1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کریم کو قواعد موسیقی پرپڑھنے کی شرعی حیثیت

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏دسمبر 12، 2011۔

  1. ‏دسمبر 12، 2011 #21
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) انس بن مالک رضی اللہ

    زیاد النُّمیری رحمہ اللہ سے مروی ہے :
    ’’ أنہ جاء مع القراء إلی أنس بن مالک رضی اﷲ عنہ فقیل لہ اقرأء فرفع صوتہ وطرّف وکان رفیع الصوت فی قراء تہ فکشف أنس عن وجھہ وکان علی وجھہ خرقۃ سوداء فقال یا ھذا ما ھکذا کانویفعلون وکان إذا رأی شیئا ینکرہ کشف الخرقۃ عن وجھہ) (زاد المعاد )
    ’’وہ کہتے ہیں کہ وہ قراء کی ایک جماعت کے ہمراہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہیں کہا گیاکہ تلاوت سناؤ انہوں نے بآواز بلند سر لگا کر پڑا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا اُٹھایا اور فرمایا ارے یہ کیسے پڑھ رہے ہو؟ کیاسلف ایسے پڑھتے تھے؟ راوی کہتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عادت تھی جب کوئی منکر کام دیکھتے تھے تو چہرے سے کپڑا ہٹاتے تھے۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 12، 2011 #22
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) امام مالک بن انس رحمہ اللہ

    ابن القاسم رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں :
    ’’سئل عن الألحان فی الصلاۃ فقال لا تعجبنی فقال إنما ھو غناء یتغنون بہ لیأخذوا علیہ الدراھم‘‘ (زاد المعاد :۱؍۴۸۵)
    ’’امام مالک رحمہ اللہ سے سوال کیاگیا نماز میں الحان (قواعد موسیقی) سر لگا کر قرآن پڑھنا کیسا ہے تو انہوں نے فرمایا مجھے پسند نہیں ہے، پھر فرمایا وہ توگانا ہے جسے گا کر لوگ دراہم اکٹھے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
     
  3. ‏دسمبر 12، 2011 #23
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٣)سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے:
    ’’ أنہ سمع عمر بن عبد العزیز یؤم الناس فطرب فی قراء تہ فأرسل إلیہ سعید یقول:أصلحک اﷲ إن الأئمۃ لا تقرأ ھکذا فترک عمر التطریب بعد‘‘
    ’’انہوں نے عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ کو نماز میں سر لگاکر پڑھتے ہوئے سنا تو ان کی طرف پیغام بھیجا کہ امام ایسے نہیں پڑھتے تو عمر بن عبدالعزیز نے اس کے بعد سر لگا کر پڑھناچھوڑ دیا۔‘‘
     
  4. ‏دسمبر 12، 2011 #24
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٤) قاسم بن محمدرحمہ اللہ سے مروی ہے:
    ’’ أن رجلا قرأ فی المسجد النبی! فطرب فأنکر ذلک القاسم فقال، یقول اﷲ عز وجل ’’ إِنَّہٗ لَکِتَابٌ عَزِیزٌ لَا یَأتِیہِ الْبَاطِلُ مِن بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ ‘‘
    ’’ایک آدمی نے مسجد نبویﷺ میں سُر لگا کر پڑھا تو انہوں نے اس کاانکار کیا( کہ یہ درست نہیں ہے) اور فرمایا اللہ رب العزت فرماتے ہیں یہ ایک مضبوط کتاب ہے اس کے آگے اور پیچھے کسی طرف سے بھی باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی۔‘‘
     
  5. ‏دسمبر 12، 2011 #25
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ
    ’’ قال أحمد فی روایۃ علی بن سعید فی قراء ۃ الألحان ما تعجبی وھو محدث وقال فی روایۃ المروزی القراء ۃ بالا ألحان بدعۃ لا تسمع‘‘
    ’’علی بن سعید کی روایت میں ہے کہ امام نے الحان میں قراء ۃ کے بارے میں کہا ایسی شے کو میں کیسے پسند کرسکتا ہوں جو بدعت ہو اورمروزی کی روایت میں ہے کہ الحان (قواعد موسیقی) میں تلاوت کرنا بدعت ہے اسے نہ سنو۔‘‘
    ’’ قال عبداﷲ بن یزید العکبری سمعت رجلاً یسأل احمد ما تقول فی القراء ۃ بالألحان فقال ما إسمک قال محمد قال أیسرّک أن یقال لک یا موحمد ممدوداً‘‘
    ’’عبداللہ بن یزید العکبری فرماتے ہیں ، میں نے ایک آدمی کو سنا(جو کہ رہا تھا) ، امام احمد سے سوال کیاگیا آپ الحان کے موافق قراء ت کے بارے میں کیاکہتے ہیں تو انہوں نے جواباًکہا تیرا نام کیاہے اس آدمی نے کہا محمد، تو انہوں نے کہا کیا درست ہے کہ تجھے کھینچ کر یا موحمد کہا جائے۔‘‘
    اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے قاضی ابویعلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’ھذہ المبالغۃ فی الکراھۃ کہ یہ انداز کراہت میں مبالغہ کا ہے۔‘‘
     
  6. ‏دسمبر 12، 2011 #26
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
    اِمام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال کیاگیا کہ الحان میں قراء ت کرنا کیسا ہے تو اس کے جواب میں رقم طراز ہیں:
    ’’ وأعدل الأقوال فیھا أنھا إن کانت موافقۃ لقراء ۃ السلف کانت مشروعۃ وان کانت من البدع المذمومۃ نھی عنھا والسلف کانوا یُحسنون القرآن بأصواتھم من غیر أن یتکلفوا أوزان الغناء‘‘
    ’’تمام اَقوال میں سے معتدل بات یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت سلف کے طریق پر کرنی چاہئے اور یہی شرعی طریقہ ہے اور اگر کوئی نیا طریقہ ایجاد کرلیا جائے تو یہ بدعت مذمومہ ہے جس منع کیا گیاہے اور سلف کا طریق کار یہ تھا کہ وہ قرآن کریم کو اپنی ہی آوازوں کے ساتھ خوبصورت کرتے تھے نہ کہ تکلف کرکے گانے کے اوزان پر پڑھتے تھے۔‘‘
     
  7. ‏دسمبر 12، 2011 #27
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حافظ ابن کثیررحمہ اللہ
    ’’ فأما الأصوات بالنغمات المحدثۃ المرکبۃ علی الأوزان والأوضاع الملھیۃ والقانون الموسیقائی فالقران ینزہ عن ھذا ویجل ویعظم أن یسلک فی أدائہ ھذاالمذھب‘‘
    ’’جدید نغمات کی وہ آوازیں جو لہو ولعب جو موسیقی کے اوزان اور قوانین سے ترکیب پاتی ہیں تو قرآن ایسی آوازوں سے پاک اور منزہ ہے اس سے بہت عظیم اور بلند تر ہے کہ اُسے ایسے طریقہ پرپڑھا جائے۔‘‘
     
  8. ‏دسمبر 12، 2011 #28
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام ابن رجب رحمہ اللہ
    ’’ وانما وردت السنۃ یتحسین الصوت بالقرآن لایقرائۃ الألحان و بینھما بون بعید ) (نزھۃ الأسماع فی مسألۃ السماع‘‘
    ’’سنت نبوی ؐ میں جو وارد ہے وہ یہ کہ آوازوں کو قرآن کے ساتھ خوبصورت بنایا جائے نہ کہ قواعد موسیقی کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی جائے اور دونوں کے مابین(قواعد موسیقی اور تلاوت قرآن)بہت بُعد ہے۔‘‘
     
  9. ‏دسمبر 12، 2011 #29
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    شیخ ابن بازرحمہ اللہ
    شیخ ابن بازرحمہ اللہ سے مقامات کے متعلق سوال کیاگیا تو انہوں نے اس کے جواب میں فرمایا:
    ’’ لا یجوز للمؤمن أن یقرأ بألحان الغناء و طریقۃ المغنین بل یحب أں یقرأہ کما قداہ سلفنا الصالح من أصحاب رسول اﷲ! واتباھم بإحسان‘‘
    ’’کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ قرآن کوقواعد موسیقی اور گلوکاروں کی طرز پر پڑھے بلکہ واجب ہے کہ اس طرح پڑھے جس طرح ہمارے سلف صحابہ کرام اور متبعین نے پڑھا۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏دسمبر 12، 2011 #30
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    دوسرا گروہ
    ابن بطال رحمہ اللہ نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت سے الحان کے ساتھ قرآن پڑھنے کا جواز نقل کیاہے۔امام شافعیa سے بھی اس کے جواز پر نص ہے، نیز امام طحاوی رحمہ اللہ نے حنفیہ سے اور فورانی نے شافعیہ کی کتاب ’الابانہ‘ میں جو از بلکہ اِستحباب نقل کیاہے۔ (فتح الباری:۱۱؍۸۹)
    انہی علماء کے بارے میں بعض تفصیلی باتیں بھی موجود ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں