1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیامت کی بڑی نشانی : دجال (فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ)

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 08، 2016۔

  1. ‏فروری 08، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12647423_970813162954909_5689884772363069084_n.jpg


    بسم الله الرحمن الرحيم


    قیامت کی بڑی نشانی ۔۔۔ دجال

    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 12-محرم الحرام-1435 کا خطبہ جمعہ "قیامت کی بڑی نشانی ۔۔۔ دجال" کے متعلق ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے ، دجال اور اسکے خطرناک فتنے کے متعلق گفتگو کی، جس کیلئے انہوں نے دجال کے اوصاف بیان کرتے ہوئے، اسکے متعلق معلومات، اور اس فتنے سے بچنے کیلئے قرآن و سنت کی روشنی میں تدابیر بتلائیں۔

    پہلا خطبہ:

    یقینا تمام تعریفیں اللہ عز وجل کیلئے ہیں، ہم اسکی کی تعریف بیان کرتے ہوئے اسی سے مدد کے طلبگار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، اور نفسانی و بُرے اعمال کے شرسے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنائت کردے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی راہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبودِ برحق نہیں ، اور اسکا کوئی بھی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -صلی اللہ علیہ وسلم-اللہ بندے اور اسکے رسول ہیں، اللہ تعالی کی جانب سے آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درودو سلام ہوں۔

    حمد اور درود و سلام کے بعد:

    اللہ سے ایسے ڈرو جیسے کہ ڈرنے کا حق ہے، وہ اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس سے ڈرتا ہے ، اور جو اسکی پناہ چاہے، اسی کی حفاظت فرماتا ہے۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی نے اس امت کو آخری امت بنایا، اور اسی امت میں قیامت کی نشانیاں ظہور پذیر ہونگی، اور اسی امت پر قیامت قائم ہوگی، قیامت کے قریب آنے کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا:

    اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ

    (قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ [القمر: 1]

    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قیامت کا ذکر کرتے تو آپکی آنکھیں سرخ اور آواز بلند ہوجاتی ، غصہ شدید ہو جاتا(اور یوں معلوم ہوتا) گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح یا شام حملہ کرنے والا ہے۔

    مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار قیامت کے بارے میں پوچھا، جیسے کہ قرآن مجید میں اسکا تذکرہ ہے:

    يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ

    لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ ان سے کہئے'':یہ بات تو میرا پروردگار ہی جانتا ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا ۔[الأعراف: 187]

    یہ اللہ تعالی کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے قیامت سے قبل کچھ علامات ہمیں بتلا دیں، تا کہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں، اسکی علامات کے قریب ہونے کے متعلق ارشاد فرمایا:

    فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا

    کیا اب یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ یکدم ان پر آپڑے؟حالانکہ اس کی نشانیاں تو آچکی ہیں ۔ [محمد: 18]

    قیامت کی جب بڑی نشانیاں رونما ہونا شروع ہوگئیں تو دیگر علامات بھی جلد ہی ظاہر ہو جائیں گیں، ایک بہت بڑی قیامت کی علامت ہے جس سے ہر نبی نے اپنی امت کو ڈرایا، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (اللہ تعالی نے جتنے انبیاء کرام کو بھیجا سب نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام سے لیکر تمام انبیاء کرام نے اس بات کا اہتمام کیا) بخاری

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسکا اہتمام کرتے ہوئے اپنی امت سے کہا:

    (بیشک میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں)
    بخاری

    حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں اسکے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے، اور صحابہ کرام کو یہ دعا ایسے سیکھاتے جیسے انہیں قرآن کی سورت سیکھایا کرتے تھے، مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو اسکے نکلنے کے بارے میں معلومات بھی دیتے تھے۔

    چنانچہ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ہمیں ایسے لگنے لگا کہ وہ قریب ہی موجود کھجوروں کے جھنڈ میں ہے" مسلم

    سلف صالحین بھی وقتاً فوقتاً اس فتنے کا ذکر کرتے تھے، چنانچہ سَفّارِینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ہر عالم کو چاہئے کہ دجال کے متعلق احادیث بچوں ، بڑوں ، اور خواتین سب کو بتلائے، خاص طور ہمارے ا س دور میں جہاں فتنوں کی بھرمار ہے، اور علمِ حدیث کے آثار ماند پڑ چکے ہیں"

    کسی سمندری جزیرے میں دجال اس وقت زندہ ہے ، اسے وہاں پر مضبوط بیڑیوں میں جکڑا گیا ہے، اسکے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھے گئے ہیں اور اسکے گھٹنے سے لیکر ٹخنوں تک لوہا ہے، اسکے منظرِ عام پر آنے کا وقت آچکا ہے، اس نے اپنے بارے میں خود کہا تھا:

    "مجھے لگتا ہے کہ میرے نکلنے کا وقت قریب آچکا ہے" مسلم

    اسکے نکلنے کی علامات یہ ہیں کہ حوران اور فلسطین کے درمیان واقع "بیسان" علاقے کی کھجوروں کا پھل بالکل کم ہوجائے گا۔ اس بارے میں یاقوت حموی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "میں نے کئی بار مشاہدہ کیا تو مجھے صرف دو کھجوروں کے علاوہ کوئی بھی کھجور پھل آور نظر نہیں آئی"

    • یہ بھی اسکی علامت ہے کہ بحیرہ طبریہ کا پانی خشک ہوجائے گا، اس بحیرہ کا پانی کم ہوچکا ہے اور مسلسل کم ہورہا ہے۔

    • اسکی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ملکِ شام میں موجود "زُغَر" چشمے کا پانی خشک ہوجائے گا ، اور یہاں کے باشندے اس چشمے کے پانی سے کھیتی باڑی نہیں کرینگے۔

    • دجال خراسان کے علاقے میں اصبہان شہر کے محلے "یہودیہ" سے نمودار ہوگا، اسکے ساتھ 70000 یہودی فوجی ہونگے ۔

    • دجال سرخ رنگ کا کڑیل جوان ہے ، اسکا لمبا چوڑا جسم ، ٹیڑھی لیکن بڑی پیشانی، اسکے گنگھریالے بال، اور آنکھ ایسے پھولی ہوئی ہے جیسے انگور ہو، یعنی کانا پن بالکل واضح ہوگا۔

    اسکو دیکھنے والے ایک صحابی تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

    " اتنی بڑی جسامت والا ہم نے کوئی نہیں دیکھا"

    اس دنیا میں سب سے بڑی مخلوق وہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

    (آدم علیہ السلام سے لیکرقیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑھ کر کوئی مخلوق نہیں) مسلم

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا حُلیہ بیان کردیا ہے تا کہ جب وہ ظہور پذیر ہوتو لوگ اسے پہچان لیں، کہ اپنے دعوے کےمطابق وہ رب العالمین نہیں ہے، بلکہ دجال ہے۔

    آپ نے اسکا حُلیہ اس انداز سے بیان کیا کہ اس سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کیلئے بیان نہیں کیا کیونکہ وہ اسی امت میں ظہور پذیر ہوگا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

    (میں تمہیں اسکے بارے میں ایسی تفصیلات بتلاؤں گا جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کیں، تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے، اور اللہ تعالی کی ذات ایسی ہرگز نہیں ہے) بخاری

    دجال اس وقت نکلے گا جب دین اور شرعی علم ناپید ہوجائے گا، تا کہ مؤمن اور کافر کے درمیان امتیاز ہو سکے، کامل ایمان والا مسلمان اور شک کرنے والے مسلمان میں فرق ہوسکے، وہ یہ دعوے کریگا کہ وہی رب العالمین ہے، اسکی وجہ سے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا جائے گا، اور اللہ تعالی اسے کچھ خرقِ عادت معجزے بھی دے گا۔

    جب وہ نکلے گا تو لوگ اس سے ڈر کر پہاڑوں کا رخ کرینگے، اور اسی وقت توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

    (تین چیزوں کے ظاہر ہونے کے بعد کسی کیلئے ایمان لانا یا نیک عمل کرنا فائدہ مند نہیں ہوگا، 1) مغرب سے سورج طلوع ہونے کے بعد 2) دجال 3) اور دابۃ الارض) مسلم

    اسکا فتنہ بہت ہی شدید ہوگا، حتی کہ وہ ایک آدمی کو قتل کرکے اسے اللہ کے حکم سے زندہ بھی کردے گا، ایک اور شخص کو تلوار کے وار سے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردے گا، پھر اسے قتل کرنے کے بعد جب آواز لگائے گا تو وہ مقتول شخص ہنستا ہوا آئے گا، ایک آدمی کو سر سے پاؤں تک آرے سے کاٹ دے گا، اور دجال اسکے دونوں ٹکڑوں کے درمیان سے چل کر گزر جائے گا، پھر دجال اسے کہے گا : اٹھو!، تو وہ صحیح سلامت کھڑا بھی ہو جائے گا۔

    ایک آدمی کو اسکی ٹانگوں سے کھینچ کر اپنے ساتھ موجود آگ میں ڈال دیگا، لوگ سمجھیں گے کہ اس نے اسے جہنم میں ڈال دیا ہے، لیکن حقیقت میں وہ جنت میں ڈالا گیا ہوگا، اس لئے کہ اسکے پاس موجود جنت اصل میں آگ ہے، اور آگ اصل میں جنت ہے۔

    اس کے ساتھ دو چلتی ہوئی نہریں بھی ہونگی، ایک نہر کا پانی دیکھنے میں سفید لگے گا، اور دوسری نہر کا پانی دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ محسوس ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (جو شخص اسے پائے تو وہ اس نہر کی طرف جائے جو دیکھنے میں آگ لگتی ہے، اپنی آنکھیں بند کرکے اور سر جھکا کر اس میں سے پی لے، وہ ٹھنڈا پانی ہوگا) مسلم

    وہ آسمان کو بارش نازل کرنے کا حکم دے گا ، تو آسمان بارش دینے لگے گا، اور زمین کواگانے کا حکم دیگا تو زمین اگانے لگے گی، وہ ایک ویرانے سے گزرے گا ، تو اسے خزانے نکالنے کا حکم کریگا ، ویران زمین اپنے خزانے نکال دے گی، اور بلکہ یہ تمام خزانے اسکے پیچھے چل پڑیں گے۔

    ابن عربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :

    "یہ سارے کا سارا معاملہ انتہائی ڈراؤنا ہے"

    وہ زمین میں بڑی تیزی سے چلے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی چال کے بارے میں کہا:

    (وہ ایسی تیز بارش کی طرح سفر کریگا جس کے پیچھے تیز اندھی ہو)مسلم

    یہ دجال زمین پر چالیس دن ٹھہرے گا، ایک دن سال کی طرح ، اور ایک دن ایک مہینے کی طرح، اور ایک دن ہفتے کے برابر ہوگا، جبکہ باقی ایام ہمارے دنوں کی طرح ہونگے۔

    دجال مکہ اور مدینہ کے علاہ ہر شہر میں جائےگا؛ اس لئے کہ اسکے ہر داخلی دروازے پر فرشتے حفاظت کیلئے مامور ہیں، اور جب بھی ان شہروں میں داخل ہونے کی کوشش کریگا، محافظ فرشتوں میں ایک فرشتہ تلوار لے کر اسکی جانب لپکے گا اور اسے داخل ہونے سے روک دےگا۔

    مدینہ کے علاوہ تمام کے تمام علاقے دجال سے ڈرے اور دبکے ہونگے، اس شہر میں دجال کا ڈر اور خوف داخل نہیں ہوگا۔

    اہل مکہ اور مدینہ کی طرف سے اللہ کی اس نعمت کا شکریہ اس انداز سے ادا ہوگا کہ وہ ان شہروں کو نیکیوں اور اعمال صالحہ سے بھر دیں، اس لئے کہ اللہ تعالی نے ان دونوں شہروں کو دجال سے محفوظ بنایا ہے۔

    جب دجال کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا تو یہ جبلِ اُحد کی مغربی جانب جرف کے شوریلے علاقے میں پڑاؤ کریگا، اور وہیں اپنا جھنڈا بھی لگائے گا، اس کی طرف خواتین کثرت سے نکل کر آئیں گی۔

    اس دوران مدینہ اپنے باشندوں کو تین سخت جھٹکے دے گا جس کی وجہ ہر کافر اور منافق دجال کی طرف نکل پڑے گا، ہر جگہ اور ہر وقت وہی شخص بہتر ہے جو برائی دیکھتے ہی اس سے روک دے،

    فرمانِ باری تعالی ہے:

    كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ

    تم ہی بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لیے لاکھڑا کیا گیا ہے: تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو۔ [آل عمران: 110]

    چنانچہ جب یہ مدینہ کے پاس پڑاؤ ڈالے ہوگا، اسکی طرف ایک نوجوان جائے گا اور اسکی ربوبیت کا انکار کر دیگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا:

    (وہ بہترین شخص ہوگا) یا فرمایا: (وہ بہترین لوگوں میں سے ہے ، اور کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو دجال ہے، جس کے بارے میں ہمارے پیارے پیغمبر نے ہمیں بتلا دیا تھا) بخاری

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مسلمانوں کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے ، اس لئے کہ اگر آپ زندہ ہوتے تو ہمیں دجال کے مقابلے کیلئے کسی اور کی ضرورت نہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

    (اگر وہ میرے ہوتے ہوئے ظہور پذیر ہوا تو میں تمہاری طرف سے اسکا مقابلہ کرونگا) مسلم

    اور نبی صلی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر شخص دجال کے مقابلے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرے۔

    اس لئے اس کے فتنے سے بچاؤ کیلئے کچھ تدابیر اختیار کریں، مثلاً: اللہ تعالی کے اسماء و صفات کے متعلق معرفت حاصل کرے، کیونکہ دجال کانا ہے، اور ہمارا رب سبحانہ وتعالی ایسا نہیں ہے، اسی طرح اللہ تعالی کو کوئی بھی دنیا میں نہیں دیکھ سکتا، لیکن دجال کو لوگ دیکھیں گے، اور دجال کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا؛ جسے پڑھنے والا اور اَن پڑھ دونوں پڑھ سکیں گے۔

    شیخ الاسلام رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "مؤمن کیلئے وہ کچھ واضح ہو جاتا ہے جو کسی اور کیلئے نہیں ہوتا، خاص طور فتنوں کے متعلق"

    فتنوں سے بچنا اور ان سے دور رہنا ، بھی اللہ کے حکم سے بچاؤ کا ایک ذریعہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (جو دجال کے آنے کے متعلق سنے، تو وہ اس سے دور ہی بھاگے؛ اللہ کی قسم ! ایک آدمی اسکے پاس آئے گا اوروہ سمجھ رہا ہوگا کہ وہ کامل مؤمن ہے لیکن پھر بھی اسکے شبہات کے پیچھے لگ جائے گا اس لئے کہ دجال کے پاس شبہات پھیلانے والی چیزیں ہوں گی ) ابو داؤد

    دین پر سختی سے کاربند رہنا بھی دجال سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ دجال کی وہی پیروی کریگا جو مؤمن نہیں ہے۔

    اسکے شر سے پناہ مانگتے رہنا بھی ایک اچھا طریقہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :

    (جب تم میں سے کوئی نماز میں تشہد پڑھے، تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، اور کہے:

    " اللهم إني أعوذُ بك من عذاب جهنَّم، ومن عذاب القبر، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجَّال ")


    "یااللہ! میں جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کی آزمائشوں، اور مسیح الدجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں"
    مسلم

    طاؤس رحمہ اللہ اپنےبیٹے کو دوبارہ نماز پڑھاتے تھے اگر وہ نماز میں یہ دعا نہ پڑھتے۔

    جبکہ قرآن مجید ہر فتنے سے بچاؤ کیلئے بنیادی اور بہترین ڈھال ہے، جوشخص دجال کے نکلنے کی خبر سنے اور اسے سورہ کہف کی پہلی دس آیات بھی یاد ہوں تو اللہ کے حکم سے اس کے فتنے سے محفوظ رہے گا، اور جو اسے دیکھ لے وہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات اس پر پڑھ دے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (تم میں سے جوبھی اس کو پائے تو اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھ دے) مسلم

    جب اس کے پیروکار زیادہ ہو جائیں گے اور اسکا فتنہ پھیل جائے گا تو دمشق میں مشرقی مینار کے پاس عیسی علیہ السلام نازل ہونگے، اللہ کے نیک بندے آپ کے اردگرد جمع ہو جائیں گے، اور جب دجال بیت المقدس کی طرف بڑھنے لگے گا تو عیسی علیہ السلام اسکا تعاقب فرمائیں گے، اور اسے فلسطین میں باب لُدّ کے پاس پکڑ لیں گے، جب دجال کی نظر عیسی علیہ السلام پر پڑے گی تو پانی میں نمک کی طرح پگھل جائے گا، اور عیسی علیہ السلام اسے اپنے نیزے کے ساتھ قتل کردینگے۔

    ان تمام تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

    اللہ کا وعدہ سچا ہے، قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک والی بات نہیں، قیامت آنن فانن قائم ہوگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

    (قیامت قائم ہوگی اور آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا اور برتن اس کے منہ تک نہ پہنچے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور دو آدمی کپڑے کی خرید وفروخت کر رہے ہوں گے اور ان کی خرید و فروخت مکمل ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی) مسلم

    مسلمان ہمیشہ ہر جگہ اور ہر وقت نیکیاں کرنے میں جلدی کرتا ہے، اسی لئے جب دین کو پرائی چیز سمجھ لیا جائے گا اور فتنے زیادہ ہونگے اس وقت مؤمن ہی نیکیاں کرینگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (چھ کاموں سے پہلے نیکیاں کما لو، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے، دھواں، دجال، دابۃ الارض، موت، اور قیامت آنے سے پہلے ) مسلم

    تنگی اور فراخی ہر حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بندے کیلئے بہترین ڈھال ہے :

    اسی لئے دجال نے تمیم الداری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے اس وقت پوچھا تھا جب انہوں نے دجال کو دیکھا، اس نے ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا، کہ انہوں کیا کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: مکہ سے ہجرت کر کے یثرب میں آگئے ہیں، دجال نے کہا: عرب کی اس سے لڑائی ہوئی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، دجال نے کہا: پھر کیا بنا انکا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: وہ اپنے اردگرد کے تمام عرب پر غالب آگئے ہیں، اور انہوں نے اسکی اطاعت قبول کرلی ہے، دجال نے انہیں کہا: کیا ایسا ہوگیا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں ، پھر دجال کہنے لگا: یہ ان کیلئے بہتر ہے کہ اسکی اطاعت قبول کرلیں۔ مسلم

    أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ

    (قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا [الأنبياء: 1]

    اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں یقینا وہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ :

    تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اُس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں جس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد - صلی اللہ علیہ وسلم -اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی اُن پر ، آل ،و صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔

    مسلمانو!

    اگرچہ دجال کا معاملہ بہت بڑا ہے لیکن نیک اعمال میں ریاکاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں فتنہ دجال سے بھی زیادہ خطرناک تھی،اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

    ( کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں کہ بتاؤں جو میرے نزدیک دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟)ہم نے کہا ہاں اللہ کے رسول، تو آپ نے فرمایا: (وہ ہے شرکِ خفی؛ کہ ایک شخص نماز ادا کرتے ہوئے اچھا انداز صرف اس لئے اپناتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں) احمد

    صاحبِ کتاب "تیسیر العزیز الحمید" کہتے ہیں:

    "ریا کاری بالکل مخفی ہوتی ہے اور اسکی طرف رغبت طاقتور چیز پیدا کرتی ہے اسی لئے ریا کاری سے بچاؤ مشکل ہوجاتا ہے؛ کیونکہ شیطان اور نفسِ امارہ دونوں مل کر ریا کار کے دل میں اسکے عمل کو اچھا کرکے پیش کرتےہیں، جبکہ مؤمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اللہ کیلئے اخلاص دونوں کو یک جا جمع کرتا ہے"

    یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:

    نَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

    اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    اللهم صل وسلم على نبينا محمد,یا اللہ !خلفائے راشدین جنہوں نے حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کئے یعنی ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہوجا؛ یا اللہ !اپنے رحم وکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہوجا۔

    یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما،شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، اے اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، اے اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو امن کا گہوارہ بنادے۔

    یا اللہ! ہمیں تمام فتنوں سے بچا، جو ظاہر ہوچکے ہیں ان سے بھی اور جو ابھی مخفی ہیں ان سے بھی محفوظ فرما۔

    یا اللہ! تیرے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کی مدد فرما، یا اللہ! انہیں ثابت قدم بنا، ان کے نشانے درست فرما، اور ان میں اتحاد پیدا فرما، یا اللہ! اپنے اور ان مجاہدین کے دشمنوں کا مقدر تباہی اور بربادی بنادے، یا رب العالمین۔

    یا اللہ!ہمارے حکمران کو اپنی چاہت کے مطابق توفیق دے، اس کے تمام کام اپنی رضا کیلئے بنا لے، یا اللہ !تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل اور شریعتِ اسلامیہ کو نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔

    اللہ کے بندو!

    إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

    اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]

    تم اللہ کو یاد رکھو جو صاحبِ عظمت و جلالت ہے وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو اور زیادہ دے گا ،یقینا اللہ ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، اللہ جانتا ہے جو بھی تم کرتے ہو۔

    مترجم شیخ ابن مبارک
    زیر تعلیم جامعہ الاسلامیہ مدینۃ المنورہ

     
    Last edited: ‏فروری 08، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں