1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرائے عشرہ اور ان کے رواۃ کی ثقاہت ائمہ جرح وتعدیل کے اقوال کی روشنی میں

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مارچ 31، 2012۔

  1. ‏مارچ 31، 2012 #11
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام ابن کثیر﷫ کے دو شاگرد
    (١) امام البزی﷫
    ان کا اصل نام احمد بن محمد بن عبداللہ بن ابی بزۃ المؤذن المکی ابوالحسن ہے۔
    چالیس سال حرم کے مؤذن رہے۔ (معرفۃ القراء: ۱؍۳۶۶)
    امام بزی﷫ نے کہا: فمن قال مخلوق، فھو علیٰ غیر دین اﷲ و دین رسول اﷲ ! حتی یتوب ’’جس نے کہا کہ (قرآن) مخلوق ہے وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے دین پر نہیں ہے حتیٰ کہ وہ توبہ کرلے۔‘‘ (الشریعۃ للآجري: ۸۸، معرفۃ القراء: ۱؍۳۷۰)
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا: ’مقرء مکۃ و مؤذن‘ مکہ کے مقری اور اس کے مؤذن تھے۔
    ابن جزری﷫ نے کہا: أستاذ محقق ضابط متقن (غایۃ النھایۃ: ۱؍۱۰۹)
    تنبیہ: امام بزی﷫ سے تکبیروں والی روایت مستدرک حاکم (۳/۳۴۴) میں آئی ہے۔ اس کے بارے میں امام ابوحاتم الرازی﷫ نے کہا: ھذا حدیث منکر (علل ابن أبي حاتم: ۲؍۷۶)
    امام ذہبی﷫ نے کہا: ھذا من مناکیر البزي (میزان الاعتدال: ۱؍۲۸۹) حافظ ابن حجر نے ذہبی کی بات پر خاموشی اختیار کی ہے۔ (لسان المیزان: ۱؍۲۸۴)
    حدیث میں ضعیف تھے لیکن قراء ت میں امامت کے مرتبہ پر فائز تھے۔ (اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے: قراء ات نمبر رشد ۲ ، ص۵۳۰-۵۳۱ ، ۳۵۶-۳۵۸)
     
  2. ‏مارچ 31، 2012 #12
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) امام قنبل﷫
    اصل نام محمد بن عبدالرحمن بن محمد بن خالد بن سعید المکی المخزومی ہے۔
    حافظ ذہبی﷫ لکھتے ہیں: امام شیخ المقرئین (معرفۃ القراء :۱؍۴۵۲)
    نیز لکھتے ہیں: انتھت إلیہ رء اسۃ الإقراء بالحجاز ’حجاز میں قراء کی ریاست امام قنبل پر ختم ہوگئی۔‘ (معرفۃ القراء :۱؍۴۵۳)
     
  3. ‏مارچ 31، 2012 #13
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ابوعمرو﷫ کے دو شاگرد
    (١) امام دوری﷫
    ان کااصل نام ابوعمر حفص بن عمر بن عبدالعزیز الدوری النحوی ہے۔
    حافظ ذہبی﷫ لکھتے ہیں: الإمام مقرئ الإسلام (معرفۃ القراء: ۱؍۳۸۶)
    امام ابوحاتم﷫ نے کہا: ’صدوق‘ (الجرح والتعدیل: ۳؍۱۸۴)
    امام ابوعلی الاہوازی﷫ نے کہا: وھو ثقۃ في جمیع ما یرویہ۔ وعاش دہرا وذھب بصرہ في آخر عمرہ، وکان ذا دین وخیر ’’وہ اپنی تمام مرویات میں ثقہ تھے او رایک زمانہ زندہ رہے۔ آخر ی عمر میں ان کی نگاہ ختم ہوگئی ۔وہ دین اور بھلائی والے تھے۔‘‘ (معرفۃ القراء: ۱؍۳۸۸، سیر أعلام النبلاء: ۱۱؍۵۴۳)
    امام ابوداؤد﷫ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمدبن حنبل کو دیکھا وہ ابوعمرو الدوری سے لکھتے تھے۔(تاریخ بغداد: ۸؍۲۰۳، سیر أعلام النبلاء: ۱۱؍۵۴۲)
    احمد بن فرح الضریر﷫ نے کہا: میں نے دوری سے سوال کیا کہ آپ قرآن کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا کلام ہے مخلوق نہیں ہے۔ (تاریخ بغداد:۸؍۲۰۳)
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا: الإمام العالم الکبیر، شیخ المقرئین‘‘ (سیر أعلام النبلاء: ۱۱؍۵۴۱)
    امام دارقطنی﷫ نے کہا ’ضعیف‘ امام ذہبی﷫ فرماتے ہیں کہ امام دارقطنی﷫ کے ضعیف کہنے سے مراد یہ ہے کہ آثار کو ضبط کرنے میں ضعیف ہیں۔ رہے قراء ت میں تو اس میں وہ ثبت امام تھے ۔اسی طرح قراء کی ایک جماعت کے نزدیک وہ قراء ت میں ثقہ ہیں لیکن حدیث میں نہیں۔ جیسے نافع﷫، کسائی﷫ اور حفص﷫ ہیں انہوں نے قراء ت کا اہتمام کیاہے او رانہیں تحریر کیا ہے جبکہ اس طرح کی محنت حدیث میں نہیں کی، اسی طرح حفاظ کی ایک جماعت حدیث میں پختہ ہے لیکن قراء ات میں پختہ نہیں ہے۔ اسی طرح اس آدمی کی حالت ہے جو ایک فن میں ظاہر ہوا اور کسی دوسرے فن میں اس قدر اہتمام نہیں کیا۔ (سیر أعلام النبلاء: ۱۱؍۵۴۳)
     
  4. ‏مارچ 31، 2012 #14
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) امام سوسی﷫
    ان کااصل نام ابوشعیب صالح بن زیاد بن عبداللہ السوسی ہے۔
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا: ’الإمام‘ (معرفۃ القراء :۱؍۳۹۰)
    امام ابوحاتم﷫ نے کہا: ’صدوق‘ (الجرح والتعدیل:۴؍۴۰۴، تہذیب التہذیب:۴؍۳۹۲)
    حافظ ذہبی فرماتے ہیں: الإمام المقرئ المحدث، شیخ الرقۃ (سیر أعلام النبلاء: ۱۲؍۳۸۰)
    وقال النسائي ’ثقۃ‘ (تہذیب التہذیب: ۴؍۳۹۲، تہذیب الکمال: ۳؍۴۲۸، ذکرہ ابن حبان في الثقات: ۸؍۳۱۹)
    حافظ ذہبی نے کہا: وکان صاحب سنۃ ’وہ سنت والے تھے۔‘ (سیر أعلام النبلاء: ۱۲؍۳۸۱)
     
  5. ‏مارچ 31، 2012 #15
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام ابن عامر﷫ کے دو شاگرد
    (١) امام ہشام﷫
    ان کا اصل نام ہشام بن عمار بن نصیر القاضی الدمشقی، ابوالولید ہے۔
    حافظ ذہبی﷫ نے لکھا: شیخ أھل دمشق و مفتیھم وخطیبھم ومقرئھم ومحدثھم ’’دمشق والوں کے شیخ، ان کے مفتی ،ان کا خطیب ،ان کے مقرئ اور ان کے محدث تھے۔‘‘ (معرفۃ القراء: ۱؍۳۹۶)
    امام بخاری﷫ نے ان سے اپنی صحیح بخاری میں روایت لی ہے۔
    ابن معین نے ان کو ’ثقہ‘ کہا ، نسائی نے ’لا بأس بہ‘ کہا، دارقطنی نے ’صدوق‘ کہا۔ (معرفۃ القراء: ۱؍۳۹۷،۳۹۸)
    ابوحاتم﷫ نے کہا: ’صدوق‘ (الجرح و التعدیل:۹؍۶۶)
    قال العجلی ’ثقہ‘ وقال في موضع آخر ’صدوق‘
    قال النسائی: ’لا بأس بہ‘ (تہذیب الکمال:۷؍۴۱۲) وقال في موضع آخر: ’صدوق‘(المعجم المشتمل، الترجمۃ:۱۱۲۰)
    قال عبدان بن أحمد الجوالیقي: ما کان في الدنیا مثلہ
    قال بن أبي حاتم ’صدوق‘(تہذیب التہذیب: ۷؍۴۱۲،۴۱۳)
     
  6. ‏مارچ 31، 2012 #16
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) امام ابن ذکوان﷫
    ان کا اصل نام عبداللہ بن احمدبن بشیر بن ذکوان القرشی الدمشقی ابوعمرو ہے۔
    امام ذہبی﷫ نے کہا: مقرئ دمشق وإمام جامعھا ’دمشق کے مقرئ تھے اور اس کی جامع مسجد کے امام تھے۔‘
    ابوحاتم﷫ نے کہا: ’صدوق‘
    امام ابوزرعہ﷫ دمشقی نے کہا: عراق، حجاز، شام ، مصر اور خراساں میں میرے نزدیک ابن ذکوان کے زمانے میں ان سے بڑا کوئی قاری نہیں تھا۔(معرفۃ القراء: ۱؍۴۰۴،۴۰۵)
    قال ابن معین: ’لا باس بہ‘ (تہذیب الکمال: ۴؍۸۳، ذکرہ ابن حبان في الثقات: ۸؍۳۶۰)
     
  7. ‏مارچ 31، 2012 #17
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام عاصم﷫ کے دو شاگرد
    (١) امام شعبہ﷫
    اصل نام، ابوبکر شعبہ بن عیاش بن سالم الکوفی ہے۔
    امام احمد﷫ نے کہا: ’صدوق، ثقۃ‘، ربما غلط، صاحب قرآن وخیر۔ (معرفۃ القراء: ۱؍۲۸۱)
    ابن المبارک﷫ نے کہا کہ میں نے سنت کی طرف زیادہ دوڑانے والا اس سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔ (العلل ومعرفۃ الرجال: ۲؍۳۲)
    امام ابوعبداللہ المعیطی﷫ نے کہا کہ میں نے ابوبکر بن عیاش﷫ کو دیکھا مکہ میں ان کے پاس سفیان بن عینیہ آئے اور دو زانوں ہوکر بیٹھ گئے ایک آدمی آیا وہ سفیان کے بارے میں پوچھنے لگا انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس وقت تک سوال نہ کر جب تک یہ شیخ (شعبہ بن عیاش) بیٹھے ہوئے ہیں۔ (معرفۃ القراء :۱؍۲۸۳)
    یزید بن ہارون﷫ نے کہا: ابوبکر میں خیر تھی، وہ فاضل شخص تھے ،اس نے اپنے پہلو کو چالیس سال تک زمین پرنہیں رکھا۔ (معرفۃ القراء :۱؍۲۸۴)
     
  8. ‏مارچ 31، 2012 #18
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) امام حفص بن سلیمان بن مغیرہ البزاز﷫ الکوفی، ابوعمرو
    عبدالفتاح عبدالغنی قاضی﷫ نے کہا: ’کان ثقۃ‘ (البدور الزاھرۃ: ۱۳)
    قراء ت میں پختہ تھے۔ (معرفۃ القراء: ۱؍۲۸۷)
    امام احمد﷫نے کہا: ’ما بہ بأس‘ (تاریخ بغداد:۸؍۱۸۷)
    ابوہشام رفاعی﷫نے کہا: امام حفص﷫، عاصم﷫ کی قراء ت کو ان سے زیادہ جانتے تھے۔(معرفۃ القراء: ۱؍۲۸۸)
    امام بخاری﷫ نے کہا: ’انہوں نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔‘ (کتاب الضعفا الصغیر:۳۲)
    صاع الخبراہ﷫ نے کہا: ’لا یکتب حدیثہ‘ اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔ (تاریخ بغداد: ۸؍۱۸۸)
    زکریا ساجی﷫ نے کہا: ’لہ أحادیث بواطیل‘ (تاریخ بغداد:۸؍۱۸۸)
    ابن عدی﷫ نے کہا: ’عامۃ أحادیثہ غیر محفوظۃ‘(الکامل فی ضفاء الرجال:۲؍۷۹۲)
    امام ذہبی﷫ نے کہا کہ: أما في القرائۃ فثقۃ ثبت ضابط لھا بخلاف في الحدیث’’ لیکن یہ قراء ت میں ثقہ پختہ، اس کو ضبط کرنے والے تھے حدیث میں ان کے بارے میں اختلاف ہے۔‘‘ (معرفۃ القراء: ۱؍۲۸۸)
    سعد العوقی﷫ نے کہا: لو رأیتہ مقرت عینک بہ علما وفھما ’’اگر آپ اس کو دیکھ لیں تو آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اس کے ساتھ ، علم اور فہم کی وجہ سے‘‘(معرفۃ القراء: ۱؍۲۸۹)
    علی بن مدینی﷫ نے کہا: ترکت عمداً ’ میں اُس کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا۔‘ (تاریخ بغداد: ۸/۱۸۷)
    خلاصہ یہ ہے کہ قراء ت میں ثقہ امام تھے لیکن حدیث میں کمزور تھے۔
     
  9. ‏مارچ 31، 2012 #19
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام حمزہ﷫ کے دو شاگرد
    (١) خلف بن ہشام البزار ابومحمد البغدادی﷫
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا : ’المقری أمر الأعلام‘ (معرفۃ القراء: ۱؍۴۱۹)
    یحییٰ بن معین﷫ اور امام نسائی﷫ نے ثقہ کہا ہے۔ (تاریخ بغداد: ۸؍۳۲۶،۳۲۷)
    امام دارقطنی﷫ نے کہا: ’کان عابداً فاضلاً‘ (تاریخ بغداد: ۸؍۳۲۷)
    حمدان بن ھانی المقری﷫ نے کہا کہ میں نے خلف بن ہشام سے سنا کہ مجھ پر نحو کا ایک باب مشکل ہوا تو میں نے ۸۰ ہزار درہم خرچ کردیئے یہاں تک کہ میں اس میں ماہر بن گیا۔ (معرفۃ القراء: ۱؍۴۲۱)
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا: ’’الإمام الحافظ الحجۃ شیخ الإسلام، المقرء‘‘(سیر أعلام النبلاء: ۱۰؍۵۷۶)
    نیز کہا: ولہ اختیار في الحروف صحیح ثابت لیس بشاذ أصلا ’’قراء ت میں ان کا اختیار کرنا صحیح ثابت نہیں اور اصل کے اعتبار سے شاذ نہیں ہے۔‘‘(سیر أعلام النبلاء: ۱۰؍۵۷۷)
    امام ابوالحسن احمد بن جعفر بن زیاد السوسی﷫ نے کہا کہ ابوجعفر الفضیلی نے ہشام کا ذکر کیاتو کہا: ’کان في أصحاب السنۃ‘ (تہذیب الکمال: ۲؍۳۹۵)
     
  10. ‏مارچ 31، 2012 #20
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) خلاد بن خالد و یقال ابن خلید الصیرفی الکوفی ابوعیسیٰ﷫
    حافظ ذہبی﷫ نے کہا : ’’وکان صدوقاً في الحدیث والقراء ۃ‘‘ (معرفۃ القراء : ۱؍۴۲۳)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں