1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیاس کی مذمت

'مصادر شریعت' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏دسمبر 18، 2011۔

  1. ‏دسمبر 20، 2011 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

  2. ‏دسمبر 20، 2011 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مضمون پڑہنے سے تو یہی اندازہوتا ہے کہ لکھنے والا قیاس سے مطلقا منع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے نزدیک قیاس صحیح یا غیر صحیح میں کوئی فرق نہیں ۔ ۔ ۔ اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس میں قیاس کا مطلقا رد نہیں جیسا کہ شیخ رفیق طاہر صاحب نے وضاحت کی ہے تو پھر بھی ان باتوں کی وضاحت ضروری تھی کہ :
    اللہ تعالی استاد محترم کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے ۔۔
     
  3. ‏دسمبر 20، 2011 #13
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    رفیق طاہر صاحب کی وضاحت کا شکریہ! اس سے ان کے مقصود کلام کی وضاحت ہو گئی۔ جزاکم اللہ خیرا بھائی!
    باقی شاید پہلا تاثر میرا بھی وہی تھا جو انس نضر صاحب کا تھا۔
     
  4. ‏فروری 07، 2012 #14
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    توجہ کریں۔
     
  5. ‏فروری 21، 2012 #15
    طاہر

    طاہر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 29، 2012
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    271
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    واقعی، رفیق طاہر صاحب کے مضمون سے مجموعی تاثر میرے ذہن میں بھی یہی بیٹھا کہ قیاس کی قطعی ممانعت کی گئی ہے۔ تاہم مضمون میں اہلِ عراق اور خصوصا ابو حنیفہ کا قیاس پر حد درجہ تکیہ، اچھی معلومات ہیں۔

    برادرم انس نضر صاحب کا مضمون (وضاحت) نہ صرف اہم بلکہ نہایت ضروری تھا کہ کسی بھی غلط فہمی کے احتمال کا راستہ بند کر دیا۔ اللہ کی عنایت ہے کہ وہ ہمارے لئے ایسے بندے فراہم کر دیتا ہے کہ ہم خود کو صریح غلطیوں سے بچا سکیں۔

    تاہم برادر رفیق طاہر کی خلوص نیت کا احترام کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس بہانے قیاس جیسے اہم موضوع پر کافی معلومات کا تبادلہ اور فراہمی کا ذریعہ اللہ کریم نے بنا دیا۔ جزاک اللہ بھائی۔

    اللہ کریم دونوں بھائیوں، اور سب اراکینِ مجلس کو اپنے کرم سے نوازے ،علم و ایمان اور ایک دوسرے کے لئے احترام و محبت میں اضافہ فرمائے اور ایک دوسرے کے خلاف غلط قیاس کرنے سے بچائے۔ آمین

    والسلام

    ’’رسمِ شبیری کیا ہے‘‘؟
     
  6. ‏فروری 21، 2012 #16
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332



    جزاک الله خیرا رفیق طاھر بھائی

    شاید بہت سے لوگوں نے آپکے مضمون کو صحیح سے نہیں پڑھا
    آپ نے وضاحت کردی اسکا بہت شکریہ

    الله ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرماے آمین
     
  7. ‏جولائی 31، 2017 #17
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    وَالصَّوَابُ وَرَاءَ مَا عَلَيْهِ الْفِرَقُ الثَّلَاثُ ، وَهُوَ أَنَّ النُّصُوصَ مُحِيطَةٌ بِأَحْكَامِ الْحَوَادِثِ ، وَلَمْ يُحِلْنَا اللَّهُ وَلَا رَسُولُهُ عَلَى رَأْيٍ وَلَا قِيَاسٍ ، بَلْ قَدْ بَيَّنَ الْأَحْكَامَ كُلَّهَا ، وَالنُّصُوصُ كَافِيَةٌ وَافِيَةٌ بِهَا ، وَالْقِيَاسُ الصَّحِيحُ حَقٌّ مُطَابِقٌ لِلنُّصُوصِ ، فَهُمَا دَلِيلَانِ : الْكِتَابُ وَالْمِيزَانُ ، وَقَدْ تَخْفَى دَلَالَةُ النَّصِّ أَوْ لَا تَبْلُغُ الْعَالِمَ فَيَعْدِلُ إلَى الْقِيَاسِ ، ثُمَّ قَدْ يَظْهَرُ مُوَافِقًا لِلنَّصِّ فَيَكُونُ قِيَاسًا صَحِيحًا ، وَقَدْ يَظْهَرُ مُخَالِفًا لَهُ فَيَكُونُ فَاسِدًا ، وَفِي نَفْسِ الْأَمْرِ لَا بُدَّ مِنْ مُوَافَقَتِهِ أَوْ مُخَالَفَتِهِ ، وَلَكِنَّ عِنْدَ الْمُجْتَهِدِ قَدْ تَخْفَى مُوَافَقَتُهُ أَوْ مُخَالَفَتُهُ
    ہر روز نت نئے پیدا ہونے والے مسائل کا حل کتاب و سنت کے نصوس سے ممکن ہے۔ اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی رائے اور قیاس کو دین میں بے جا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اللہ تعالی نے تمام احکامات کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ دین کے معاملے میں کتاب و سنت کے نصوص ہی مسلمان کے لیے کافی ہیں۔ صحیح قیاس قرآن و سنت کے موافق ہوتا ہے تو یہ دونوں کتاب اور میزان کے دلائل ہوئے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نص پر عالم مطلع نہیں ہوتا یا اس کو سمجھ نہیں پاتا تو ایسی صورت میں وہ قیاس کرتا ہے یہ قیاس یا تو صحیح ہوتا ہے یعنی نص کے مطابق ہوتا ہے اور یا نص کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے غلط ٹھہرتا ہے۔ نفس الامر میں قیاس کی نصوص سے موافقت یا مخالفت ضرور ہوتی ہے لیکن کبھی یہ مجتہد سے پوشیدہ رہ جاتی ہے۔
    عنوان الكتاب: إعلام الموقعين عن رب العالمين (ت: مشهور)
    المؤلف: محمد بن أبي بكر بن أيوب ابن قيم الجوزية أبو عبد الله
    المحقق: مشهور بن حسن آل سلمان أبو عبيدة ح
    الة الفهرسة: مفهرس فهرسة كاملة
    عدد المجلدات: 7

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں