؟؟۔۔۔
    اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں۔۔۔تاکہ آپ کا موقف کھل کر سامنے آسکے۔۔۔
    تب ہی اہل علم اس کاصحیح اور جامع جواب دینے کے متحمل ہونگے۔۔۔
     
  3. ‏دسمبر 28، 2012 #3
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    تحريف لفظي( زيادتي یا کمی)۔۔۔
     
  4. ‏دسمبر 28، 2012 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    عن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلی الله عليه وسلم قال لتتبعن سنن من قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتی لو سلکوا جحر ضب لسلکتموه قلنا يا رسول الله اليهود والنصاری قال فمن

    ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی (ایسی زبردست پیروی کرو گے (حتیٰ کہ) ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز پر (یعنی ذرا سا بھی فرق نہ ہوگا) حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود و نصاری مراد ہیں آپ نے فرمایا پھر اور کون مراد ہو سکتا ہے۔ (صحیح بخاری:جلد دوم انبیاء علیہم السلام کا بیان بات ماذکر عن بنی اسرائیل)۔۔۔

    عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقوم الساعۃ حتی تاخذ امتی باخذ القرون قبلھا شبرا بشبر و ذراعا بذراع فقیل یارسول اللہ کفارس والروم؟؟؟۔۔۔ فقال! ومن الناس الا اولئک۔

    قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ میری اُمت بھی اگلے لوگوں کے نقش قدم پر نہ چلنے لگے جیسے بالشت دوسری بالشت کی طرح اور ہاتھ دوسرے ہاتھ کی طرح ہوتا ہے ( اسی طرح میری اُمت بھی اگلے لوگوں کی طرح ہوجائے گی اور ان کے طور طریقے کو اختیار کرلے گی) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا اگلے لوگوں سے مراد فارش اور روم والے ہیں؟؟؟۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!۔ جی ہاں انکے علاوہ اور کوئی دوسرا مراد نہیں (کتاب صحیح بخاری کتاب الاعتصام)۔۔۔

    قرآن مجید کی کسی آیت میں کوئی شخص تحریف کردے یا اس آیت کے معنی ومطالب کو اپنی خواہش کے مطابق بیان کرے یا کسی من گھڑت بات کو قرآن کے حوالے سے بیان کرے اور اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولے ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے۔۔۔

    وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ
    اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔

    فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ
    تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جُھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے

    اللہ تعالٰی پر جھوٹ بولنے والا گویا اللہ تعالٰی پر جھوٹا بہتان لگاتا ہے لہذا اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔

    واللہ اعلم۔
    والسلام علیکم۔
     
  5. ‏دسمبر 31، 2012 #5
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    آپ کی اس پوری زحمت شدہ عبارت میں میرے جواب والی عبارت کو رنگین کریں کیونکہ اتنی بڑی عبارت میں مجھے اپنا جواب نہیں مل رہا۔۔۔
    آپ کی تمام دلیلیں گناہ پر دلالت کرتی ہیں کفر پر نہیں۔۔۔

    میں نے سوال یہ نہیں کیا ہے کہ جس نے قرآن کو تحریف کیا بلکہ
    میرا سوال:
    ہر اھل علم سے ہے کہ
    اگر کوئی قرآن کو تحریف سمجھے تو کیا وہ کافر ہے؟

    جزاک اللہ خیرا بھائو شداد

     
  6. ‏دسمبر 31، 2012 #6
    عبد الوکیل

    عبد الوکیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 04، 2012
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    604
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    آپ کے سوال کا جواب دینے سے قبل آپکا موقف جننا چاہتا ہوں
    کیا آپ قرآن کریم کو تحریف شدہ مانتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  7. ‏دسمبر 31، 2012 #7
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130


    مجھے بھی آپ سے یہی امید تھی اس لیے سب سے پہلے یہی لکھا کہ
    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔
    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔
    قرآن مجید تحریف لفظی سے پاک ہے۔۔۔
     
  8. ‏دسمبر 31، 2012 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    یہ سوال درست نہیں ہے، اس میں سمجھنا کا لفظ لانا سوال کو سوال نہیں رہنے دیتا۔ اگر سمجھ سے مراد اس کے دل میں ایک بات ہے تو جو بات دل میں ہوتی ہے اس پر فتوی نہیں لگتا۔ ہاں اگر اس نے اپنی سمجھ کر اظہار کر دیا تو اب یہ اس کا قول بن گیا۔ اور اب سوال یوں ہوا کہ جو شخص بھی قرآن مجید کو تحریف شدہ کہے تو اس کا کیا حکم ہے۔ ایسا شخص اصولی طور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے البتہ کسی فرد واحد پر حکم لگاتے ہوئے شروط، اسباب اور موانع کفر کا لحاظ رکھا جائے گا لیکن اصولی طور اتنی بات کہنا درست ہے کہ جو شخص قرآن مجید کو تحریف شدہ کہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کو محفوظ کہا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے اور قرآن کو تحریف شدہ کہنا ان آیات کا انکار ہے جن میں ذکر ہے:
    انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون
    لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ
    ان علینا جمعہ وقرآنہ
    وغیرہ ذلک
     
  9. ‏دسمبر 31، 2012 #9
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    جی ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں میرا سوال قائل کے باے میں ہے

    اگرچہ آپکی دلیلیں کفر پر دلالت نہیں کر رہی کیونکہ آپ کے ہی کہنے کے مطابق کافر تب ہے جب ان آیات کا انکار کرے
    بلکہ یہاں پر وہ قائل بالتحریف ان آیات کی تاویل کر رہا ہے۔۔۔۔۔وہ تاویلات جو بھی ہوں صحیح ہوں یا غلط۔۔۔
    یا ہوسکتا ہے وہ خود ان آیات کو ہی تحریف سمجھتا ہو۔۔۔۔
    (یہ یاد رکھیں کہ صاحبان علم کبھی بھی
    حجیت خبر واحد کو خبر واحد سے ثابت نہیں کرتے۔۔۔
    حجیت سنت کو سنت سے ثابت نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔
    اجماع کو اجماع سے ثابت نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح عدم تحریف قرآن کو قرآن سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔)
    اگر آپکی ذکر کردہ آیات متفقہ طور پر محرف نہیں ہیں تو تحریف کا قائل اس وقت ان آیات کی تاویل کرتا ہے اور ہرگز انکار نہیں کرتا۔۔۔
    اور اگر آپ یہ لازمہ نکالیں گے کہ قول تحریف کا لازمہ ان آیات کا انکار ہے تو پھر اسلام کا کوئی فرقہ کفر نہیں بچ سکتا
    کیوںکہ ہم کہیں گے کہ جو غیر اللہ کے لیے علم غیب کا منکر ہے وہ سورہ جن کی اس آیت کا منکر ہے
    عالم الغیب فلایظھر على غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول۔۔۔ اور اسی طرح آپ دوسروں کو منکر کہینگے۔۔۔۔(فتامّل)

    پر فعلا ہم اس بحث کو یہاں آئندہ پر موکول کرتے ہیں اور ہم یہاں پر آتے ہیں کہ آپ کا کہنا ہے:(دائرہ اسلام سے خارج)

    یعنی وہ کافرہے۔۔۔

    اب کیونکہ میں بہت ہی عمدہ بحث اور اپکو آسانی کے سمجھانے کے مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہوں
    اس لیے
    بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے
    1ـ کیا آپکی کتابوں میں تحریف قرآن کے بارے میں روایتیں موجود ہیں؟
    چاہے وہ ضعیف ہی کیوں نا ہو(بہر حال یہاں پر میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آپ ان ضعیف روایات کو قبول کریں)

    آپ صرف اتنا بتادیں کہ آپ کی کتابوں میں تحریف قرآن کے بارے میں ضعیف روایتیں موجود ہیں کہ نہیں؟

    2ـ کیا آپ کے ہاں کچھ علماء نسخ تلاوت کے منکر ہیں یا نہیں؟

    میرے اتنی بات ذہن میں رکھیں کہ نسخ کی بحث میرا مطلوب نہیں ہے۔۔۔۔
    لہذا اسی بارے میں سوالات نا کرنا کہ شیعہ نسخ تلاوت کے قائل ہیں یا نہیں
    نسخ کی تعریف کیا ہے
    نسخ کی حکمت کیا ہے وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کرکے ٹائیم ضایع نا کرنا۔۔۔۔۔۔

    1ـ کیا آپکی کتابوں میں تحریف قرآن کے بارے میں روایتیں موجود ہیں؟
    2ـ کیا آپ کے ہاں کچھ علماء نسخ تلاوت کے منکر ہیں یا نہیں؟

    جزاکم اللہ خیرا
     
  10. ‏دسمبر 31، 2012 #10
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تحريف لفظي( زيادتي یا کمی)۔۔۔
    جیسا سوال ویسا جواب بھائی۔۔۔

    ح ر ف تَحْرِیف
    عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ سب سے پہلے 1851ء کو "عجائب القصص (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

    اسم مجرد ( مؤنث - واحد )
    1. الفاظ، حرف یا بیان وغیرہ کا بدل دینا، کسی متن میں تبدیلی۔
    "جس چیز کو اپنے خلاف پاتے تھے اسے حذف کر دیتے تھے، یہ بھی کلام اللہ میں ایک قسم کی تحریف ہے۔" ( 1915ء، خطوط محمد علی، 310 )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں