1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لائف انشورنس

'انشورنس' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏دسمبر 27، 2016۔

  1. ‏دسمبر 27، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    لائف انشورنس

    لائف انشورنس، میڈیکل انشورنس اور ایسے ہی ہزاروں انشورنس اور بیمہ کے خوش نما اور پر فریب نعروں سے گھرا ہوا آج کا انسان ان میں سے کسی نہ کسی کے دام فریب کا شکار ہو ہی جاتا ہے، کل کا کسی کو پتہ بھی تو نہیں، ہر شخص اپنے غیر یقینی مستقبل سے ڈرتا ہے، سوچتا ہے کہ دنیا میں اس کی فکر کرنے والی ذات بس اسی کی ہے، کوئی ماوراء ہستی نہیں ہے جو اس کی پروا کرے، ایسے میں وہ اپنا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے احتیاطاً ہر تدبیر اختیار کرتا ہے، اور ان آنکھوں نے اکثر ایسی تدبیروں کو الٹی پڑتے دیکھا ہے کیونکہ جو ذات مسبب الاسباب ہے اس سے لو نہ لگا کر ہم فانی دنیا پر تکیہ کر بیٹھتے ہیں، سمجھتے ہیں ہماری منصوبہ بندی ہی سب کچھ ہے، اور یوں یہ منصوبہ بندیاں بارہا عرش سے فرش پر لے آتی ہیں، میں پلاننگ کا انکاری نہیں، عرض تو صرف یہ کرنا ہے اپنی تدابیر کے بعد عرش پر مستوی ذات پر بھی کچھ بھروسہ اور توکل کر لیا جائے، محض انسانی کاوشوں پر اس دار فانی میں ترقی اور کامیابی کی پوری عمارت کھڑی کرنا کہاں تک صحیح ہے؟ بندہ مومن کا یہی تو امتیاز ہے کہ وہ تدبیر کرنے کے ساتھ ساتھ توکل بھی کرتا ہے، صرف اپنی ذات پر ہی تکیہ نہیں کرتا.
    بہر حال، تو میں بات کر رہا تھا انشورنس کی، کمال کی بات یہ ہے کہ ظاہراً اتنے خوشنما اور ہمدردی سے پر ان نعروں کی حقیقت سوائے ایک ظاہری فریب کے اور کچھ نہیں، یہ محض ایک کاروباری ہتھکنڈا اور سودی چنگل ہے جو ہمدردی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، کوئی بھی انشورنس کمپنی صارف کو انشورنس کی پالیسیاں اسی وقت دیتی ہیں جبکہ وہ بیمار نہ ہو، صارفین کو بیماری کا خوف دلا کر اور اسے اس کے مستقبل کی ایک ممکنہ خوفناک تصویر دکھا کر اسے ہمدردی کا جام پیش کیا جاتا ہے، بارہا ایسا ہوا کہ صارف بیمار نہیں ہوتا بلکہ ایک صحت مند زندگی گزار کر عالم بقا کو روانہ ہوا، یا بیماریاں بہت معمولی رہیں، ایسے میں جس خدشے کے تحت انشورنس کے غبارے میں ہوا بھری گئی تھی، وہ خدشہ از خود رفع ہو جاتا ہے اور غبارے کی ہوا کا تو کیا کہنا.....
    اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف، جب ہم بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں تو انسانی ہمدردی کا دم بھرنے والے یہی لوگ انشورنس کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ اس وقت صاف ہوتا ہے کہ بیماری کا ذمہ اٹھانا ہی ہے، لہذا بڑی خوشنمائی سے ذمہ اٹھا لیا جاتا ہے، اگر انشورنس اور ضمانت کا یہی مطلب ہوتا ہے تو الامان و الحفیظ ایسی ضمانت سے، حسبي الله ونعم الوكيل، نعم المولى ونعم النصير.
    مانتا ہوں ہم سب پریشان حال ہیں اور بڑی عسرت بھری زندگی گزارتے ہیں، ایسے میں بیماری جب آتی ہے تو معیشت کی کمر توڑ دیتی ہے، لیکن اوپر اللہ کی ذات ہے، جو سب دیکھ رہی ہے، بیماری بھی اسی کے حکم سے آتی ہے اور شفا بھی وہی دیتا ہے، پریشانیاں اسی کے حکم سے ختم ہوتی ہیں، اس سے تعلق جوں جوں مضبوط ہوگا یہ ساری تکالیف اور پریشانیاں عارضی معلوم ہوں گی، قانون فطرت ہے "إن مع العسر يسرا" کہ ہر پریشانی کے ساتھ آسانی ہے، اور فطرت کا یہ اصول ہر جگہ کار فرما ہے، کمی ہے تو بس اس اصول پر ایمان و یقین کی.....

    از شعیب طیار​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں