1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "انشاءاللہ اور ان شاءاللہ" میں فرق

'عربی زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از طلحہ غازی, ‏نومبر 02، 2015۔

  1. ‏نومبر 02، 2015 #1
    طلحہ غازی

    طلحہ غازی مبتدی
    جگہ:
    متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
    احباب ایک پوسٹ فیس بک پر دیکھی ۔ دل میں کچھ شکوک و شبہات اٹھ رہے ہیں۔ بتا دیں کہ کیا اس میں کہی گئی بات ٹھیک ہے؟
     
  2. ‏نومبر 02، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ :

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی اس کی مذید وضاحت کر دے لفظ ان شاءاللہ کی -
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 02، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :
    محترم بھائی صحیح جملہ ہے اس طرح ہے :
    إِنْ شَاءَ اللهُ
    إِنْ ۔۔۔۔شَاءَ ۔۔۔۔اللهُ
    اگر۔۔چاہے ۔۔۔اللہ
    جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ‘‘ اور دوسری جگہ فرمایا ۔۔ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ‘‘
    اور ایک جگہ فرمایا : قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ملا کر لکھنا غلط ہے ،کیونکہ وہ دوسرے معنی و مفہوم کیلئے ہے
    جیسے اس آیت میں ہے : ( إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً ) ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔
    اس آیت میں (إِنْشَاءً ) جو مصدر ہے ،وہ مفعول مطلق کی حیثیت رکھتا،یہاں مراد ہے اچھی طرح بنانا ،از سر نو بنانا ، خاص طور پر بنانا ،
     
    Last edited: ‏نومبر 02، 2015
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 02، 2015 #4
    طلحہ غازی

    طلحہ غازی مبتدی
    جگہ:
    متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    جزاک اللہ خیر
    اچھا بھائی لگے ہاتھوں ایک اور بھی بات بتا دیں ۔
    جزاک اللہ کے جواب میں "وایاک یا وایکم " کہنا کیسا ہے ۔
     
  5. ‏نومبر 02، 2015 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    کسی کے جزاک اللہ خیراً ۔۔کے جواب میں " وانتَ فجزاكم الله خيرا "
    امام طبرانی رحمہ اللہ نے ’’ المعجم الكبير ‘‘ اس ضمن میں درج ذیل حدیث نقل فرمائی ہے :
    1- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بن الْعَبَّاسِ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بن مُوسَى الْخَفَّافُ . حوَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بن عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بن الْمَرْزُبَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بن زَكَرِيَّا بن أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عَمْرِو بن سَعْدِ بن مُعَاذٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بن لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ ، وَكَانَ طَبِيبًا ، قَالَ : قَطَعْتُ مِنْ أُسَيْدِ بن حُضَيْرٍ عِرْقَ النَّسَا ، فَحَدَّثَنِي حَدِيثَيْنِ ، قَالَ : أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالُوا : كَلِّمْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْسِمُ لَنَا مِنْ هَذَا التَّمْرِ ، فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ نَقْسِمُ لِكُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ شَطْرًا ، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ ، فَقُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ عَنَّا خَيْرًا ، قَالَ : وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ خَيْرًا ، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ ، أَمَا إِنَّكُمِ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.
    أُسَيْدُ بن ظُهَيْرٍرَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ . المعجم الكبير للطبراني
     
    Last edited: ‏نومبر 02، 2015
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 02، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ اسحاق! حفظک اللہ!
    کیا "فجزاکم اللہ خیرا" بھی کفایت کرے گا۔۔؟
     
  7. ‏نومبر 02، 2015 #7
    حسیب

    حسیب رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    کافی پہلے کی بات ہے کہ فیس بک پہ ہی ایک بھائی کا کہنا تھا کہ
    عربی میں بھی اگر انشاء کو ملا کر ان شاء اللہ کی بجائے انشاء اللہ لکھ دیا جائے تو اس سے معنی میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ انشاء کے معنی اس میں اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ پہلے اور آخری ہمزہ پہ زبر اور شین کے بعد والے الف کے بغیر پڑھا جائے۔ اس وقت اس کے معنی ہوں گے کہ "اللہ نے تخلیق کی"۔
    یا آخری ہمزہ پر پیش ہو تو اس وقت یہ معنی ہو گے کہ "اللہ کی تخلیق"
    اور اس بات کی تصدیق شیخ رفیق طاہر نے بھی کی کہ انشاء اللہ اور ان شاء اللہ دونوں ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ انشاء اللہ میں املا کی غلطی ہے جیسے آلو کو عالو لکھ دیا جائے
     
  8. ‏نومبر 02، 2015 #8
    حسیب

    حسیب رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    اور اس بارے میں ایک اور پوائنٹ بھی کافی اہم ہے کہ انشاء اللہ اب اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اردو کا ہی ایک لفظ بن چکا ہے جب ہم اردو میں انشاء اللہ لکھتے ہیں تو اس سے مراد وہی مطلب ہو گا جو اردو زبان بولنے والے اس سے مراد لیتے ہیں اگر بالفرض ہم یہ تسلیم کر لیں کہ انشاء اللہ کے عربی میں معنی "اللہ نے پیدا کیا" یا کچھ اور بھی ہیں تو اردو میں یہ معنی نہیں لیے جاسکتے جیسا کہ بہت سے الفاظ مختلف زبانوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتے ہیں مثال کے طور پر مکتب عربی زبان میں ڈیسک کو کہتے ہیں اور اردو زبان میں سکول کو ۔اسی طرح اردو میں نہر سے مراد دریا سے نکالی گئی نہر ہوتی ہے جبکہ عربی میں نہر سے مراد دریا ہوتا ہے
     
  9. ‏نومبر 02، 2015 #9
    حسیب

    حسیب رکن
    جگہ:
    سیالکوٹ
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2012
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    85
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    شیخ @اسحاق سلفی اس عبارت کا اردو ترجمہ کر دیں جزاک اللہ خیر
     
  10. ‏نومبر 02، 2015 #10
    طلحہ غازی

    طلحہ غازی مبتدی
    جگہ:
    متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    شیخ ان کا ترجمہ بھی کر دیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں