1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی پر ملحدوں کے اعتراض کے جوابات

'دہریت والحاد' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏ستمبر 21، 2015۔

  1. ‏ستمبر 21، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    آج سکول سے واپسی پر گھر آتے ہوئے ملحدہ خالہ حمیداں پر نظر پڑی، وہ اپنے کھیتوں میں بیٹھی کچھ پریشان سی نظر آرہی تھی____ خالہ خمیدان کو پریشان دیکھ کر مجھے بھی اداسی لاحق ہو گئی __ مجھ سے رہا نا گیا چانچہ اپنی بھانجی ایمان کو ساتھ لئے خالہ حمیداں کے پاس جا کر بیٹھ گئی _____ پوچھا خالہ کیا بات ہے ؟ کچھ پریشان سی نظر آ رہی ہوں......!

    خالہ حمیداں واویلا کرتے ہوے پریشان کیوں نا ہوں ؟؟ مسلمان محض اپنی زباں کی لذت کی خاطر معصوم جانوروں کو قتل کر کے انکا گوشت کھاتے ہیں ! اگر کوئی خدا ہے تو کیا اس بے رحمی کی اجازت دے سکتا ہے؟؟؟؟

    دیکھو خالہ حمیداں ______ یہ تصور کہ مسلماں محض اپنی زباں کی لذت کی خاطر گوشت کھاتے ہیں ، یہ خلاف ِ واقعہ ہے ، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے بنائے ہوئے حرام اور حلال کے اصولوں پہ عمل کرتے ہیں ،جانور میں اللہ نے جسکو حرام قرار دیا ہے سور کتا تو مسلمان ان سے پوری طرح پرہیز کرتے ہیں ،جہاں تک جانوروں کو ذبح کرکے اسکے گوشت کھانے پر خدائے مہرباں کے رحم اور اسکے فعل کے بے رحم سمجھے جانے کا تعلق ہے تو اس جہاں میں بہت سارے گوشت خور پودے بھی پائے جاتے ہیں کیا وہ خدا نے نہیں بنائے؟ کیا خدا کی دنیا میں جانور ایک دوسرے کا شکار نہیں کرتے؟ دنیا کی ساری چیزیں.خد انے انسان کے فائدے کے لیے بنائیں ہیں کیا جانوروں پہ حل جوتنا بوجھ ڈالنا بے رحمی نہیں ہے؟ اس طرح تو نباتات کا استعمال بھی بے رحمی ہے ، آج سائینس نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر چیز میں احساس ہوتا ہے پھر بھی ہم لکڑی وغیرہ کاٹتے ہیں استعمال کرتے ہیں اگر کسی جان کو مارنا بے رحمی ہے تو ہم مکھی اور مچھر بھی نہیں مار سکتے ، جراثیم بھی نہیں مار سکتے ، ایلوپیتھک علاج بھی نہیں کرسکتے ،

    خالہ حمیداں بڑبڑاتے ہوئے __________ اگر مسلمان جانوروں کا گوشت استعمال نہ کریں تو کیا حرج ہے؟ کیوں کہ جانور کو اپنے فائدے کے لیے مارنا روحانیت کے خلاف ہے!

    خالہ بات سن __ جس دلیل سے ہم گوشت نہیں کھا سکتے اس دلیل سے ہم سبزی بھی نہیں کھا سکتے ،کیونکہ زندگی ہر چیز میں ہوتی ہے ،لیکن اگر ہم گوشت اور سبزی کی حقیقت الگ الگ بھی مان لیں تو وہ ملک جہاں کھیتی نہیں ہو سکتی صرف گھاس ہوتی وہاں لوگ کیا کھائیں؟
    جو ملک سمندر کے کنارے ہیں جہاں کھانے کو صرف مچھلی ملتی ہے جیسے جاپان وہاں لوگ کیا کھائیں؟
    شمالی امریکہ میں بسنے والی قوم اسکیمو کے لوگ کیا کھائیں؟
    جہاں.باغات نہ کھیت صرف سیل اور وہیل کھاتے ہیں ،یا بارہ سنگھے کا شکار کرتے ہیں ، دنیا بھر میں.جسقد رگوشت کھایا جاتا ہے اگر وہ نہ کھایا جائےاور جانوروں کو ہم بطور خواراک استعمال نہ کریں ہلاک نہ کریں تو دوسری غذائی اشیا کی کمی پڑ جائے گی ،قیمتیں بڑھ جائیں گی بے کار مویشی ملکوں کے لیے مصیبت بن جائیں گے ، کارڈ لیور آئل اور ریشم جیسی چیزیں ناپید ہوجائیں گی ،
    جانور کا گوشت استعمال کرنا روحانیت کے خلاف ہرگز نہیں ،صرف اسلام نے نہیں دنیا کے ہر مذہب نے گوشت خوری کی اجازت دی ہے ،ہندو دھرم کی معتبر کتاب منو سمرتودھی میں تو یہ تک لکھا ہے کہ " شاستر کی ودھی سے جو مانس شدھ ہوتا ہے اسکو جو نہیں کھاتا پرلوک میں اکیس جنم تک جانور ہوتا ہے! "منو اسمرتی (۵/۳۵)
    رام.جی کو خود ہرن شکار کرنا ،اسکا گوشت استعمال کرنا رامائن سے ثابت ہے ،اور جہاں تک کے روحانیت کے خلاف ہونے کا سوال ہے
    اسلام نے اسکے خدا کے نام.پر ذبح کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ یہ معاملہ روحانیت کے متعلق ہو جائے ،

    خالہ حمیداں اپنے خاوند چاچا فضلو کو آواز دیتے ہوئے اے فضلو ذرا ٹیوب ویل چالوں کرنا ،،،،،،،،، ہائے کتنا ظلم ہے جانور کو زبح کرتے وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے ،صاف بے رحمی محسوس ہوتی ہے ،پھر اللہ نے آخر ذبح کرنے کی اجازت کیوں دی؟ ؟ ؟؟؟؟؟

    دیکھو خالہ حمیداں ______
    موت تو بہر حال جانور پہ آنی ہی یے انسان پر بھی ،تکلیف تو موت پر بھی ہوتی ہے پھر اللہ موت کیوں دیتا ہے ،بیماری میں تکلیف نہیں ہوتی؟ بچے کی تکلیف نہیں ہوتی؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ خود بچے کو جننے سے کئی ماہ پہلے تک ماں کو یا مادہ کو کتنی زبردست تکلیف ست دوچار ہونا پڑتا ہے ،کیا محض دردِ زہ کی وجہ سے بچہ پیدا ئش کا سلسلہ روک دیا جائے ،کیا اس بنیاد پہ اللہ ان سب چیزوں پر َدا اس پہ اعتراض کیا جاسکتا ہے ، جہاں تک اسکا تعلق ہے ،اس بات کی سخت ہدایت دی گئ ہے جانور اسطرح سے زبح کیا جائے کہ اسے تکلیف بھی نہ ہو ،حضرت شداد کی حدیث ہے ،حضور نے فرمایا زبح کرتے وقت جانور کو تکلیف نہ ہو یہاں تک کہ جانور کے سامنے چھری بھی تجز کرنے سے منع کیا گیا ہے __

    ٹیوب ویل چالو ہو گیا تو خالہ حمیداں کھیتوں میں پانی لگانے لگی ___ میری بھانجی ایمان بول پڑی ______ خالہ جی کھیتوں میں پانی کیوں لگاتی ہو ؟؟؟؟؟؟؟

    خالہ حمیداں غصے سے گھورتے ہوئے ارے نا لائق سات جماعتیں پڑھ لی اتنا بھی نہیں پلے پڑا کہ یہ یہ پودے بھی جان رکھتے ہیں سانس لیتے ہیں انہیں بھی جینے کے لئے پانی چاہئے دو دن پانی نہ دوں تو سوکھ کے مر نا جائے اور کچھ بڑبڑاتے ہوئے کھیتھوں میں لگی بھنڈی کے پودوں سے بھنڈی توڑنے لگی ....

    ایمان .....___ ارے خالہ جی یہ کیا کر رہی ہیں آپ جانتی بھی ہے کہ پودے جاندار ہیں سانس لیتے ہیں پھر بھی آپ اتنی بے دردی سے بے چاری بھنڈیوں کو نوچ رہی ہے ذرا بھی احساس ہے کہ آپ کے یوں نوچنے سے ان بے چاریوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ؟؟؟؟؟؟؟؟

    پھر ایمان پاس والے کھیت کی طرف بھاگی اور خالہ حمید کی بکری کا رسا کھول کے خالہ حمیداں کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولی __ خالہ جی یہ اپنی بکری سنبھالو دیکھو تو بیچارے معصوم گھاس کا کس بے دردی سے قتل عام کر رہی ہے

    خالہ حمیداں _____ غصے سے تلملاتے ہوئے ___ فارغ ہو لینے دو مجھے پھر تیری آنٹی کی طرح تیرا بھی فیس بک پر پراپیگنڈہ بیچ بناتی ہوں ____

    ایمان .... آنٹی یہ خالہ جی غصہ کیوں کر گئی؟؟؟؟ حالانکہ میں نے تو سیدھا سیدھا اس کا فلسفہ اس کو لوٹایا

    دیکھوں میری چنداں یہ ملحد ہوتے ہی ایسے کہ جب کسی بات کا جواب نہ بن پڑے تو غصہ ہو کے دھکھیوں اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں .......
    تحریر فوزیہ جوگن
    https://www.facebook.com/Religion.philosphy/posts/1681995342037091:0
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 21، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اعتراض :

    قربانی پر پیسے ضائع کرنے کے بجائے یہی اگر کسی غریب کو دے دیے جائیں تو کئی لوگوں کا بھلا ہوجائے.
    جواب :

    گو کہ میں عبادات کے معاشی فوائد دیکھنے کا قائل نہیں کہ یہ عبادت کی روح ہی ختم کردیتی ہے مگر منكرين حديث , ومنكرين قربانى اور مذہب بيزار دہريہ مخالف ذہنیت کی تسلی کیلئے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔
    اگر قربانی کی رسم کو خالصتا معاشی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو اس پر اعتراض صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے علم معاشیات کبھی نہ پڑھی ہو۔ مثلا
    (1) اس کے نتیجے میں آپ کے ملک میں فارمنگ (farming) اور کیٹل انڈسٹری (cattle industry) نمو حاصل کرتی ہے جس سے بالعموم چھوٹا کسان یا غریب طبقہ ہی منسلک ہوتا ہے اور عید قربان پر اسے اپنی محنت کا اچھا مول مل جاتا ہے جو عام مارکیٹ میں نہیں مل پاتا یوں یہ رسم تقسیم دولت پر مثبت اثرات ڈالتی ہے
    (2) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام رقم ویسے ہی غریبوں کو دے دی جائے وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ غربت کا علاج پیسے بانٹنا نہیں بلکہ غریب طبقے کیلئے معاشی ایکٹیویٹی (activity) کا پہیہ چلانا ہوتا ہے اور قربانی کا عمل اس کا بہترین ذریعہ ہے
    ، (3) پھر ان جانوروں کا گوشت دنیا بھر کے غریبوں میں بانٹا جاتا ہے اور معاشرے کا وہ طبقہ بھی گوشت کھاتا ہے جو پورا سال صرف اس کا خواب ہی دیکھتا ہے
    (4) پھر ان جانوروں سے جو کھال حاصل ہوتی ہے اس سے لیدر پراڈکٹس (leather products) بنتی ہیں جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہوتا ہے
    ، (5) پھر ذرائع نقل و حمل کے ذرائع سے منسلک لوگ بھی ان دنوں کے دوران جانوروں کی ترسیل کے کاروبار کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ الغرض عید قربان چند دنوں کے دوران اربوں روپے کی خطیرمگربے کار سیونگ (saving) کو سیال مادے (liquid) میں تبدیل کرکے معاشی پہیہ تیز کرنے کا باعث بنتی ہے۔
    جو لوگ علم معآشیات میں کینز (Keynes) کے ملٹی پلائیر (multiplier) کے تصور سے واقف ہیں کم از کم وہ تو عید قربان پر معاشی نقطہ نگاہ سے لب کشائی کی جرات نہیں کرسکتے–
    اس جدید ذہن کی حالت یہ ہے کہ اسے غریبوں کا خیال صرف عید قربان پر خرچ ہونے والی رقم کے وقت ہی آتا ہے جو کہ ہر لحاظ سے غریب دوست رسم ہے۔ البتہ اسے ان کھربوں روپے کا ضیاع دکھائی نہیں دیتا جو ہر روز امیر لوگ پیزوں اور برگروں پر اڑا دیتے ہیں
    ، ان کھربوں ڈالرز کے ضیاع پر یہ کبھی انگلی نہیں اٹھاتے جو یورپ اور امریکہ میں پیٹس (pets) کے کھلونے بنانے میں خرچ ہوتے ہیں
    ، ان کھربوں ڈالر کے ضیاع پر کسی کو تکلیف نہیں ہوتی جو ہر سال کاسمیٹکس انڈسٹری (cosmetics industry) میں جھونک دئیے جاتے ہیں اور جن کا مقصد اس کے سواء اور کچھ نہیں کہ میں زیادہ طویل دنوں تک جوان نظر آؤں۔
    الغرض آپ اپنے اردگرد غور کیجیے کہ ٹریلین ڈالرز کے ان بیش قیمت ذرائع کے بے دریغ ضیاع پر تو یہ ملحد کبھی اعتراض نہیں کریں گے جو اپنی نوعیت میں غریب کے جذبات کچل دینے والے اخراجات ہیں مگر عید قربان کے موقع پر یہ غریب کے کچھ ایسے حمایتی بن جاتے ہیں گویا ان سے بڑا غریب پرور آج تک پیدا ہی نہیں ہوا۔ ان لوگوں کا اصل مسئلہ غریب پروری نہیں بلکہ مذہب دشمنی ہے جس کیلیے یہ ہر موقع کے بےموقع استعمال کرنے سے بھی نہیں چوکتے—
    زاہد مغل
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 21، 2015
  3. ‏ستمبر 22، 2015 #3
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    کیا یہ اعتراض ایک رات میں دس ہزار کے پیزے کھا کر سونے والوں کو سوٹ کرتا ہے.؟؟
    وہ جنہیں زکوۃ صدقات دینا تو دور کبھی اک روپیہ کسی غریب یتیم کو دینے کو توفیق نہیں ہوئی.۔۔
    اندازہ لگائیے عید پر جانوروں کی قربانی کے غم میں وہ ہلکان ہوئے جارہے ہیں جو سال بهر چھوٹے بڑے پرندے، نباتات اور مرغ و مچھلی کو ایک ڈکار میں ہضم کرجاتے ہیں ۔۔۔
    یہ جانوروں کی سواری بهی بڑے شوق سے کرتے ہیں..
    جانوروں کی کھال سے بنے جوتے جیکٹس پہنتے ہوئے بهی انہیں زرا بھی رحم نہیں آتا بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔!!
    جانورں کی چربی سے چراغ جلانے پر بهی ان کے سینے میں درد نہیں اٹھتا !!
    جانوروں کے بال اور جسمانی اعضاء اور ہڈی وغیرہ سے بنائے جانے والے مختلف پراڈکٹس کے استعمال کا بھی شوق رکھتے ہیں ۔۔۔
    جانوروں کے بھوکے پیاسے مرجانے تک ان کی جیبوں سے ایک پھوٹی کوڑی باہر نہیں نکلتی ۔!!
    اعتراض ہے تو قربانی عید پر جانوروں کے ذبح ہونے پر..
    حد ہے منافقت کی
    سارا سال گائے / مرغی کے گوشت کے برگر ، چکن مٹن کڑائیاں، روسٹ مرغے، سالم بکروں کی سجیاں، بروسٹ، چرغے ڈکار جانے والوں کو قربانی عید پر جانوروں پر رحم آنا شروع ہوجاتا ہے اور غریبوں کے لیے مرے جاتے ہیں ۔۔۔
    حالانکہ قربانی عید ایک غریب پرور تہوار ہی ہے ۔۔
    قربانی کے گوشت کا اک بڑا حصہ انہی غریبوں کو ملتا ہے جنہیں سارا گوشت نصیب نہیں ہوتا .
    وہ بهی ایک غریب ہی ہے جو سارا سال بکریاں اس امید پر چراتا ہے کہ عید پر بیچ کر اپنے سال کے خرچے نکالے گا، بچیوں كى شادى كرے گا.۔۔
    اسی طرح قصائی بھی کسی وزیر مشیر کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے جو اپنے سال بھر کے قرضے اسی قربانی پر رکھے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ۔
    وہ بھی غریبوں کے بچے ہی ہیں ،مدارس والے جانوروں کی کھالیں بیچ کر جن کی رہائش پڑھائی کے خرچے پورے کرتے ہیں،۔۔۔
    یہ کھالیں بیچ کر مفت علاج کی سہولت دینے والی ہسپتالوں میں بھی علاج انہی غریبوں کا ہوتا ہے ۔۔۔
    اسی طرح ٹرانسپورٹر جو ان مال مویشیوں کو ادھر سے ادھر منڈیوں میں لاتے ہیں،ٹھیلے والے ،ریڑھے والے ،رکشہ والے یہ سارے بهی لوئر مڈل سے تعلق رکھتے ہیں جو اس معاشی حرکت سے فائدہ اٹھاتے ہیں…
    فرض کرییے ان سیکولروں کے کہنے پر قربانی پر پابندی لگا دی جاتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔
    اس عمل سے سب سے ذیادہ نقصان کس کو ہوگا۔۔۔؟؟
    غور کرییے ان سیکولروں کے یہ پٹن تماشے غریب دوستی میں ہیں یا غریب دشمنی میں ۔ ۔ ۔؟؟

    [​IMG]
     
  4. ‏ستمبر 23، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ملحد رک ذرا

    پانچ لاکھ حج پر نہ خرچ کرو اس سے تو پانچ لڑکیوں کے ہاتھ پیلے کرکے ان کی رخصتی کروا کر کتنے گھر آباد ہوجائیں گے کتنی ماؤں کے دلوں سے دعائیں نکلیں گی کتنے بوڑھے باپ تمہارے لئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر درازی عمر مانگیں گے
    کیا ایک آدمی جو حج پر جانے کی بجائے اسی پانچ لاکھ کو بچیوں کی شادی پر لگا دیتا ھے اور حج نہیں کرتا تو کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بددعا سے بچ جائے گا کہ جس نے حج کے پیسے ہوتے ہوئے حج نہ کیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے ہمیں کوئی پرواہ نہیں
    پچاس ہزار کی قربانی کرنے کی بجائے پانچ غریب گھرانوں کا مہینے کا خرچ برداشت کرلو انکے گھروں کے چولہے گرم ہوجائیں گے غریبوں کے دلوں سے دعائیں نکلیں گی
    پچاس ہزار کی قربانی کرنے کی بجائے پانچ غریب گھروں کو ایک ماہ کا خرچہ دے کر ان کے چولہوں کو گرم کرنے سے کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ناراضگی سے بچ جائے گا کہ جس پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے
    ہزاروں روپے مدرسوں پر خرچ کرنے کی بجائے سینکڑوں بیواؤں کی مدد کرو یہ زیادہ نیکی ھے تبلیغ میں ہزاروں اور لاکھوں لگانے کی بجائے یہی روپے کسی ہسپتال میں دواؤں کی مد میں دے کر ہزاروں غریب و نادار مریضوں کی دعائیں لو
    دین کی ترویج کے لئے اور اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے خرچ کرنے کی بجائے اگر اسی رقم۔کو ہسپتالوں میں غریب مریضوں پر خرچ کرکے غریبوں کی دعائیں لینے سے کیا وہ اس وعید سے بچ جائے گا کہ امر باالمعروف ونہی عن المنکر کو چھوڑ دو گے تو دعائیں قبول نہ ہوں گی دشمنوں کے خلاف مدد نہ ہوگی سوال کرو گے سوال پورے نہ کئے جائیں گے
    جو فرائض اور واجبات ہیں یہ اللہ رب العزت نے ہی فرض کئے ہیں اللہ علیم و حکیم ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ جب کوئی حج کرنے جائے گا تو گلی میں بن بیاہی لڑکیاں بیٹھی ہوں گی
    جب کوئی قربانی کرے گا تو غریب لوگ بھی شہر میں موجود ہوں گے جب کوئی تبلیغ دین کیلئے نکلے گا اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے نکلے گا تو سینکڑوں لوگ ہسپتالوں میں موجود ہوں گے مگر پھر بھی اللہ حکیم نے حکم دیا تو ہمیں عمل کرنا ھے عقل کے گھوڑے وہاں تک دوڑانے ہیں جب تک اللہ کا حکم نہ آجائے جب حکم آگیا تو سر تسلیم خم
    حج ساری زندگی میں ایک مرتبہ فرض ھے قربانی کے پورے سال میں تین دن ہیں اور تبلیغ بھی پورا سال مسلسل نہیں
    لیکن جب کوئی ان اعمال کو کرنے لگتا ھے تو بے دینوں کو ملحدوں کو آگ لگ جاتی ھے اور سوائے ان دلیلوں کے اور کوئی راستہ نہیں سوجھتا کہ کس طرح سے ان جان نثاروں کو ان اعمال سے دور کریں
    پورا سال یہ بوٹی پی کر سوتے ہیں اور حج اور قربانی کے دنوں میں اندرونی گرمی اور جلن کی وجہ سے ان کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور ان کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ھے اور اپنی پانچ کروڑ کی کوٹھی میں بیٹھ کر لاکھ روپے کے لیپ ٹاپ میں جلدی سے لکھتے ہیں غریبوں کی مدد کرو غریبوں کی مدد کرو بیواؤں کی شادی کرو ہسپتالوں میں دوائیاں پہنچاؤ
    اچھا سن ذرا ایک بات تو بتا

    جو لوگ قربانی نہیں کررھے وہ غریبوں کی کتنی شادیاں کروارھے ہیں
    جو لوگ حج نہیں کررھے وہ کتنے گھروں کا ہر ماہ خرچہ برداشت کررھے ہیں
    جو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کررھے وہ کتنے ہسپتالوں میں دواؤں کے سٹاک لاکر دے رھے ہیں
    کیا وہ لوگ جو مسلمان۔نہیں ہیں جن کے ہاں ان اعمال کا سرے سے کوئی کنسپٹ ہی نہیں ھے کیا وہاں غربت ختم ہوگئی ھے کیا وہاں بیوائیں نہیں ہیں کیا وہاں ہسپتالوں میں مفت دوائیں مل رہی ہیں مفت علاج ہورھے ہیں
    کیا آپ کو معلوم بھی ھے کہ پوری دنیا میں غریبوں پر خرچ کرنے والے ممالک میں پاکستان سرفہرست ھے
    مگر آپ کو ان سب باتوں سے کیا سروکار آپ کو تو صرف اسلام سے دشمنی ھے نبی کے جان نثاروں سے بغض ھے اللہ کے عاشقوں سے حسد ھے مگر میرے اللہ نے تمہارے بارے میں پہلے ہی آگاہ کردیا ھے کہ ایک شیطان ہوتا ھے ایک خناس ہوتا ھے من شر الوسواس الخناس
    شیطان جنوں میں سے اس کا کام لوگوں کو راہ راست سے ہٹانا سیدھے راستے پر آنے نہیں دینا لیکن اگر کوئی آجائے تو پھر شیطان کا کام ختم خناس کا کام سٹارٹ ہوتا ھے وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ھے حج نہ کر قربانی نہ کر صدقہ نہ کر مسجد نہ بنا شیطان کو شیطان کا کام مبارک تمہیں تمہارا کام مبارک
    قاری معاذ شاہد
     
    Last edited: ‏ستمبر 23، 2015
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 23، 2015 #5
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    رسمِ قربانی کا ایک پہلو یہ بھی ھے
    ***************************

    قربانی کے جانوروں کی پیدائش، پرورش سے لیکر قربانی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کروڑوں لوگوں کا روزگار چلتا ھے۔

    قربانی کے جانور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکثر غریب غرباء کی محنت سے پروان چڑھتے ھیں ،
    جن میں گھریلو عورتیں، بچیاں، بیوائیں اور یتیم بچے شامل ھیں۔

    قربانی کے جانور فروخت کرکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غریب اور مسکین لوگ اپنی بہت سی مشکلاتِ زندگانی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ھیں۔

    قربانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی رسم سے،
    پیسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دولتمندوں کی تجوریوں سے غریبوں کی جیب کی طرف سفر کرتا ھے ۔

    قربانی کے جانوروں کی خوراک اور چارہ تیار کرنے اور فروخت کرنے میں بھی بے انداز لوگوں کا روزگار لگا ھوا ھے ۔

    قربانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دینی رسم تو ھے ھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ روزگار کی ایک قدرتی انڈسٹری بھی ھے ۔

    -------------
    خلیل رحمٰن
     
  6. ‏ستمبر 23، 2015 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ع.jpg
     
  7. ‏ستمبر 24، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ہمارے ایک دوست فردوس جمال صاحب کا کہنا ہے :
    جن لوگوں کی مہینہ بهر میں صرف پرفیوم پر خرچ ہوتی رقم سے کئ غریب گهرانوں کا چولہا جل سکتا هے ، کئ یتیم اور بے سہارا بچوں کی کتابوں ، وردی اور فیس کے اخراجات ادا ہوسکتے ہیں ،وه لوگ بهی منہ اٹهائے ،
    " خوشبو لگاکر " قربانی کے بکرے کے پیچھے لگے ہیں کہ جناب قربانی فضول خرچی هے ، یہ رقم کسی فلاحی کام پر لگا دینی چاہیے .!!!
    { جمالیات }​
     
  8. ‏ستمبر 24، 2015 #8
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    fd.jpg
     
  9. ‏ستمبر 25، 2015 #9
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    کیا جانورصرف قربانی پر ذبح ہوتے ہیں
    خواجہ اجمیری رح کے پاس اک عورت اپنا بچہ لے کے آئ کہنے لگی! حضور میرا یہ لڑکا ہے ، یہ شکر بہت کھاتا ہے ، اسے منع کیجئے ، کہا ، کل آنا ، کل لڑکے کو لے کر آئ تو پھر سے کہہ دیا کہ کل آنا ، تیسرے دن لوٹی ، تو بولے اُن دنوں میں نے خود شکر کھا رکھی تھی ، سو میرا اس فعل سے کسی کو منع کرنا ، اصولاً ناجائز تھا!!
    عید قرباں
    گوشت خوری _
    اب معاملہ یوں ہے کہ حفظِ ماتقدم ہمارے حریفین شیطین نے اک شگوفہ جوڑا کہ عید قرباں پہ جانور کاٹنا کھانا جانور پہ ظلم ہے! میں زیادہ وقت نہیں لوں گا __ !
    1.MacDonald's
    2. Subway
    3. Starbucks
    4. Wendy's
    5. Burger King
    6. Taco Bell
    7. Dunkin' Donuts
    8. Pizza Hut
    9. KFC
    10. Chick-fil-A
    11. Sonic Drive-In
    12. Domino's Pizza
    13. Panera Bread
    14. Arby's
    15. Jack in the Box
    16. Dairy Queen
    17. Chipotle Mexican Grill
    18. Papa John's
    19. Hardee's
    20. Popeyes Louisiana Kitchen
    یہ دنیا کی عظیم سیکولر سٹیٹس کی بیس سب سے بڑی فاسٹ فوڈ چینز ہیں ، اگر آپ مجھ پوچھیں کہ انکا بیسک فوڈ انگریڈینٹ کیا ہے؟ تو میں کہوں گا "چکن" بیف " مٹن "!
    جس لمحہ وہ حضور مظلومیت ِ جانوراں پہ قلمی جہاد کر رہے تھے اُسی لمحے اسی روشن خیال کی والدہ ِ ماجدہ کچن میں چھوٹے گوشت کا قیما بنا رہی تھی! جانوروں کے حقوق کے مجوِزہ ٹھیکداران کو جب جب بے وقت کی بھوک ستائے تو سب سے مہنگے ریسٹورینٹ پہ چکن زنگر برگر ، اٹیلین پیزا ، چیسٹ پیس ، لیگ پیس ، ملائ بوٹی ، سجی ، کڑھائ گوشت ، سیخ کباب ، بند کباب ، ڈرم سٹکس ، کلب چکن سینڈ وچ ، چکن فرائیڈ سینڈوچ ،چکن شوارما ،چکن پراٹھا رول ،چکن منچورین ،ریشمی کباب ، بیف کباب ، آلو گوشت ،نمکین گوشت ، کوفتے ، مغز مسالہ ،مٹن چنا دال ،وائیٹ بیف رول ،بیف چلی ،چانپ فرائیڈ ،مٹن بریانی ، بمبے بریانی ،چکن فرائیڈ تھریڈ رول ،چکن راٰئس ( پلاؤ) ،بوآلڈ چکن رول ، کھائے بغیر معدہ و ماحول ِ معدہ وطبعیت سہل نہیں ہونے آتی! مرغی خانے ، ڈیری ہاوس ، بکری فارم سے جدید سلاٹر ہاوسز تک سلاٹر ہاوسز سے تازہ گوشت مارکیٹ سے ریسٹورینٹ میں آتا ہے تو کیا بغیر زبح کیے بغیر کھال اتارے بغیر جان اُتارے بغیر دل گردہ پھیپھڑا الگ کیے بغیر ہڈی بوٹی الگ کیے بغیر چھری دکھائے بغیر ایزا دیے بغیر لہو بہائے بغیر جان لیے آپکے پیٹ میں اتر آتا ہے؟ ؟ ہم بروز عید قرباں جانور کو چھری دکھائیں تو ظالم بے رحم ٹھہرائے جائیں واہ تف منطق! یہی ملحد آگے پیچھے گوشت کو پراپر ڈائیٹ ، پروٹین وٹامن اے ،سی ،کے کا منبہ صحت انساں کے لیے بائیس مفید امائینو ایسڈ کا زریعہ سمجھ منہ میں ٹھونس ٹھونس نگل رہے ہوتے ہیں؟ تب جانور کا درد دانت کے نیچے محسوس کرنے سے قبل ڈاکڑ صاحب کا نسخہ یاد آجاتا ہے کہ بچے کو میٹ پروٹین کی اشد ضرورت ہے اسکے بغیر صحت آخری زاویے پہ پہنچ کے قفس ِ عنصری سے پرواز مار جائے گی تب نہ چھری کا خیال نہ قصائ کا خیال ، حقوق انجمنِ جانوراں کا متفقہ ڈھولکی باز ماچس کی تیلی سے جبڑوں میں دھنسی بوٹیوں کے ریشے نکال رہا ہوتا ہے ظالم گوشت خور بے حس بدقماش بے رحم بے مروت ،
    جانور کا اتنا ہی احساس ملحوظ ہے تو سب سے پہلے آں جوتے اتار کے ننگے گھومیے یا لوہے پلاسٹک لکڑی کے جوتے پہنیے ، کاسمیٹک (چربی سے) سے لے صابن تک صابن سے لے کر بیگز تک بیگ سے لے کر جیکٹس تک جیکٹس سے لے کر فٹ بالز ، جوتوں تک اسی مظلوم قربانی کے کٹے بکرے گائے کی کھال کا پہنتے ہیں،Hush puppies,Service ,BATA ,Novelty یہ برانڈ جسے پاؤں میں ٹھونس کے گھومتے ہیں یہ انہی مظلوم قربانی کے جانوروں کی مرہونِ منت ہیں
    انجمن ِ منافقاں!! کوئ گائے ہوتی ہے کوئ بکری کوئ مرغی ہوتی ہے کوئ شرم ہوتی ہے کوئ حیا ہوتی ہے ____!
    حد ِ منافقت کہ جب ہم خدا کے نام پر جانور غربا یتاماں ومساکیں جنہیں سالہا سال گوشت کی چھینٹ بھی نصیب نہیں ہوتی جنکے بدن اچھی مرغن غزا سے کب سے نابلد تھے ، گوشت کا زائقہ جنکے بچوں نے کبھی نہ سونگھا ہوگا، جن کے نقاہت انگیز بدن خوراک سے نڈھال بے حال تھکے درماندہ ، چہروں پہ پیلاہٹ ، کمزوری خمیدہ کمر خط غربت سے نیچےآتے مساکین کے طبقے کو جب ہم اپنی جیب کاٹ کے گوشت کھلاتے ہیں تو کیوں ان حرامی منافق گوشت خوروں کاہے تکلیف ہونے کو آنے لگتی ہے؟؟؟ ہیومن رائٹس کے کاغزی کرتا دھرتا جانور کے حقوق چھری کے نیچے ہائ لائٹ کرنے والے انسانی جسمانی حقوق بلحاظ ِ خوراک کاہے بھول گئے؟؟؟ یاد رہے انسان اہم ہے ناکہ جانور ، جانور کو چھری تک اسکے حقوق پہچانا انسان کے زمہ ہے اسکے بعد اسکی خوراک بننا جانور کے ذمہ ہے! یونیورسل سوشل سائٹیفیک فیکٹ ہے! مگر یہاں ٹکے کوڑیوں کے بھاؤ پہ ملحد اسلام دشمنی پہ شگوفے چھوڑنے کا حق کوکھ مادر سے ہی لے کہ پنگھوڑے میں اترتے ہیں! .منافق
    حکم ِمزبح یہ ہے کہ چھری ٹھنڈی نہ ہو تیز ہو ، جانور پیاسا نا ہو، جانور بھوکا نا ہو، جانور کو جانور کے سامنے نہ کاٹا جائے ، جانور کی ایک جھٹکے میں شہ رگ اور سپائنل کارڈ کا ریشا کاٹا جائ ، چھری بھی دیکھ نا پائے جانور ، ایک جست میں کاٹا جائے _ میڈیکل سائینس کے مصداق جتنی تیزی اور جلدی سے دماغ کی رگ اور شہہ رگ کٹے گی جانور اتنا ہی درد کم محسوس کرے گا ، کٹ جانے کے بعد جانور پاؤں اس لیے نہیں مارتا کہ درد ہو رہا ہے بلکہ اسکے ریفلکیس سگنل جو کہ میسج ہوتا ہے وہ دماغ کو نہیں جا پارہا ہوتا ، دماغ سُن اور خاموش اور بےحس ہو چکا ہوتا ہے ، درد دماغ محسوس کرتاہے جبکہ دماغ کی رگ ہی کٹ گئ کیبل کٹ گئ جھٹکے میں درد زیرو دماغ محسوس ہی نہیںں کر پاتا ، جیسے ڈاکٹر انجیکٹ کرکے چاہے جو مرضی عضو کاٹ لیں ، جانور قطعی طور پر درد محسوس نہیں کر رہا ہوتا وہ صرف سگنل کی دماغ کو ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے میسج لے جانے والی کیبل منقطع ہو جانے کے بعد پھدکتا ہے __ سو یہ چھری تلے کسی لحاظ سے ظلم نہیں ، بلکہ آسان ترین موت ہے!
    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2015
  10. ‏ستمبر 25، 2015 #10
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    قربانی عید اور ملحدوں کی جاندار دوست خودنمائیاں

    اگر ملحدین ویجی ٹیریئن ہیں سبزی خور ہیں تو یاد رہے سبزی بھی لیونگ تھنگز میں آتی ہے _ آج سائینس خود کہہ رہی انسان اور جانور کی طرح پودے درخت بھی جزبات رکھتے ہیں ، کمیونکیٹ کرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ، ماحول کا اثر لیتے ہیں ، حساس ہوتے ہیں ، احساس رکھتے ہیں ، یہ بھی زندہ ہوتے ہیں یہ بھی مرتے ہیں ، افریکن قبائل کسی درخت کو کاٹتے نہیں وہ درخت کے گرد جمع ہوکے اسے گالیاں نکالتے ہیں درخت رفتہ رفتہ سوکھ کر کانٹا ہو جاتا ہے ، احساس سے مرجھا جاتا ہے ،جزبات آواز احساس کا دباؤ محسوس کرتے ہیں ، ان میں بھی جان ہے ان میں بھی جزبے ہیں ، جڑوں کے زریعے ایک درخت ایک پودا دوسرے درخت اور پودے سے بات کرتا ہے آج سانئیس کہہ رہی ہے مگر آپ ہی بتائیں کدھر جائیں کھانا چھوڑ دیں؟ مر جائیں بھوک سے ؟ کمال سبزی خوری ہے ایک جان پہ ظلم کے بچاؤ کے چکر میں دوسرے جاندار پہ ظلم!
    آپ کو سوچنا ہوگا کہ ظلم اور ضرورت الگ الگ چیزیں ہیں_ ہر چیز کا مصرف ہے
    ایکولیجیکل سائینس کہتی ہے !
    دنیا میں دو فیکٹر ہیں جن پہ زمین کا قدرتی نظام کھڑا ہے! Prey &predator
    پرے یعنی شکار __
    پری ڈیٹر یعنی شکاری __
    خوراک دینے والا
    خوراک لینے والا
    اک سسٹم اک دوسرے پہ انحصار
    قدرتی نظام میں ہر چیز ایک دائرے میں تیر رہی ہے یعنی ایکولیجیکل سائیکل!
    پہلا فیکٹر زمین _
    زمیں پہ پانی برستا ہے ، پانی استعمال ہوا
    سبزا اُگا سبزا اُگا _ سبزے کی جڑوں میں وارمز نائڑوجن فکس کرتے ہیں ریٹرن میں جڑوں سے خوراک لیتے ہیں ، نائڑوجن فکس ہوئ پودا ہر بھرا ہوکے اٹھنے لگا __
    وارمز یعنی کیڑوں کو چوہے کھاتے ہیں چوہوں کو سانپ کھاتے ہیں ، سانپوں کو عقاب کھاتے ہیں _ بکری ، ہرن گھاس کو کھاتی ہے اور زندہ رہتی ہے بکری ہرن کو شیر اور لگڑ بھگڑ چیتے کھاتے ہیں زندہ رہتے ہیں ، شیر چیتے کو جنگلی شکار کرکے کھاتے اور کپڑے بناتے ہیں ، انسان کو بیماری ہوتی ہے جراثیم انسان کو کھاتے ہیں ریڑن میں گھاس جڑی بوٹی کھاتے ہیں اور زندگی لیتے ہیں _ انسان مر جاتا ہے سانپ بچھو کھاتے ہیں ، بچھوں، سانپوں کو سائیسدان پکڑ کے مار کے ایڈز ، کینسر کے رد کی ادویات بناتے ہیں تاکہ انسانوں کو بیماری سے محفوظ کرایا جائے اسے دوام بخشا جائے ،
    یہ اکولو جیکل سائیکل ہے _ ایکولوجکل سائینس کہتی ہے سارے سانپ مار دیے جائیں تو ہر جگہ چوہے ہی چوہے گھومتے پھریں ، اگر شیر چیتے مار دیے جائیں تو سڑکوں پہ ہرن بارہ سنگھے ہی نظر آئیں پاؤں دھرنے کی جگہ نہ ہو ، ساری بکریاں مار دی جائیں تو گھاس ہی گھاس ہو لاؤں رکھنے کی جگہ نہ ہو ، اگر انسان نہ مرے تو زمین کے اک انچ پہ قدم جمانے کی جگہ نہ ہو ، چوہے مار دیے جائیں تو سانپوں کا نم و نشان نہ ہو وہ بھی بھوک سے مر جائیں ، شکاری کتے نہ ہوں تو سور لا شکار نہ ہو ہر جگہ سور ہی گھومتے پھریں انسان گھروں میں بیٹھے رہیں ،
    میرے کزن فرخ نے اک دن مجھے کہا کہہ مہران یہ رپورٹ پڑھو! لکھا تھا چنگیز خان نے پانچ کروڑ لوگ قتل کیے تھے پچھلے دنوں اک رپوٹ آئ کہ ولڈ ھیلتھ آرگنائزیشن فورم والوں نے چینگز خان دنیا کو سب سے بڑا ماحول دوست انسان قرار دے دیا جوکہ اک جھٹکا تھا ، جواب دیا گیا کہ اسنے قتل عام اتنا کیا کہ لوگ خوف سے بھاگ گئے مر گئے اک عرصہ تک اسکی دھشت کی وجہ سے لوگ پہاڑوں پہ چلے گئے اک عرصہ تک بستیاں ویران پڑیں رہیں ، سبزا اگا ، جنگلات اگ آئے جہاں جہاں انسان مرا انسانی جسم.اک کھاد ہے ، پھر آمد و رفت بھی میدانوں میں کم ہوگئ جنگلات کا اک سلسلہ اگ آیا جو کہ ہزاروں میل پہ محیط تھا ماحول ساز گار ہو گیا بارشیں ہونے لگیں جنگلات کی وجہ سے کھیتاں پھل لکڑی کی فراوانی ہوگئ معاشی حالات بہتر ہونے لگے انسان نہ مرے تو ہر جگہ انسان انسان ہوں اک انچ جگہ نہ ہو ماحول بگڑ جائے آکسجن کم ہوجائے ، سسٹم تباہ ہو جائے اسی طرح تمام جاندار جنہیں کھایا جاتا ہے اگر زندہ ہی رہیِں تو پورا نظام بگڑ جائے ، شکار اور شکاری کا تعلق ایک لیول برقرار رکھتا ،
    یہاں ہر چیز اک دوسرے پہ منحصر ہے ، نہیں ہے کوئ چیز بے کار قدرت کے کارخانے میں _ لم یزل نے یہ کاینات ،یہ زمین تخلیق کی تو اک طریقہ ِ کار وضع کیا اک سسٹم میں ڈھالا ہر چیز کو ایک دوسرے کے لیے پیدا کردیا _ ہر چیز ایک دوسرے کی قربانی سے زندہ ہے ، یہ ایثار اس کائنات کی چابی ہے جس پہ پورا سسٹم کھڑا ہے ، اس پہ جو انگلی اٹھاتا ہے وہ جھوٹا منافق اور ماحول کا دشمن ہے علم عقل زمیں و زماں کا دشمن ہے! انسان کا دشمن ہے!
    تحریر مہران درگ

    https://www.facebook.com/Religion.philosphy/posts/1681177412118884:0
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2015
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں