1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی کے احکام ومسائل

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از معاذ دانش حميد الله, ‏اگست 08، 2019۔

  1. ‏اگست 08، 2019 #1
    معاذ دانش حميد الله

    معاذ دانش حميد الله مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2019
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2


    قربانی کے احکام ومسائل

    از قلم :معاذ دانش حمید اللہ

    قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے عربی زبان میں اسے "الأضحية" کہتے ہیں۔

    الاضحيۃ (قربانی)کی تعریف

    ایام عید الاضحی میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بھیمۃ الانعام (اونٹ ،گائے ،بکری ،بھیڑ) میں سے کوئي جانورذبح کرنے کوقربانی کہا جاتا ہے۔


    قربانی کی مشروعیت

    اللہ نے قربانی کو اپنے اس فرمان کے ساتھ مشروع کیا ہے "وَ الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ لَکُمۡ فِیۡہَا خَیۡرٌ [الحج :36]

    "قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالٰی کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہارے لئے خیر ہے"۔


    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ[صحیح بخاری :5545]

    "کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا"۔


    اور متعدد اہل علم نے قربانی کی مشروعت پر اجماع نقل کیا ہے [المغني لابن قدامة المقدسي :8/617]

    قربانی کا حکم

    قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے استطاعت کے باوجود اس کا ترک کرنا مکروہ ہے۔

    قربانی کی حکمت

    اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنے اور عید کے ان ایام میں نادار لوگوں پر کشائش کرنے کے ساتھ ساتھ بندوں کے درمیان محبوب شیئ کے خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کی غرض سے قربانی کو مشروع کیا ہے۔

    اضحیہ اور ہدی میں فرق

    اضحیہ: وہ قربانی جو عید کی نماز کے بعد سے تیرہویں ذی الحجہ کی شام تک تمام مسلمان دنیا کے ہر خطے میں ذبح کرتے ہیں۔


    ہدی: وہ قربانی جو حج کے اندر متمتع یا قارن کے لئے ہوتی ہے۔

    یہاں دونوں کے درمیان پائے جانے والے چند فروق کا تذکرہ کیا جارہا ہے ۔


    1_اضحیہ ایک گھر کی طرف سے ایک ہی مسنون ہے۔

    جبکہ ہدی میں قارن یا متمتع کے لئے ایک جانور ذبح کرنا واجب ہے۔

    اور اس سے زیادہ دینا مسنون ہے کیونکہ ہدی جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر حج کی افضلیت میں اضافہ ہوگا یہی وجہ ہے کہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہےتو آپ نے فرمایا:العَجُّ والثَّجُّ[السلسلةالصحيحة1547]

    "جس میں خوب تلبیہ پڑھا جائے اور زیادہ سے زیادہ قربانی کے جانوروں کا خون بہایا جائے"۔

    یہی وجہ ہے کہ آپ نے حج کے موقع پر سو اونٹ ذبح کیا جبکہ اضحیہ ہمیشہ دو دیتے رہے ایک اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کے ان افراد کی طرف سے جو اہل توحید تھے لیکن قربانی نہ دے سکے تھے۔


    2_اضحیۃ سنت مؤکدہ ہے ۔

    جبكہ ہدی متمتع اور قارن پر واجب ہے۔

    اگر حاجی ہدی نہ پیش کرسکا تو دس روزے رکھے گا تین مکہ میں اور سات گھر پہونچنے کے بعد ۔


    3_اضحیہ زمانے کے ساتھ خاص ہے یعنی نماز عید سے فراغت کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور تیرہویں ذی الحجہ کو غروب آفتاب کے ساتھ ختم ہوتا ہے

    جبکہ ہدی مکان کے ساتھ خاص ہے یہ صرف حدود حرم میں ذبح کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ کہیں نہیں۔

    4_اجروثواب کے اعتبار سے اضحیہ کے اندر پورے اہل خانہ شریک ہوسکتے ہیں

    جبکہ ہدی میں حاجی اجرو ثواب میں کسی کو شریک نہیں کرسکتا ۔


    قربانی کےجانور

    شریعت نے نرومادہ کے ساتھ تین قسم کے جانور

    1_اونٹ

    2_گائے

    3_غنم(دنبہ بھیڑ اور بکری)کو مشروع رکھا ہے.

    فرمان الہی ہے :وَ یَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِیۡرَ}[الحج: 28]

    اور (قربانی کے)مقررہ دنوں کے اندر اﷲ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر ( ذبح کے وقت ) اﷲ کے نام کا ذکر کریں ، پس تم اس میں سے خود ( بھی ) کھاؤ اور خستہ حال محتاج کو ( بھی ) کھلاؤ"۔

    قرآن کریم نے "الانعام" کی وضاحت کرتے ہوئے ابل(اونٹ)بقر(گائے)معز(بکری)ضأن(بھیڑ)چار طرح کے جانوروں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے مذکر ومؤنث کو ملا کر "ثمانية أزواج"(جوڑوں کے لحاظ سے آٹھ )کہا ہے۔


    قربانی کے شروط

    1_محدود وقت میں ہو (جو کہ صلاۃ عید سے فراغت کے بعد سے تیرہویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے تک ہوتا ہے)

    2_بہیمۃ الانعام (اونٹ، گائے ،بکری ،بھیڑ)میں سے ہو

    3_قربانی کا جانور حدیث میں مذکور چار مخصوص عیوب سے محفوظ ہو {جس کا ذکر آگے آئے گا}

    4_اپنی ملکیت ہو(یعنی چوری کا یا غصب کیا ہوا یا گروی میں رکھا ہوا وغیرہ میں سے نہ ہو)

    5_قربانی کا جانور مسنہ (دانتا)ہو

    مسنہ (دانتا)

    مسنہ یہ "أسن"سے اسم فاعل ہے جس کے معنی "دانت نکلنا" یہ معنی چوپائے کی طرف اس فعل کی نسبت کے ساتھ خاص ہے لیکن اگر یہی فعل انسان کی طرف منسوب ہو جیسے" أسن الرجل" تو معنی ہوگا "بڑی عمر کا ہونا"

    اس لحاظ سے مسنہ کہیں گے ایسے جانور کو جس کےسامنے کے دودھ کے دو دانت گر چکے ہوں اورعموما یہ تبھی گرتے ہیں جب ان کی جگہ دو چوڑے دانت نکل آتے ہیں اور یہ عموماً اس وقت ہوتا ہے جب جانور درج ذیل عمر کو پہونچ جائیں خواہ وہ نر ہوں یا مادہ -

    بکری

    بکری ایک سال مکمل کرکے دوسرے میں داخل ہو جائے۔

    بھیڑ

    ایک سال مکمل کرکے دوسرے میں داخل ہوجائے۔

    گائے

    دو سال مکمل کرکے تیسرے میں داخل ہو جائے۔

    اونٹ

    پانچ سال مکمل کرکے چھٹے سال میں داخل ہو جائے۔

    پس اگر کوئی شخص صلاۃ عید کے بعد سے لے کے تیرہویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے کے درمیان دن ورات کے کسی بھی حصے میں قربانی کرتا ہے تو وقت کے لحاظ سے اس کی قربانی درست ہوگی اور اگر صلاۃ عید سے کچھ پہلے یا تیرہویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے کے بعد کرتا ہے تو وقت کے لحاظ سے اس کی قربانی درست وصحیح نہ ہوگی ہاں البتہ اگر اس کے پاس کوئی عذر ہے جیسے جانور بھاگ گیا یا کھو گیا پھر ایام تشریق کے بعد واپس مل گیا یا اس نے قربانی کے لئے کسی کو وکیل بنایا تھا لیکن وکیل قربانی کرنا بھول گیا تو ایسی صورت میں اس کی قربانی کی جاسکتی ہے یہ اس کے لئے ان شاء اللہ کفایت کرے گا ۔

    اسی طرح اگر کوئی شخص بھیمۃ الانعام (اونٹ گائے بکری بھیڑ) کے علاوہ گھوڑے ہرن یا اس جیسے دیگر جائز جانوروں کی قربانی کرتا ہے تو درست نہیں ہوگا کیونکہ قربانی ایک عبادت ہے اور عبادت بلا دلیل جائز نہیں آپ نے فرمایا :" مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ".[صحيح مسلم :1718]

    اسی طرح بھیمۃ الانعام کے لئے جو عمر متعین کیا ہے اس عمر سے اگر تھوڑا بھی کم ہواتو عمر کے لحاظ سے اس کی قربانی غیر معتبر ہوگی۔


    دنبہ یا بھیڑ کا جذعہ

    دنبہ یا بھیڑ کا وہ بچہ جو چھ ماہ مکمل کرکے ساتویں ماہ میں داخل ہو جائے۔

    دنبہ/بھیڑ کے جذعہ کی قربانی کا حکم

    اس سلسلے میں دو طرح کی حدیثیں وارد ہوئی ہیں

    پہلی حدیث :آپ نے فرمایا: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً ، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ ".[صحیح مسلم :1963]

    "دو دانت والے کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہ کرو ہاں اگر دشواری پیش آجائے تو دنبہ/بھیڑ کا جذعہ ہی ذبح کرلو"

    دوسری حدیث:عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ضَحَّيْنا مع رسولِ اللهِ، بجَذَعٍ من الضأنِ [صحيح النسائي: 4394 صحيح للالبانی]

    "ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیڑ کے جذعہ کی قربانی کی"


    پہلی حدیث میں دانتا جانور کی عدم موجودگی کی شرط کے ساتھ جذعہ کو جائز قرار دیا گیا ہے اور دوسری حدیث سے مطلقا جواز کا پتہ چلتا ہے اس لئے محدثین کا موقف یہ ہے کہ دانتا جانور کی موجودگی میں دانتا جانور ہی کی قربانی افضل ہے تاہم اگر کوئی ایسی صورت میں بھی بھیڑ کا جذعہ کرلیتا ہے تو جائز ہے کیونکہ یہاں جو دشواری کی جو قید لگائی گئی ہے وہ قید شرط نہیں بلکہ قید استحبابی ہے -

    قربانی کے جانور کن عیوب سے پاک ہوں؟

    قربانی کے جانور قوی وصحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ چار ظاہری عیوب سے پاک ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :" لَا يَجُوزُ مِنَ الضَّحَايَا : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي ".[سنن النسائي:4371]

    چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے

    1_کانا بھینگا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔

    2_بیمار جس کی بیماری واضح ہو۔

    3_لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔

    4_نہایت کمزور جانور جس میں گودا نہ ہو۔

    البتہ اگر حدیث نبوی میں ذکر کردہ عیوب سے کمتر عیوب جانور میں پائے جاتے ہیں تو وہ کفایت کرجائیں گے کیونکہ ایک روایت میں آپ نے فرمایا چار اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے (چار) شمار کیا جو اس بات پر بین دلیل ہے کہ ان عیوب کے سوا بقیہ دوسرے عیوب جو اس سے کمتر ہوں کفایت کرجائیں گے لیکن درج بالا چار عیوب یا اس کے مساوی یا اس سے بڑے عیوب والے جانور قربانی کے لئے کافی نہیں ہوں گے لہذا انسان کے لئے بہتر ہے کہ وہ کامل ترین صحت مند جانور ذبح کرے۔

    جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ ناخن اور بال سے باز رہے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " إذا رَأَيْتُمْ هِلالَ ذِي الحِجَّةِ، وأَرادَ أحَدُكُمْ أنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عن شَعْرِهِ وأَظْفارِهِ[صحيح مسلم: 1977]

    "جب تم قربانی کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو اپنے بال اور ناخن (کاٹنے)سے بچے۔

    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "ناخن سے باز رہنے کا معنی یہ ہے کہ وہ ناخنوں کو تراشے اور نہ ہی توڑے

    اور بالوں سے بچنے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بال مونڈے نہ ہلکے کرے نہ نوچے اور نہ ہی جلا کر اسے ختم کرے"{شرح النووی 138/13}

    البتہ اگر کوئی شخص سہوا یا عمدا بال یا ناخن تراش لیا ہو تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے تاہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے اسے توبہ واستغفار کرنا چاہئے۔

    اس حدیث کے ظاہر سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے مکلف گھر کے ذمہ دار یا وہ لوگ ہیں جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں بقیہ مالک کے تابع رہنے والے عام گھریلو افراد کے لئے یہ حکم نہیں ہے ۔


    قربانی میں مشارکت

    محض اونٹ اور گائے (نرومادہ)میں مشارکت جائز ہے اونٹ میں زیادہ سے زیادہ دس اور گائے میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔

    جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَرَكْنَا فِي الْجَزُورِ عَنْ عَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ [ابن ماجه:3131صحيح]

    ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں عید الاضحی آ گئی، تو ہم اونٹ میں دس آدمی، اور گائے میں سات آدمی شریک ہو گئے۔

    اسی طرح ایک دوسری روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے جو ذرا لمبی روایت ہے ہم یہاں بالاختصار بیان کریں گے وہ فرماتے ہیں کہ :خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ... فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ[صحیح مسلم:2940]

    "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ... پھر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی)حکم دیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی میں ہم سات سات افراد شریک ہو جا ئیں" ۔
    تو یہاں آپ نے صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ محض سات افراد ایک اونٹ یا گائے میں شریک ہوں ۔

    ان دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض نہیں پہلی حدیث کا تعلق اضحیۃ سے ہے یعنی وہ قربانی جسے عید کی نماز کے بعد سے تیرہ ذی الحجہ کو غروب آفتاب تک پوری دنیا میں پیش کیا جاتا ہے جسے ہم اپنی عام اصطلاح میں قربانی کہتے ہیں ۔

    اور دوسری حدیث کا تعلق ہدی سے ہے جو حج قران اور تمتع کرنے والے پر واجب ہے ۔


    معلوم ہوا کہ عام قربانی میں، اونٹ میں دس اور گائے میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں

    اور حج والی قربانی میں اونٹ ،گائے دونوں میں صرف سات افراد ہی شرک ہوسکتے ہیں ۔


    مقیم کی طرح مسافر کے لئے بھی قربانی کرنا مسنون ہے

    جس طرح مقیم کے لئے قربانی کرنا مسنون ہے اسی طریقے سے مسافر کے لئے حالت سفر میں قربانی کرنا مسنون ہے ۔

    اوپر ذکر کی جانے والی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں صراحت کے ساتھ حالت سفر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں قربانی کا ثبوت ملتا ہے۔


    کیا حاجی بھی قربانی دے گا یا جو ہدی اس نے پیش کیا ہے وہی کافی ہوگا ؟

    حاجی کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ قربانی نہ کرے اگر اس کے پاس طاقت ہے تو قربانی کی جگہ مزید ہدی پیش کرے کیونکہ ہدی کا جانور افضل ترین جگہ اور افضل ترین کام میں ذبح ہورہا ہے۔

    رسول اللہﷺ ہمیشہ دو قربانی پیش کرتے ایک اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے اور دوسری قربانی اپنی امت کی طرف سے لیکن آپ نے جس سال حج کیا اس سال اپنی طرف سے قربانی نہیں کی بلکہ بطور ہدی سو اونٹ ذبح کیا اور ازواج مطہرات کے لئے الگ سے ایک گائے ذبح کیا لہذا حاجی کے لئے ہدی پیش کرنا افضل اور قربانی پیش کرنا مفضول ہے ۔


    قربانی کو احسن طریقے سے ذبح کرنا

    قربانی کو جس قدرممکن ہو احسن طریقے سے ذبح کیا جائے اور اسے آرام پہونچایا جائے فرمان نبوی ہے

    " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ".[صحيح مسلم :1955]

    "بلا شبہ اللہ تعالی نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض ٹھرایا ہے لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو تم میں سے ایک اپنی چھری کو تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہونچائے".


    ذبح میں احسان کا مفہوم

    ذبح میں احسان کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے ساتھ نرمی کرے اسے ذبح کے لئے گھسیٹتے ہوئے نہ لائے ،آلہ تیز کرلے، اسے قبلہ کی طرف متوجہ کرے ،تسمیہ پڑھے ،اسے ذبح کرتے ہوئے اللہ سے تقرب کی نیت رکھے ،دوسرے جانوروں کے سامنے ذبح نہ کرے ،ذبح کے بعد اس قدر چھوڑے رکھے کہ وہ بالکل ٹھنڈا ہوجائے ۔

    ذبیحہ کو آرام پہونچانے کا مفہوم

    ذبیحہ کو آرام پہونچانے کا مفہوم یہ ہے کہ ذبح سے قبل پانی پلائے نرمی کے ساتھ ذبح کی جگہ لائے اور بلا مشقت نرمی سے لٹائے پوری قوت کے ساتھ تیزی سے دھار دار آلہ سے ذبح کرے تاکہ جلد از جلد روح نکل جائے اور جانور تکلیف سے آرام پائے۔


    کن لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے

    ازروئے کتاب وسنت مسلم اور اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے اس کے علاوہ کسی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔

    مسلم کا ذبیحہ حلال ہے خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث عادل ہو یا فاسق پاک ہو یا ناپاک۔

    رہی بات کتابی (جو یہود و نصاری کی طرف منسوب ہو) کی تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ ۫[المائدة:5]اوراہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے۔


    مسلم وکتابی کے سوا کسی قصائی کا ذبیحہ حلال نہیں

    مسلم وکتابی کے علاوہ کسی قصائی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے اس لئے وہ علاقے جہاں قصائی سے ذبح کرایا جاتا ہو وہاں کسی مسلم قصائی ہی کا انتخاب کرنا چاہئے اگر نہ مل سکے تو کسی کتابی کو تلاش کرنا چاہئے کیونکہ ان کے علاوہ دیگر غیر مسلم قصائی یا افراد کا ذبیحہ شریعت میں حلال نہیں ہے۔

    جانور کون ذبح کرے

    مختلف دلائل (بخاری :5558,مسلم:1218)کی روشنی میں اپنی قربانی خود ذبح کرنا مستحب اور کسی دوسرے کو ذبح کرنے میں اپنا نائب بنانا جائز ہے۔

    کیا عورت ذبح کر سکتی ہے؟

    عورت قربانی کے جانور ذبح کرسکتی ہے امام بخاری رحمہ اللہ نے "باب من ذبح ضحية غيره "کے تحت ذکر کیا ہے"وَأَمَرَ أَبُو مُوسَى بَنَاتِهِ أَنْ يُضَحِّينَ بِأَيْدِيهِنَّ".کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں۔

    ہر سال گھر کے ایک ہی فرد کی طرف سے قربانی کا حکم

    ہمارے معاشرے میں عموماً ہر ایک گھرانے میں ایک ترتیب چلتی ہے کہ گزشتہ سال ابو کی طرف سے ہوئی تھی اس سال امی کی طرف ہوگی اور آئندہ سال بڑے بھائی کی طرف سے قربانی ہوگی اس طریقے سے اگر گھر میں دس افراد ہیں تو ہر فرد کا نمبر دس سال میں ایک مرتبہ آئے گا گویا اس نے دس سال کی طویل مدت میں اپنے نام سے ایک بار قربانی کی تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟


    اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کے بعض افراد کی جانب سے اختیار کردہ ترتیب کا یہ طریقہ سنت کے مطابق نہیں ہے۔

    تاہم اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کی قربانی درست مانی جائے گی کیونکہ قربانی کے شروط موجود ہیں اور صحیح ہونے میں بظاہر کوئی چیز رکاوٹ بھی نہیں ہے تاہم یہاں جو بات قابل غور ہے وہ یہ کہ ایسا طریقہ اپنانا اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ کرنا ہے جو درست نہیں ہے کیونکہ جب ہم اس سلسلے میں آپ کے عمل کو دیکھتے ہیں تو دو چیزیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔

    1_آپ ہمیشہ ایک جانور قربان کرتے۔

    2_ اور وہ جانور اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربان کرتے۔

    لہذا جنہوں نے بھی یہ طریقہ اپنایا دراصل انہوں نے اللہ کی رحمت اور اس کے ثواب کو اپنے حق میں تنگ کرلیا ایک جانور کی قربانی گھر کے سارے افراد کو شامل ہوجانے کے باوجود لوگوں نے اسے تنگ کرکے ایک فرد ہی میں محصور کرلیا جب کہ اللہ کی رحمت اور ثواب میں اتنی وسعت تھی کہ اگر وہ گھرانہ سو افراد پر بھی مشتمل ہوتا تو کسی کے حق میں ذرہ برابر کمی واقع ہوئے بغیر سارے افراد کو پورا پورا ثواب حاصل ہوتا ۔

    لہذا ہمیں چاہئے کہ اس طریقہ قربانی کو ترک کریں اور نبی کریم ﷺکا طریقہ اختیار کریں جو ہمارے لئے سب سے نفع بخش طریقہ ہے ۔

    کیا ایک جانور اہل خانہ کے لئے کافی ہے؟

    بهيمة الأنعام (اونٹ گائے بھیڑ بکری) میں سے کوئی بھی ایک جانور اہل خانہ کے پورے افراد کے لئے کافی ہوگا اگرچہ اہل خانہ کی تعداد سو سے بھی زائد ہو اسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد صحابہ کرام کا عمل رہا ہے چنانچہ ابو ایوب انصاری رضی عنہ فرماتے ہیں"كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ، وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ، وَيُطْعِمُونَ، حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى".[سنن ترمذی: 1505صحيح]

    "عہد نبوی میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا وہ اسے کھاتے تھے کھلاتے تھے حتی کہ لوگوں نے تکبر شروع کردیا تو اس طرح ہوگیا جو آج تم دیکھ رہے ہو"۔


    اہل خانہ سے مراد

    اہل خانہ سے مراد وہ تمام افراد جن کا چولہا ایک ہو اور قربانی دینے والا ان سب کے خرچ کا ذمہ دار ہو۔

    قربانی کی دعا

    اگر جانور پر اللہ کا نام یعنی صرف "بسم اللہ"پڑھ دیا گیا تو اتنا کافی ہے قربانی ہوجائے گی ،اس میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور بسم اللہ کے علاوہ مزید دعائیں مستحب ہیں واجب نہیں اور وہ درج ذیل ہیں ۔

    "بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ،[صحیح بخاری:5565]


    یا "بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وعن اهل بيتي[سنن ابي داؤد:2810صحيح]

    یا "بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فلان وآل فلان"[صحيح مسلم:1967]

    مذکورہ بالا ساری دعائیں مختلف موقعے سے آپ سے ثابت ہیں۔

    قربانی کے گوشت کا مصرف

    کتاب وسنت کی رو سے قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے ،فقیروں محتاجوں کو بھی کھلائے اور دوست واحباب کو ہدیہ کرے ،کوئی پابندی نہیں کہ کس قدر خود کھائے اور کتنا فقیروں کو دے البتہ اسے فروخت نہ کرے فرمان الہی ہے

    "فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَ الۡمُعۡتَرَّ ؕ ".[الحج:36]

    اسے(خود بھی)کھاؤاور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ".

    شروع میں آپ نے مصلحت کے تحت گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع کیا تھا تاہم جب اس کی ضرورت نہ رہی تو آپ نے ذخیرہ اندوزی کی اجازت دے دی فرمان نبوی ہے:"فَكُلُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا "[سنن ترمذی:1510صحیح]

    "سو اب جتنا چاہو خود کھاؤ دوسروں کو کھلاؤ اور( گوشت)جمع کر کے رکھو“۔

    امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ کھانے والے گوشت کی مقدار متعین نہیں قربانی کرنے والا شخص جس قدر چاہے اس میں سے کھائے خواہ وہ مقدار زیادہ ہو البتہ اس بات کا خیال رکھے کہ اس قدر تناول نہ کرے کہ اطعموا (کھلاؤ) والی بات ہی ختم ہوجائے.[نیل الاوطار: 22/5]


    کیا غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جاسکتا ہے

    غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جاسکتا ہے.فرمان الہی ہے

    لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ[الممتحنۃ :8]

    "جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالٰی تمہیں نہیں روکتا بلکہ اللہ تعالٰی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔

    اور عید قربان پر کی جانے والی قربانی کا گوشت انہیں دینا بھی اسی احسان میں شامل ہے جس کی اللہ تعالی نے ہمیں اجازت دی ہے۔


    قربانی کی کھال کا مصرف

    قربانی کی کھال کا بھی وہی مصرف ہے جو قربانی کے گوشت کا ہے کیونکہ وہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے خواہ اسے خود ہی استعمال کرے مثلا چٹائی مصلی چمڑے کا تھیلا ڈول یا مشکیزہ وغیرہ بنا لے یا صدقہ کردے یا دوست واحباب کو ہدیہ کردے البتہ اسے فروخت کرکے پیسے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں نہ ہی اسے ضائع اور برباد کرنا درست ہے ۔

    ‏‏‏‏‏قصائی کو قربانی کے جانور میں سے بطور اجرت کچھ نہیں دینا چاہئے

    قصائی کو قربانی میں سے بطور اجرت کچھ نہیں دیا جائے گا البتہ قربانی کے علاوہ علحدہ طور پر جو اجرت ہو دیا جاسکتا ہے علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا". [صحيح بخاري:1717]

    "نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپﷺ کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کر دیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں"۔


    حاملہ (گابھن)جانور کی قربانی

    شریعت مطہرہ نے قربانی کے جانور کے تعلق سے جن موانع کا تذکرہ کیا ہے ان میں حاملہ (گابھن) ہونا نہیں ہے لہذا اس کی قربانی جائز مانی جائے گی اور محض گابھن ہونا قربانی کو بالکل بھی متاثر نہیں کرے گا بلکہ اس کا ثبوت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بہی ہوتی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ:‏‏‏‏

    سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.[ابوداؤد :2827حسن لغیرہ وصحيح الجامع3431]

    "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھا لو۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے" ۔پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے"۔

    شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    حاملہ بکری کی قربانی بھی ایسے ہی صحیح ہے ، جیسے غیر حاملہ کی صحیح ہوتی ہے، بشرطیکہ قربانی سے متعلقہ بیان شدہ عیوب سے پاک ہو”انتہی

    (فتاوى ورسائل شيخ محمد بن ابراہیم_6/146)

    اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    “حاملہ جانور کی قربانی کرنا جائز ہے، اور اگر اسکا بچہ مردہ حالت میں باہر ہو تو شافعی، اور احمد وغیرہ کے ہاں اسکی ماں کو ذبح کرنا ہی کافی ہے، چاہے اسکے بال آئے ہوں یا نہ اور اگر زندہ حالت میں نکلے تو اسے بھی ذبح کیا جائے گا۔

    (مجموع الفتاوى_26 / 307)

    ذبیحہ کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کا حکم

    قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگا۔

    یا تو مردہ ہوگا،

    یا زندہ ہوگا ،

    اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا کھانا حلال ہوگا اس کی ماں کا ذبح کرنا بچے کے ذبح کرنے سے کفایت کرے گا جیسا کہ سابقہ حدیث اس بات پر دلالت کررہی ہے ہاں اگر وہ زندہ ہے تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"إن كان حيا فلا بد من زكوته لانه نفس أخرى" [المغنی :13/310]

    "اگر وہ زندہ نکلے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک مستقل جان ہے"۔واللہ اعلم


    خصی (بدھیا)جانور کی قربانی

    خصی (بَدھیا)ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کے دونوں خصیتین نکال دئیے گئے ہوں اور اسے نامرد بنا دیا گیا ہو ایسا کرنے سے جانور خوب تندرست اور فربہ ہوجاتا ہے اس کا گوشت بھی خوب لذیذ اور طیب ہوتا ہے اس کی قربانی جائز ودرست ہے کیونکہ قربانی کے لئے جن چار عیوب سے پاک ہونے کا ذکر ہے ان میں اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کتاب وسنت سے کوئی واضح نص اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ وہ واقعی عیب ہے اگر چہ سلف کے استنباطات عیب وغیر عیب دونوں طرح کے موقف میں موجود ہیں ۔

    بلکہ بعض اہل علم نے اسے غیر خصی جانور پر ترجیح دی ہے کیونکہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ اور طیب ہوتا ہے لہذا لذیذ گوشت اور فربہ جانور ہونے کی حیثیت سے خصی جانور (بدھیا) کی قربانی افضل ہے جبکہ اعضاء کی سلامتی اور بدن کامل کے لحاظ سے غیر خصی جانور کی قربانی افضل ہے دیکھئے (فتاوی نور علی الدرب: 9/42)واللہ اعلم۔

    غیر خصی (انڈل) جانور کی قربانی

    غیر خصی جانور کی قربانی بھی جائز ودرست ہے اور آپ کے عمل سے بھی ثابت ہے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں َ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ.[سنن ابوداؤد:2796صحیح]

    کہ رسول اللہﷺ سینگ دار غیر خصی مینڈھے کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں ( یعنی آنکھ کے اردگرد ) ، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔


    بھینس کی قربانی

    بھینس کی قربانی کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ہمیں جو بات درست لگتی ہے وہ یہ کہ بھینس کی قربانی درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر جائز نہیں

    پہلی وجہ :بھینس کی قربانی کتاب وسنت سے ثابت نہیں اور نہ ہی سلف نے بھیمۃ الانعام کی تفسیر میں بھینس کا تذکرہ کیا ہے۔

    دوسری وجہ :اگر لغوی اعتبار سے دیکھا جائے تو بہیمۃ الانعام میں دیگر کئی جانور کی شمولیت ممکن ہے تاہم یہاں بہیمۃ الانعام سے صرف وہی جانور مراد ہوں گے جس کی تفسیر قرآن نے کی ہے جس کے مطابق صحابہ نے سمجھا اور اس کی تفسیر بیان کی۔

    تیسری وجہ :جو لوگ لغت کا اعتبار کرکے بھینس کو نوع من البقر (گائے کی قسم)کہتے ہیں انہوں نے واضح نص کے مقابلے میں قیاس کا ایک وسیع دروازہ کھول دیا ہے جس کے تحت ہرن ،نیل گائے ،جیسے جانوروں کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔

    چوتہی وجہ :سلف نے بھینس کو گائے کی جنس نہیں شمار کیا ہے بلکہ اسے زکوۃ کے باب میں گائے کے درجے میں رکھا ہے اس طور سے دونوں کی حیثیتوں میں فرق ہے ۔

    یہاں قابل غور بات یہ ہےکہ زکوۃ کے باب میں بھینس کو گائے کے درجے میں رکھنے سے مقصود اہل علم کا حد درجہ احتیاط ہے اور وہ یہ کہ مال میں سے زکوۃ نہ نکالنا قیامت کے دن بہت بڑی سزا کا موجب ہے لہذا ہمارے لئے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے گائے کے درجے میں مان کر اس کی زکوۃ نکال دی جائے تاکہ اگر وہ حقیقتاً گائے ہی ہو تو ہم زکوۃ نہ نکالنے کی سزا سے محفوظ رہ سکیں۔

    جبکہ قربانی کے باب میں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم دیگر جانوروں کی موجودگی میں بھینس کی قربانی نہ کریں تاکہ اگر وہ حقیقتاً گائے کی جنس نہ ہو تو ہماری قربانی رائیگاں نہ جائے۔

    ہاں البتہ اگر کبھی ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ بھینس کے علاوہ گائے ،اونٹ ،بکری ،بھیڑ میں سے کوئی جانور میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں بھینس کی قربانی کے سلسلے میں غور کیا جاسکتا ہے واللہ اعلم

    ہندوستان میں گائے کی قربانی کا مسئلہ

    شریعت میں گائے کی قربانی کا واضح ثبوت موجود ہے شرعی نقطہ نظر سے اس میں کوئی حرج نہیں بعض لوگ گائے کے گوشت میں بیماری والی احادیث پیش کرکے اس سے احتراز کی تلقین کرتے ہیں تاہم وہ ساری روایات ضعیف ہیں البتہ ملک کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس سے احتراز کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ جانور ایک خاص مذہب کے نزدیک مقدس سمجھی جاتی ہے جسے ذبح کرنا ان کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں مختلف قسم کے فتنہ وفساد رونما ہوتے ہیں لہذا مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ حالات کے ساز گار ہونے تک اس سے پرہیز کیا جائے اس سے نہ تو دینی حمیت میں کمی واقع ہوتی ہے اور نہ ہی قوانین اسلام کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیونکہ گائے کا ذبح کرنا محض حلال اور مباح کی حیثیت رکھتا ہے نہ ہی وہ واجبات کے درجے میں ہے اور نہ ہی مستحبات کے بلکہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مچھلی کا شکار حلال ہے اب اگر کوئی شکار کرتا ہے تو قابل مدح نہیں اور اگر شکار نہیں کرتا ہے تو قابل مذمت نہیں۔

    میت کی طرف سے قربانی

    میت کی طرف سے قربانی کرنے کی کئی شکلیں بن سکتی ہیں

    پہلی شکل :قربانی کرنے والا زندوں کے ساتھ مردوں کو بھی شامل کرلے اس کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے جس میں آپ نے ایک مینڈھے کو ذبح کرتے ہوئے فرمایا : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحَّى بِهِ[صحیح مسلم:5091]

    بسم اللہ ، اے اللہ! محمدﷺ کی طرف سے اور محمدﷺ کی آل کی طرف سے اور محمدﷺ کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر ، پھر اس کی قربانی کی ۔


    اس حدیث میں آپ نے اپنی امت کی طرف سے قربانی کی اور امت میں زندہ مردہ سارے افراد شامل ہیں لہذا اگر کوئی اس حدیث کی روشنی میں اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرے اور اہل خانہ کے ساتھ تبعاً فوت شدگان کو بھی نیت میں شامل کرلے تو_ إن شاء الله _سب کو کفایت کرجائے گا -
    دوسری شکل :میت اپنے تہائی مال سے قربانی کی وصیت کرجائے تو ورثاء پر اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی جانب سے قربانی کرنا واجب ہے ۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے :فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ [سورة البقرة :181]

    " اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناہ بدلنے والے پر ہی ہوگاواقعی اللہ تعالٰی سننے والا اور جاننے والا ہے "۔


    یعنی جن لوگوں نے مرنے والے کی زبان سے کوئی وصیت سنی ہو ان کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں کچھ کمی بیشی کریں اس کے بجائے ان کے لئے وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔

    تیسری شکل :میت کی طرف سے علحدہ مستقل طور پر قربانی کرے۔

    اس سلسلے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں ہمیں جو بات حق کے قریب تر لگتی ہے وہ یہ کہ میت کی طرف سے مستقل طور پر قربانی کرنا درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر جائز نہیں ہے۔

    1_اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جو چیزیں ہم تک پہونچی ہیں وہی شریعت ہیں اور اس شریعت کے مکلف زندہ افراد ہیں ناکہ وہ افراد جو اس دنیا (دار الامتحان) سے رخصت ہوچکے ہیں لہذا قربانی جو کہ ایک اہم عبادت ہے اس کے مخاطب ومکلف بھی اللہ نے زندہ افراد کو بنایا ہے اور فوت شدگان کو مکلف بنایا ہے نہ ہی انہیں اپنے خطاب میں شامل کیا ہے کیونکہ وہ لوگ دار الامتحان سے دار الجزاء کی طرف منتقل ہوچکے اور اپنے اپنے انجام کار تک پہونچ چکے ہیں لہذا ان کے لئے صرف وہی جائز ہے جس کی صراحت شارع نے کردی ہے ۔

    2_عبادات میں اصل حرمت ہے لہذا کسی بھی عمل کی مشروعت کے لئے کتاب وسنت سے دلیل کی ضرورت ہے فقہاء کرام کا ایک متفقہ اصول اور شرعی ضابطہ ہے کہ ’’الأصل فی الأشیاء الإباحة حتی یرد دلیل المنع والأصل فی العبادۃ المنع حتی یرد دلیل الفعل‘‘ عام امور واشیاء میں اصل جواز واباحت ہے یہاں تک کہ منع وتحریم کی دلیل وارد ہو اور عبادات میں أصل اور بنیادی بات ممانعت وتحریم اور عدم فعل ہے یہاں تک کہ اس کے فعل (کرنے) کی دلیل وارد ہو۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام عبادات اور طریقہ عبادات توقیفی ہیں یعنی عبادات اور ان کے طریقوں کا تعین کرنا صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہے لہذا کسی امتی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جس کا شریعت نے کوئی حکم نہیں دیا ہے ۔

    3_چونکہ علحدہ مستقل طور پر میت کی طرف سے قربانی کرنے کے اسباب عہد نبوی میں موجود تھے تاہم کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے کوئی ایک جانور صرف میت کے لئے قربان کیا ہو لہذا فقہی قاعدہ "كل فعل توفر سببه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ولم يفعله فالمشروع تركه "جس فعل کی ادائیگی کے اسباب عہد نبوی میں موجود رہے ہوں اس کے باوجود آپ نے بلا کسی رکاوٹ کے اپنے اختیار سے اسے ترک کردیا ہو تو ہمارے لئے اس کا ترک کرنا ہی مشروع ہے آپ کے اقرباء میں کئی افراد آپ کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن آپ نے علاحدہ طور پر ان کی طرف سے کبھی کوئی قربانی نہیں کی آپ کے بچوں کی وفات بلوغت سے پہلے ہی ہوگئی تھی جبکہ بیٹیوں کی وفات بلوغت کے بعد ہوئی آپ کی بیٹیوں میں صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں جو آپ کے بعد بھی باحیات رہیں آپ کی دو بیویاں حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما کی وفات اور آپ کے محبوب چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی آپ کی زندگی میں ہوئی لیکن آپ نے کبھی ان کی طرف سے بطور خاص قربانی نہیں کی جس سے پتہ چلتا ہے کہ اکیلے صرف میت کی طرف سے جانور ذبح کرنا آپ ﷺ کا طریقہ نہیں رہا ہے نہ ہی آپ نے اپنی امت کو اس کا حکم دیا ہے اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ میت کی طرف سے بطور خاص قربانی کرنا سنت سے ثابت نہیں کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد نہیں ہے اور میرے علم کے مطابق کسی صحابی سے بھی یہ عمل ثابت نہیں ہے۔

    اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے جو بات کہی جاتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی جانب سے قربانی کرنے کی وصیت کی تھی وہ حدیث درج ذیل ہے لیکن ضعیف ہے ۔

    حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَنَشٍ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا ؟ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ.[سنن ابو داؤود :2790]

    "راوی حدیث حنش کا بیان ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ( یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے ( بھی ) قربانی کرتا ہوں"۔

    اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابو الحسناء الکوفی ہے جو کہ ضعیف ہے حافظ ابن حجر العسقلانی اس کی نسبت لکھتے ہیں مجهول [تقريب التهذيب ص 1134]

    کہ وہ ایک مجہول راوی ہے ۔

    علامہ ناصر الدین رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے [ضعیف ابو داؤد :2790]

    لھذا یہ حدیث سنداً ضعیف ہونے کی بنیاد پر میت کی طرف سے قربانی کے جواز پر دلیل بننے کے قابل نہیں تاہم اگر بحث کی حد تک اسے صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو بھی یہ حدیث فوت شدگان کی طرف سے قربانی کے جواز پر دلالت نہیں کرتی اس سے صرف میت کی وصیت پر عمل کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ اس میں ہے کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی جانب سے قربانی کرنے کی وصیت کی تھی لہذا وصیت کے مکلف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہوئے نہ کہ پوری امت لیکن چونکہ یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس پر کسی عمل کی بنیاد قائم کرنا باطل ہے۔


    4
    _مرنے کے ساتھ ہی انسان کے عمل کا سلسلہ بھی منقطع ہوجاتا ہے سوائے ان تین اساسی اعمال کے جو صحیح حدیث سے ثابت ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ،‏‏‏‏ وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ،‏‏‏‏ وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ.[سنن ترمذی :1376صحیح]

    " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ہے، دوسرا ایسا علم ہےجس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے جو اس کے لیے دعا کرے“۔


    صدقہ جاریہ :مثلا کنواں کھدوادینا ،ہینڈ پمپ لگوا دینا ،ہاسپٹل بنوادینا ،مسجد بنوانا،دینی درسگاہ تعمیر کرانا وغیرہ ۔

    نفع بخش علم :مثلا کتابیں تصنیف کردینا ،یا خرید کر تقسیم کردینا ،دینی دروس سماجی میڈیا پر اپلوڈ کردینا وغیرہ۔

    دعا کرنے والی صالح اولاد :وہ اولاد جو اپنے والدین کے لئے دعا کرے تو اس کا فائدہ بہی والدین کو پہونچتا ہے۔

    یہ وہ عبادات ہیں جن کا ثواب میت کو پہونچتا ہے اس لئے اس کی ادائیگی کرنا میت کی جانب سے جائز ہے اور اس کا ثبوت موجود ہے ۔

    کیا قربانی کو صدقہ پر قیاس کیا جاسکتا ہے ؟

    یہ جان لینے کےبعد آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا قربانی کو صدقہ پر قیاس کرتے ہوئے میت کی طرف سے اس کی ادائیگی کرنا جائز ہے ؟کیونکہ بعض لوگ قربانی کو صدقہ پر قیاس کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیتے ہیں

    قربانی کو صدقہ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ قربانی اور ایک عام صدقہ کے درمیان بہت فرق ہے ۔


    ١_قربانی صرف بہیمۃ الانعام کی ہوسکتی ہے

    جبکہ صدقہ تمام حلال جاندار کا ہوسکتا ہے۔


    ۲_صدقہ متصدق خود نہیں کھا سکتا جبکہ قربانی کا گوشت کھا سکتا ہے ۔

    ٣_صدقہ مالداروں کو نہیں دیا جائے گا

    جبکہ قربانی کا گوشت مالداروں کو بھی دیا جاسکتا ہے ۔


    ٤_عام صدقہ کا کوئی خاص مصرف نہیں

    جبکہ قربانی کے گوشت کے مصارف متعین ہیں ۔


    ٥_صدقہ کے لئے کوئی شروط وموانع نہیں

    جبکہ قربانی کے ذبیحے کے لئے شروط اور موانع ہیں۔


    ٦_صدقہ کے لئے کوئی دن مہینہ یا وقت متعین نہیں

    جبکہ قربانی کے لئے شریعت نے خاص مہینے میں خاص وقت کا تعین کیا ہے۔


    ۷_صدقہ کی اصل روح یہ ہے کہ اسے پوشیدہ طور پر کیا جائے

    جبکہ قربانی میں یہ بات نہیں ہے ۔


    ۸_صدقہ کا کوئی خاص پس منظر نہیں ہے

    جبکہ قربانی کی ایک روشن تاریخ ہے جس میں ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کیا جاتا ہے۔

    لہذا صدقہ پر قیاس کرتے ہوئے میت کی طرف سے قربانی کا جواز فراہم کرنا مندرجہ بالا فروق کی بنیاد پر جائز نہیں ہے اور نہ عہد نبوی سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے ۔


    لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہی طریقہ اختیار کرے جس کی رہنمائی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے وہی سب سے بہتر اور پاک راستہ ہے اور سب سے بہتر ہدایت ہے جس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں اسی میں انسانیت کی نجات ہے آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :أَمَّا بَعْدُ ؛ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ "[صحيح مسلم :867]اما بعد سب سے بہتر بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر رہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے اور سب سے برے کام دین میں نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

    قربانی سے متعلق ضعیف و من گھڑت روایات

    1⃣ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأُضْحِيَّةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ ؟ فَقَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ ،‏‏‏‏ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْقِلُ،‏‏‏‏ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ،‏‏‏‏

    جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی الله عنہما سے قربانی کے بارے میں پوچھا: کیا یہ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، اس آدمی نے پھر اپنا سوال دہرایا، انہوں نے کہا: سمجھتے نہیں ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے[سنن ترمذی:1506ضعیف]

    2⃣ ‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ .[سنن ابن ماجه:3127ضعيف جدا]

    زید بن ارقم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ، لوگوں نے عرض کیا: تو ہم کو اس میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی لوگوں نے عرض کیا: اور بھیڑ میں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے.

    3⃣ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا، ‏‏‏‏‏‏أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَظْلَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْعَارِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا .[سنن ابن ماجه:3126ضعيف]

    عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو.

    4⃣ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي [سنن ترمذي :1507ضعيف]

    ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال مقیم رہے اور آپ ( ہر سال ) قربانی کرتے رہے۔

    اللہ رب العالمین ہم سب کو طریقہ نبوی کے مطابق قربانی کرنے کی توفیق بخشے آمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں