1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

قسطوں پر فروخت اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتوا

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از فلک شیر, ‏اگست 30، 2015۔

  1. ‏ستمبر 01، 2015 #11
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    یہ لیجئے اس کا حوالہ ::
    امام دارقطنی رحمہ اللہ اپنی کتاب ۔۔السنن ۔۔میں لکھتے ہیں :
    عن عمرو بن الحريش , قال: سألت عبد الله بن عمرو , قلت: إنا بأرض ليس فيها دينار ولا درهم , وإنما نبتاع الإبل والغنم إلى أجل فما ترى في ذلك؟ , فقال: على الخبير سقطت , جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم إبلا من إبل الصدقة حتى نفدت وبقي أناس , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اشتر لي إبلا بقلائص من الصدقة إذا جاءت حتى تؤديها إليهم» , فاشتريت البعير بالاثنين والثلاث قلائص حتى فرغت , فأدى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم من إبل الصدقة >> ’’ سنن الدار قطنی۔۔3053 ۔۔۔مسند احمد :6593 )
    عمرو بن حریش کہتے ہیں کہ : میں نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا :
    ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں نقدی یعنی درھم و دینار نہیں ہوتے،
    ہم اونٹ اور بکریوں کا لین دین مقررہ مدت پر کرتے ہیں ،آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں :
    عبد اللہ بن عمرو فرمانے لگے ،تو نے ٹھیک ،باخبر کے سامنے سوال رکھا ہے (یعنی میں اس مسئلہ کے شرعی حکم سے واقف ہوں )
    جناب رسول صلى الله عليہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے ایک لشکر تیار کیا یہا ں تک کہ اونٹ ختم ہوگئے، لیکن کچھـ لوگ باقی رہ گئے، تو رسول صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لئے صدقہ کے اونٹوں کے بدلے میں کچھـ اونٹ خریدو جب تک صدقہ کے اونٹ نہ آ جائيں، تاکہ ہم وہاں سے اس کو ادا کر سکيں، اس نے كہا پھر میں نے ایک اونٹ يادو یا تین اونٹوں کے بدلے میں خریدا یہاں تک کہ لشکر تیار کرنے کی ذمہ داری کو میں نے پورا کیا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آ گئے تب حضور صلى الله عليہ وسلم نے وہاں سے یہ سب ادا کر دیا۔ ‘‘

    ’’ فتاوى اللجنة الدائمة ‘‘ میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے :
    رواه الإمام أحمد في مسنده، وهذا لفظه ج2 ص171، ورواه أبو داود، والدارقطني وصححه وقال الحافظ ابن حجر: إسناده ثقات،
    اس کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اور اسے ۔صحیح ۔کہا ، اور حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ: اس کی سند ثقہ رواۃ پر مشتمل ہے ‘‘

    اور علامہ البانی رحمہ اللہ ( إرواء الغليل 5-206 ) میں لکھتے ہیں :
    أخرجه البيهقى والدارقطنى وعنه (5/287 ـ 288) شاهدا للطريق الأولى وذكر أنه " شاهد صحيح ".
    وأقره ابن التركمانى فى " الجوهر النقى " بل تأوله , ولم يتعقبه بشىء كما هى عادته!
    وأقره الحافظ فى " التلخيص " , وصرح فى " الدراية " (ص 288) بأن إسناده قوى.
    قلت: وهو حسن الإسناد , للخلاف المعروف فى رواية عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں