1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قصہ ابو دحداح صحابی رضی اللہ عنہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 27، 2016۔

  1. ‏اپریل 27، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    اس روایت کی تحقیق و تخریج درکار ہے.
    جزاک اللہ خیرا!

    سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
    سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جِس کے سائے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔
    دُنیا کےایک درخت کے بدلے میں جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سُن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما دنگ رہ گئے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع آڑے آ گئی اور اُس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔
    مجلس میں موجود ایک صحابی )ابا الدحداح( آگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اِس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخت ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں تمہیں وہ درخت ملے گا۔
    ابا الدحداح اُس آدمی کی طرف پلٹے اور اُس سے پوچھا میرے کھجوروں کے باغ کو جانتے ہو؟ اُس آدمی نے فورا جواب دیا؛ جی کیوں نہیں، مدینے کا کونسا ایسا شخص ہے جو اباالدحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کو نہ جانتا ہو، ایسا باغ جس کے اندر ہی ایک محل تعمیر کیا گیا ہے، باغ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں اور باغ کے ارد گرد تعمیر خوبصورت اور نمایاں دیوار دور سے ہی نظر آتی ہے۔ مدینہ کے سارے تاجر تیرے باغ کی اعلٰی اقسام کی کھجوروں کو کھانے اور خریدنے کے انتطار میں رہتے ہیں۔
    ابالداحداح نے اُس شخص کی بات کو مکمل ہونے پر کہا، تو پھر کیا تم اپنے اُس کھجور کے ایک درخت کو میرے سارے باغ، محل، کنویں اور اُس خوبصورت دیوار کے بدلے میں فروخت کرتے ہو؟
    اُس شخص نے غیر یقینی سے سرکارِ دوعالم کی طرف دیکھا کہ کیا عقل مانتی ہے کہ ایک کھجور کے بدلے میں اُسے ابالداحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کا قبضہ بھی مِل پائے گا کہ نہیں؟ معاملہ تو ہر لحاظ سے فائدہ مند نظر آ رہا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے گواہی دی اور معاملہ طے پا گیا۔
    ابالداحداح نے خوشی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور سوال کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جنت میں میرا ایک کھجور کا درخت پکا ہو گیا ناں؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ابالدحداح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے حیرت زدہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اُس کا مفہوم یوں بنتا ہے کہ؛ اللہ رب العزت نے تو جنت میں ایک درخت محض ایک درخت کے بدلے میں دینا تھا۔ تم نے تو اپنا پورا باغ ہی دیدیا۔ اللہ رب العزت جود و کرم میں بے مثال ہیں اُنہوں نے تجھے جنت میں کھجوروں کے اتنے باغات عطاء کیئے ہیں کثرت کی بنا پر جنکے درختوں کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ابالدحداح، میں تجھے پھل سے لدے ہوئے اُن درختوں کی کسقدر تعریف بیان کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اِس بات کو اسقدر دہراتے رہے کہ محفل میں موجود ہر شخص یہ حسرت کرنے لگا اے کاش وہ ابالداحداح ہوتا۔
    ابالداحداح وہاں سے اُٹھ کر جب اپنے گھر کو لوٹے تو خوشی کو چُھپا نہ پا رہے تھے۔ گھر کے باہر سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کہ میں نے چار دیواری سمیت یہ باغ، محل اور کنواں بیچ دیا ہے۔
    بیوی اپنے خاوند کی کاروباری خوبیوں اور صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا؛ ابالداحداح کتنے میں بیچا ہے یہ سب کُچھ؟
    ابالداحداح نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے یہاں کا ایک درخت جنت میں لگے ایسے ایک درخت کے بدلے میں بیچا ہے جِس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلتا رہے۔
    ابالداحداح کی بیوی نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا؛ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔
    مسند احمد ٣/١٤٦،
    تفسیر ابن کثیر جز ٢٧، صفحہ ٢٤٠ پر بھی یہی واقعہ مختصر الفاظ میں موجود ہے
     
  2. ‏اپریل 27، 2016 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    أتى رجُلٌ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : يا رسولَ اللهِ إنَّ لِفلانٍ نخلةً وأنا أُقيمُ حائطي بها فمُرْه يُعطيني أُقيمُ بها حائطي فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( أعطِه إيَّاها بنَخلةٍ في الجنَّةِ ) فأبى فأتاه أبو الدَّحداحِ فقال : بِعْني نخلتَكَ بحائطي ففعَل فأتى أبوالدَّحداحِ النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : يا رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إنِّي قدِ ابتَعْتُ النَّخلةَ بحائطي وقد أعطَيْتُكها فاجعَلْها له فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( كم مِن عِذْقٍ دوَّاحٍ لأبي الدَّحداحِ في الجنَّةِ ) مرارًا فأتى أبو الدَّحداحِامرأتَه فقال : يا أمَّ الدَّحداحِ اخرُجي مِن الحائطِ فقد بِعْتُه بنَخلةٍ في الجنَّةِ فقالت : ربِح السِّعرُ

    الراوي : أنس بن مالك | المحدث :ابن حبان | المصدر : صحيح ابن حبان

    الصفحة أو الرقم: 7159 | خلاصة حكم المحدث : أخرجه في صحيحه
     
  3. ‏اپریل 27، 2016 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    أنَّ رجلًا قال يا رسولَ اللهِ إنَّ لفلانٍ نخلةً وأنا أُقيم حائطي بها فقال النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أعْطِه إيَّاها بنخلةٍ في الجنَّةِ فأبى فأتاه أبو الدَّحْداحِفقال بِعْني نخلتَك بحائطي فاجْعَلْها له فقد أعطَيْتُكَها فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كَم مِن عَذْقٍ رَداحٍ لأبي الدَّحْداحِ قال ذلك مِرارًا قال فأتى امرأتَه فقال يا أمَّ الدَّحْداحِاخرُجي مِنَ الحائطِ فإنِّي قد بِعْتُه بنخلةٍ في الجنَّةِ فقالت ربِحَ البيعُ أو كلمةً تُشْبِهُها

    الراوي : أنس بن مالك | المحدث :الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد

    الصفحة أو الرقم: 9/326 | خلاصة حكم المحدث : رجاله رجال الصحيح



    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  4. ‏اپریل 27، 2016 #4
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    14 - أنَّ رجلًا قال: يا رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إنَّ لفلانٍ نخلةً وأنا أقيمُ حائطي بها فاؤمُرْه أن يعطيَني حتى أقيمَ حائِطي بها فقال له النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: أعطِه إيَّاها بنخلةٍ في الجنةِ قال: فأبى فأتاه أبوالدحداحِ فقال: بِعني نخلتَكَ بحائِطي فأجعلَها له وقد أعطيتُكها فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: كم مِن عذقٍ رداحٍ لأبي الدحداحِ في الجنةِ قالها مرارًا فأتى امرأتَه فقال: يا أمَّ الدحداحِ اخرُجي منَ الحائطِ فإني قد بِعتُه بنخلةٍ في الجنةِ فقالت: ربِح البيعُ أو كلمةً تُشبِهُها

    الراوي : أنس بن مالك | المحدث :البوصيري | المصدر : إتحاف الخيرة المهرة

    الصفحة أو الرقم: 8/275 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات وله شاهد
     
  5. ‏اپریل 27، 2016 #5
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    - قال لأبي لبابةَ في يتيمٍ لهُ خاصمَهُ في نخلةٍ ، فقضى بها لأبي لبابةَ فبكى الغلامُ ، فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لأبي لبابةَ : اعطِهِ نخلتكَ ، فقال : لا ، فقال : أعطِهِ إياها ولك عذقٌ في الجنةِ ، فقال : لا ، فسمع بذلك ابنُالدحداحةِ ، فقال لأبي لبابةَ : أتبيعُ عذقكَ ذلك بحديقتي هذهِ ، قال : نعم ، ثم جاء رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال النخلةُ التي سألتَ لليتيمِ إن أعطيتَهُ أَلِيَ بها عذقٌ في الجنةِ ؟ فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : نعم ، ثم قُتِلَ ابنُالدحداحةِ شهيدًا يومَ أُحُدٍ ، فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : رُبَّ عذقٍ مذلَّلٍ لابنِ الدحداحةِ في الجنةِ

    الراوي : جابر بن عبدالله | المحدث :البيهقي | المصدر : السنن الكبرى للبيهقي

    الصفحة أو الرقم: 6/64 | خلاصة حكم المحدث : كأن قصة أبي لبابة مرسلة




    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  6. ‏اپریل 27، 2016 #6
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    أولُ أمرٍ عُتِبَ على أبي لُبابةَ أنه كان بينه وبين يتيمٍ عَذقٌ فاختصَما إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقضى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ لأبي لُبابةَ فبكى اليتيمُ فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ دَعْه له فأبى قال فأَعْطه إياه ولك مثلُه في الجنةِ فأبى فانطلق ابنُ الدَّحداحةِفقال لأبي لُبابةَ بعني هذا العَذقَ بحديقَتينِ قال نعم ثم انطلق إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال يا رسولَ اللهِ أرأيتَ إن أعطيتُ هذا اليتيمَ هذا العذقَ ألي مثلُه في الجنةِ قال نعم فأعطاه إياه قال فكان النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يقول كم من عذقٍ دَوَّاحٍ . . .

    الراوي : كعب بن مالك | المحدث :الألباني | المصدر : السلسلة الصحيحة

    الصفحة أو الرقم: 6/1133 |خلاصة حكم المحدث : [فيه] كعب بن مالك صحابي معروف ولم يدركه الزهري فهو مرسل



    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  7. ‏اپریل 27، 2016 #7
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    من تصدق بصدقةٍ فله مثلُها في الجنةِ فقال أبو الدحداحِ : إن تصدقت بحديقتي فلي مثلُها في الجنةِ ؟ قال : نعم قال : وأمُّ الدحداحِمعي ؟ قال : نعم ، قال : والصبيةُ ؟ قال : نعم وكان له حديقتان ، فتصدق بأفضلِهما واسمُها الجنينةُ ، فضاعف اللهُ صدقتَه ألفي ألف ضعفٍ فذلك قولُه تعالى : { من ذا الذي يقرضُ اللهَ قرضًا حسنًا فيضاعفَه له أضعافًا كثيرةً } فرجع أبو الدحداحِ إلى حديقتِه فوجد أمَّالدحداحِ والصبيةَ في الحديقةِ التي جعلها صدقةً فقام على بابِ الحديقةِ ، وتحرجَ أن يدخلها قال : يا أمَّالدحداحِ قالت : لبيك يا أباالدحداحِ ، قال : إني قد جعلت حديقتي هذه صدقةً ، واشترطت مثلَها في الجنةِ وأمُّ الدحداحِ معي والصبيةُ معي ، فقالت : بارك اللهُ في ما اشتريت ، فخرجوا منها ، وسلم الحديقةَ للنبيِّ صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقال النبيُّ صلى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : كم من نخلةٍ تَدَلّي عذوقها لأبي الدحداحِلو اجتمع على عذقٍ فيها أهل منى أن يقلوه ما أقلوه

    الراوي : - | المحدث : ابن حجر العسقلاني | المصدر : العجاب

    الصفحة أو الرقم: 1/603 | خلاصة حكم المحدث : [صححه]



    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  8. ‏اپریل 27، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی جو اردو تحریر آپ نے پیش فرمائی ہے یہ دراصل مشہور عربی سائیٹ (http://fatwa.islamweb.net/fatwa/)
    پر تحقیق کیلئے پیش کئے گئے ایک سوال کی طویل عربی عبارت کا ترجمہ ہے ، جو کسی نے اردو میں ایک تفصیلی واقعہ بنا کر پیش کردیا ہے
    حالانکہ اس تفصیل کے ساتھ یہ ایک سوال تھا ؛
    ( اس سوال کا اس سائیٹ پر ربط یہ ہے )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    السؤال
    ما رأيكم في هذا الحديث الذي أرسل إلي عن طريق الإنترنت؟
    كان الرسول محمد صلي الله عليه وسلم يجلس وسط أصحابه عندما دخل شاب يتيم إلى الرسول يشكو إليه
    قال الشاب ( يا رسول الله ، كنت أقوم بعمل سور حول بستاني فقطع طريق البناء نخلة هي لجاري
    طلبت منه أن يتركها لي لكي يستقيم السور ، فرفض ، طلبت منه أن يبيعني إياها فرفض )
    فطلب الرسول أن يأتوه بالجار أتي الجار إلي الرسول وقص عليه الرسول شكوى الشاب اليتيم
    فصدق الرجل على كلام الرسول فسأله الرسول أن يترك له النخلة أو يبيعها له فرفض الرجل
    فأعاد الرسول قوله ( بع له النخلة ولك نخله في الجنة يسير الراكب في ظلها مائه عام ) فذهل أصحاب رسول الله من العرض المغري جدا فمن يدخل النار وله نخله كهذه في الجنة وما الذي تساويه نخلة في الدنيا مقابل نخله في الجنة لكن الرجل رفض مرة أخرى طمعا في متاع الدنيا فتدخل أحد أصحاب الرسول ويدعى أبا الدحداح
    فقال للرسول الكريم أئن اشتريت تلك النخلة وتركتها للشاب إلى نخله في الجنة يا رسول الله ؟
    فأجاب الرسول نعم فقال أبو الدحداح للرجل أتعرف بستاني يا هذا ؟
    فقال الرجل ، نعم ، فمن في المدينة لا يعرف بستان أبي الدحداح ذو الستمائة نخلة والقصر المنيف والبئر العذب والسور الشاهق حوله فكل تجار المدينه يطمعون في تمر أبي الدحداح من شدة جودته
    فقال أبو الدحداح ، بعني نخلتك مقابل بستاني وقصري وبئري وحائطي فنظر الرجل إلى الرسول غير مصدق ما يسمعه أيعقل أن يقايض ستمائة نخلة من نخيل أبي الدحداح مقابل نخلة واحدة فيالها من صفقه ناجحة بكل المقاييس فوافق الرجل وأشهد الرسول الكريم (ص) والصحابة على البيع وتمت البيعة.
    فنظر أبو الدحداح إلى رسول الله سعيدا سائلا (ألي نخلة في الجنة يا رسول الله ؟)
    فقال الرسول (لا ) فبهت أبا الدحداح من رد رسول الله فاستكمل الرسول قائلا ما معناه (الله عرض نخله مقابل نخله في الجنة وأنت زايدت على كرم الله ببستانك كله ، ورد الله على كرمك وهو الكريم ذو الجود بأن جعل لك في الجنة بساتين من نخيل أعجز علي عدها من كثرتها
    وقال الرسول الكريم ( كم من مداح إلى أبي الدحداح )
    (( والمداح هنا – هي النخيل المثقلة من كثرة التمر عليها ))
    وظل الرسول يكرر جملته اكثر من مرة لدرجة أن الصحابه تعجبوا من كثرة النخيل التي يصفها الرسول لأبي الدحداح وتمني كل منهم لو كان أبا الدحداح وعندما عاد الرجل إلى امرأته ، دعاها إلي خارج المنزل وقال لها
    (لقد بعت البستان والقصر والبئر والحائط ) فتهللت الزوجة من الخبر فهي تعرف خبرة زوجها في التجارة وشطارته وسألت عن الثمن. فقال لها (لقد بعتها بنخلة في الجنة يسير الراكب في ظلها مائه عام )
    فردت عليه متهللة (ربح البيع أبا الدحداح – ربح البيع )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کا جواب وہاں درج ذیل دیا گیا

    الإجابــة
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:
    فقد روى عبد الرزاق عن معمر قال أخبرني الزهري قال أخبرني كعب بن مالك قال أول أمر عتب على أبي لبابة أنه كان بينه وبين يتيم عذق فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقضي به النبي صلى الله عليه وسلم لأبي لبابة فبكى اليتيم فقال النبي صلى الله عليه وسلم دعه له فأبى قال فأعطه إياه ولك مثله في الجنة فأبى فانطلق ابن الدحداحة فقال لأبي لبابة بعني هذا العذق بحديقتين قال نعم ثم انطلق إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أرأيت إن أعطيت هذا اليتيم هذا العذق ألي مثله في الجنة قال نعم فأعطاه إياه قال فكان النبي صلى الله عليه وسلم يقول كم من عذق مذلل لابن الدحداحة في الجنة قال وأشار إلى بني قريظة حين نزلوا على حكم سعد فأشار إلى حلقه الذبح وتخلف عن النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك ثم تاب الله عليه بعد ذلك

    وروى أحمد وابن حبان والحاكم- وصححه الحاكم ووافقه الذهبي عن أنس بن مالك : أن رجلا قال يا رسول الله إن لفلان نخلة وأنا أقيم حائطي بها فمره أن يعطيني أقيم حائطي بها فقال له النبي صلى الله عليه وسلم أعطها إياه بنخلة في الجنة فأبى وأتاه أبو الدحداح فقال بعني نخلك بحائطي قال ففعل قال فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إني قد ابتعت النخلة بحائطي فجعلها له فقال النبي صلى الله عليه وسلم كم من عذق رداح لأبي الدحداح في الجنة مرارا فأتى امرأته فقال يا أم الدحداح اخرجي من الحائط فإني بعته بنخلة في الجنة فقالت قد ربحت البيع أو كلمة نحوها.

    فهاتن الروايتان ثابتتان وأما الكلام المذكور في السؤال ففيه ما لم يثبت وفيه بعض ما لا يليق بالصحابة ومن الواضح أن القصة صيغت بأسلوب أدبي معاصر ومططت وزيد فيها ما ليس منها .
    والله أعلم.

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب تو فجر ہونے والی ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو اگلی نشست میں اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 14، 2016 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ صاحب
    یاددھانی۔۔لیکن جب بھی وقت ملے۔۔ابتسامہ
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏نومبر 14، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ہميشہ دير کر ديتا ہوں ميں
    ضروري بات کہنی ہو ، کوئي وعدہ نبھانا ہو
    اسے آواز دينی ہو، اسے واپس بلانا ہو
    ہميشہ دير کر ديتا ہوں ميں

    حقيقت اور تھی کچھ اس کو جا کے يہ بتانا ہو
    ہميشہ دير کر ديتا ہوں ميں
     
    Last edited: ‏نومبر 15، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں