1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قوم لوط کے تین گناہ.

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از Bint e Rafique, ‏اگست 09، 2017۔

  1. ‏اگست 09، 2017 #1
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    قوم لوط کے تین گناہ۔

    حضرت لوط علیہ سلام کی قوم انتہائی قبیح اور مذموم فعل میں مبتلا تھی- یعنی "ہم جنس پرست" تھے -حضرت لوط علیہ سلام کے مسلسل سمجھانے بجھانے پر بھی یہ قوم ٹس سے مس نہ ہوئی اور آخر الله کی ازلی سنّت کے مطابق عذاب کا شکار ہوگئی -
    لیکن قرآن سے ایک چیز یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم ہم جنس پرستی جیسے قبیح فعل کے علاوہ دو مزید قبیح حرکتوں میں مبتلا تھی۔ اس میں ایک مسافروں کا راستہ روکنا اور دوسرے اپنی محفلوں میں سرعام فحش گفتگو کرنا تھا۔ جیسا کہ قرآن میں الله فرماتا ہے:
    "کیا تم مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور راستے روکتے ہو اور اپنی محفلوں میں برے کام )فحش گوئی ( کرتے ہو -تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔" سوره العنکبوت ٢٩
    اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم جنس پرستی تو ہم مسلمانوں میں اتنا عام نہیں ہے اور الله سے دعا ہے کہ آئندہ بھی نہ عام ہو، لیکن باقی دو مذموم افعال یعنی راستہ روکنا اور محفلوں میں فحش گوئی اتنی عام ہے کہ اب تو اس کو سرے سے گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بیوروکریٹ نے گزرنا ہو، کوئی سیاسی جلسہ ہو یا احتجاجی تحریک ہو یا کسی کا بائیکاٹ کرنا ہو۔۔ ہم یہ دیکھے بغیر کہ اس سے ہمارے مسلمان بھائی کو کتنی تکیلف کا سامنا کرنا پڑے گا، صرف اپنے جائز اور نا جائز مقاصد کو پورا کرنے کے لئے قوم لوط کے عمل کو اختیار کرنے سے گریزنہیں کرتے۔
    اسی طرح محفلوں میں فحش گوئی کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا اور اب یہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر دین کا فہم رکھنے والا اس کو برا تصور کرتا بھی ہے تو اس کو روکنے کا کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔
    آخر میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان مبارک پیش ہے: " جس نے بھی کسی قوم کی مشابہت اختیار کی قیامت کے دن وہ انہی کے ساتھ ہو گا" بخاری ، مسلم
    کیا ہم میں سے کوئی اس بات کا خواہش مند ہے کہ قیامت کے دن وہ قوم لوط کے ساتھ ہو؟؟
    الله سے دعا ہے کہ ہمیں ہر برے عمل سے بچنے اور گناہوں سے معافی طلب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 10، 2017 #2
    محمد مبشر بدر

    محمد مبشر بدر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2017
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

     
  3. ‏اگست 10، 2017 #3
    محمد مبشر بدر

    محمد مبشر بدر مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2017
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں اس کا تذکرہ وضاحت سے فرمایا ہے۔ ایسی ظالم قوم جس سے قبل کوئی بھی ان جیسے گناہ کی طرف نہیں گیا
     
  4. ‏اگست 10، 2017 #4
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    السلام علیکم
    صرف راستہ روکنا قوم لوط سے مشابہت کا سبب کیسے بنے گا۔ سیکیورٹی کی وجہ سے، تعمیراتی کام کی وجہ سے ، کبھی کسی کے گھر میں میت ہوجاتی ہے اور گھر میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے راستہ روکا جاتا ہے ۔
    کسی جائز وجہ سے راستہ روکنے پر تو یہ وعید نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں کسی کو دانستہ تنگ کرنے ، پریشان کر نے کی غرض سے راستہ روکنا اس میں شامل ہوسکتا ہے۔
     
  5. ‏اگست 10، 2017 #5
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    مجبوری بھول چوک اور انجانے میں کی گئی غلطی کی معافی ہے.
    بہر حال جزاک اللہ خیر
     
  6. ‏اگست 10، 2017 #6
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    شاید آپ نے پوسٹ توجہ سے نہیں پڑی بہنا.
     
  7. ‏اگست 10، 2017 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,198
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی!
    محو حیرت ہوں
     
  8. ‏اگست 11، 2017 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    732
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    قطع سبیل ایک خاص اصطلاح ہے جس کا مطلب راہزنی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قوم لوط کے سرداروں نے گزرنا ہوتا تھا تو ان کے لیے راستہ روک لیا جاتا تھا۔ نہ ہی اس کا تصور اس محدود آبادی میں ممکن ہے۔
     
  9. ‏اگست 11، 2017 #9
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    السلام علیکم
    محترم اثری بھائی آپ کس اثر کے تحت محو حیرت ہیں۔
     
  10. ‏اگست 11، 2017 #10
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جی عمر بهائی کس بات پر؟ ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں