1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیلولہ کی سنت :

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 07، 2015۔

  1. ‏مارچ 07، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    قیلولہ کی سنت :

    11034183_519644914840441_6035219100436201491_n.jpg

    قال رسول الله صلي الله عليه وسلم :قيلوا،فإن الشياطين لا تقيل


    ( السلسلة الصحيحة للألباني:1647 أخرجه ابونعيم والطبراني)
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 15، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    @اسحاق سلفی بھائی کیا قیلولہ کے بارے میں کچھ اور حدیث ہیں - اور کیا یہ حدیث صحیح ہے

    قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : قيلوا،فإن الشياطين لا تقيل !


    ( السلسلة الصحيحة للألباني:1647 أخرجه ابونعيم والطبراني)
     
  3. ‏مئی 15، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,553
    موصول شکریہ جات:
    2,212
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    آپ نے جو روایت سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ کے حوالہ سے نقل کی اس کا معاملہ تھوڑا گنجلک ہے ۔اسکے اسناد کےمطالعہ کے بعد بھی فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ روایت
    حسن ہے یا ضعیف ۔۔
    بہرحال قیلولہ کرنا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے ثابت ہے ، اس لئے اس کے مستحب ہونے میں شک نہیں ؛

    صحیح البخاری ، باب القائلة بعد الجمعة:
    باب: جمعہ کی نماز کے بعد سونا (قیلولہ )

    حدیث نمبر: 940

    عن حميد قال:‏‏‏‏ سمعت انسا يقول:‏‏‏‏"كنا نبكر إلى الجمعة ثم نقيل".

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ ، فرماتے تھے کہ ہم جمعہ سویرے پڑھتے، اس کے بعد دوپہر کی نیند لیتے، قیلولہ کرتے تھے۔

    Narrated Anas: We used to offer the Jumua prayer early and then have the afternoon nap.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حدیث نمبر: 941

    عن سهل قال:‏‏‏‏"كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم تكون القائلة".

    ہسہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے، پھر دوپہر کی نیند لیا کرتے، قیلولہ کیا کرتے تھے۔

    Narrated Sahl: We used to offer the Jumua prayer with the Prophet and then take the afternoon nap.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باب قول الله تعالى: {فإذا قضيت الصلاة فانتشروا في الأرض وابتغوا من فضل الله}:
    باب: اللہ عزوجل کا (سورۃ الجمعہ میں) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل (روزی، رزق یا علم) کو ڈھونڈو

    حدیث نمبر: 939

    حدثنا عبد الله بن مسلمة قال:‏‏‏‏ حدثنا ابن ابي حازم عن ابيه عن سهل بهذا وقال:‏‏‏‏"ما كنا نقيل ولا نتغدى إلا بعد الجمعة".
    سہل بن سعد نے یہی بیان کیا اور فرمایا کہ دوپہر کا قیلولہ اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے تھے۔
     
  4. ‏مئی 15، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اسحاق سلفی اس حدیث کے بارے میں بھی بتا دے - اردو مجلس پر کسی نے پوسٹ کی ہے

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

    قیلولہ یعنی دوپہر کے وقت تھوڑی دیر کےلیے سونا ۔ اس کے بارے میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

    «اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ، وَبِالْقَيْلُولَةِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ»
    دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کر کے قیام اللیل میں سہولت حاصل کرو ،اور سحری کھا کر دن میں روزے کے لیے حاصل کرو ''۔

    تحقیق وتخریج:

    (ابن ماجہ: 1693۔ ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں زمعہ بن صالح ہے جو ضعیف ہے۔ دیکھیے: انوار الصحیفہ، ص: 441۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے ضعیف سنن ابن ماجہ للالبانی۔



    متبادل کے طور پر کئی احادیث ہیں جن میں قیلولہ کا تذکرہ ہے۔ اور نبی کریمﷺاور صحابہ کرام کے قیلولہ کا ذکر ہے۔ مثلاً: صحیح البخاری: 6281 میں نبی کریمﷺکے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں جاکر قیلولہ کا تذکرہ ہے۔اس کے علاوہ فرمان نبی ﷺہے: قیلولہ کیا کرو کیونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔ (سلسلہ صحیحہ للالبانی: 1647)

    http://urdumajlis.net/index.php?threads/قیلولہ-کیجیے.35352/
     
  5. ‏مئی 16، 2015 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,553
    موصول شکریہ جات:
    2,212
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    آپ نے فرمایا :: اسحاق سلفی اس حدیث کے بارے میں بھی بتا دے،
    تو جناب بندہ ۔۔اللہ کی توفیق سے جواب پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ حدیث
    سنن ابن ماجہ كتاب الصيام۔۔صیام کے احکام و مسائل

    باب : ما جاء في السحور
    باب: سحری کھانے کا بیان۔
    حدیث نمبر: 1693

    حدثنا محمد بن بشار حدثنا ابو عامر حدثنا زمعة بن صالح عن سلمة عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"استعينوا بطعام السحر على صيام النهار وبالقيلولة على قيام الليل".
    عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن کے روزے میں سحری کھانے سے مدد لو، اور قیلولہ سے رات کی عبادت میں مدد لو“ ۱؎۔
    تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۶۰۹۷، ومصباح الزجاجة : ۶۱۳) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ۲۷۵۸)
    علامہ الالبانی رحمہ اللہ ۔۔سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة "، برقم (2758) میں لکھتے ہیں :
    ضعيف .

    أخرجه ابن ماجه (1693)، وابن نصر في "قيام الليل" (ص40)، وابن خزيمة في "صحيحه" (ق56/12)، والطبراني في "الكبير" (3/129/1)، والمخلص في "الفوائد المنتقاة" (3/151/1)، وابن عدي (150/2 و 171/2)، والحاكم (1/425)، والبيهقي في "الشعب" (2/34/1)، وابن النجار في "ذيل تاريخ بغداد" (10/15/2)، وغيرهم عن زمعة بن صالح عن سلمة بن وهرام عن عكرمة عن ابن عباس مرفوعاً قال الحاكم: " زمعة بن صالح وسلمة بن وهرام ليسا بالمتروكين اللذين لا يحتج بهما "، وكذا قال الذهبي في "تلخيصه"، ولكنه أورد زمعة في "الضعفاء والمتروكين" وقال: "ضعفه أحمد وأبو حاتم والدارقطني"، ولذلك قال الحافظ في "التقريب": " ضعيف ، وحديثه عند مسلم مقرون " .
    والحديث أورده ابن أبي حاتم في "العلل " (1/241)، من طريق علي بن عبد العزيز عن يزيد بن أبي يزيد الجزري عن المور ( كذا ) عن أبي هريرة مرفوعاً به، وقال: سألت أبي عنه ؟ فقال: هؤلاء مجهولان .اﻫ
    یعنی یہ حدیث ضعیف ہے ، اس ایک راوی۔۔زمعہ بن صالح ۔۔کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے
     
  6. ‏مئی 16، 2015 #6
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    جی عامر یونس بھائی!
    یہی بات ہم نے مختصر لکھی تھی تو شاید آپ کو ہضم نہیں ہوئی۔
     
  7. ‏مئی 16، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاھتے ہے
     
  8. ‏مئی 22، 2015 #8
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    یہ دیکھیں محترم!
    تحقیق وتخریج:
    (ابن ماجہ: 1693۔ ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں زمعہ بن صالح ہے جو ضعیف ہے۔ دیکھیے: انوار الصحیفہ، ص: 441۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے ضعیف سنن ابن ماجہ للالبانی۔


    اور

    تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ۶۰۹۷، ومصباح الزجاجة : ۶۱۳) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ۲۷۵۸)
    علامہ الالبانی رحمہ اللہ ۔۔سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة "، برقم (2758) میں لکھتے ہیں :
    ضعيف .

    أخرجه ابن ماجه (1693)، وابن نصر في "قيام الليل" (ص40)، وابن خزيمة في "صحيحه" (ق56/12)، والطبراني في "الكبير" (3/129/1)، والمخلص في "الفوائد المنتقاة" (3/151/1)، وابن عدي (150/2 و 171/2)، والحاكم (1/425)، والبيهقي في "الشعب" (2/34/1)، وابن النجار في "ذيل تاريخ بغداد" (10/15/2)، وغيرهم عن زمعة بن صالح عن سلمة بن وهرام عن عكرمة عن ابن عباس مرفوعاً قال الحاكم: " زمعة بن صالح وسلمة بن وهرام ليسا بالمتروكين اللذين لا يحتج بهما "، وكذا قال الذهبي في "تلخيصه"، ولكنه أورد زمعة في "الضعفاء والمتروكين" وقال: "ضعفه أحمد وأبو حاتم والدارقطني"، ولذلك قال الحافظ في "التقريب": " ضعيف ، وحديثه عند مسلم مقرون " .
    والحديث أورده ابن أبي حاتم في "العلل " (1/241)، من طريق علي بن عبد العزيز عن يزيد بن أبي يزيد الجزري عن المور ( كذا ) عن أبي هريرة مرفوعاً به، وقال: سألت أبي عنه ؟ فقال: هؤلاء مجهولان .اﻫ
    یعنی یہ حدیث ضعیف ہے ، اس ایک راوی۔۔زمعہ بن صالح ۔۔کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے


    اب ہماری پوسٹ کو پڑھیں:
    یہی بات ہم نے مختصر لکھی تھی تو شاید آپ کو ہضم نہیں ہوئی۔
    کچھ سمجھ میں آیا؟
     
  9. ‏جنوری 30، 2018 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,127
    موصول شکریہ جات:
    8,177
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس تھریڈ کی بنیاد جس حدیث پر ہے، اس کےمتعلق ایک بھائی @عثمان خادم نے ’ ذاتی گفتگو ‘ کے ذریعے پوچھا ہے :
    اس حدیث کو طبرانی اور ابو نعیم وغیرہ نے روایت کیا ہے، کئی علما نے طبرانی کی سند کی بنیاد پر اسے ضعیف کہا ہے ، لیکن شیخ البانی اور اور شیخ احمد صدیق الغماری نے دیگر اسانید کی تحقیق کرکے اسے ’ حسن ‘ قرار دیا ہے۔ دیکھیے :
    ( السلسلۃ الصحیحۃ ج 4 ص 202 حدیث نمبر 1647 )
    (المداوی ج 4 ص 633 حدیث نمبر 2473 )
    واللہ اعلم بالصواب ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں