1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین

'استشراق' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 04، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 04، 2011 #21
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قراء ات کاکھلم کھلا انکارکیا دین کے اعتبار سے جائز ہے؟ ہرگز نہیں۔
    قراء ات دین کی ضروریات میں سے ہے۔ عبدالوھاب بن سبکیؒ کہتے ہیں: سبعۃ قراء ات کہ جن کو امام شامی ؒنے بیان کیا ہے اور ان کے علاوہ تین اور، ابوجعفرؒ، یعقوبؒ اور خلفؒ کی قراء ات، متواتر قراء ات ہیں۔اور دین کی بنیادی تعلیمات میںسے ہیں۔ گویاجس حرف کو بھی ان دس قراء میںسے کسی ایک نے بھی بیان کیا ہے اس کے بارے، دین میں یہ بات ضروری طور پرمعلوم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے رسول ا پر نازل کیا گیاہے۔ ان قراء ات سے وہ شخص اعراض کرے گاجو ان کاحامل نہ ہوگا۔ ان قراء ات کاتواتر صرف ان قرآء تک محدود نہیں ہے کہ جنہوں نے ان روایات کو پڑھا ہے بلکہ ہر مسلمان جو کہ کلمہ شہادت کی گواہی دیتا ہے اس کے نزدیک یہ قراء ات متواتر ہیں، اگرچہ وہ شخص کوئی عامی اورجاہل ہی کیوںنہ ہو، اسے قرآن کاایک حرف بھی زبانی یاد نہ ہو ہرمسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اختیارکرے۔ اور اس بات کا یقین کرے کہ جس کاہم نے ذکر کیا وہ سب قراء ات متواتر ہیں اور یقینی طور پر معلوم ہیں۔ظن اور شکوک و شبہات ان سے کوسوں دور ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابن عطیہ اندلسیؒ کاکہنا ہے ہرشہرکے رہنے والوں کااس بات پر اتفاق رہا ہے کہ قراء ات سبعۃ بلکہ عشرہ قراء ات ثابت ہیں اور ان کو بالاجماع نماز میں پڑھاجاسکتا ہے۔
    یہ تین ارکان کہ جن کا ذکر امام ابن الجزریؒ نے کیاہے۔ ہمارے زمانے میں ائمہ عشرۃ کی قراء ات میں جمع ہیں، یہ وہ قراء ات ہیں کہ جن کو لوگوں کے ہاں تلقی بالقبول حاصل ہے۔
    علامہ عبدالفتاح القاضیؒ لکھتے ہیں:
    ’’جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ قراء ات عشرۃ متواتر ہیں، تو یہ جاننا بھی لازم ہے کہ جمہور بعض قراء ات کے تواتر کوضرورت کے درجے میں بیان کرتے ہیں اور بعض قراء ات ایسی ہیں کہ ان کے تواتر کو تو ایسے ماہر قراء ہی جانتے ہیں،جو قراء ات کے علوم میں متخصص ہوں۔ کیونکہ عام لوگوں کو ان قراء ات کاعلم نہیں ہوتا پس پہلی قسم کی قراء ات کاانکار بالاتفاق کفر ہے اور دوسری قسم کی قراء ات کاانکار اس وقت کفر ہوگا جب کہ سن کر دلائل کے واضح ہوجانے اور صحت قائم ہونے کے بعد اپنے انکار پر ڈٹارہے۔‘‘
    ہم یہ جان چکے ہیں کہ دین اسلام قراء ات متواترہ میں طعن و تشنیع کو جائز نہیں سمجھتا، تو جب ہم قراء ات متواترہ میں بعض لوگوں کو طعن کرتے دیکھتے ہیں تو ہمارا کیارویہ ہوناچاہئے؟ کیا قراء ات پر طعن کی صورت میںخاموشی جائز ہے؟ کیا ہمیں خوش اخلاقی کامظاہرکرتے ہوئے ان ناقدین قراء ات کی آراء و افکارکو قبول کرلیناچاہئے یاہمیں قرآن کریم کے ایک ایک گوشے کی اپنی قوت، استطاعت، دلیل اور موجود اسباب و وسائل سے دفاع کرناچاہئے؟
    کیا کسی غیرت مند مسلمان کے لئے یہ طرزِ عمل صحیح ہے کہ وہ اپنے دین اور مقدس کتاب پر طعن کے باوجود خاموش رہے۔ ہرگز نہیں، کبھی بھی نہیں، یہ قطعاً جائز نہیں۔ قراء ات پرطعن کی صورت میں خاموش رہنا کسی طور بھی صحیح نہیںہے بلکہ ہرمسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ کتاب اللہ کا حتی الامکان دفاع کرے اور ادھر ادھر سے آنے والے نظریات کے سامنے نہ تو اپنی کوشش ترک کرے اورنہ ہی ان کے مقابلے میںسستی کامظاہرہ کرے۔
    بالفرض اگر ہم اس فرض کی ادائیگی کے لئے کھڑے نہیںہوتے اور تمام قراء ات میںکئے گئے طعن کو تسلیم کرلیتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہم وہ قراء ات کہاںسے لائیں گے کہ جس کے بارے میں تمام لوگوں کایہ عقیدہ ہو کہ یہ وہ مقدس قراء ت ہے، جوکہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
    یہ بڑی ہی عجیب بات ہوگی کہ ہم ایسی چیز کوتسلیم کرلیں جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو کہ قراء ات کے دفاع کے خلاف ہیں۔ یہ تمام امور بے حد افسوس ناک ہے۔
    یہ چند حسرت بھرے کلمات، ایک زخمی دل کی آواز ہیں۔ اس مضمون میںطوالت کی بجائے حتیٰ الامکان اختصار سے کام لیا ہے اور بعض ضروری امور کے بارے میں گفتگو حواشی میں درج کردی ہے تاکہ طالب علم کے لئے اس موضوع سے استفادہ آسان رہے۔
    جو میرا مقصود تھا، اگرمیں نے اسے پورا کردیا ہے تو یہ اللہ کے توفیق اور فضل سے ہے، اور اگر یہ ایسانہیں ہے تو یہ میری ذات کی کوتاہی ہے۔
    عماد الاصفہانی ؒ فرماتے ہیں:کوئی بھی انسان جب کوئی کتاب لکھتا ہے تو اگلے روز اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اگر یہ ایسے ہوتی تو زیادہ بہتر تھا اور اگر وہ یہ اضافہ بھی کردیتا تو اچھا تھا اور عبرت کی بات ہے، کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے جملہ معاملات میں نقص غالب ہے۔
    آخر میں اپنی بات کااختتام امام شاطبیؒ کے ان اشعار کے ساتھ کرتاہوں۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے لئے قرآن کو حجت بنائے اور اسے ہمارے خلاف حجت نہ بنائے۔ ہمارے اس عمل کو شرف قبولیت بخشے اور میری اس کاوش کومیرے لئے ، میرے والدین، اساتذہ اور تمام استفادہ کرنے والوں کے لئے اس دن کے لئے ذخیرہ بنادے کہ جس دن مال اور اولاد بھی کام نہ آئیں گے، سوائے اس کے کہ کوئی اللہ کے ہاں قلب سلیم لے کر آئے۔
     
  2. ‏اکتوبر 04، 2011 #22
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حواشی :
    (۱) کتاب کے مؤلف عبدالواحد بن عاشر الاندلسی ہیں جو باعمل عالم، عابد، مختلف علوم میں ماہر، قراء ات اور ان کی توجیہات سے واقف، تفسیر، رسم، ضبط، علم الکلام، اصول فقہ، فقہ، فرائص اور علوم ِعربیہ وغیرہ کے عالم تھے۔ ان کی کئی کتابیں ہیں جن میں سے ایک کا نام ’’الاعلان بتکمیل مورد الظمآن‘‘ ہے۔ ۳ ذی الحجۃ ۱۰۴۰ھ کو فوت ہوئے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے۔ (تنبیہ الخلاف علی الاعلان، ص۴۴۸)
    (۲) اس کتاب کے مؤلف ابو القاسم بن فیرۃ بن خلف الشاطبی الاندلسی ہیں،جو کہ بہت بڑے امام، اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، ذہانت کاعجوبہ، قراء ات کے بہت بڑے عالم، حدیث کے حافظ، عربیت میں گہری بصیرت رکھنے والے، لغت کے امام، ادب کے شہسوار، ولایت، زھدو تقویٰ کی نشانی اور سنت پرکاربند رہنے والے تھے۔ ان کے حافظے سے صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مؤطا امام مالک کے نسخوں کی تصحیح کروائی جاتی تھی۔ ان کے معاصر علماء نے ان کی تعریف میںبہت مبالغہ کیا ہے اور ان کے بارے میںعجیب عجیب حقائق بیان کئے ہیں۔ یہاںتک امام ابو شامہ المقدسی نے ان کی تعریف میںاشعار کہتے ہوئے لکھا ہے:
    (۳) فکر اصلاحی کے علمبردار جاوید احمد غامدی مراد ہیں، اللہ ان کو ہدایت دے۔
    (۴) دکتور طہٰ حسین مصری مراد ہے۔ ان کی اس موضوع پر ایک کتاب ’’الادب الجاھلی‘‘ کے نام سے ہے۔
     
  3. ‏اکتوبر 04، 2011 #23
    ندیم محمدی

    ندیم محمدی مشہور رکن
    جگہ:
    Wah, Pakistan, Pakistan
    شمولیت:
    ‏جولائی 29، 2011
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,274
    تمغے کے پوائنٹ:
    140

    جزاک اللہ کلیم بھائی ایک اچھوتے موضوع پر بہترین کاوش ہے۔ویل ڈن
     
  4. ‏اکتوبر 06، 2011 #24
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں