1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كيا بيوى كو راضى ركھنا ضرورى ہے

'حقوق زوجیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 27، 2016۔

  1. ‏ستمبر 27، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا بيوى كو راضى ركھنا ضرورى ہے

    خاوند اپنى بيوى كے سلسلہ ميں كيا واجبات ہيں، كيا بيوى كو راضى ركھنا واجب ہے يا نہيں ؟

    ميرا خاوند ميرے ساتھ اپنے خاندان كے باقى افراد جيسے معاملات نہيں كرتا، مجھ سے زيادہ اپنے والدين اور بہن بھائيوں كا خيال كرتا ہے، ميں چاہتى ہوں كہ جس طرح انہيں خوش ركھتا ہے مجھے بھى ركھے اور ميرا اہتمام كرے، كيا آپ مجھے كوئى ايسا سبب بتا سكتے ہيں جو ميں خاوند كو بتاؤں تا كہ وہ مجھ سے زيادہ محبت كرنے لگے اور ميرا زيادہ خيال كرے ؟


    Published Date: 2016-09-26

    الحمد للہ:

    خاوند پر اپنى بيوى كے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوك كرنا واجب ہے، خاوند كو اپنى بيوى كے كھانے پينے اور لباس و رہائش وغيرہ كا خرچ اٹھانا چاہيے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { اور ان عورتوں كے ساتھ حسن معاشرت كے ساتھ پيش آؤ }النساء ( 19 ).

    اور ايك دوسرے مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان اس طرح ہے:

    { اور ان عورتوں كو بھى اسى طرح حق حاصل ہيں جس طرح ان پر ہيں اچھے طريقہ كے ساتھ، اور مردوں كو ان عورتوں پر مرتبہ حاصل ہے، اور اللہ تعالى غالب و حكمت والا ہے }البقرۃ ( 228 ).

    امام احمد اور ابو داود رحمہ اللہ نے معاويہ بن حيدۃ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں ميں نے عرض كيا:

    اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم ميں سے كسى كى بيوى كے ہم پر كيا حقوق ہيں ؟

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جب تم خود كھاؤ تو بيوى كو بھى كھلاؤ، اور جب تم پہنو تو بيوى كو بھى پہناؤ اور اس كے چہرے پر مت مارو، اور نہ ہى اسے قبيح اور برا كہو اور گھر كے علاوہ اس سے كہيں بائيكاٹ مت كرو "


    مسند احمد حديث نمبر ( 200025 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2142 ).

    ابو داود رحمہ اللہ كہتے ہيں: تم اسے قبيح مت كہو كا معنى يہ ہے كہ تم اسے اللہ تيرا برا كرے مت كہو.

    علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اس حديث كو حسن صحيح قرار ديا ہے.

    اور پھر كئى ايك احاديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى عورتوں كے ساتھ بہتر سلوك كرنے كى وصيت فرمائى ہے، اس ليے خاوند كو اللہ سبحانہ و تعالى كا ڈر اور تقوى اختيار كرتے ہوئے بيوى سے حسن سلوك كرنا چاہيے، اور ہر ايك كو اس كا مقرر كردہ حق دينا چاہيے، كيونكہ والدين كے ساتھ حسن سلوك اور صلہ رحمى بيوى كے ساتھ حسن سلوك اور اس كى تكريم كے منافى و متعارض نہيں، اس كے ليے آپ اپنے خاوند كو جس كى نصيحت كر سكتى ہيں وہ سب سے بہتر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا درج ذيل فرمان ہے:

    " تم ميں سے سب سے اچھا اور بہتر وہى ہے جو اپنى بيوى كے ليے اچھا ہے، اور ميں تم ميں سے اپنى بيويوں كے ليے سب سے بہتر اور اچھا ہوں "

    سنن ترمذى حديث نمبر ( 3895 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1977 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

    چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بہترى اور خير كا معيار بيوى كا اكرام بنايا ہے، اس ليے جو كوئى بھى مسلمانوں ميں سب سے بہتر اور اچھا بننا چاہتا ہے تو وہ اپنى بيوى سے حسن سلوك كرے، اور يہ حسن سلوك بيوى بچوں اور عزيز و اقارب سب كو شامل ہے.

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا كہ:

    " تم جو كچھ بھى اللہ كى رضا كے ليے خرچ كرو گے اس كا اللہ كے ہاں اجروثواب پاؤ گے، حتى كہ وہ لقمہ جو تم اپنى بيوى كو كھلاؤ گے اس كا بھى اجرملےگا "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 56 ).

    آپ كو بھى چاہيے كہ آپ اپنى معاملات ميں كمى و كوتاہى تلاش كر كے اس كمى كو دور كرنے كى كوشش كريں، كيونكہ ہو سكتا ہے آپ كى جانب سے خاوند كے حق ميں كوتاہى ہو رہى ہو، اور آپ اس صحيح خيال نہ كرتى ہوں اس كے ليے آپ زيبائش نہ اختيار كرتى ہوں، اور اس كى ضروريات پورى كرنے ميں ليت و لعل سے كام ليتى ہوں.

    اس كے ساتھ ساتھ آپ مزيد صبر و تحمل سے كام ليں كيونكہ صبر و تحمل ميں ہى خير كثير اور بہتر انجام پايا جاتا ہے.

    كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { صبر كرو يقينا اللہ تعالى صبر كرنے والوں كے ساتھ ہے }الانفال ( 46 ).

    اور فرمان بارى تعالى ہے:

    { يقينا جو تقوى اختيار كرے اور صبر كرے تو يقينا اللہ تعالى صبر كرنے والوں كا اجروثواب ضائع نہيں كرتا }يوسف ( 90 ).

    اور ايك مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

    { آپ صبر كريں يقينا انجام متقيوں كے ليے ہى ہے }ھود ( 49 ).

    اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہمارے اور سب مسلمانوں كے حالات كى اصلاح فرمائے.

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال وجواب

    https://islamqa.info/ur/43166
     
  2. ‏جنوری 18، 2017 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    بیوی کو ”راضی۔ رکھنا“ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ اسی لئے شریعت نے شوہروں کو بیوی کے سلسلہ میں جتنی بھی ”ہدایات“ دی ہیں، ان میں بیوی کو ”راضی رکھنا“ شامل نہیں ہے۔ (اگر یقین نہ آئے تو اوپر ۔مراسلہ نمبر ۔1 کو ”بغور“ پڑھئے )

    اس کے برعکس بیوی پر واجب ہے کہ وہ شوہر کو ”راضی رکھے“۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 19، 2017 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    ابتسامہ

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  4. ‏جنوری 19، 2017 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کمپیوٹر کی پرائیویسی کا خیال کرنا بھی ضروری ہے! وگرنہ۔۔۔۔۔
    یا پھر کوئی میرے جیسا ہو کہ ؛زوج من اردو نمی دانم!
     
    Last edited: ‏جنوری 19، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 19، 2017 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ویسے بیوی کو راضی رکھنا کیا اس کے لیے دلیل صریح کی ضرورت ہے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں