1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قوانین و ضعیہ اورفتنہ تکفیر

'توحید حاکمیت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏جنوری 25، 2012۔

  1. ‏جنوری 25، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    الشیخ ابو محمد السلفی حفظہ اللہ​

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    سلف صالحین کے فیصلے کے مطابق اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا کفر،حقیقی اس صورت میں ہو گا جبکہ وہ اپنے اس فعل کو جائز سمجھتا ہو اور جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے،(لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگا یا جائے گا)۔''
    ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے کی تین قسمیں یعنی کفر، ظلم اور فسق و فجور قرآن میں بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا رہے گا۔ پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہو گی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔ اور اگر کوئی حکمران ما أنزل اللہ کے غیر کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تا کہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے، حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہو گی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جہلاء کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جانتا ہو لیکن اس نے کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور حق بات کہ جس کے ساتھ کتاب و سنت وارد ہوئے ہیں' یہ ہے کہ اس حکمران کی بھی ہم تکفیر نہیں کر سکتے ہیں ۔ ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے غیر پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے حکم:
    ’’ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘‘ (سورۃ التین :۸) اور
    ’’ کیا وہ جاہلیت کے فیصلہ سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں' کا انکار کر تا ہے۔‘‘(سورہ مائدہ:۵۰)

    تاتاری قانون الیاسق اور موجودہ وضعی قوانین :
    ہمارے ہاں عمومی طورپر تکفیر کرنے والے حضرات تا تاری قانون ’’ الیاسق‘‘ نامی مجموعہ قوانین کو بنیاد بناتے ہیںاور معاصر حکمرانوں اور اس سے متعلقہ اداروں کو کافر مرتد قرار دیتے ہیں نیز بطور دلیل امام ابن کثیر اور ابن تیمیہ علیھما الرحمہ کا حوالہ ذکر کرتے ہیں ۔
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابن کثیراورامام ابن تیمیہ رحمہما اللہ نے 'الیاسق' نامی مجموعہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے تاتاریوں کو کافر قرار دیا ہے لیکن ان کی تکفیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مجموعہ قوانین کو شرعی قوانین کے برابر حیثیت دیتے تھے اور یہ اعتقادی کفر ہے اور کسی بھی انسانی قانون کو شرعی قانون کے برابر قرار دیناصریح کفر ہے ۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسلام قبول کرنے والے تاتاریوں کے عقائد کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’ان اسلام کے مدعی تاتاریوں میں سے جو لوگ شام آئے ۔ ان میں سب سے بڑے تارتاری نے مسلمانوں کے پیامبروں سے خطاب کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو مسلمان اور ان کے قریب ثابت کرتے ہوئے کہا: یہ دو عظیم نشانیاں ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک محمد عربی ہیں اور دوسرا چنگیز خان ہے۔ پس یہ ان کا وہ انتہائی عقیدہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کا قرب تلاش کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ،جو مخلوق میں سے سب سے بزرگ ، اولاد آدم کے سردار اور نبیوں کی مہر ہیں، انہیں اور ایک کافر اور مشرکین میں سب سے بڑھ کر مشرک ،فسادی، ظالم اور بخت نصر کی نسل کو برابر قرار دیا؟ ۔ ان تاتاریوں کا چنگیز خان کے بارے عقیدہ بہت ہی گمراہ کن تھا۔ ان نام نہاد مسلمان تاتاریوں کا تو یہ عقیدہ تھا کہ چنگیز خان اللہ کا بیٹاہے اور یہ عقیدہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت مسیح کے بارے عقیدہ تھا۔ یہ تاتاری کہتے ہیں کہ چنگیز خان کی ماں سورج سے حاملہ ہوئی تھی ۔ وہ ایک خیمہ میں تھی جب سورج خیمہ کے روشندان سے داخل ہوا اور اس کی ماں میں گھس گیا۔ پس اس طرح اس کی ماں حاملہ ہو گئی ۔ ہر صاحب علم یہ بات جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے...اس کے ساتھ ان تاتاریوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ چنگیز خان کو اللہ کا عظیم ترین رسول قرار دیتے ہیں کیونکہ چنگیز خان نے اپنے گمان سے ان کے لیے جو قوانین جاری کیے ہیں یا مقرر کیے ہیں یہ ان قوانین کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو ان کے پاس مال ہے ' اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ چنگیز خان کا دیا ہوا رزق ہے اور اپنے کھانے اور پینے کے بعد(اللہ کی بجائے) چنگیز خان کا شکر اداکرتے ہیں اور یہ لوگ اس مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں جو ان کے ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے جو اس کافر ملعون' اللہ ' انبیاء و رسل ' محمد عربی اور اللہ کے بندوں کے دشمن نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پس یہ ان تاتاریوں اور ان کے بڑوں کے عقائدہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد محمد عربی کو چنگیز خان ملعون کے برابر قرار دیتے ہیں۔''

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے ’مجموعہ الفتاوی‘ کی عبارت پر غور کیجئے ۔
    1- تاتاریوں کا پہلا کفر کہ وہ چنگیز خان کو رسول اللہ ﷺ کے برابر سمجھتے تھے۔
    2- وہ چنگیز خان کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے ۔
    3- اور اس کے دیے گئے قوانین کی تعظیم کرتے تھے۔
    4- مجموعہ قوانین ’’الیاسق‘‘ کا انکار کرنے والے مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے تھے۔
    5- کھانے پینے کے بعد چنگیز کا شکر اداکرتے تھے۔

    یہ تمام امور ایسے صریح کفر یہ عقائد ہیں جن کے کفر اکبر ہونے میں دو بندوں کا بھی اختلاف ممکن نہیں لہذا’’الیاسق‘‘کے مجموعہ قوانین کے بارے تاتاریوں کاجو رویہ اورعقیدہ تھا علماء قائل ہیں۔
    پس آج بھی کوئی حکمران وضعی مجموعہ قوانین کومنجانب اللہ سمجھے یا اس کو خلاف اسلام کہنے والوں کے خون کو حلال سمجھے یااس قانون کے واضعین کو اللہ کے رسول ﷺ کے برابر کا درجہ دے تو ان کے کفر میں بھی کوئی شک نہ ہوگا ۔ لیکن یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگرچہ ہمارے حکمران عرصہ دراز سے وضعی قوانین کے مرتکب ضرور ہیں یہ یقینا ایک بہت بڑا گناہ ہے ، حرام ہے لیکن وہ اس کو منجانب اللہ یاخلاف شریعت سمجھنے والوں کے خون کوحلال یا قانون سازوں کو نبی کریم ﷺ کے برابر کادرجہ نہیں دیتے لہذا بغیر کسی کفریہ عقیدہ کے مطلق ان وضعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنےوالا کفر اکبر قرار دینے کی کوئی شرعی عقلی ، نقلی ، یا تاریخی دلیل موجود نہیں ہے ۔
    ہاں ایسا عمل کفر اصغریامجازی کفر(کفر دون کفر) کہلانے کا مستحق ضرور ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ،تابعین ، تبع تابعین اور آئمہ سلف کا بیان ہے۔

    واللہ اعلم​

    بشکریہ: ٹرو منہج ڈاٹ کام
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 01، 2013 #2
    Abu Muhammad

    Abu Muhammad مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 01، 2013
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبداللہ بن باز ؒ فرماتے ہیں
    ’’جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ وہ نظام اور قوانین جو لوگوں کے وضع کردہ ہیں وہ اسلامی شریعت سے افضل ہیں
    یا اس کے مساوی ہیں یا انہیں نافذ کرنا بھی جائز ہے تو وہ بھی کافر ہے ۔
    جو خواہ یہ عقیدہ رکھے کہ اسلامی شریعت ہے تو افضل لیکن اس بیسوی صدی میں اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے یا کہنا کہ اسلامی شریعت پر عمل مسلمانوں کی پسماندگی
    کا سبب ہے یا یہ کہنا کہ شریعت کا تعلق صرف ان امور سے ہے جو بندے اورا س کے رب کے مابین ہیں اور
    زندگی کے دیگر امورو معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ‘وہ بھی کافر ہے
    نیز اس میں یہ کہنا بھی شامل ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جو یہ حکم دیا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور شادی شدہ زانی کو سنگسار کردیا جائے تو یہ سزائیں عصر حاضر میں
    مناسب نہیں،یا یہ عقیدہ رکھنا کہ معاملات اور حدود میں اﷲ تعالیٰ کی شریعت کے حکم کے بغیر بھی فیصلہ کرناجائز ہے خواہ اس کے حکم کو حکم شریعت سے افضل نہ بھی سمجھے تو بھی وہ کافر ہے ‘کیونکہ اس طرح اس نے ان امورکو حلال ٹھہرالیا جن کے بارے میں اجماع ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں حرام قرار دیا ہے اورہر وہ شخص جو ان امو ر کو
    حلال قرار دے جن کو اﷲ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مثلاً زنا‘شراب سود اور(دوسرے معاملات میں) اﷲ تعالیٰ کی شریعت کے بغیر کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا تو اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وہ یقینی کافر ہے۔
    (مقالات وفتاویٰ صفحہ ۹۸ تا ۱۰۷ یا ۱۱۶ ‘۱۱۸‘۱۱۹)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 01، 2013 #3
    Abu Muhammad

    Abu Muhammad مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 01، 2013
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اللہ تعالیٰ کا فرمانِ ذیشان ہے:
    ( لَا یُشْرِکْ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا) (سورۃالکہف:۲۶)
    ’’اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘
    علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اللہ کے حکم میں کسی بھی قسم کے احکام کی آمیزش نہ کرے، حکم صرف
    اور صرف اللہ ہی کا تسلیم کرے۔ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو بھی حکم، جو فیصلہ اللہ نے کر دیا ہے اسے بغیر کسی ملاوٹ
    کے تسلیم کرنا ہے۔ اللہ کے فیصلوں میں سب سے پہلا فیصلہ ہے اس کے بنائے اور نازل کئے ہوئے قوانین جو لوگ
    انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی اتباع کرتے ہیں، جو دراصل شیطانی قوانین ہیں جو اس نے اپنے متبعین کے
    ذریعہ بنوائے ہیں یہ سراسر اللہ کی شریعت کے مخالف ہیں ان کی تابعداری کرنے والے بلا شک و شبہ" کافر" ہیں
    ، اللہ نے
    ان کی بصارت و بصیرت چھین لی ہے۔ یہ لوگ وحی الٰہی کے نور سے مکمل طور پر محروم ہیں۔‘‘
    (اضواء البیان ص:4/83-82)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 01، 2013 #4
    Abu Muhammad

    Abu Muhammad مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 01، 2013
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    کیا خیال ہیں ان دونوں شخصیات کے بارے میں کہ یہ بھی کیا تکفیری تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  5. ‏اپریل 01، 2013 #5
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    ابو محمد صاحب آپ بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان میں کوئی قانون کس طرح بنتا ہے اور اس کی ایپلیکیشن کیسے ہوتی ہے؟
     
  6. ‏نومبر 13، 2013 #6
    ابن الاسلام

    ابن الاسلام رکن
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2011
    پیغامات:
    43
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    38

    ان 360 طواغیت کے اختیار رکھنے والوں کی ووٹنگ سے بنتا ہے جو ماتھے پر کلمہ سجائے عمارت میں بیٹھتے ہیں۔ لیکن نافذ وزیر اعظم ، ججز اور سیکیورٹی ادارے کرتے ہیں۔
     
  7. ‏نومبر 13، 2013 #7
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    فقہ حنفیہ کا کون سا نمبر ہے؟
     
  8. ‏نومبر 13، 2013 #8
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    یہ سوال تو آپ سے کرنا چاہئیے تھا ۔
     
  9. ‏نومبر 13، 2013 #9
    متلاشی

    متلاشی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2012
    پیغامات:
    336
    موصول شکریہ جات:
    373
    تمغے کے پوائنٹ:
    92

    میرے بھائی بقول خوارجی خچر ارجاء والوں سے آپ یہ سوال کر رہے ہیں؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں