1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قصہ جونیہ خاتون کا

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 30، 2017۔

  1. ‏جون 30، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    قصہ جونیہ خاتون کا

    تحریر : ابوالوفا محمد حماد اثری
    نبی کریم ﷺ کو ایک عورت اسماء بنت نعمان بارے بتایا گیا، آپ ﷺ نے اس سے نکاح کر لیا،وہ بنی ساعدہ کے محل میں آئی، امیمہ کی مربیہ (دیکھ بھال کرنے والی)اس کے ساتھ تھی، نبی کریم ﷺ بھی صحابہ کے ساتھ وہاں آ گئے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو باہر ٹھہرایا اور خود اس کے پاس گئے ، کہا کہ اپنا آپ میرے حوالے کر دیجئے! ھبی نفسک لی!
    اسماء نے دیکھا کہ آپﷺ تو بادشاہ ہی نہیں ہیں اور میں ایک ملکہ ہوں، بھلا کیسے ایک ملکہ ایک غیر بادشاہ کے حوالے خود کو کر سکتی ہے؟
    کہنے لگی :
    ہل تہب الملکۃ للسوقۃ؟
    ''ایک ملکہ بھلا ایک غیر بادشاہ کے حوالے خود کو کیوں کر دے''
    نبی کریمﷺ نے اس کا اضطراب ختم کرنے کو اس کی طرف ہاتھ بڑھایا توکہنے لگی: اعوذ باللہ منک
    ''میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔''
    نبی کریمﷺنے فرمایا : بہت بڑی پناہ مانگ لی آپ نے،
    آپ ﷺ واپس چلے آئے اور سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ امیمہ کو دو کپڑے دے دیجئے اور انہیں ان کے اہل خانہ کے پاس چھوڑ دیجئے!
    اس خاتون کو جب بتایا گیا کہ آپ نے جس سے پناہ مانگی وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور آپ سے ازدواجی تعلقات نبھانے کو آئے تھے۔
    تب اس نے کہا :
    كنت أنا أشقى من ذلك
    ''یہ تو میری انتہائی بدبختی ہوئی ۔''
    (صحیح البخاری :5255، 5637، صحیح مسلم :88 )
    یہ جو کچھ اوپر بیان ہوا صحیح روایات میں اسی طرح موجود ہے، اس سے ملحق دوسرے قصے بالکل بھی ثابت نہیں ہیں، بلکہ جھوٹے راویوں کے گھڑے ہوئے ہیں۔
    یہ روایت نبی کریمﷺ کے اخلاق حسنہ پر دال ہے کہ کس طرح آپﷺ سے انجانے میں ایک عورت نے پناہ مانگی اور آپ نے بغیر غصہ کئے اسے نکاح سے فارغ کر دیا بلکہ ساتھ دو جوڑے کپڑوں کے بھی دئیے۔
    اس میں کسی بھی طرح نبی کریمﷺ کی توہین نہیں۔اس میں دو وجہ سے گستاخی رسول ﷺ پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔
    1ملکہ نے پناہ مانگی
    اس کا پناہ مانگنا توہین نہیں، کیوں کہ وہ آپﷺ کو پہچان نہیں پائی تھی، جب اس بارے معلوم ہوا تو پریشان بھی ہوئی۔
    اگر کہا جائے کہ کیا نکاح کے وقت اسے بتایا نہیں گیا تھا؟
    تو گزارش کہ بتایا تو گیا تھا مگر دکھایا نہیں گیا تھا، اس لئے وہ آپ کو پہچان نہیں پائی اور اجنبی سمجھ کرگھبرا گئی ، حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے اضطراب دور کرنے کوہاتھ اس کی طرف بڑھایا، مگر اس کا فہم خطا کھا گیا کہنے لگی : میں آپ سےاللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔
    تب رسول اللہﷺوہاں سے باہر چلے آئے کہ اس نے بہت بڑی بات کہہ دی تھی۔
    2اس نے نبی کریمﷺ کے ''سوقہ '' کا لفظ بولا، بعض استشراق زدوں نے اس کا ترجمہ بازاری کیا ہے اور اسے نبی کریمﷺ کی توہین گردانا ہے۔
    عربی زبان میں سوقہ کا معنی غیر بادشاہ ہے، بازاری نہیں۔ اہل زبان کی شہادت ملاحظہ کیجئے:
    صاحب لسان العرب ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :
    وکثیر من الناس یظنّون أنّ السُوقۃ أہل الأسواق ، والسُوقۃ من الناس من لم یکن ذا سلطان ۔
    ''بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سُوقہ بازاری لوگوں کو کہا جاتا ہے حالانکہ لوگوں میں سے وہ افراد سُوقہ کہلاتے ہیں جن کے پاس بادشاہت نہیں ہوتی۔''
    (لسان العرب لابن منظور : ١٠/١٦٦)
    امام ابن اثیر لکھتے ہیں :
    (السُّوقة) من الناس: العامَّة والرّعاع
    سوقہ سے مراد عام آدمی اور رعایا ہے۔
    جامع الاصول لابن اثیر :421/11
    امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    والسوقة: من لَيْسَ بِملك.
    ''سوقہ وہ جو بادشاہ نہیں۔''
    (کشف المشکل من الحدیث الصحیحین :602)
    یاد رہے کہ بازاری کے لئے عربی میں سوقی کا لفظ استعمال ہوتا ہے سوقہ کا نہیں۔
    اس خاتون کا ذکر نبی کریمﷺ سے کیا گیا تھا کسی روایت میں یہ نہیں آتا کہ یہ ذکر کسی مجلس میں ہوا تھا۔نہ ہی اس کے خوب رو ہونے پرکوئی صحیح روایت ملتی ہے۔
    کچھ ہم سے سنا ہوتا :
    یہ تھا واقعہ اور اس پر واردہوسکنے والے اعتراضات ،اسی پر بس ہوتا تو ہم سمجھتے کہ استشراقی فکر فہم معنی میں خطا کھا گئی ہے، لیکن جب اس کے ساتھ کچھ غیر ثابت قصے اور اپنی طرف سے جملے بڑھا کر نبی کریمﷺ کی توہین کا شوق پورا کیا جانے لگا توہمارے حسن ظن کی عمارت تڑخ گئی ۔
    کلبی نامی کذاب نے اس روایت میں ملاوٹ کی تھی جسے امام ابن سعد رحمہ اللہ نے نقل کیا :
    '' جب اسماء بنت نعمان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ سے باہر آگئے تب اشعث بن قیس نے کہا کہ آپ غمگین نہ ہوں میں آپ کا نکاح اس سے نہ کردوں جو اس سے حسب نسب میں کم نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کون ھے وہ ؟ اس نے کہا میری بہن قتیلہ ھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نکاح کرلیا۔''
    اب انہوں نے یہ روایت تو اڑا لی لیکن اس کے راوی محمد بن سائب کلبی پر جو امام صاحب نے اپنی اسی کتاب میں تبصرہ کیا تھا اسے دیکھنے سے ان کی آنکھیں قاصر رہ گئیں،ابن سعد لکھتے ہیں:
    قالوا وليس بذاك. في روايته ضعيف جدا.
    محدثین کا اس کے بارے میں فیصلہ یہ ہے کہ وہ اسے انتہائی ضعیف گردانتے ہیں۔(الطبقات الکبری : 6/342)
    امام صاحب جس کتاب میں کلبی کو ضعیف بتا رہے ہیں اور اسی کتاب میں اس کی روایات لا رہے ہیں تو وہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کی روایات سے بچئے گا۔
    معلوم ہوا کہ قتیلہ نامی کسی صاحبہ سے نبی کریمﷺ کا نکاح کبھی نہیں ہوا۔اس بارے میں جو روایات ہیں وہ مرسل ہیں یا موضوع من گھڑت ۔
    اسی لئے اس جھوٹی روایت کو بنیا د بناکر توہین کے پہلونکالناعقل کی آوارگی پرتودلالت کرتا ہے، علم کی راہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
    ایک صاحب کا فرمودہ بصارت کیجئے :
    ''اپنے وصال سے دو ماہ پہلے جبکہ نبئ کریم ازدواجی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ھونے میں دقت محسوس فرما رھے تھے اور اسی عذر کی وجہ سے آپ ﷺ ام المومنین سودہ بنت زمعہؓ کو طلاق دے دی تھی کہ میں تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتا اور ان کی طرف سے حقوق معاف کر دیئے جانے پر رجوع کر لیا تھا ،، آپ پر دو ایسی مضحکہ خیز شادیوں کا الزام دھر دیا گیا کہ جس کی کوئی جسٹیفیکیشن کوئی ذی شعور پیش نہیں کر سکتا ،، اگر حضور ﷺ نے حضرت سودہؓ سے سچ بولا تھا اور یقیناً سچ بولا تھا کہ آپﷺ اب حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں دشواری محسوس کر رھے تھے تو پھر ان ایمرجنیسی پلس شادیوں کی تُک نہیں بنتی اور نہ وہ طریقہ ایک حاکم اور نبی کے شایانِ شان ھے کہ جس طرح کھیتون کھلیانوں میں شادیاں کی گئیں ''
    تبصرہ :
    فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ
    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے
    یہ کہاں ہے کہ وہ شادی آخری ایام میں ہوئی؟ اور یہ بھی کہاں ہے کہ نبی کریمﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ کو طلاق دے دی تھی اس لئے کہ آپ ازدواجی تعلقات نبھا نہیں پارہے تھے؟
    سنئے!اس کا حوالہ بھی مطلوب ہے کہ آپﷺ کی کوئی شادی کھیتوں کھلیانوں میں ہوئی؟
    صاحب جھوٹ تو کئیوں سے سنا ، لیکن ابھی تک واقدی اور ابومخنف کے مشن کو آگے بڑھایا جارہا ہے، یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی۔
    آخر میں ان کے داغے ہوئے کچھ سوالوں کا جواب دیتے ہیں پھر اجازت :
    سوال :
    یہ ملکہ کس بادشاہ کی بیٹی تھی کسی کو پتہ نہیں - کیا بادشاہ اس طرح بیٹیوں کو اونٹ پر سوار کرا کر بھیج دیتے ھیں کہ جا کر شادی کر کے آ جاؤ ؟
    جواب :
    پتہ ہونا ضروری بھی نہیں، شادی کرآو کے لئے نہیں بھیجا تھا ، شادی تو ہو چکی تھی اور اس کی دایہ بھی اس کے ساتھ آئی تھی۔
    سوال :
    اگر سوقہ کہنا جرم نہیں تھا یا بدتمیزی نہیں تھی تو حضورﷺ کو یکشن
    لینے کی ضرورت کیا تھی ؟
    جواب :
    کیا ایکشن لیا ؟ یہی نہ کہ اسے تسلی دینا چاہی ؟ جس ایکشن کی طرف سوال میں اشارہ ہے ، وہ ایکشن بالکل جھوٹ ہے، سوال کی طرح۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 30، 2017
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 30، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,662
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    علمی مضمون ، بارک اللہ فیکم ۔
    جب یہ ساری روایات صحیح اسانید سے ثابت ہیں ، پھر صرف انہیں اس لیے رد کرنا کہ ایک خاتون نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے توہین کی ہے ، لہذا اگر ہم اسے مان لیں تو گویا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے ہیں ، یہ سوچ ہی غلط ہے ۔
    اس عورت کی بدبختی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آکر ’ ام المؤمنین ‘ کہلوانا اس کے نصیب میں نہیں تھا ۔ یہ واقعہ اسی طرح ہوگیا ہے ، اب قرآن کی کون سی آیت یا کوئی ایسی دلیل ہے ، جس سے اس ثابت شدہ واقعہ کی تکذیب کے لیے پیش کیا جاسکے ۔
    منکرین حدیث کو یہی بیماری ہے ، چاہتے ہیں ،سب کچھ ہماری سوچ کے مطابق ہوجائے ۔
    لفظ " سوقه " کے حوالے سے آپ نے جو تحقیق پیش کی ہے ، اس سے اتفاق کرنا مشکل ہے ، لفظ سوقہ اور پھر اس کی تشریح میں ’ رعاع ‘ جیسے الفاظ بولے گئے ہیں ، جس کا مطلب ہے کہ یہ کمتر لوگوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، بہر صورت جو معنی آپ نے مراد لیا ، منکرین حدیث اس پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں ، جبکہ میں سمجھتا ہوں ، یہ جس معنی میں بھی ہو ، یہ اس عورت کی سوچ اور فکر ہے ، اس نے جیسے بھی لفظ بولے یا نہیں بولے یہ اس کی بدبختی ہے ، جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلی اخلاق ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔
     
    Last edited: ‏جون 30، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 30، 2017 #3
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    بہت شکریہ خضر بھائی آپ کی حوصلہ افزائی ہم مبتدیوں کے لئے کک ہے، اللہ آپ کو خوش رکھے۔ لفظ سوقہ میں تنقیص کا پہلو تو واقعی پایا جاتا ہے، لیکن اس درجے کی تنقیص نہیں کہ بازاری ہی کہہ دیا جائے،باقی آپ بہتر جانتے ،والسلام
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں