1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی میں ایک بکری ،سارے گھر والوں کی طرف سے کافی

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 29، 2014۔

  1. ‏ستمبر 29، 2014 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,775
    موصول شکریہ جات:
    2,271
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    مام ترمذی نے اپنی سنن میں باب منعقد کیا ہے :
    بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الوَاحِدَةَ تُجْزِي عَنْ أَهْلِ البَيْتِ (ایک بکری کی قربانی ایک گھر کے تمام افراد کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے )
    ( عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى.
    هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَدِينِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ

    ترجمہ :عطا بن یسار کہتے ہیں ،میں نے جناب ابو ایوب انصاری سے پوچھا ،کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں قربانیاں کس طرح کرتے تھے ،انہوں نے بتایا کہ :ہر آدمی ایک بکری اپنی اور اپنے سارے گھر والوں کی طرف قربان کرتا تھا ،اور سب اسی کو خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے ؛لیکن بعد میں لوگوں نے فخر ونمود کا مظارہ سروع کردیا ،اور اب جو صورت ہے وہ تم دیکھ رہے ہو ؛
    امام ترمذی کہتے ہیں :یہ حدیث حسن صحیح ہے ،اورجناب امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ اور دیگر کئی اہل علم کا یہی قول ہے ؛
    جناب امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی یہی روایت درج فرمائی ہے :
    قَالَ: كُنَّا « نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً )
    مجلہ ۔محدث۔کا اقتباس
    حدیث ابو ایوب انصاری کی ہے کہ:
    «كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّيْ بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَھْلِ بَيْتِه »
    کہ ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے بکری قربانی کرتا۔
    ان روايات كے ذكر كرنےسے مطلب یہ ہے کہ طحاویؒ نے حنفیت کی حمایت کرتے ہوئے جو یہ فرمایا ہے کہ ''یہ نبی ﷺ کا خاصا تھا یا منسوخ ہو گیا ہے۔'' کسی طرح بھی صحیح نہیں کیونکہ نبی ﷺ کے سوا اور صحابہؓ نے بھی ایسا کیا اور ابو ایوب انصاری کی روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیر تک ایسا ہی ہوتا رہا کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کی طرف سے اور اپنی طرف سے ایک قربانی کرتا حَتّٰي تَبَاھَي النَّاسُ پھر ایک یہ وقت آیا کہ لوگوں نے اس میں فخر شروع کر دیا اور جب اور صحابہ سے بھی ثابت ہے اور آپ کے بعد بھی لوگ اس پر عمل کرتے رہے، پھر یہ کہنا کہ یہ خاصہ نبی کریم ﷺ کا ہے یا یہ منسوخ ہو چکا ہے کیونکر صحیح ہو سکتا ہے لیکن طحاویؒ بھی مجبور بلکہ معذور ہیں کیونکہ تقلید کی وجہ سے حمایتِ مذہب کی جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کے ہوتے ہوئے وہ یہی کر سکتے ہیں اور اس قسم کے مریضِ عشق کی تڑپ اور بے قراری کا مظاہرہ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ پس کتنی ہی حدیثیں ہیں جن کو خاصہ نبی کریم کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے اور کتنی ہی حدیثیں ہیں جن کو خاصۂ نبی کہہ کر اپنے آپ کو بچا لیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ پُر لطف وہی جگہ ہوتی ہے جہاں حدیث کے متعلق کہا جاتا ہے کہ منسوخ ہے، یہ بے چارگی اور سراسیمگی کا فی الحقیقت نہایت قابلِ رحم منظر ہوتا ہے۔ بہرحال اس مسئلہ میں صحیح اور مطابقِ حدیث نبوی اور تعاملِ صحابہ کے یہی ہے کہ ایک بکری کی قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے سو وہ چاہے کتنے ہی ہوں۔

    http://magazine.mohaddis.com/shumara/146-feb-1972/1985-qurbani-ahkam-masael
     
  2. ‏ستمبر 30، 2014 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    ۔ماشاء اللہ بہت معلوماتی ہے۔۔ ۔ لیکن اب تو ہر ہر فرد کے نام سے قربانی کی جاتی ہے۔جس سے دکھاوا اور نمائش بڑھ جاتی ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 30، 2014 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,744
    موصول شکریہ جات:
    5,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    دکھاوا اور نمائش ایک الگ شئے ہے۔ گھر کے ہر فرد کی طرف سے قربانی کو لازماً دکھاوے اور نمائش سے منسلک کرنا، یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔

    ویسے ”دکھاوا“ تو نماز میں بھی ہوسکتا ہے (اور ہوتا بھی ہے) ۔ تو کیا ہم ہر ایسے فرد کی ”مذمت“ کرنے لگ جائیں جو زیادہ سے زیادہ نوافل وغیرہ کا اہتمام کرتا ہو۔ ”نظر“ تو ایسی نماز بھی آہی جاتی ہے۔

    اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے جسے توفیق دی ہو وہ جتنی چاہے قربانی کرے۔ ہم دنیوی امور میں تو اچھے سے اچھا کے قائل ہیں اور قربانی میں کم سے کم کے کیوں؟ کیا شریعت میں ایک گھر میں ایک سے زائد قربانی منع ہے ؟؟؟ اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جائے
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 30، 2014 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,775
    موصول شکریہ جات:
    2,271
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    یہ بات تو ٹھیک ہے کہ آدمی جتنی چاہے قربانی کرے ،لیکن پہلے یہ تو سمجھے اور مانے کہ شرعاً ایک بکری یا دنبہ کی قربانی سارے گھر کی طرف سے کفایت کرتی ہے ،بالکل اسی طرح جس طرح نفل نماز کے متعلق وہ جانتا اور مانتا ہے ،کہ یہ اختیاری عمل ہے ،مجھ پر لازم نہیں؛اور اگر میں یہ نہ پڑھوں تو کوئی گناہ نہیں ؛
    پھر آپ نے لکھا کہ (ہم دنیوی امور میں تو اچھے سے اچھا کے قائل ہیں )
    عبادات میں اچھے سے اچھا ہونا واقعی بہت مفید اور اہم ہے ، لیکن اس کی صورتیں بھی شریعت نے ہی بتائی ہیں کہ کیسے اچھے سے اچھا ہو سکتا ہے ،مثلاً مغرب کی تین رکعت فرض ہیں ،اب ان کے اچھے سے اچھا ہونے کی یہی صورت ہو سکتی ہے ، کہ رکعت تو تین ہی پڑھے ،مگر انہیں سنوار کر اطمینان اور خشوع خضوع سے پڑھے ،یہی اچھے سے اچھا ہونے کی شرعاً مطلوب کیفیت ہے ،نہ کہ رکعات کو بڑھا کر اچھا ہونے کا دعوی کرنے لگے؛ ،،، اکثر بدعات اسی عنوان سے رائج ہیں ،
    پھر آپ نے لکھا کہ ( زائد قربانی منع ہے ؟؟؟ )
    عرض ہے : کہ عبادات کے متعلق یہ سوال ہی غلط ہے ؛
    کیونکہ :اصولی قاعدہ ہے کہ:( الأصل في العبادات التوقيف والأصل في العادات الإباحة
    فهذه القاعدة من حيث المعنى واضحة جدا، وخلاصة معناها أن المكلفين لا يجوز لهم أن يقدموا على عبادة من العبادات حتى يعلموا أن الله قد أذن فيها وشرعها لهم لأن الله تعالى لا يُعبد إلا بما أراد، وقد ثبت في الصحيح أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد. وفي رواية: من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد
    )
    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=127965
    --------------------------
    اور یہ فتوی بھی ملاحظہ ہو :
    السؤال
    هل يجوز للمقتدر أن يذبح أكثر من أضحية له حيث ورد أن النبي صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين؟ وهل يمكن أن يشترك الرجل وزوجه في أضحية واحدة من هذا نصف ومن هذا نصف وعلى أيهما يكون الإمساك؟
    الجواب
    الأفضل ألَّا يزيد الإنسان على شاة واحدة عنه وعن أهل بيته، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته، ومعلوم أنه أكرم الخلق عليه الصلاة والسلام، وأنه صلى الله عليه وسلم أشد الناس حباً لعبادة الله وتعظيمه، أما كونه ضحى بكبشين فالثاني ليس عن نفسه وأهل بيته ولكنه عن أمته، وعلى هذا فالأفضل الاقتصار على شاة واحدة للرجل وأهل بيته، ومن كان عنده فضل مال فليبذله دراهم أو أطعمة أو ما أشبه ذلك للبلاد الأخرى المحتاجة أو للمحتاجين في بلده؛ لأن البلاد لا تخلوا من أناس محتاجين
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 01، 2014 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ خیرا اسحاق بھائی۔بہترین وضاحت ہے۔
     
  6. ‏اکتوبر 01، 2014 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,744
    موصول شکریہ جات:
    5,262
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    دو باتوں کی وضاحت فرمادیجئے۔
    1. اگر ایک گھر میں صرف ایک فرد ”صاحب نصاب“ ہو تو صرف اس پر ہی قربانی واجب ہے۔ اب وہ چاہے تو ایک قربانی صرف اپنی طرف سے کرے۔ چاہے تو ایک ہی قربانی اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے کرے۔ یا گھر کے ہر فرد کی طرف سے الگ الگ قربانی کرے یا اپنی طرف سے ایک سے زائد قربانی کرے۔ کیا یہ تمام آپشن درست ہے ؟
    2. اگر ایک گھر میں ایک سے زائد افراد ”صاحب نصاب“ ہوں تو کیا تب بھی صرف ایک عدد قربانی ہی تمام اصحابِ نصاب کے لئے کافی ہوگی یا ہر صاحب نصاب کو الگ الگ قربانی کرنی ہوگی؟
    اپنا جواب قرآن و حدیث سے واضح کیجئے، فتاویٰ سے نہیں ۔ ابتسامہ
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 01، 2014 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,775
    موصول شکریہ جات:
    2,271
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    السلام علیکم :
    آپ کے سوالوں کے جواب میں مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ پیش خدمت ہیں ،
    قال عبدالله بن هشام : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ "
    المستدرك على الصحيحين,السنن الكبرى
    "پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتے تھے ،
    اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے وہ فرماتی ہیں :
    أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به،
    فقال لها: «يا عائشة، هلمي المدية»، ثم قال: «اشحذيها بحجر»، ففعلت: ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: «باسم الله، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد، ثم ضحى به»

    کہ ایک ہی دنبہ بڑے بڑے سینگوں والا منگوایا،اور یہ دعا پڑھ کر اسے ذبح کیا "بسم اللہ ،اے اللہ اسے محمد اور آل محمد ،اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما؛
    اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے حوالہ توآپ پہلے ہی دیکھ چکے ،
    سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى.
    وقال الترمذي :هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَدِينِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ

    ترجمہ :عطا بن يسار کہتے ہيں ،ميں نے جناب ابو ايوب انصاري رضي اللہ عنہ سے پوچھا ،کہ پيارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے مبارک دور ميں قربانياں کس طرح کرتے تھے ،انہوں نے بتايا کہ :ہر آدمي ايک بکري اپني اور اپنے سارے گھر والوں کي طرف قربان کرتا تھا ،اور سب اسي کو خود بھي کھاتے اور دوسروں کو بھي کھلاتے ؛
    ليکن بعد ميں لوگوں نے فخر ونمود کا مظاہرہ شروع کرديا ،اور اب جو صورت ہے وہ تم ديکھ رہے ہو ؛
    ان واضح احادیث کے مطابق ایک گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی میں کافی ہے ،
    خواہ اس گھر میں ایک آدمی صاحب نصاب ہو یاکئی ایک،
    اور کوئی اس سے زیادہ کرنا چاہے تو ایک گھر کی طرف سے دو بکریاں کرسکتا ہے ، لیکن یہ لازم نہیں ،
    دلیل یہ ہے کہ ، امام ابن ماجہ نے جناب ابو سریحہ الغفاری صحابی کا بیان بسند صحیح نقل فرمایا ہے ،وہ فرماتے ہیں :
    «حملني أهلي على الجفاء بعد ما علمت من السنة، كان أهل البيت يضحون، بالشاة والشاتين، والآن يبخلنا جيراننا»
    میرے گھر والوں مجھے غلط روش پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ،جبکہ میں اس مسئلہ میں سنت کوجانتا ہوں، کہ (عہد رسالت میں صحابہ کرام) ایک گھر والے -ایک یا دو بکریاں ہی ذبح کرتے تھے ، اور اب اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں،،
     
  8. ‏اکتوبر 01، 2014 #8
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    جزاک اللہ محترم مولانا اسحاق سلفی صاحب آپ نے ہمارا مسئلہ آسان کردیا ہم نے اسی فورم پر ان الفاظ میں مسئلہ دریافت فرمایا تھا ملاحظہ ہو۔۔
    چند دن ہوئےفیس بک پرقاری حنیف ڈار صاحب نے ایک پوسٹ شیئرکی اور بتایا کہ بقر عیدپر ایک دنبہ کی قربانی میاں خود اپنی طرف سے اور بیوی بچوںو ماں باپ کی طرف سے کرسکتا ہے۔ جو کہ معروف بات سے بالکل ہٹ کر ایک بات ہے ۔ اس بات تعجب تو ہوا لیکن انہوں نے یہ بات احادیث کے حوالے سے کی تھی کہ یہ بات احادیث سے ثابت ہے اور اسکی گنجائش موجودہے۔ اس بات سے مجھے خوشی بھی ہوئی کہ کم از کم ہمارے جیسےکمزور لوگوں کیلئے بھی قربانی کی گنجائش نکل آئیگی اگر یہ بات درست ثابت ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ہم ہر گھر کے ہر فرد کی طرف سے الگ الگ قربانی اگر کرتے ہیں تو کافی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات تو نوبت قرض تک کی آجاتی ہے۔ اس لئے علماء و مفتی حضرات دلائل کو دیکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پراس مسئلہ کو واضح کریں۔

    کیا دنبہ کی جگہ بکری کی قربانی میں مذکورہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے ؟
     
  9. ‏اکتوبر 01، 2014 #9
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    محترم اسحاق سلفی صاحب اگر آپ مختلف فقہی مسالک کے دلائل بھی ذکر فرما دیں تو ہمارے لئے دلائل کی بنیاد پر کسی نتیجے تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔
     
  10. ‏ستمبر 12، 2015 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,775
    موصول شکریہ جات:
    2,271
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    (( الأفضل ألَّا يزيد الإنسان على شاة واحدة عنه وعن أهل بيته، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته، ومعلوم أنه أكرم الخلق عليه الصلاة والسلام، وأنه صلى الله عليه وسلم أشد الناس حباً لعبادة الله وتعظيمه، أما كونه ضحى بكبشين فالثاني ليس عن نفسه وأهل بيته ولكنه عن أمته، وعلى هذا فالأفضل الاقتصار على شاة واحدة للرجل وأهل بيته، ومن كان عنده فضل مال فليبذله دراهم أو أطعمة أو ما أشبه ذلك للبلاد الأخرى المحتاجة أو للمحتاجين في بلده؛ لأن البلاد لا تخلوا من أناس محتاجين.
    شیخ محمد بن صالح العثیمین
     
    Last edited: ‏اگست 24، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں