1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کریم کو قواعد موسیقی پرپڑھنے کی شرعی حیثیت

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏دسمبر 12، 2011۔

  1. ‏دسمبر 12، 2011 #31
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ
    ’’انھم کانو یستمعون القرآن بالألحانِ‘‘ (زاد المعاد:۱؍۴۸۶)
    ’’کہ ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب قرآن کو الحان کے ساتھ سنتے تھے۔‘‘
     
  2. ‏دسمبر 12، 2011 #32
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام شافعی رحمہ اللہ
    ’’ قال محمد بن عبد الحکم رأیت أبی ویوسف بن عمرو الشافعی یستمعون القرآن بالألحان‘‘ (زاد المعادحوالہ مذکورہ)
    ’’محمد بن حکم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ امام شافعی اور یوسف بن عمرؒ کودیکھا کہ وہ الحان (قواعد موسیقی) کے ساتھ قرآن سنتے تھے۔‘‘
     
  3. ‏دسمبر 12، 2011 #33
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    راجح اور معتدل مؤقف
    حافظ ابن قیم الجوزیۃ رحمہ اللہ نے اپنی مشہور تصنیف زاد المعاد فی ھدي خیر العباد میں اس مسئلہ میں اَحادیث اور علماء کے اقوال ذکر کرنے کے بعد جو فیصلہ کن اور راجح بات نقل کرتے ہیں،ہمارے نزدیک بھی وہی راہ صواب اور راجح موقف ہے۔فرماتے ہیں:
    ’’ قرآن کریم کو خوش الحانی اور سُر لگا کر پڑھنے کی دوقسمیں ہیں:
    (١) وہ خوش الحانی جس کا طبیعت تقاضا کرتی ہے اور بغیر تکلف و تعلیم زبان پر جاری ہوجائے یعنی جب طبیعت کوکھلا چھوڑ دیا جائے تو مذکورہ خوش الحانی اور سُر خود بخود ہی جاری ہو جائے تو یہ درست اور جائز ہے۔ جس طرح حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا تھا (لوعلمت أنک تسمع لحبرت لک تحبیرا )
    (٢) اس سے مراد وہ خوش الحانی اور سُر ہے جس میں تکلف اور تصنع ہواور طبیعت کے غیر موافق ہو جس کا حصول تکلف اور تصنع کے بغیر ناممکن ہو جس طرح موسیقی کی تعلیم حاصل کی جاتی ہے اور مخصوص اور من گھڑت اوزان پر گایا جاتاہے۔ ایسی خوش الحانی کو سلف صالحین نے ناپسند کیا ہے اس کی مذمت کی ہے،اس کا انکار کیاہے، اس کو معیوب قرار دیا ہے اور اس سے برأت کا اعلان کیاہے۔ اور ہر وہ شخص جو احوال سلف سے واقف ہے وہ بخوبی اس سے آگاہ ہے کہ وہ قواعد موسیقی پر تلاوت کرنے سے بری تھے اور اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘ (زاد المعاد)
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 13، 2011 #34
    عبدالودود

    عبدالودود رکن
    جگہ:
    Lahore, Pakistan, Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2011
    پیغامات:
    36
    موصول شکریہ جات:
    147
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    اسلام علیکم
    جزاک اللہ
    بھائی میرے جیسے کم فہم لوگوں کے لئے اگر آپ مثالوں سے واضح کر دیں کہ الحان کسے کہتے ہیں اور موجودہ یا ماضی قریب میں کون سے معروف قراء الحان سے پڑھتے ہیں تو بات کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔
     
  5. ‏فروری 07، 2014 #35
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جو مشہور مقامات ہیں مثلا رست ، سیکا ، نہاوند ، صبا وغیرہ میں سے کوئی ایک لفظ یوٹیوب میں لکھ کر تلاش کریں ۔ بہت کچھ مل جائے گا ۔
    فاضل مضمون نگار کے نزدیک یہ مقامات موسیقی کی مختلف سریں ہیں ۔ اور ’’ الحان ‘‘ بھی بعض دفعہ اسی کو کہاجاتا ہے ۔
     
  6. ‏فروری 07، 2014 #36
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    قاری مشاری بن راشد العفاسی کے بارے میں مجھے کچھ شک ہے۔ ان کی قراءت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ خضر حیات
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 07، 2014 #37
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پتا نہیں بھائی جان ۔
    قاری محمد مصطفیٰ راسخ صاحب بہتر وضاحت کرسکیں گے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 07، 2014 #38
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم خضر حیات بھائی کیا واقعی اوپر جو بتایا گیا ہے کہ لحن کا سکھانا ٹھیک نہیں جیسے آج کل ترتیل کی تعلیم دی جاتی ہے اور باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر (چند مدارس ) میں پڑھائی جاتی ہے میں نے وہاں بھی یہی سوال کیا تھا کہ ایک مدرسے والے اسکو سکھانا چاہتے ہیں کیا امام الجوزیہ رحمہ اللہ کی بات پر سب کا اتفاق ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 07، 2014 #39
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    نہیں بھائی اتفاق تو نہیں ہے ۔ مسئلہ مختلف فیہ ہے ۔
    اس مضمون میں دونوں آراء اور ان کے دلائل ذکر کردیے گئے ہیں طرفین کے دلائل کو پڑھ کر فیصلہ کرلیں کے آپ کے نزدیک کیا موقف درست ہے ۔
    اگر آپ نے یہ مضمون مکمل ملاحظہ کر لیا ہے تو کچھ باتیں آپ کو بالکل واضح نظر آئیں گی کہ :
    1۔ قرآن کو خوبصورتی سے پڑھنا چاہیے ۔ اور اس میں محنت بھی کرنی چاہیے ۔
    2۔ قرآن کو گانے بجائے کی طرح پڑھنا درست نہیں ۔ اور نہ ہی وہ طرز اختیار کیا جائے جس سے قرآن کی حرمت و تقدس پر حرف آتا ہو ۔
    ان دو باتوں کا خیال رکھتے ہوئے اگر کسی مدرسے والے اس کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں تو بہترین اقدام ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 28، 2014 #40
    Ishtiaq Saqi

    Ishtiaq Saqi رکن
    جگہ:
    لاہور۔۔۔۔۔پاکستان
    شمولیت:
    ‏نومبر 16، 2011
    پیغامات:
    18
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں