1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کریم اردو ترجمہ یونیکوڈ (فتح محمد خاں جالندھری)

'یونیکوڈ' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جولائی 11، 2013۔

  1. ‏جولائی 11، 2013 #81
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة النَّازعَات


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں (۱) اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں (۲) اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں (۳) پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں (۴) پھر (دنیا کے ) کاموں کا انتظام کرتے ہیں (۵) (کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا (۶) پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا (۷) اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے (۸) اور آنکھیں جھکی ہوئی (۹) (کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے (۱۰) بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے ) (۱۱) کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو( موجب) زیاں ہے (۱۲) وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہو گی (۱۳) اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے (۱۴) بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے (۱۵) جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا (۱۶) (اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے (۱۷) اور (اس سے ) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے ؟ (۱۸) اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو (۱۹) غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی (۲۰) مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا (۲۱) پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا (۲۲) اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا (۲۳) کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں (۲۴) تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا (۲۵) جو شخص (خدا سے ) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے ) میں عبرت ہے (۲۶) بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا (۲۷) اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا (۲۸) اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی (۲۹) اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا (۳۰) اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا (۳۱) اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا (۳۲) یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چار پایوں کے فائدے کے لیے (کیا ) (۳۳) تو جب بڑی آفت آئے گی (۳۴) اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا (۳۵) اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی (۳۶) تو جس نے سرکشی کی (۳۷) اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا (۳۸) اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے (۳۹) اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا (۴۰) اس کا ٹھکانہ بہشت ہے (۴۱) (اے پیغمبر، لوگ )تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟ (۴۲) سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو (۴۳) اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے ) (۴۴) جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو (۴۵) جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے ) کہ گویا( دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے (۴۶)
     
  2. ‏جولائی 11، 2013 #82
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة عَبَسَ


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    (محمد مصطفٰے ﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے (۱) کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا (۲) اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا (۳) یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا (۴) جو پروا نہیں کرتا (۵) اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو (۶) حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں (۷) اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا (۸) اور (خدا سے ) ڈرتا ہے (۹) اس سے تم بے رخی کرتے ہو (۱۰) دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے (۱۱) پس جو چاہے اسے یاد رکھے (۱۲) قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا) (۱۳) جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں (۱۴) (ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں (۱۵) جو سردار اور نیکو کار ہیں (۱۶) انسان ہلاک ہو جائے کیسا نا شکرا ہے (۱۷) اُسے (خدا نے ) کس چیز سے بنایا؟ (۱۸) نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا (۱۹) پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا (۲۰) پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا (۲۱) پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا (۲۲) کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا (۲۳) تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے (۲۴) بے شک ہم ہی نے پانی برسایا (۲۵) پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا (۲۶) پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا (۲۷) اور انگور اور ترکاری (۲۸) اور زیتون اور کھجوریں (۲۹) اور گھنے گھنے باغ (۳۰) اور میوے اور چارا (۳۱) (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا (۳۲) تو جب (قیامت کا) غل مچے گا (۳۳) اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا (۳۴) اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (۳۵) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے (۳۶) ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے ( مصروفیت کے لیے ) بس کرے گا (۳۷) اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے (۳۸) خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں) (۳۹) اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی (۴۰) (اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی (۴۱) یہ کفار بدکردار ہیں (۴۲)
     
  3. ‏جولائی 11، 2013 #83
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة التّکویر


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    جب سورج لپیٹ لیا جائے گا (۱) جب تارے بے نور ہو جائیں گے (۲) اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے (۳) اور جب بیانے والی اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی (۴) اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے (۵) اور جب دریا آگ ہو جائیں گے (۶) اور جب روحیں (بدنوں سے ) ملا دی جائیں گی (۷) اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا (۸) کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی (۹) اور جب (عملوں کے ) دفتر کھولے جائیں گے (۱۰) اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی (۱۱) اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی (۱۲) اور بہشت جب قریب لائی جائے گی (۱۳) تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے (۱۴) ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں (۱۵) (اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں (۱۶) اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے (۱۷) اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے (۱۸) کہ بے شک یہ (قرآن) فرشتۂ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے (۱۹) جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے (۲۰) سردار (اور) امانت دار ہے (۲۱) اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں (۲۲) بے شک انہوں نے اس (فرشتے ) کو( آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے (۲۳) اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے ) میں بخیل نہیں (۲۴) اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں (۲۵) پھر تم کدھر جا رہے ہو (۲۶) یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے (۲۷) (یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے (۲۸) اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے (۲۹)
     
  4. ‏جولائی 11، 2013 #84
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة الانفِطار


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    جب آسمان پھٹ جائے گا (۱) اور جب تارے جھڑ پڑیں گے (۲) اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے (۳) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی (۴) تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا (۵) اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا (۶) (وہی تو ہے ) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا (۷) اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا (۸) مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو (۹) حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں (۱۰) عالی قدر( تمہاری باتوں کے ) لکھنے والے (۱۱) جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں (۱۲) بے شک نیکو کار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔ (۱۳) اور بدکردار دوزخ میں (۱۴) (یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے (۱۵) اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے (۱۶) اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟ (۱۷) پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ؟ (۱۸) جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا (۱۹)
     
  5. ‏جولائی 11، 2013 #85
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة المطفّفِین


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے (۱) جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں (۲) اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں (۳) کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے (۴) (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں (۵) جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (۶) سن رکھو کہ بد کاروں کے اعمال سجّین میں ہیں (۷) اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے ؟ (۸) ایک دفتر ہے لکھا ہوا (۹) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (۱۰) (یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں (۱۱) اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے (۱۲) جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں (۱۳) دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے (۱۴) بے شک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے (۱۵) پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے (۱۶) پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے (۱۷) (یہ بھی) سن رکھو کہ نیکو کاروں کے اعمال علیین میں ہیں (۱۸) اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے ؟ (۱۹) ایک دفتر ہے لکھا ہوا (۲۰) جس کے پاس مقرب (فرشتے ) حاضر رہتے ہیں (۲۱) بے شک نیک لوگ چین میں ہوں گے (۲۲) تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے (۲۳) تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے (۲۴) ان کو خالص شراب سر بمہر پلائی جائے گی (۲۵) جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے ) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں (۲۶) اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی (۲۷) وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے ) مقرب پیئیں گے (۲۸) جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے (۲۹) اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے (۳۰) اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے (۳۱) اور جب ان( مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں (۳۲) حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے (۳۳) تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے (۳۴) (اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے (۳۵) تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا )بدلہ مل گیا (۳۶)
     
  6. ‏جولائی 11، 2013 #86
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة الانشقاق


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    جب آسمان پھٹ جائے گا (۱) اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے (۲) اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی (۳) جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر ڈال دے گی اور (بالکل) خالی ہو جائے گی (۴) اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے (تو قیامت قائم ہو جائے گی) (۵) اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا (۶) تو جس کا نامۂ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا (۷) اس سے حساب آسان لیا جائے گا (۸) اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے گا (۹) اور جس کا نامۂ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا (۱۰) وہ موت کو پکارے گا (۱۱) اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا (۱۲) یہ اپنے اہل (و عیال) میں مست رہتا تھا (۱۳) اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا (۱۴) ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا (۱۵) ہمیں شام کی سرخی کی قسم (۱۶) اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی (۱۷) اور چاند کی جب کامل ہو جائے (۱۸) کہ تم درجہ بدرجہ (رتبۂ اعلیٰ پر) چڑھو گے (۱۹) تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے (۲۰) اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے (۲۱) بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں (۲۲) اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے (۲۳) تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو (۲۴) ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے (۲۵)
     
  7. ‏جولائی 11، 2013 #87
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة البُرُوج


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    آسمان کی قسم جس میں برج ہیں (۱) اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے (۲) اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی (۳) کہ خندقوں (کے کھودنے ) والے ہلاک کر دیئے گئے (۴) (یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا (۵) جب کہ وہ ان (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے (۶) اور جو( سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے (۷) ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے (۸) وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے (۹) جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہو گا اور جلنے کا عذاب بھی ہو گا (۱۰) (اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے (۱۱) بے شک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے (۱۲) وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ( زندہ) کرے گا (۱۳) اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے (۱۴) عرش کا مالک بڑی شان والا (۱۵) جو چاہتا ہے کر دیتا ہے (۱۶) بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے (۱۷) (یعنی) فرعون اور ثمود کا (۱۸) لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں (۱۹) اور خدا (بھی) ان کو گرداگرد سے گھیرے ہوئے ہے (۲۰) (یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے (۲۱) لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) (۲۲)
     
  8. ‏جولائی 11، 2013 #88
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة الطّارق


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم (۱) اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے (۲) وہ تارا ہے چمکنے والا (۳) کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں (۴) تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے (۵) وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے (۶) جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے (۷) بے شک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے ) پر قادر ہے (۸) جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے (۹) تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا (۱۰) آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے (۱۱) اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے (۱۲) کہ یہ کلام (حق کو باطل سے ) جدا کرنے والا ہے (۱۳) اور بیہودہ بات نہیں ہے (۱۴) یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں (۱۵) اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں (۱۶) تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو (۱۷)
     
  9. ‏جولائی 11، 2013 #89
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة الاٴعلی


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    (اے پیغمبر) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو (۱) جس نے (انسان کو) بنایا پھر( اس کے اعضاء کو) درست کیا (۲) اور جس نے ( اس کا)اندازہ ٹہرایا (پھر اس کو) رستہ بتایا (۳) اور جس نے چارہ اگایا (۴) پھر اس کو سیاہ رنگ کا کوڑا کر دیا (۵) ہم تمہیں پڑھا دیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے (۶) مگر جو خدا چاہے۔ وہ کھلی بات کو بھی جانتا ہے اور چھپی کو بھی (۷) ہم تم کو آسان طریقے کی توفیق دیں گے (۸) سو جہاں تک نصیحت (کے ) نافع( ہونے کی امید) ہو نصیحت کرتے رہو (۹) جو خوف رکھتا ہے وہ تو نصیحت پکڑے گا (۱۰) اور (بے خوف) بدبخت پہلو تہی کرے گا (۱۱) جو (قیامت کو) بڑی (تیز) آگ میں داخل ہو گا (۱۲) پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا (۱۳) بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا (۱۴) اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا (۱۵) مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو (۱۶) حالانکہ آخرت بہت بہتر اور پائندہ تر ہے (۱۷) یہ بات پہلے صحیفوں میں (مرقوم) ہے (۱۸) (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں (۱۹)
     
  10. ‏جولائی 11، 2013 #90
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    سورة الغَاشِیَہُ


    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے (۱) اس روز بہت سے منہ (والے ) ذلیل ہوں گے (۲) سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے (۳) دہکتی آگ میں داخل ہوں گے (۴) ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا (۵) اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا) (۶) جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے (۷) اور بہت سے منہ (والے ) اس روز شادماں ہوں گے (۸) اپنے اعمال (کی جزا )سے خوش دل (۹) بہشت بریں میں (۱۰) وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے (۱۱) اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے (۱۲) وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے (۱۳) اور آبخورے (قرینے سے ) رکھے ہوئے (۱۴) اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے (۱۵) اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی (۱۶) یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب )پیدا کیے گئے ہیں (۱۷) اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے (۱۸) اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں (۱۹) اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی (۲۰) تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو (۲۱) تم ان پر داروغہ نہیں ہو (۲۲) ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا (۲۳) تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا (۲۴) بے شک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے (۲۵) پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے (۲۶)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں