1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لباس..... ترقی یا تباہی؟

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از بنتِ تسنيم, ‏دسمبر 30، 2018۔

  1. ‏دسمبر 30، 2018 #1
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    IMG_20181230_172621_107.jpg
    لباس...... ترقی یا تباہی؟
    یہ تصویر آپ نے دیکھی. یہ محض ایک اتفاق ہے، بھتیجی کی گڑیا دیکھتے ہوئے ذھن بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا. اپنی پرانی گڑیاں نکال کر خوب مشاہدہ کیا.
    لباس انسانی شخصیت و کردار اور حیا کا عکس ہے اور اسکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شیطان نے آدم و حوا سے سب سے پہلے حیا چھیننے کی ہی کوشش کی تھی. لباس اور حیا ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں کہ اگر حیا باقی ہے تو لباس میں لازماً نظر آئے گی اور لباس نہیں تو شرم و حیا کا تصور بھی نہیں.

    أصحابِ سبت کی طرح مسلمان قوم نے لباس کے معاملے میں گلیاں بنانی شروع کر دی ہیں. فیشن و جدیدیت کے نام پر غیر قوموں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے غیرت کو دفن کیا جا چکا ہے.

    چلیں، صرف گڑیاں دیکھ کر اندازہ کریں کہ بات صرف لباس کی نہیں رہ گئی، سن 1997 اور 2007 کی گڑیاں جسمانی لحاظ سے بچیاں ہیں جبکہ 2017 کی گڑیا، جسمانی لحاظ سے کس درجہ پر ہے، سمجھ بوجھ والوں کے لیے اشارہ کافی ہے.

    ایسا نہیں کہ آج سے دس یا بیس سال پہلے اس طرح کی گڑیاں نہیں تھیں. ہمیں یاد ہے کہ ٹی وی پر باربی اور بابرا dolls کے اشتہارات آتے ہوتے تھے. گڑیا بہت خوب صورت، نوجوان کلی، fairy frock ،
    حرکت کرتی ہوئی، آنکھیں مٹکاتی،،،،،
    ہمیں تب یہ بہت اچھی لگتی تھیں. لیکن یہ سب 2، 3 اشتہارات پر مشتمل تھا.

    آج کی مسلمان بچی جب پیدا ہی ہوتی ہے تو اسکو باربی یا باربرا dolls اور dolls house تحفے میں ملتا ہے. اور dolls house، زیادہ تر جس میں گڑیا کے لیے ایک کمرہ بیوٹی پارلر کی طرح سجا ہوتا ہے. جب تھوڑی بڑی ہوتی ہے تو شہزادیوں والے کارٹونز دیکھنے کو ملتے ہیں. نہایت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج کل کی مسلمان بچیوں، لڑکیوں کے انداز و اطوار tangled کی rapunzel، frozen کی ،Elsa, anna وغیرہ ہیں.

    لیکن قرآن مجید کو پسِ پشت ڈالنے والی اور قرآن مجید کو صرف مذہبی کتاب سمجھنے والی قوم، کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کتنی بڑی دلیل ہے.

    یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿الأعراف ۲۶﴾
    "اے آدم (علیہ السلام) کی اوﻻد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوے کا لباس، یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں."

    خطاب صرف مسلمانوں سے نہیں، پوری اولادِ آدم سے ہے. اور اس آیت کو سمجھنے کے لیے 14 علوم کی بھی ضرورت نہیں.
    آیت میں لباس کے تین مقاصد بیان ہیں.
    1. ستر پوشی
    2. موجب زینت( شخصیت و کردار کی خصوصیت )
    3. تقوی کا حصول( حیا دار لباس سے تقوی حاصل ہوتا ہے..... یہ اس سے بڑھ کر ہے.

    ایک اور آیت میں اللہ عزوجل لباس کے مقاصد ارشاد فرماتے ہیں؛
    وَّ جَعَلَ لَکُمۡ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمُ الۡحَرَّ وَ سَرَابِیۡلَ تَقِیۡکُمۡ بَاۡسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴿النحل ۸۱﴾
    "اور اسی نے تمہارے لیے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں۔ وه اسی طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ."

    1. گرمی سے بچاؤ
    2. جھاد و قتال کے وقت

    دونوں آیات میں اللہ عزوجل کھول کر بتا رھے ہیں کہ لباس اسکی نشانیوں میں سے بھی ہے اور اسکی نعمتوں میں سے بھی.

    لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے. لیکن بات کو اختصار کے ساتھ سمجھانے کے لیے میں ادارہ ایقاظ کا ایک آرٹیکل تحریر کے ساتھ منسلک کر رہی ہوں. جو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے. "سرمایہ دارانہ نظام اور جنسیانے کا عمل"

     
  2. ‏دسمبر 30، 2018 #2
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    سرمایہ دارانہ نظام اور جنسیانے کا عمل

    بچیوں کے لباس پر سپرنگر جرنل نامی ایک مغربی ادارے کی ایک تحقیق سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق مارکیٹ میں بچیوں کے لباس کچھ زیادہ ہی جنسیانہ ہیں جس کی وجہ سے کم عمر بچیاں جو کہ ابھی ذہنی طور پر جنسیت کی مائل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتی ان پر بھی جنسیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس اسٹڈی کے مطابق نوعمر بچیوں کے لئے جو لباس آن لائن دستیاب ہیں ان میں ٣٠ فیصد تک لباس جنسیت زدہ (sexualizing) ہیں۔ ایک نظریہ ہے جسے انگریزی میں Objectification theory کہتے ہیں۔ جس کے مطابق مغرب میں عورتوں کو بکثرت مردوں کی نگاہوں کی ہوس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں عورتیں بھی اپنے آپ کو اسی طور پر سمجھنا اور پیش کرنا شروع کر دیتی ہیں، نتیجتاً عورتوں کے اندر دھیرے دھیرے یہ شعور پختہ ہونا شروع ہوجاتا ہے کہ ان کا جسم مردوں کی پسند کے اعتبار سے ڈھالنے اور فیصلے کرنے کی کوئی شئے ہے۔ ویسے ایک عجیب بات ہے۔ جو باتیں ایک اوسط درجے کے عام مسلمان کے لئے قابل مشاہدہ ہوتی ہیں ان نتائج تک پہونچنے کے لئے مغرب میں باقاعدہ کچھ کرنا پڑتا ہے اور اس کووہاں پر “ریسیرچ “کہتے ہیں۔ ہے نا عجیب بات؟بعض اعتبارات سے، ایمانی فراست ایک اوسط درجے کے مسلمان کو بھی شاید سماجی علوم کے ماہرین سے بہت آگے لے جاتی ہے۔

    بچیوں کی جنسی نفسیات کی بات آہی گئی ہے تو” بھارت” سے بھی ایک تحقیق آئی ہے جو کہ خیر سے ابھی تک مشرقی ملک ہی ہے ۔ بھارت کو مغربیانے کا عمل کسی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اسی سے اندازہ کر لیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک تحقیق کے مطابق بچیوں کے لئے اب لڑکوں سے تعلقات رکھنا جسے جدید زبان میں relationship کہا جاتا ہے ایک ناگزیر چیز بن گئی ہے۔ یہ ایک ساکھ اور شان کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کوئی لڑکی اگر ایسی ہو جس کا کوئی بوائے فرینڈ نہ ہو تو وہ اپنی سہیلیوں کے طرف سے ایک دباؤ محسوس کرتی ہے اپنے آپ کو اس طرح کے تعلقات قائم کرنے پر مجبور پاتی ہے۔ایسی میں جو لڑکی ذہنی طور کوئی بوائے فرینڈ رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتی وہ بھی ماحول کے جبر کی وجہ سے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ بھی “کچھ “ہے اپنے آپ کو اس طرح کے تعلقات پر مجبور پاتی ہے۔ ماحول کے اس جبر کی بنا پرکبھی کبھی ان تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے انہیں اپنے بوائے فرینڈ کے” مطالبوں” کے آگے جھکنا بھی پڑتا ہے۔

    بشکریہ ادارہ ایقاظ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں