1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

كيا بيوہ عورت دوران عدت اپنے داماد كے سامنے آ سكتى ہے؟

'عدت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 07، 2015۔

  1. ‏فروری 07، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,869
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    كيا بيوہ عورت دوران عدت اپنے داماد كے سامنے آ سكتى ہے؟

    ميرے والد صاحب فوت ہو گئے ہيں اور ميرى والدہ اپنى عدت ميں ہيں، كيا ميرى والد كے ليے ميرے شوہر يعنى اپنے داماد كے سامنے آنا جائز ہے يا نہيں، معلومات مہيا كرنے كى آپ كو اللہ تعالى جزائے خير عطا فرمائے ؟

    الحمد للہ:

    بيوہ عورت كو عدت كے دوران اپنے اسى گھر ميں رہنا چاہيے جس گھر ميں رہتے ہوئے اس كى خاوند كى وفات ہوئى تھى وہ چار ماہ دس دن كى عدت اسى گھر ميں رہےگى اور بغير كسى ضرورت كے باہر نہيں نكل سكتى.

    دوران عدت ممنوعہ امور معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 10670 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

    جن امور سے عدت والى عورت كو منع كيا گيا ہے اس كے علاوہ باقى امور ميں وہ طبعى اور عام زندگى بسر كريگى اور اس ميں اسے كسى تكلف اور اپنے اوپر شدت كى ضرورت نہيں بلكہ عادت كے مطابق رہےگى.

    عورت كا داماد اس كے ليے محرم ہے، وہ اس كے سامنے آ سكتى ہے اور اس كے ساتھ بيٹھ كر بات چيت كر سكتى ہے اور عادتا چہرہ اور ہاتھ وغيرہ بھى ننگا ركھ سكتى ہے.

    اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { تم پر تمہارى مائيں اور تمہارى بيٹياں اور تمہارى بہنيں اور تمہارى پھوپھياں اور تمہارى خالائيں اور تمہارى بھانجياں اور تمہارى بھتيجياں اور تمہارى وہ مائيں جنہوں نے تمہيں دودھ پلايا ہے، اور اور تمہارے رضاعى بھائى اور تمہارى بيويوں كى مائيں... }النساء ( 23 ).

    شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

    ايك عورت كى شادى شدہ بيٹى ہے اور يہ عورت اپنے داماد سے پردہ كرتى اور داماد كے ساتھ بيٹھ كر نہيں كھاتى بلكہ تقريبات اور عيد كے موقع پر اسے سلام بھى نہيں كرتى اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

    شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

    داماد اپنى ساس كے ليے محرم ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { اور تمہارى بيويوں كى مائيں .. }

    سب اہل علم اس كے محرم ہونے پر متفقہ ہيں.... ليكن اس كے سامنے چہرہ ننگا ركھنا اور پردہ اتارنا يا اس كے ساتھ كھانا كھانا ضرورى نہيں؛ بلكہ اگر وہ ايسا كرے تو افضل و بہتر ہے، اس سے ان ميں محبت و الفت پيدا ہوگى، اور اس طرح اللہ سبحانہ و تعالى كے اس حكم پر ہوگا جو اس كے ليے مباح كيا گيا ہے " انتہى

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 21 / 26 ).

    اور شيخ رحمہ اللہ ايك جگہ يہ فرماتے ہيں:

    " عدت والى عورت اپنى ضرورت و حاجت گھر ميں پورى كريگى، اپنے اور مہمانوں كے ليے كھانا تيار كر سكتى ہے چاند كى روشنى ميں گھر كى چھت پر اور باغيچہ ميں چہل قدمى كر سكتى، اور جب چاہے غسل كر سكتى ہے، جس سے چاہے بغير كسى خرابى و فتنہ و شك والى بات كر سكتى ہے، اور عورتوں سے مصافح كر سكتى ہے، اسى طرح اپنے محرم سے بھى، ليكن غير محرم سے نہيں، اور اگر اس كے پاس كوئى غير محرم نہ ہو تو وہ اپنے سر سے كپڑا اور چادر بھى اتار سكتى ہے " انتہى

    ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 190 ).

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال وجواب

    http://islamqa.info/ur/175427
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں