1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قلندر کے مزار پر کفر کی موت مرنے والے لوگوں کا دفاع کرنے والوں کا جائزہ

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جون 20، 2014۔

  1. ‏جون 20، 2014 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    قلندر کے مزار پر کفر کی موت مرنے والے لوگوں کا دفاع کرنے والوں کا جائزہ

    پچھلے دنوں کچھ مشرکین قلندر کے مزار پر عرس منانے گئے، وہاں شدید گرمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے، جب ہم نے لوگوں کو بتایا کہ یہ شرک کرتے ہوئے مرے ہیں اور قلندر یا کوئی اور تمہارا پیر اِن کو اللہ کے فیصلے سے بچا نہیں سکا تو شرک و بدعت کی لعنت میں لتھڑے لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ حج کے موقع پر لوگ ہلاک ہوتے ہیں، حرم کی توسیع کے وقت لوگ ہلاک ہوتے ہیں تو اللہ نے ان کو کیوں نہ بچا لیا (نعوذباللہ)
    اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی بات اللہ کے گھر کا حج کرنے والا کوئی شخص توحید کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو اس کی موت کے کیا کہنے، جیسے ایک حدیث میں ایک شخص کا ذکر ہے جو دوران حج فوت ہوا اور قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا (مفہوم حدیث) سبحان اللہ،جبکہ قلندر کی قبر پر مرنے والے لوگ مشرکانہ امور کے مرتکب ہو کر مرے ہیں ، اسی طرح کسی انسان کو موت دینا اللہ کا کام ہے، یہ کہ اللہ کسی کو موت دے ہی نہ، یہ اللہ نے کہیں نہیں کہا، اللہ نے زندگی اور موت کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ لوگوں میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے، اللہ ہر کسی کو صرف زندگی دے اور موت نہ دے تو اس امتحان کا کیا فائدہ ہو گا؟
    جاہلو ، مشرکو، بدعتیو!اللہ تعالیٰ تو زندگی اور موت کا مالک ہے، وہ بچانے پر آئے تو تنہا اپنے گھر کو ہاتھیوں کے لشکر سے محفوظ فرما لے، اپنے نبی اور اس کے صحابہ کی فرشتے بھیج کر مدد فرما دے، کافروں کے دلوں میں رعب ڈال کر، اور ان پر آندھی چلا کر اپنے بندوں کی مدد فرما دے، چاہے تو اپنے بندے کو آگ میں صحیح سلامت رکھے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    جبکہ تم مشرک لوگ اسی طرح اپنے خود ساختہ پیروں فقیروں میں بھی اختیارات کو تسلیم کرتے ہو( نعوذباللہ) تمہارے یہ بے بس بابے اور سرکارائیں کچھ نہیں کر سکتے، نہ یہ موت و حیات کے مالک، نہ ہی یہ کسی کے نفع و نقصان کے مالک، نہ ہی ان کو یہ شعور کہ یہ کب اپنی قبروں سے کھڑا کئے جائیں گے، تو تم مشرک بدعتی لوگ ابھی سے توبہ کر لو، تاکہ نجات پا سکے۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید کی سمجھ عطا فرمائے آمین



    [​IMG]
     
    Last edited: ‏جون 20، 2014
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 20، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    نوٹ: مرنے والوں میں اگر کوئی مشرکانہ امور کا مرتکب نہیں تھا تو اس کا جو معاملہ اللہ چاہے گا وہی ہو گا۔ چاہے تو عذاب کرے چاہے تو معاف فرما دے۔ واللہ اعلم
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  3. ‏جون 20، 2014 #3
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    حج کے دوران اگر موت آئے تو اس سے بڑی سعادت اور کون سی ہو سکتی ہے۔۔۔؟؟؟جبکہ مزار پر آنے والی موت لا حول ولا قوة الا باللہ

    حدیثِ مبارکہ ہے
    فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ [(الترمذی)

    اللہ سے خاتمہ بالخیر کی دعا مانگنی چاہیے
     
    Last edited: ‏جون 20، 2014
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 20، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اکثر لوگ صرف اس طرح لکھتے ہیں : "لا حول ولا قوة"
    اس طرح نہ لکھیں، اس کا معنی درست نہیں بنتا، دیکھیں:
    نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے نا گناہ سے بچنے کی
    معاذاللہ یہ تو نافرمانی ہے، بلکہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ یہ کفر ہے۔ واللہ اعلم
    پورا لکھیں یوں
    لاحول ولا قوة الا بالله
    نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی توفیق کے ساتھ
    اور جنت کا خزانہ بھی "لا حول ولا قوة الا بالله" ہی ہے نا کہ "لا حول ولا قوة"
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 20، 2014 #5
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    غلطی سے لکھا گیا تھا۔۔۔۔تصحیح کر دی ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 20، 2014 #6
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,509
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    ہمارے علاقے کا ایک آدمی بھی وہاں قلندر پر جاکر فوت ہوگیاہے.
    جب اس کی لاش یہاں پہنچی تولوگ اسے شہادت کے خطاب سے نواز رہے ہیں.
    یہ وہی لوگ ہیں جو اس کی زندگی میں اس کے نشہ کرنے اور شراب پی کر روزانہ جھگڑا کرنے کی وجہ سے تنگ تھے.
     
  7. ‏ستمبر 02، 2014 #7
    احمد ندیم

    احمد ندیم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    مواحد کا دربار پر کیا کام؟،،،،،،،،،،،وہ تو ایک اللہ سے مانگنے کے لئے در در کی ٹھوکریں تھوڑی کھاتا ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں