1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لامذہب کون؟

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏جنوری 08، 2016 #91
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ابتسامہ ۔
     
  2. ‏جنوری 08، 2016 #92
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    یہاں میں آپ کو بھی وہی کہنا چاہوں گا جو میں نے اس سے قبل محترم عبدالرحمان بھٹی صاحب کو ان کی ایک پوسٹ کے حوالے سے کہا تھا -

    کہ :

    جہالت آپ کے الفاظ سے ٹپک رہی ہے- اگر آپ کو تقلید اور تحقیق کا فرق معلوم ہوتا تو اس قسم کی موشگافیاں نہ کرتے- بغیر دلیل کے اہل علم کی پیروی کو "تقلید" کہتے ہیں- اور دلیل کے ساتھ پیروی کو تحقیق کہتے ہیں- اور دین اسلام میں دلیل قرآن و احادیث نبوی صل الله علیہ و آ له وسلم ہیں - ایک غیر مقلد کسی دینی مسلے میں عمل سے پہلے اہل علم سے قرآن و صحیح احادیث نبوی کی دلیل مانگتا ہے- جب کہ مقلد صرف اپنے امام کی راے کو ترجیح دیتا ہے - چاہے اس کا امام کسی ناسخ آیت یا ضعیف حدیث سے مسلے کا انسباط کر رہا ہو - مقلد کی دل میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ایک ہی امام ہے جس سے غلطی یا خطاء محال ہے اس لئے مسلے میں مزید تحقیق کیے بغیر اور کسی دوسرے اہل علم سے اسی مسلے میں اس کی مجتہدانہ راے لئے بغیر "اندھوں " کی طرح اپنے امام کی راے کو حرف آخر سمجھتا ہے - اور یہی ایک مقلد کی جہالت کا خاصا ہے جو کہ بلخصوص "احناف " میں پائی جاتی ہے-
     
  3. ‏جنوری 08، 2016 #93
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! آپ اپنی حدود سے باہر نکل کر دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے کہ کتنے ”آپ جیسے“ ہیں اور کتنے ”آپ جیسے“ نہیں!!!!!!!
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 3
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 09، 2016 #94
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانی ؒ مقلد تھے اور انہوں نے آئمہ مجہتدین کی تقلید کو بدعت قرار نہیں دیا -

    موصوف غنیۃ الطالبین میں رقمطراز ہیں کہ

    ''
    ولا ینظر إلی أحوال الصالحین (وأفعالھم) بل إلی ما روي عن الرسولﷺ والاعتماد علیه حتی یدخل العبد في حالة ینفرد بھا عن غیرہ'' (ج۲؍ص۱۴۹)


    '' صالحین (علماء ومشائخ) کے افعال واعمال (اور اقوال) کو پیش نظر نہ رکھا جائے بلکہ اس چیز کو پیش نظر رکھا جائے جو آنحضرت ؐ سے مروی ہے اور اسی مروی(حدیث) پر اعتماد کیا جائے خواہ اس طرح کرنے سے کوئی شخص دوسرے لوگوں سے ممتاز ومنفرد ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ''

    مزید یہ کہ :

    اگر شیخ جیلانی کے عقائد و نظریات میں کوئی بگاڑ ہوتا (یعنی تصوف ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ) تو ابن تیمیہ ؒ اس کی ضرور نشاندہی اورتردید فرماتے مگر اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ ابن تیمیہ ؒ نے شیخ جیلانی ؒ کا نہ صرف ذکر ِخیر فرمایا ہے بلکہ انہیں 'اکابر الشیوخ'، 'الشیخ الامام' اور 'أئمتنا' میں شمار فرمایا ہے۔ (دیکھئے مجموع الفتاویٰ: ج۱۱؍ ص۶۰۴،ج۵؍ ص۸۵)
     
  5. ‏جنوری 11، 2016 #95
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    چلئے ہم آپ مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق اوردیگر کتب آثار کا تھوڑاجائزہ لیتے ہیں اورمعلوم کرتے ہیں کہ کتنے مسئلہ اورفتوی معلوم کرنے والوں نے مفتی اور جن سے مسئلہ معلوم کیاجارہاتھا، ان سے دلیل کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر اکثریت ایسی نکلی جنہوں نے دلیل کا مطالبہ نہیں کیا توپھر خیر القرون میں مقلدین کا وجود تسلیم کریں گے یاپھر اپنی ہی ضد اور ہٹ دھرمی پر بدستور اورحسب معمول گامزن رہیں گے۔
    مقلد کے دل میں یہ بات کبھی نہیں ہوتی،جس کاآپ اظہار کررہے ہیں، مقلد تویہ کہتا اورمانتاہے کہ ہمارامذہب صواب ہے لیکن خطاکا احتمال ہے اور دوسرے کا مذہب خطاہے لیکن صواب کا احتمال ہے ۔اوریہ بات تقریبا اصول فقہ کی ہرکتاب میں لکھی ہوئی ہے۔اس کے باوجود مطلقایہ کہنا کہ مقلد کے دل میں یہ ہمیشہ ہوتاہے ،غلط تعبیر اور مبالغہ آرائی سے خالی نہیں۔اورکچھ لوگ ہرجماعت ،ہرگروہ اورہرمسلک میں ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر تشدد اورغلو ہوتاہے ،جب لوگوں نے اللہ کے رسول کی ذات وصفات اورتعریف میں غلو میں کیاہے توپھر امام ابوحنیفہ اوردیگر ائمہ کیسے اس سے بچ سکتے ہیں؟
    دوسری بات یہ فرمائی کہ
    مقلد کے دل میں ہمیشہ یہ ہوتاہے

    ہم تویہ جانتے تھے کہ دل کی باتیں صرف علیم بذات الصدور اورغلام الغیوب ہی جانتاہے لیکن الہام اور کشف کو شرک کے درجے تک پہنچانے والے بھی دل کی باتیں جاننے کے مدعی ہیں تواب کس سے فریاد کی جائے۔
    ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
    وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے
    اس سے تقلید اورعدم تقلید آپ کس منطق سے کشید کررہے ہیں؟وہ ذراہمیں بھی سمجھائیں،شیخ عبدالقادرجیلانی تو بڑی بات ہیں ہرمسلمان یہ کہتاہے کہ رسول اللہ کی ہی اتباع ہونی چاہئے اور بعد از خدا رسول اللہ سے زیادہ اتباع کے قابل کوئی اورنہیں۔لیکن ملین ڈالر کا سوال یہ ہوتاہے کہ اتباع کی شکل کیاہوگی،تقلید یاعدم تقلید ،اگرآنجناب کا جواب یہ ہے کہ اتباع کی شکل عدم تقلید ہے تو اس کی بادلائل وضاحت کردیں ،ہم تو تقلید کو بھی اتباع کی ہی ایک شکل سمجھتے ہیں اور شیخ عبدالقادر جیلانی نے کہیں بھی تقلید کی مذمت نہیں کی،کہیں تقلید کو بدعت نہیں بتایا ،کہیں مقلدین کو گمراہ نہیں کہا۔اورکہتے بھی کیسے، ساری زندگی تو ان کی فقہ حنبلی کی خدمت کرتے ہوئے گزری۔لمحہ فکریہ توان لوگوں کیلئے ہے جو تقلید کو بدعت بھی کہتے ہیں اورپھر شیخ کے کلام سے استدلال بھی کرتے ہیں؟
    یہ بڑی اچھی بات فرمائی آپ نے، یعنی معیار حق ابن تیمیہ ٹھہرے، اگرابن تیمیہ کسی کی تعریف کریں اور کوئی نقص وعیب نہ گردانیں تو وہ شخصیت پاک وبے عیب ٹھہرے اور اگر ابن تیمیہ کسی کے بارے میں کچھ لکھ دیں (صحیح یاغلط)توبے چارہ اس داغ کو دھوتے دھوتے زندگی گزاردے لیکن داغ نہ دھلے۔
    اب تک تو احناف ہی بدنام تھے کہ ان کیلئے ابوحنیفہ معیار حق ہیں جو ابوحنیفہ نے کہہ دیا وہ آخری بات ہوگئی ،لیکن پتہ چلتاہے کہ ہمارے ناقدین بھی ہم سے کم کسی طرح نہیں ہیں،بس فرق اتناہے کہ احناف جوکچھ کرتے ہیں اسی کا زبانی اقرار بھی کرتے ہیں اورہمارے یہ ناقدین زبان سے کچھ اورکہتے ہیں اورعمل کچھ ہوتاہے یعنی زبان اوردل ایک دوسرے کے رفیق نہیں بلکہ فریق ہیں۔
    وماتوفیقی الاباللہ
     
  6. ‏جنوری 11، 2016 #96
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    شیخ مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں متعدد مقام پر مروی ہے کہ یہاں فصوص(فصوص الحکم لابن عربی )نہیں بلکہ نصوص (قرآن وحدیث )کی ضرورت ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’فتوحات مدینہ‘‘ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال)نےہم کو ’’فتوحات مکیہ‘‘(ابن عربی کی ایک کتاب)سے بے نیاز کردیاہے۔اس کے علاوہ صوفیاء حضرات کے اقوال اور احوال کاشریعت میں معتبر نہ ہونے کے بارے میں تو متعدد اقوال ہیں ۔
    کیااس سے عدم تقلید کشیدکیاجاسکتاہے جب کہ شیخ سرہندی پکے حنفی ہیں، لکھتے ہیں کہ تمام ائمہ برحق ہیں اور سب نے دین کی خدمت کی لیکن امام ابوحنیفہ کا مسلک نگاہ کشفی میں ایک بڑے دریا کی صور ت میں آتاہے اوردیگر ائمہ کے مسالک نہروں کی صورت میں ہیں۔اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی امام ابوحنیفہ کو دیگر ائمہ سے افضل ماناہے۔
    بعینہ یہی بات شیخ عبدالقادرجیلانی کے کلام کی ہے اوران کے مذکورہ کلام سے عدم تقلید کشید کرنابجائے خود ایک لطیفہ ہے۔
    وماتوفیقی الاباللہ
     
  7. ‏جنوری 12، 2016 #97
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    صالحین اور فقہاء و مجتہدین کو ایک برابر نہ سمجھیں۔ تقلید صرف فقہا کی کی جاتی ہے۔
     
  8. ‏جنوری 12، 2016 #98
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    باقی باتوں کا جواب تو بعد میں دیا جائے گا پہلے آپ یہ فرمائیں کہ جس تقلید کے آپ رات دن گن گاتے ہیں کیا اس تقلید کے اصول نبی کریم صل الله علیہ و اله وسلم سے لے کر قیامت تک کے مسلمانوں پر منطبق ہوتے ہیں ؟؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کے اپنے امام کی (جن کی تقلید کے گن احناف دن رات گاتے ہیں) اس معاملے میں ان کی کیا حیثیت ہے ؟؟ جو چیز قرون اولیٰ میں نہیں تھی اس کو دین کا جزو بنا دیا گیا - اور اس پر اتباع کا معلمہ چڑھا دیا گیا - "بقول آپ کے کہ "لیکن ملین ڈالر کا سوال یہ ہوتاہے کہ اتباع کی شکل کیا ہوگی،تقلید یاعدم تقلید ،اگرآنجناب کا جواب یہ ہے کہ اتباع کی شکل عدم تقلید ہے تو اس کی بادلائل وضاحت کردیں ،ہم تو تقلید کو بھی اتباع کی ہی ایک شکل سمجھتے ہیں" - تو آپ سے ملین ڈالر نہیں بلکہ ایک سادہ سا سوال ہے کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے مبارک دور میں اس اتباع کی کیا نوعیت اور صورت تھی؟؟ کیا تب بھی اتباع کی یہ صورت "تقلید" ہی کہلاتی تھی کیوں کہ فقہی مسائل تو ان کے دور میں بھی موجود تھے ؟؟ مزید یہ کہ آپ کے اپنے پیارے امام اتباع کے نام پر کس کی تقلید کیا کرتے تھے؟؟ - کیوں کہ آپ جناب احناف کے خود ساختہ مذہبی اصول کےتحت ہر عامی پر تقلید واجب ہے- تو آپ کے اپنے امام بھی تو کبھی نہ کبھی عامی رہے ہونگے - اب ظاہر ہے کہ وہ پیدائشی مجتہد تو ہو نہیں سکتے- تو اب سوال ہے کے پھر ایسی تقلید کا احناف کے پاس کیا جواز باقی رہا جس تقلید کو ان کے اپنے امام نے کبھی سرانجام نہیں دیا؟؟
     
    Last edited: ‏جنوری 12، 2016
  9. ‏جنوری 12، 2016 #99
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    تقلید اور عدم تقلید کا مسئلہ تو فورم پر بہت جگہ بکھراہواہے،اورمزید کاکوئی فائدہ نہیں ہے،آپ نے مصنف عبدالرزاق اورمصنف ابن ابی شیبہ والی بات کا جواب نہیں دیاکہ قرون مفضلہ کے عوام الناس مفتی حضرات سے دلیل کا مطالبہ کرتے تھے یانہیں کرتے تھے۔سیدھی سی بات ہے اس کا جواب دے دیں اور راحت پائیں۔
    امام ابوحنیفہ تقلید کرتے ہیں ،تقلید نہیں کرتے تھے ،وہ عامی تھے یامجتہد تھے، ان سب سوالوں سے کوئی فائدہ نہیں، منکرین حدیث کے بھی سوالات ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جب کتب حدیث تالیف نہیں کی گئی تھیں تب لوگ کس کی پیروی کرتے تھے۔
    مجتہدین سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہاہے، ہرزمانہ میں مجتہدین رہے ہیں اورمجتہدین کا ہوناہی یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ کچھ ان کے مقلدین اورپیروکار بھی ضرور ہوں گے کیونکہ استاد کا وجود تبھی ہوسکتاہے جب کہ اس کے کچھ شاگرد ہوں۔
    بہرحال لاطائل مسائل سے کوئی فائدہ نہیں،اصل سوال جس کی وضاحت ماقبل میں طلب کی گئی ہے اس پر توجہ دیں تو مہربانی ہوگی۔
    وماتوفیقی الاباللہ
     
  10. ‏جنوری 12، 2016 #100
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    تقلید مفضی الی الشرک:
    تقلید بعض اوقات مفضی الی الشرک ہو تی ہے ۔ جب مقلد قرآن و حدیث کی مخالفت میں کسی عالم کی بات کو مانے اور قرآن و حدیث سے یکسر اغماض برتے، قرآن مجید کو صرف تبرک کے لیے پڑھے لیکن عملاً اس کو دستور حیات ماننے سے انکار کرے اور یہ گمان کرے کہ ہمارے امام سے غلطی اور خطأ ناممکن ہے اور اس کا ہر قول حق اور ثواب ہے اور اپنے دل میں یہ بات جما رکھے کہ ہم اپنے امام کی تقلید ہرگز نہ چھوڑیں گے اگرچہ ہمارے مذہب کے خلاف قرآن وحدیث سے دلیل قائم بھی ہو جائے ۔ایسی تقلید شرک تک پہنچانے والی ہے ۔
    مولانا سرفراز خاں صفدر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    ’’ کوئی بدبخت اور ضدی مقلد دل میں یہ ٹھان لے کہ میرے امام کے قول کے مخالف اگر قرآن و حدیث سے بھی کوئی دلیل قائم ہو جائے تو میں اپنے مذہب کو نہیں چھوڑوں گا تو وہ مشرک ہے ، ہم بھی کہتے ہیں ، لا شک فیہ(اس میں کوئی شک نہیں)۔‘‘
    (الکلام المفید ،ص:۳۱۰)
    مگرافسوس ایسی تقلید کے اثرات علماء کرام تک میں موجود ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں:
    شیخ الہند محمود الحسن صاحب خیار مجلس(البیعان بالخیار ما لم یتفرقا) کے مسئلہ میں لکھتے ہیں :
    ’’ الحق والانصاف ان الترجیح للشافعی فی ھذہ المسئلۃ و نحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفہ۔‘‘
    ’’ حق اور انصاف یہ ہے کہ اس مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کو ترجیح حاصل ہے مگر ہم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں ہم پر ان کی تقلید واجب ہے۔‘‘(تقریر ترمذی ،ص:۳۹)
    تقلید غیر مفضی الیٰ الشرک:
    شیخ الحدیث حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ :
    ’’حنفیہ تقلید کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اسے واجب کہتے ہیں اور اہل حدیث تقلید کی مذمت کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں تو پھر اتحاد کیسے؟
    جواب: حرمت اور وجوب کے قائل دو قسم کے لوگ ہیں:
    (۱)غالی : جن کے درمیان نزاع حقیقی ہے ۔
    (۲) محققین: دراصل ان میں نزاع لفظی ہے ۔
    جس تقلید کی اہلحدیث مذمت کرتے ہیں اور اس کو حرام کہتے ہیں ان کے ادلہ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی تقلید کی حرمت و مذمت کا محققین حنفیہ بھی اقرار کرتے ہیں اور جس تقلید کو حنفیہ واجب کہتے ہیں اس کے ادلہ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی تقلید سے اہلحدیث کو بھی مفر نہیں ۔
    تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ دین میں تین قسم کی تقلید حرام ہے ۔
    ۱۔ استحسان تربیت کی وجہ سے’’ تقلید آباء ‘‘پر اکتفاء کرنا اور قوت فکر اور دلیل کی طرف رجوع نہ کرنا یعنی قرآن و سنت سے اعراض اور جدی طریق پر جمود
    ۲۔ ایسے شخص کی تقلید کرنا جو قابل اتباع نہیں
    ۳۔ قیام حجت کے بعد بھی سابق طریق پر اڑے رہنا
    تقلید کے جواز یا وجوب کی صورت
    جب مکلف خود مسئلہ کی تحقیق نہ کر سکے اور اس کو تفصیل معلوم نہ ہو تو اس صورت میں بعض دفعہ تقلید جائز اور بعض دفعہ واجب ہو جاتی ہے مگر جو تقلید کی مطلق مذمت کرتے ہیں وہ اس صورت کو تقلید نہیں کہتے اور جو جائز یا واجب کہتے ہیں وہ اسے تقلید کی قسم قرار دیتے ہیں۔(الاصلاح ص۱۵۹)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں