1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قزع کی تشریح

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 13، 2016۔

  1. ‏جولائی 13، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

    روى البخاري (5921) ، ومسلم (2120) عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( نَهَى عَنْ الْقَزَعِ ) قيل لنافع : ما القزع ؟ : قال : ( أن يحلق بعض رأس الصبي ويترك بعضه ) .



    اس حدیث میں جو لفظ قزع ہے اسکی مکمل تشریح درکار ہے.
    اگر فوٹو کی شکل میں سمجھا سکیں تو ممنون وشاکر ہوں گا.
    جزاکم اللہ خیر
     
  2. ‏جولائی 13، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

  3. ‏جولائی 13، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,555
    موصول شکریہ جات:
    2,215
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    اس کی تصویری وضاحت محترم بھائی محمد عامر یونس نے تھریڈ
    HAIR CUTTING

    میں نقل کردی ہے ،وہاں دیکھ لیں ؛
    لفظ "قزع " کی تشریح میں امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
    (قَوْلُهُ بَابُ الْقَزَعِ)
    بِفَتْحِ الْقَافِ وَالزَّايِ ثُمَّ الْمُهْمَلَةُ جَمْعُ قَزَعَةٍ وَهِيَ الْقِطْعَةُ مِنَ السَّحَابِ وَسمي شعر الرَّأْس إِذا حلق بعضه وَترك بَعْضُهُ قَزَعًا تَشِبِّيهَا بِالسَّحَابِ الْمُتَفَرِّقِ "
    یعنی "قزعۃ " بادل کے ٹکڑے کو کہتے ہیں ، اور یہاں سر کے ان بالوں کو کہا گیا ہے ،جو کچھ سر مونڈنے کے بعد ٹکڑوں میں باقی چھوڑ دیا جائے ، جیسے آسمان پر بادل کےٹکڑے ہوں "
    آپ کی مذکورہ حدیث اور اس کی شرح درج ذیل ہے
    صحیح البخاری (کتاب اللباس ) میں ہے :

    عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ القَزَعِ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: قُلْتُ: وَمَا القَزَعُ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: إِذَا حَلَقَ الصَّبِيَّ، وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعَرَةً وَهَا هُنَا وَهَا هُنَا، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ. قِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: فَالْجَارِيَةُ وَالغُلاَمُ؟ قَالَ: لاَ أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ: الصَّبِيُّ. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ: أَمَّا القُصَّةُ وَالقَفَا لِلْغُلاَمِ فَلاَ بَأْسَ بِهِمَا، وَلَكِنَّ القَزَعَ أَنْ يُتْرَكَ بِنَاصِيَتِهِ شَعَرٌ، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ غَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ شَقُّ رَأْسِهِ هَذَا وَهَذَا

    ترجمہ :
    حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قزع سے منع فرماتے ہوئے سنا، عبیداللہ کا بیان ہے کہ میں نے پوچھا کہ قزع کیا ہے، عبداللہ نے اشارہ کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جب بچہ سر منڈوائے اور ادھر ادھر بال چھوڑ دے اور اپنی پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کیا،
    عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ لڑکی اور لڑکے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ میں نہیں جانتا صرف بچہ ہی کا لفظ بیان کیا، عبیداللہ نے کہا کہ میں نے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی پیشانی اور گدی کے بال مونڈنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن قزع یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دے اور سر پہ کچھ بال نہ ہوں، اسی طرح اپنے سر کے بال آدھے مونڈنا اور آدھے رکھنا جائز نہیں۔ "( صحیح البخاری 5920 )
    علامہ النووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
    وهذا الذي فسره به نافع أو عبيد الله هو الأصح وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه والصحيح الأول لأنه تفسير الراوي وهو غير مخالف للظاهر فوجب العمل به وأجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه وكرهه مالك في الجارية والغلام مطلقا وقال بعض أصحابه لابأس به في القصة والقفا للغلام ومذهبنا كراهته مطلقا للرجل والمرأة لعموم الحديث قال العلماء والحكمة في كراهته أنه تشويه للخلق وقيل لأنه أذى الشر والشطارة وقيل لأنه زي اليهود وقد جاء هذا في رواية لأبي داود والله أعلم
    تشریح
    نووی کہتے ہیں کہ قزع کے معنی مطلق (کسی کے بھی ) سر کے کچھ حصے کو مونڈنا (اور کچھ حصے کو بغیر مونڈے چھوڑ دینا ہیں ) اور یہی معنی زیادہ صحیح ہیں کیوں کہ حدیث کے روای نے بھی یہی معنی بیان کئے ہیں اور یہ حدیث کے ظاہری مفہوم کے مخالف بھی نہیں ہیں لہٰذا اسی معنی پر اعتماد کرنا واجب ہے ! جہاں تک " لڑکے " کی تخصیص کا ذکر ہے تو یہ محض عام رواج و عادات کی بنا پر ہے ورنہ قزع جس طرح لڑکے کے حق میں مکروہ ہے، اس طرح بڑوں کے حق میں بھی مکروہ ہے، اسی لئے فقہی روایات میں یہ مسئلہ کسی قید و استثناء کے بغیر بیان کیا جاتا ہے، اور قزع میں کراہت اس اہل کفر کی مشابہت اور بد ہئیتی سے بچانے کے لئے ہے ۔
    راوی نے " قزع " کا جو مطلب بیان کیا ہے اور جس کو نووی نے زیادہ صحیح کہا ہے اس میں چوٹی (جیسا کہ غیر مسلم اپنے سر چھوڑتے ہیں ) (زلف اور بالوں کی ) وہ تراش خراش شامل ہے جو مسنون طرز کے خلاف ہو۔
     
    Last edited: ‏جولائی 13، 2016
  4. ‏جولائی 13، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جزاک اللہ خیر شیخ محترم!
    لیکن یہاں اس لنک میں جو فوٹو ہے اسمیں بال کی تقصیر ہے حلق نہیں ہے؟؟؟
    اور قزع کے معنی تو
    تو کیا کچھ بال چھوٹے اور کچھ بال بڑے رکھنا بھی قزع کہلاتا ہے؟؟؟
    براہ کرم تشفی کریں.
    حیاک اللہ
     
  5. ‏جولائی 13، 2016 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یہاں اس فتوے میں بھی مونڈنے کا ذکر ہے:
    الحمد للہ:

    القزع: يہ ہے كہ سر كا كچھ حصہ مونڈ ديا جائے، اور كچھ چھوڑ ديا جائے.

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " القزع يہ ہے كہ سر كا كچھ حصہ مونڈ ديا جائے، اور كچھ حصہ چھوڑ ديا جائے، اور اس كى كئى انواع ہيں:

    پہلى قسم:

    بغيركسى ترتيب كے مونڈا جائے، سر كے دائيں، بائيں، اور پيشانى اور گدى سے مونڈا جائے، يعنى سر كى متفرق جگہوں سے بال مونڈے جائيں، اور باقى چھوڑ ديے جائيں.

    دوسرى قسم:

    سر كا وسط مونڈ ديا جائے، اور دونوں جانب چھوڑ دى جائيں.

    تيسرى قسم:

    دونوں طرف سے مونڈ ديا جا ئے اور سر كا وسط چھوڑ ديا جائے.

    چوتھى قسم:

    صرف پيشانى سے بال مونڈے جائيں، اور باقى چھوڑ ديے جائيں" انتہى.

    ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 167 ).
     
  6. ‏جولائی 16، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یاد دہانی
     
  7. ‏جولائی 17، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,134
    موصول شکریہ جات:
    8,179
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم اسحاق سلفی صاحب نے اوپر جو احادیث اور اقوال پیش کیے ہیں ، اس میں زیر بحث مسئلہ کی تفصیلی وضاحت ہے ۔
    اس بارے میں گزارش یہ ہے کہ حدیث میں ’ حلق ‘ کا لفظ ہے ، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ یہ لفظ اغلب حالات کا خیال رکھتے ہوئے بولا گیا ہے ، ورنہ اس سے مراد حلق اور تقصیر دونوں ہی ہیں ۔ لہذا تقصیر اس انداز میں کروائی جائے کہ سر کے مختلف حصوں کے بالوں میں واضح فرق نظر آئے تو یہ ’ قزع ‘ میں شمار کیا جائے گا ۔ واللہ اعلم ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں