1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قوم لوط کے تین گناہ.

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از Bint e Rafique, ‏اگست 09، 2017۔

  1. ‏اگست 11، 2017 #11
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    میں ححیرت میں ہوں کہ عمر بهائی محو حیرت ہیں
    ۔اس پوسٹ میں جو چیز وضاحت طلب ہے اس میں اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ۔
     
  2. ‏اگست 11، 2017 #12
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جناب آپکے سوال پر:
     
  3. ‏اگست 11، 2017 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,321
    موصول شکریہ جات:
    2,179
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    اس آیت میں قوم لوط کے جس (راستہ کاٹنے ) کا ذکر ہے ، اس سے مراد ( ڈاکہ زنی ،راہ زنی ، لوٹ مار ) ہے
    اس آیت کا ترجمہ علامہ عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    ( أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ ۔۔۔ )
    کیا تم لوگ (شہوت سے) مردوں کے پاس جاتے ہو، اور راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجالس میں برے کام کرتے ہو ؟

    اور اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
    (وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ 29؀) 29 ۔ العنکبوت :29) کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ ان لوگوں کی صرف یہی بدعادت نہیں تھی کہ وہ لونڈے بازی کرتے تھے بلکہ مسافروں کی راہ تکتے رہتے، پھر انھیں اپنے ساتھ بستی میں لے آتے اس سے لواطت بھی کرتے پھر اس کا مال اسباب نقدی وغیرہ چھین کر اسے اپنی بستی سے باہر نکال دیتے تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرکے بقائے نقل انسانی کے فطری طریق کو قطع کرتے تھے۔
    [ تَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ] یعنی یہ لوگ اجتماعی قسم کی لواطت کرتے تھے۔ مثلاً جب کوئی مسافر یا کوئی خوبصورت لڑکا ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اسے اپنے ڈیرے پر لے جاتے پھر باری باری ایک دوسرے کے سامنے اس سے لواطت کرتے تھے۔ اور اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ اور اپنی مجالس میں ایک دوسرے سے انتہائی لچر اور بےحیائی کی زبان استعمال کرتے تھے۔
    (تفسیر تیسیرالقرآن )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور تفسیر احسن البیان میں حافظ صلاح الدین یوسف صاحب لکھتے ہیں :
    اس کے ایک معنی تو یہ کیے گے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نو واردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لئے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے، قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کئے گئے ہیں، یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کی بجائے مردوں کی دبر استعمال کر کے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئے ہو (فتح القدیر)

    [ تَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ] یہ بےحیائی کیا تھی ؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلا لوگوں کو کنکریاں مارنا، اجنبی مسافر کا استہزاء و استخفاف، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قماربازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں "انتہیٰ

    اور امام قرطبی ؒ اپنی تفسیر میں ( تقطعون السبیل ) کے اوپر مذکور دونوں معنی لکھے ہیں :
    (وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ) قِيلَ: كَانُوا قُطَّاعَ الطَّرِيقِ، قَالَهُ ابْنُ زَيْدٍ. وَقِيلَ: كَانُوا يَأْخُذُونَ النَّاسَ مِنَ الطُّرُقِ لِقَضَاءِ الْفَاحِشَةِ، حَكَاهُ ابْنُ شَجَرَةَ. وَقِيلَ: إِنَّهُ قَطْعُ النَّسْلِ بِالْعُدُولِ عن النساء إلى الرجال.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  4. ‏اگست 12، 2017 #14
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,910
    موصول شکریہ جات:
    1,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    بات بد فعل کی ہے -اب وہ جس ارادے سے بھی کیا جائے - قوم لوط راہزنی کے لئے راستہ روکتے تھے -اب اگر آج کے دور میں کوئی راہزنی کے ارادے سے راستہ نہیں بھی روکتا بلکہ کسی اور ذاتی فائدے کے لئے روکتا ہے تو بہرحال حرام کام کرتا ہے- جیسے آجکل سیاسی جماعتیں جلسے جلوسوں کے لئے راستہ بلاک کرتے ہیں یا کسی بڑے سیاستدان نے کہیں سے گزرنا ہو اور روڈ بلاک کردی جائے تو یہ بھی حرام کام ہے- البتہ کسی اور نا گزیر وجوہ کی بنا پر راستہ روکا جائے تو اور بات ہے (واللہ اعلم)-
     
  5. ‏اگست 13، 2017 #15
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    لیکن اس کے لیے اس آیت سے استدلال مناسب نہیں ہے۔ ہر دلیل کو اس کے مقام میں رکھنا چاہیے۔ اس آیت میں راستہ روکنا نہ تو مراد ہے اور نہ ہی ذکر۔ الفاظ بھی "راستہ کاٹنے" کے ہیں۔
     
  6. ‏اگست 13، 2017 #16
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    محترم عمر بھائی
    السلام علیکم
    محترم اسحاق صاحب نے تفصیلی جواب عنایت کر دیا ہے۔ اشماریہ بھائی نے صحیح کہا ہے کہ ہر دلیل کو اس کے مقام پر رکھنا چاہیے ۔ پھر ادوار کے حساب سے مسائل کے حکم تبدیل ہوجاتے ہیں۔ آپ ماشاء اللہ عالم دین بن رہے ہیں اس بات کو مجھ جیسے عامی کم علم سے بخوبی زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں