1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کریم اور اس کے چند مباحث

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 03، 2014۔

  1. ‏جولائی 03، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قرآن کریم

    اور
    اس کے چند مباحث
    مرتب
    ابو ہشام​

    مقدمہ

    دین اسلام ایسے ضابطہ حیات کا نام ہے جس کے عدل وانصاف پر مبنی ضابطوں کی گواہی اللہ تعالی نے دی اور فرشتوں نے بھی دی۔ نیز اہل علم ونظرنے بھی شہادت دی ہے کہ کائنات کا خالق اللہ واحد ہے جس کے پاس مکمل اختیارات ہیں ۔ وہی ذات واحد ہے جسے اپنے امور چلانے کے لئے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔نہ کسی کی مجال کہ اس کے حکم سے سرتابی کرے اور یہ عین انصاف ہے جو اللہ رب ذو الجلال نے اپنی مخلوق کے ساتھ کیا ہے۔اس لئے دین اسلام تمام عبادات اور معاملات میں خدائے واحد کی پرستش اور اطاعت کا داعی ہے۔

    اسلام کے مقدس دین ہونے کادرست تعارف قرآن کریم کراتا ہے اور اس کی عملی ووضاحتی صورت کی عکاسی جناب رسالت مآب ﷺ کے ذریعے ہوتی ہے۔یہ کتاب پندرہ سو سال سے ایک زندہ کتاب ہے جس کی ضرورت کل بھی تھی، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی۔ دنیا میں بلین سے زائد مسلمان اس کتاب کے پیغام کو (timeless)سمجھتے ہیں۔اس لئے اس پر ایمان لانے کا پیغام دنیا کے ہر خطے میں تسلسل سے جاری ہے۔ انسانیت کے آغاز سے ہی پیغام الٰہی وکتب مقدسہ کے نزول کا سلسلہ شروع ہوگیا تھاچنانچہ ترقی کی انتہاء پر ایک نئے عروج کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب کا نزول ضروری تھا ۔ جس میں خلائی سٹیشن کے قیام کا ذکر ہو اور فضائی حملوں کا بھی۔اس لئے یہ ساتویں صدی ہجری کے اوائل کی باتیں نہیں کرتی اور نہ ہی عام کتب کی طرح اپناتعارف کراتی ہے کہ یہ کتاب کیوں لکھی گئی اور کتنی محنت اس پر کرنا پڑی ۔

    قرآن کریم جدید سائنس کی کنجی ہے۔اس کے الفاظ میں ایسے حقائق پوشیدہ ہیں جن پر مزید تحقیق اور تشنگی کا احساس باقی رہتا ہے۔اخلاق و شائستگی سے مرصع اس کی عبارت وواقعات نے اہل ایمان کو بطور خاص اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ جدید تہذیب نے اپنی ترقی کے باوجود جاہلیت ، وحشت ناکی، تعصب، نفرت اور عداوت کے جو ڈیرے ڈالے ہیں قرآن انہیں ظلمات سے تعبیر کرتا ہے ۔آخر اسلامی سپین کے ساتھ تعلق وقربت نے اہل مغرب کو کچھ تو فائدہ دیا مگر کیا آج مغرب مسلمانوں سے بیزاری کا اظہار کرکے اپنی شناخت باقی رکھ سکا ہے؟ انسانی حقوق وفرائض، خواتین کے حقوق وفرائض، فرد کی آزادی، ماڈرن ازم، پروگریسو اسلام اورمختلف نظام ہائے زندگی وغیرہ پر انسانی تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ سب ہوا وہوس کی تکمیل کے پر کشش نام ہیں جن میں اخلاق وتہذیب کا کوئی عنصر یااصول نہیں پایا جاتا۔
     
  2. ‏جولائی 03، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اس کتاب نے کسی خاص فرد یا قوم کو نمونہ بنا کے اپنے خیالات کو پیش نہیں کیا بلکہ ہر انسان اور ہر قوم کو یکساں پیغام دیا ہے ۔اسی وجہ سے یہ کوئی قدیم دستاویز نہیں اور نہ ہی صرف محدود وقت اورخطہ عرب کی قوم کی باتیں اس میں ہیں۔ نہیں بلکہ
    يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ، يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اور يٰٓاَيُّہَا الْكٰفِرُوْنَ
    سے مخاطب ہوکر انسانوں کو خطاب کیا اور عقلی دلائل کے ساتھ ایمان اور کفر جیسے نظریات میں تقسیم کی ہے۔ اہل ایمان کو ہر لمحہ اپنے پیغام سے تازہ بتازہ رکھتی ہے تاکہ وہ اپنے ایمان وعمل کو شیطانی خیالات سے خراب نہ کربیٹھیں اور کفر کی وضاحت کرکے کفار کو بھی کفر ترک کرنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس دعوت کا مرکزی نقطہ ربِّ ذو الجلال کی صحیح پہچان ہے۔ اس لئے کہ وحی کے بغیر اللہ تعالی کوپہچاننے کی کوشش نے مذاہب کے جنگل کو جنم دیا ہے۔

    کچھ ایسے علوم ہیں جنہیں جانے بغیر قرآن کو سمجھا یا جانا نہیں جاسکتا۔ اس لئے کہ قرآن ایک علمی کتاب ہے اس کی صحیح معرفت اس کی مبادیات کے علم سے ہی ہوگی۔ ان علوم کو چھوئے بغیر قرآن فہمی یا قرآنی وتدبرکی دعوت قرآن کریم پر سب سے بڑاظلم ہے۔ القابات یا حاصل کردہ سووینئر اس کے بغیر بیکار ہیں۔ ان علوم میں چند علوم قرآن کریم نے ہی بیان کردئے ہیں اور کچھ قرآن کریم پر غور وخوض کرکے علماء قرآن نے متعارف کرائے ہیں۔ یہ سب علوم قرآن فہمی میں مددگار ہیں۔

    کتاب ہذا میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن سمیت ان علوم کا تعارف طلبہ وطالبات کو کرادیا جائے تاکہ قرآن فہمی میں یہ کتاب ان الجھنوں سے ممکن حد تک بے نیاز کردے جو ایک قاری اور طالب علم کو تلاوت یا قرآن فہمی کے دوران پیش آتی ہیں۔

    یہ کتاب قرآن کے ابتدائی طلبہ کے لئے ایک مبادیات کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے مزید علوم کی تلاش میں طلبہ قرآن کو اصل مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا جہاں سے راقم نے جستہ جستہ معلومات اخذ کی ہیں۔

    بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو قبول فرمائے اور مَا کَانَ لِلہِ بَقِیَ کے لئے ہماری نیتوں کو محض اپنے لئے اور اپنے دین کے لئے خالص کرلے۔ آمین۔

    مؤلف​
     
  3. ‏جولائی 03، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فہرست عنوانات

    مقدمہ

    باب۔ ۱ قرآن کریم میں کیا ہے؟
    تعلیمات
    اللہ کی کتاب ہونے کے دلائل
    مفہوم قرآن کی حفاظت

    باب۔ ۲ قرآن کی تعریف کیا ہے؟
    ایک غلط خیال
    تعارف قرآن
    قرآن کی خصوصیات
    قرآن مجید کے چنداور مشہور نام
    قرآن کریم، ربانی منہج

    باب۔۳ تعلیم قرآن
    تعلیم قرآن : اہمیت وضرورت

    قرآن کریم سیکھنے کا ثواب
    قرآن کریم سیکھنا سکھانا
    شہادۃ عالیہ
    آپ ﷺ معلم قرآن تھے

    معلم قرآن کی شخصیت اور خدوخال
    طالب علم کی خصوصیات
    تعلیم قرآن کیسے؟
    تعلیم قرآن کے وسائل وذرائع
    ایک مستند ولازمی کورس
    ۱۔ تلاوت: آداب وحق۔ تزکیہ۔ تعلیم کتاب۔ تعلیم حکمت
    ۲۔ ترجمہ قرآن اور اس کا مفہوم ۳۔ غور وفکر اور تدبر ۴۔عمل اور دعوت ۵۔ آسان فہم انداز تعلیم


    باب۔۴ وحی
    وحی کا معنی ومفہوم
    وحی کی اقسام
    ابلاغ وحی
    وحی غیر متلو کی متعدد صورتیں
    نزول وحی کی ابتداء
    نزول وحی کے وقت آپ ﷺ کی کیفیت
    نزول وحی کا دارومدار
    وحی کی زبان
    وحی کی حقیقت
    وحی کے سچ ہونے کے دلائل
    تورات وانجیل کا حال
    مستشرقین اور وحی
    کشف والہام

    باب۔۵ علم نزول قرآن
    نزول قرآن کے مقاصد
    مراحل نزول قرآن
    مرحلہ وار نزول کی وجوہات
    حکمتیں

    باب۔۶ جمع قرآن اور اس کی تدوین
    جمع قرآن اور مقاصد

    عہد نبوی میں
    زمانہ نبوی میں قرآن ایک ہی مصحف میں جمع کیوں نہ ہوسکا؟

    خلافت صدیقی میں
    سیدنا زید کا انتخاب کیوں؟
    جمع قرآن کا طریقہ
    جمع کردہ نسخہ کا نام اور خصوصیات
    خلافت عثمانی میں جمع قرآن
    چار رکنی کمیٹی کا قیام
    صوتی وطباعتی جمع
    رسم قرآنی کے تحسینی مراحل
    نقطے اور اعراب
    تحسین حروف کی کوشش
    معنی اور تلاوت کے اعتبار سے تقسیم
    احزاب یا منازل
    اخماس واعشار
    آیت، رکوع، سیپارے اور سورت
    طباعت قرآن
    مصحف مرتل اور قراء ت قرآن کے انداز

    باب۔ ۷ علوم قرآن
    تعریف

    فوائد علوم قرآن
    تدوین علوم قرآن کی مختصر تاریخ
    مضامین قرآن

    باب ۔۸ علم رسم الخط
    عام عربی رسم الخط اور قرآنی رسم الخط
    ان دونوں میں فرق اور چھ قاعدے

    رسم مصحف کی خصوصیات
    رسم مصحف توقیفی ہے یااجتہادی

    باب ۔۹ حروف سبعہ
    تعریف اور دلیل

    مقصد حروف سبعہ
    وجوہات
    حروف سبعہ سے مراد؟
    اعتراضات
    فوائد
    حروف سبعہ اب بھی موجود ہیں؟

    قرا ء ت اور حروف میں فرق

    باب۔۱۰ علم قراء ات
    لغوی واصطلاحی معنی

    آغاز واسباب
    آپ ﷺ کی قراء ت کیسی تھی؟
    صحیح قراء ت کی شرائط
    قراء سبعہ
    قراء ات کی انواع
    قراء عشرہ
    متعدد قراء ات کے فائدے
    مشہور کتب

    باب ۔۱۱ علم ناسخ ومنسوخ
    لغوی واصطلاحی معنی

    نسخ کی دلیل
    نسخ کی شرائط
    حکمت نسخ
    آیات منسوخہ کی تعداد
    نسخ کی اقسام
    آغاز بحث
    نسخ کے مختلف انداز

    مقامات نسخ
    نسخ، صرفہ اور بداء میں فرق


    باب۔۱۲ علم اعجاز قرآن
    تعریف
    معجزہ ، جادو اور کرامت

    نبوت کی علامات
    معجزہ اور امتحان

    دلائل اعجاز
    تاریخ اعجاز قرآن
    قرآن کا چیلنج
    چیلنج کا جواب

    باب۔۱۳ علم مکی ومدنی
    تعریف
    مکی ومدنی دور

    حکمت
    مکی ومدنی سور کی پہچان کا طریقہ

    مکی ومدنی سورتوں کی خصوصیات
    اس علم کا فائدہ
    متفقہ مدنی ومکی سورتیں
    مختلفہ سورتیں


    باب ۔۱۴ علم محکم ومتشابہ
    لغوی واصطلاحی تعریف

    اس علم کی حقیقت
    مسئلہ اسماء وصفات
    اہل زیغ کا رجحان
    راسخ علماء کا موقف

    متشابہات کی حکمتیں اور فوائد

    باب۔۱۵ علم اسباب نزول
    تعریف

    سبب نزول کی بنیاد پر آیات کی تقسیم
    اہمیت وفوائد
    اسباب نزول کی روایات
    مصادر اسباب نزول
    اسباب نزول جاننے کا بنیادی قاعدہ

    باب۔۱۶ علم تفسیر
    لغوی واصطلاحی معنی

    تاویل لغوی واصطلاحی معنی
    تفسیر اور اصول تفسیر کا ارتقاء
    ضرورت تفسیر
    تفسیر قرآن کی شرائط
    تفسیر کی قدیم وجدیداقسام
    تفسیر صحابہ کو قبول کرنے کے اصول
    تفسیر ماثور میں اختلاف کے اسباب
    کتب تفسیر میں اختلاف
    تفسیر بالرائے اور اقسام
    تفسیر اشاری وباطنی وکتب
    تفسیر از لغت عرب
    تفسیر اور اسرائیلی روایات
    چند مفسرین صحابہ وتابعین
    مطبوعہ تفسیر کا انتخاب
    تفسیر ابن جریر تفسیر کبیر تفسیرابن کثیر تفسیر روح المعانی تفسیر کشاف
    چند اردو تفاسیر اور مفسرین
    تفسیر عثمانی ترجمان القرآن تفہیم القرآن تذکیر القرآن تدبر قرآن احسن البیان معارف القرآن تفسیر القرآن

    انحرافی تفاسیر
    غلام احمد پرویز اور ان کی تفسیربیان القرآن
    قادیانی تراجم
    مصادر
     
    Last edited: ‏جولائی 10، 2014
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 05، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مصادر

    ۱۔ القرآن الکریم
    ۲۔ الإتقان في علوم القرآن: للسیوطی ۔ مطبعۃ عیسیٰ البابی الحلبی، القاہرہ ۔ ۱۳۸۰
    ۳۔ أحسن البیان في علوم القرآن: د۔حسن الدین أحمد۔مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور ۱۹۹۴ء
    ۴۔ أسباب النزول: از أبو الحسن بن أحمد الواحدی۔ تحقیق: السید أحمد صقر، دار الکتاب الجدید، قاہرہ ۱۳۸۹
    ۵۔ البحر المحیط: أبو حیان محمد بن یوسف الأندلسی(۶۵۴۔۷۴۵) طبعۃ القاہرہ ۱۳۰۸(۸مجلدات)
    ۶۔ البرہان في علوم القرآن: بدر الدین الزرکشی ۔ قاہرہ ۱۳۷۶(۴أجزاء)
    ۷۔ بغیۃ الوعاۃ: امام جلال الدین السیوطی، ت:أبو الفضل إبراہیم ۔ القاہرۃ ۱۳۸۴
    ۸۔ تاریخ أفکار وعلوم إسلامی: ازراغب الطباخ ۔ ترجمہ افتخار بلخی ۔ اسلامک پبلیکیشنز، لاہور ۱۹۶۸ء
    ۹۔ التبیان في علوم القرآن: محمد علی الصابونی ۔ مکتبہ الغزالی، بیروت ۱۴۰۱
    ۱۰۔ تذکرۃ الحفاظ: إمام محمد بن عثمان الذہبی۔ طبعۃ حیدر آباد ۱۳۳۴
    ۱۱۔ تفسیر ابن کثیر: از حافظ ابن کثیر، کتاب الشعب ۔ دار الشعب، القاہرہ
    ۱۲۔ تہذیب التہذیب:ازابن حجر عسقلانی ۔ طبعۃ حیدر آباد ۱۳۲۷
    ۱۳۔ جامع البیان : ازابن جریر الطبری ۔ قاہرۃ ۱۳۲۱ (۱۰مجلدات)
    ۱۴۔ الجامع الصحیح: از امام محمد بن إسماعیل البخاری(بہامش فتح الباري) ۔ طبعۃ المکتبہ السلفیۃ، القاہرہ
    ۱۵۔ الجامع الصحیح: ازامام مسلم بن الحجاج، ترتیب: محمد فؤاد عبد الباقی ۔ طبعۃ عیسیٰ الحلبی، القاہرہ ۱۳۷۴
    ۱۶۔ الجامع لأحکام القرآن: ازأبی عبد اللہ القرطبی ۔ مطبعۃ دار الکتب، المصریۃ ۱۳۸۷
    ۱۷۔ حسن المحاضرۃ: از امام سیوطی، ت:أبو الفضل إبراہیم ۱۳۸۱
    ۱۸۔ خطبات بہاولپور: از ڈاکٹر حمید اللہ ۔ ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    ۱۹۔ روح المعانی، تفسیر الآلوسي(۳۰جزاء) ۔ المطبعۃ المنیریۃ ، القاہرۃ
    ۲۰۔ زاد المعاد في ہدی خیر العباد: از امام ابن قیم الجوزیۃ ۔ القاہرۃ ۱۳۳۴
     
    Last edited: ‏جولائی 10، 2014
  5. ‏جولائی 05، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ۲۱۔ السبعۃ في القراء ات: ازابن مجاہد، أبوبکر أحمد بن موسی(م۳۲۴) ت: د.شوقی ضیف ۔ دار المعارف قاہرہ ۱۹۷۳
    ۲۲۔ سنن الترمذي: از امام أبو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ، تحقیق:أحمد محمد شاکر ۔ مصطفی البابی، القاہرۃ ۱۳۵۶
    ۲۳۔ علم القراء ات اور قراء سبعہ: قاری ابوالحسن اعظمی
    ۲۴۔ علوم القرآن: د.صبحی صالح ۔ ترجمہ:غلام أحمد حریری ۔ ملک سنز پبلشرز، فیصل آباد
    ۲۵۔ لباب النقول في أسباب النزول: للسیوطي ۔ المطبعۃ الثانیۃ ۔ مصطفی الحلبي ۱۳۸۳
    ۲۶۔ لسان العرب: محمد بن مکرم (م۷۱۱) ۔ دار صادر، بیروت
    ۲۷۔ مباحث في علوم القرآن: مناع القطان ۔ مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت ۱۴۰۰
    ۲۸۔مجموع الفتاوی : شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، مکتبۃ العبیکان ، طبعہ اولی ۱۴۱۹ھ۔ الریاض
    ۲۹۔ مستدرک الحاکم: محمد بن عبد اللہ (م۳۰۵ھ) ۔ حیدر آباد ۱۳۴۱
    ۳۰۔ مسند أبي یعلي الموصلي: ازحافظ بن علی التمیمی ۔ تحقیق: حسین سلیم أسد ۔ ۱۴۰۴
    ۳۱۔ شرح مشکل الآثار: تألیف أبی جعفر الطحاوی، تحقیق: شعیب الأرناؤوط ۔ مؤسسۃ الرسالہ ۱۴۰۸
    ۳۲۔ کتاب المصاحف: ازابن أبی داؤد(م۳۱۶ھ) تحقیق: د.محی الدین واعظ ۔ وزارۃ الأوقاف، دولۃ قطر ۱۴۱۶
    ۳۳۔ مصنف ابن أبي شیبۃ: ازعبد اللہ بن محمد (م۲۳۵ھ) ت:عبد الخالق الأفغانی ۔ بومبائی ۱۹۷۹
    ۳۴۔ مفردات القرآن: ازإمام راغب أصفہانی ترجمہ: محمد عبدہ ۔ اہل حدیث أکادمی، لاہور ۱۹۷۱ء
    ۳۵۔ مقالات سلیمان: (جلدسوئم) مرتب: شاہ معین الدین ندوی ۔ مطبع معارف ،اعظم گڑھ ۱۳۹۱
    ۳۶۔ مقدمہ ابن خلدون: ازعبد الرحمن بن خلدون(م ۸۰۸ھ) ۔ طبع بیروت ۱۸۸۶م
    ۳۷۔ مناہل العرفان: للزرقاني، محمد عبد العظیم ۔ مطبعۃ عیسیٰ الحلبی، القاہرۃ
    ۳۸۔ الموافقات: أبو إسحاق الشاطبي(م۷۹۰ھ) تحقیق: محمد محی الدین عبد الحمید ۔ طابع محمد علی صبیح ، مصر
    ۳۹۔ النشر في القراء ات العشر: ازابن الجزری محمد بن محمد(م۸۳۳ھ) ، ت: محمد علی الصباغ ۔ بیروت۔
    ۴۰۔مقدمہ تفسیر القرآن الکریم از شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ، دار ابن الجوزی، الدمام ۔
    ۴۱۔ مجموعۃ الکتب الستۃ، طبعۃ دار السلام، الریاض۔

    ٭٭٭٭٭​
     
    Last edited: ‏جولائی 10، 2014
  6. ‏جولائی 10، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    الحمد للہ ، کتاب مکمل ہوئی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں