1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لعان کے بارے میں ایک سوال اہل علم سے

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از بنیامین, ‏فروری 16، 2017۔

  1. ‏فروری 16، 2017 #1
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    شوہر، بیوی پر تہمت زنا لگائے پھر گواہ پیش نہ کر سکے تو لعان ہے،
    لیکن اگر بیوی شوہر پر تہمت زنا لگائے یا اپنی آنکھوں سے شوہر کو حالت زنا میں دیکھے تو کیا بیوی کے لیے لعان نہیں ہے؟
    دلائل سے جواب مطلوب ہے،،

    Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 16، 2017 #2
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    ابن داؤد بھائی
    حضر حیات بھائی
    اسحاق سلفی بھائی
    توجہ فرمائیں

    Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
     
  3. ‏فروری 16، 2017 #3
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    @خضر حیات بھائی
    @اسحاق سلفی بھائی
     
  4. ‏فروری 17، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,450
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
    سوال :
    اگر بیوی خاوند پرزنا كى تہمت لگائے تو كيا بيوى لعان كر سكتى ہيں ؟
    ميں يہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ جو عورت اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے تو كيا وہ اپنے خاوند كے ساتھ لعان كر سكتى ہے جيسا كہ سورۃ النور ميں بيان ہوا ہے ؟
    يا كہ يہ صرف خاوند پر جارى ہو گا جو اپنى بيوى پر تہمت لگاتا ہے ؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    الحمد للہ:

    لعان دو وجہ كى بنا پر مشروع ہے:

    پہلى وجہ:
    جب خاوند اپنى بيوى پر زنا كى تہمت لگائے، اور اس كے پاس چار گواہ نہ ہوں، تو خاوند كو حد قذف سے بچنے كے ليے لعان كرنے كا حق حاصل ہے.

    دوسرى وجہ:
    وہ اپنے سے بچے كى نفى كرنا چاہتا ہو.

    اس ميں اصل دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ہے:
    ( وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ...الآيات) النور/6
    { جو لوگ اپنى بيويوں پر بدكارى كى تہمت لگائيں اور ان كے پاس اپنے علاوہ اس كا كوئى اور گواہ نہ ہو تو ايسے لوگوں ميں سے ہر ايك كا ثبوت يہ ہے كہ چار مرتبہ اللہ كى قسم كھا كر كہيں كہ وہ سچوں ميں سے ہيں }.
    { اور پانچويں مرتبہ كہے كہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ تعالى كى لعنت ہو }.
    { اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہو سكتى ہے كہ وہ چار مرتبہ اللہ كى قسم كھا كر كہے يقينا اس كا خاوند جھوٹ بولنے والوں ميں سے ہے}.
    { اور پانچويں دفعہ كہے كہ يقينا اس پر اللہ تعالى كا غضب ہو اگر اس كا خاوند سچوں ميں سے ہو }النور ( 6 - 9 ).

    امام ابن كثير رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:
    " اس آيت كريمہ ميں خاوند كے ليے نكلنے كى راہ بيان كى گئى ہے كہ جب ان ميں سے كوئى اپنى بيوى پر بدكارى كى تہمت لگائے، اور اس كے ليے اسے ثابت كرنا اور گواہ پيش كرنے مشكل ہوں تو پھر وہ بيوى كے ساتھ لعان كر سكتا ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديا ہے.
    وہ اس طرح كہ وہ بيوى كو قاضى اور حكمران كے سامنے لا كر اس كے ساتھ اس تہمت پر لعان كرے، تو قاضى اور حاكم چار گواہوں كے مقابلہ ميں اسے چار بار اللہ كى قسم اٹھوائے كہ وہ سچ بول رہا ہے، يعنى اس نے جو اس پر زنا كى تہمت لگائى ہے وہ اس ميں سچا ہے، اور پانچويں بار يہ كہے كہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ كى لعنت ہو.

    جب يہ كہہ چكے تو اس لعان كى بنا پر شافعى حضرات اور علماء كى ايك جماعت كے ہاں عورت اس كے نكاح سے نكل جائيگى اور اس پر ہميشہ كے ليے حرام ہو جائيگى، اور خاوند اسے اس كا مہر ادا كريگا، اور اس عورت پر زنا كى حد واجب ہو گى.

    اور اس سے يہ حد اس وقت تك ختم نہيں ہو سكتى جب تك وہ بھى لعان نہ كر لے، اگر وہ بھى پانچ قسميں اٹھائے، چار بار كہے كہ اللہ كى قسم وہ جھوٹا ہے، اور پانچويں بار كہے كہ اگر وہ ( خاوند ) سچا ہو تو اس ( مجھ ) پر اللہ كا غضب ہو " انتہى.

    اور رہا بيوى كا مسئلہ كہ جب وہ اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے اور چار گواہ پيش نہ كرے تو اسے حد قذف لگائى جائيگى؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { اور وہ لوگ جو پاكدامن عورتوں پر زنا كى تہمت لگائيں پھر چار گواہ پيش نہ كر سكيں تو انہيں اسى كوڑے لگاؤ، اور كبھى بھى ان كى گواہى قبول نہ كرو، يہ فاسق لوگ ہيں }النور ( 4 ).

    اور يہ آيت تہمت ميں مرد اور عورت سب كو شامل ہے.

    امام قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اللہ سبحانہ و تعالى نے آيت ميں عورتوں كا ذكر كيا ہے اس ليے كہ وہ اہم ہيں، اور عورتوں پر فحاشى كى تہمت زيادہ شنيع اور نفس كے ليے بہت زيادہ ناپسند ہے، اور مردوں پر زنا كى تہمت بالمعنى اس آيت ميں داخل ہے، اور امت كا اس پر اجماع ہے " انتہى.

    اور علامہ الماوردى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اور اگر بيوى اپنے خاوند پر زنا كى تہمت لگائے تو عورت كو حد لگائى جائيگى، اور وہ لعان نہيں كر سكتى " انتہى.
    ديكھيں: الاحكام السلطانيۃ ( 287 ).

    اور اگر بيوى اپنے خاوند كے زنا كرنے كا علم ركھتى ہو اور اس كے پاس كوئى دليل اور گواہى يعنى چار گواہ نہ ہوں، تو بيوى كو چاہيے كہ وہ اپنے خاوند كو وعظ و نصحيت كرے اور اسے سمجھائے، اور اللہ كا خوف دلائے، اور اگر پھر بھى خاوند اپنى گمراہى ميں پڑا رہے تو عورت اس سے طلاق كا مطالبہ كر سكتى ہے، يا اس سے خلع لے لے، كيونكہ ايسے خاوند كے ساتھ رہنے ميں كوئى خير و بھلائى نہيں، اور اس ليے بھى كہ اس سے مجامعت كرنے ميں نقصان اور ضرر ہو سكتا ہے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 17، 2017 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,732
    موصول شکریہ جات:
    6,543
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جزاکم اللہ خیرا یا شیخ!
    فورم پر دوبارہ خوش آمدید!!
    اھلا وسھلا مرحبا!!
    اللہ تعالی آپ کے ایمان و اولاد و مال و وقت و عمل میں برکت دے۔ آمین
     
  6. ‏فروری 17، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,450
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء و بارک اللہ فیکم
    وعافانا اللہ وایاکم
     
  7. ‏فروری 17، 2017 #7
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    لیکن عورت کے لئے لعان کیوں نہیں ہے، اس کے لیے قرآن و سنت سے کوئی دلیل؟

    Sent from my Redmi Note 3 using Tapatalk
     
  8. ‏فروری 17، 2017 #8
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,730
    موصول شکریہ جات:
    5,256
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    دلیل ”ہونے“ کی طلب کی جاتی ہے نہ کہ ”نہ ہونے“ کی۔
    مثلاً
    اگر کوئی آپ سے کہی آپ ”جھوٹے ہو“ ۔۔ ۔ تو آپ اُس سے دلیل مانگیں گے کہ دلیل سے ثابت کرو
    لیکن اگر کوئی آپ سے کہے کہ آپ ”جھوٹے نہیں ہو“ تو کیا پھر بھی آپ دلیل طلب کریں گے

    گو کہ یہ مثال آپ کے سوال سے مکمل مماثلت نہیں رکھتی پھر بھی ((( دلیل ”ہونے“ کی طلب کی جاتی ہے نہ کہ ”نہ ہونے“ کی۔))) سمجھنے کے لئے کافی ہے

    واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 17، 2017 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,450
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    لعان کے متعلق قرآنی آیات میں وارد حکم دیکھئے :
    وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (6) وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (7) وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ (8) وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ (9) (سورۃ النور )
    ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں بجز ان کی اپنی ذات کے تو (اس صورت میں) ان میں سے ایک کی (یعنی شوہر کی) گواہی یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے۔
    اور پانچویں بار یہ کہے کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے۔
    اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص (اس کا شوہر) جھوٹا ہے۔
    اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تفسیر احسن البیان میں ہے :
    یہاں اس میں لعان کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا، جس کا وہ خود عینی گواہ ہے لیکن چونکہ زنا کی حد کے اثبات کے لئے چار مردوں کی عینی گواہی ضروری ہے، اس لئے جب تک وہ اپنے ساتھ مزید تین عینی گواہ پیش نہ کرے، اس کی بیوی پر زنا کی حد نہیں لگ سکتی۔
    لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایسی بد چلن بیوی کو برداشت کرنا بھی اس کے لئے ناممکن ہے۔ شریعت نے اس کا حل یہ پیش کیا ہے کہ یہ شخص عدالت میں یا حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے گا کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہوں بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت۔ انتہی
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
    لعان کا حق صرف مرد کو اسلئے دیا گیا کہ اگر عورت زنا کرے گی تو مرد کیلئے نسب خالص نہیں رہے گا
    اسلئے اسے گواہوں کی عدم موجودگی کے سبب لعان کا موقع دیا تاکہ وہ اس زنا سے پیدا ہونے والے بچے سے براءت کا اظہار کرسکے،

    جبکہ خاوند اگر زنا کا مرتکب تو عورت کو نسب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ، اسلئے وہ گواہی کا شرعی نصاب پورا کئے بغیر مرد پر زنا کا الزام نہیں لگاسکتی ،
     
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں