1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "عشق" اللہ یا اللہ کے رسول یا اعمال صالحہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از الطاف الرحمن, ‏اپریل 30، 2016۔

  1. ‏اپریل 30، 2016 #1
    الطاف الرحمن

    الطاف الرحمن رکن
    جگہ:
    مہادیو ، کپل وستو نیپال
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2013
    پیغامات:
    62
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    لفظ "عشق" اللہ یا اللہ کے رسول یا اعمال صالحہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟
    ....................
    از قلم : الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی

    سب سے پہلے یہ جان لیں کہ "عشق" کی تعریف کیا ہے ۔ پھر آگے بات کرتے ہیں ۔
    عشق اس شدید محبت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ شہوت کی بو پائی جائے، جیسا کہ ابن ابی العز الحنفی (وغیرہ) نے عشق کی تعریف کی ہے ۔ ( دیکھئے: اعتراضات ابن ابی العز الحنفی علی قصدیدۃ ابم ایبک)
    اور عشق کا لفظ عورت کے ساتھ شدید محبت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ در اصل یہ لفظ عورتوں کے متعلق استعمال کے لئے بنا ہی ہے ۔
    جب یہ بات اچھے سے ذہن نشین ہوگئی کہ لفظ عشق یہ عورتوں کے لئے خاص ہے ، اور اس لفظ میں شہوت کی بو ٹپکتی ہے تو معلوم ہوا ایسا لفظ جس میں برائی شہوت ، بری خواہشات کی بو آتی ہو ہم اللہ یا اس کے رسول یا نیک اعمال کے لئے قطعا استعمال نہیں کرسکتے ۔ معلمولی عقل رکھنے والا اس کو اچھے سے سمجھ سکتا ہے ۔
    اگر ہم اللہ کے لئے جائز سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تو ان سے ایک سوال ہے کہ پھر لفظ عشق اپنے ماں باپ کے لئے کیوں نہیں استعمال کیا جاتا ، یا ماں باپ اپنے بچوں کے لئے بولنا کیوں عیب تصور کرتے ہیں ۔۔ اور ایسا ماحول کیوں نہیں کہ سب ماں باپ اپنی بچیوں کو بولتے: "میں تم سے عشق کرتا ہوں" ، وغیرہ / اسی لئے نا : کہ لفظ عشق میں گندگی کی بو آتی ہے ؟ ۔ تو اس لفظ کو اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے کیوں کر استعمال کو جائز سمجھاجاتا ۔۔ نعوذ باللہ ۔
    اگر ایسا ماحول بنانا , یا عشق کا لفظ بولنا جب اپنے خونی رشتوں کے لئے عجیب لگتا ہے ، عیب سمجھا جاتا ہے ، تو کس اصول کے تحت یا کس طرح اللہ کے لئے یا اس رسول کے لئے یا نیک عبادات کے لئے استعمال کو جائز تصور کرکے عام کیا جاتا ہے ، بلکہ ایسا بولنا نعوذ باللہ عبادت جیسا سمجھا جاتا ہے ۔
    آئے ہم شریعت کا مطالعہ کرتے ہیں کیا ایسا لفظ شریعت میں کہیں استعمال ہوا ہے ؟
    تو جواب ملے گا : قرآن حدیث کے جملہ نصوص میں کہیں ایسا نہیں جہاں لفظ عشق کا ذکر ہو ۔ اور نا ہی صحابہ کرام نے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ ہاں جو لفظ قرآن و حدیث میں ہے اور جس کا دل میں ہونا مومن کی پہچان ہے ، وہ محبت ہے جو شریعت میں مطلوب ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " والذین آمنوا اشد حبا للہ " (المائدۃ : 54) مومن اللہ سے بڑا شدید محبت کرتے ہیں ۔
    اور نبی صلی اللہ سے بھی محبت کرنا مطلوب ہے نا کہ عشق کرنا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ّّ کہ کوئی مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے مال اور اس کی اولاد اور رتمام لوگوں سے محبوب نا ہو جاوں ٗٗ ۔ (بخاری: 12 مسلم: 44)
    اور یہ واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا دین کا سب سے اہم حصہ ہے ۔، لہذا اس مسئلہ کے متعلق اللہ اور اس کے نے بیان بھی کیا ہے ، ایسا نہیں کہ اتنے اہم مسئلہ کو بیان نا کیا ہو من مانی بولنے کی اجازت دی ہو ،وہ اس طرح بیان کیا کہ : اللہ اور اس کے رسول اور تمام مومنوں سے محبت کرنا واجب ہے نا کہ عشق کرنا جیسا کے قرآن وحدیث میں مذکور ہے ۔ اور صحابہ اور سلف صالحین نے بھی اللہ سے محبت ہی کی تھی عشق نہیں ۔ جب کہ یہی لوگ اصل متبع سنت ہیں ۔ انہیں کی زبان میں انہیں کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا ، وحی الہی کے اسرار رموز سے بخوبی واقف تھے، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مطلوبہ محبت کے لئے ایسا کبھی نہیں استعمال کیا کہ : ہم اللہ سے عشق کرتے ہیں ، اور اللہ ہم سے عشق کرتا ہے ، یا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کرتے ہیں۔۔۔ نعوذ باللہ۔ بلکہ امت کے سب سے بہتریں لوگ صحابہ وسلف صالحین "محبت" کا لفظ استعمال کرتے تھے۔
    لہذا قرآن وحدیث میں مذکور الفاظ "محبت" کو چھوڑ کر اللہ اس کے رسول اور نیک کام کے لئے عشق کا لفظ استعمال کرنا شریعت سے ہٹ کر دوسروں کی باتوں پر دھیان دینا ہے ۔ جو اس بات کی صاف دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو قرآن وحدیث سے محبت نہیں . تو کیا اللہ اور اس کے رسول سے سچی محبت کر پائیں گے ۔
    یاد رہے اللہ اور اس کے رسول اور نیک اعمال سے محبت کو عشق سے تعبیر کرنے کا رواج گمراہ قسم کے صوفیوں کا ایجاد کردہ ہے ۔ جس کی تقلید کرتے ہوئے قرآن وحدیث اور لغت کے علم سے جاہل طبقہ ایسا ہی بولنے لگا ہے ، اللہ ان کی اصلاح فرمائے ۔
    امام جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کے لئے لفظ عشق کا استعمال کرنا جہالت پنے کی دلیل ہے ، کیونکہ : نام کے اعتبار سے عشق کا لفظ اہل لٖغت کے یہاں صرف اسی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے نکاح کی جاتی ہو، اور ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کے تمام نام منقولہ ہیں یعنی کہ سب قرآن و حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں ۔، اللہ کے لئے وہی لفظ بول سکتے ہیں جو اس نے اپنے لئے استعمال کیا ہے ، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے االلہ کے بارے میں بیان کیا ہو۔ اور اللہ نے اپنے لئے تو محبت کا لفظ استعمال کیا ہے کہ وہ مومنوں سے محبت کرنا ہے ، یہ نہیں کہا کہ وہ مومنوں سے عشق کرتا ہے ، ( دیکھئے : " تلبيسِ إبليس " (3/1011 – 1013)
    شارح طحاویہ ابن ابی العز رحمہ اللہ کہتے ہیں: عشق محبت کی اس شدید کیفیت کا نام ہے جس میں خود عاشق کے لئے خطرہ ہے اسی وجہ سے اللہ کو اس صفت سے موصوف نہیں کیا جانا درست نہیں ہے. اور نہ ہی اللہ کے تئیں بندے کی محبت کو عشق کیا جائے گا. اگر چہ کچھ لوگوں نے اس جیسی محبت پر لفظ عشق استعمال کیا ہے ، ممنوعیت کی اصل وجہ کیا ہے؟ علماء کا اختلاف ہے ،کسی نے اس کی علت توقیفی نہ ہونا بتلایا ہے اور کسی نے اس کے علاوہ دوسری بات کہی ہے بہر حال ممنوعیت کی اصل وجہ شاید عشق میں محبت کے ساتھ شہوت کی شمولیت ہے. ( دیکھئے: شرحُ الطحاوية (1/166)
    ابوبکر زید رحمہ اللہ لکھتے ہیں : " عاشق اللہ" اللہ کا عاشق کہنے کا رواج ہندوستان اور دیگر عجمیوں میں عام ہے۔ جبکہ اس طرح بولنے سے اللہ سبحانہ تعالی کی شان میں بے ادبی لازم آتی ہے ، لہذا اس طرح کہنا جائز نہیں ہے ۔ مخلوق کی طرف سے اللہ کے لئے عشق کا لفظ اللہ کی محبت کے معنی پر اطلاق نہیں ہوتا۔ باین وجہ اللہ کو اس لفظ کے ذریعہ متصف نہیں کیا جائے گا ۔ (معجم المناھی اللفظیۃ : ص: 863)
    ابو عبداللہ محمد بن خفیف (متوفی: 371ھ ) کہتے ہیں: اللہ کے لئے لفظ " عشق " کے استعمال کا سب سے کم تر حکم یہ ہے کہ :ایسا کہنا بدعت اور گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ( عشق کے بجائے ) محبت کا جو ذکر کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ (مجموع الفتاوی: ج:5ص: 08 ، بحوالہ اعتقاد التوحید باثبات الاسماء والصفات لابی عبد اللہ محمد خفیف)

    لہذا یاد رہے ان سارے خرافات میں آنے سے بچیں کہیں اللہ کے بارے میں یا اس کے رسول کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نا استعمال کردیں جس سے اللہ کی نعوذ باللہ بے عزتی لازم آتی ہے ، اور اس کے لئے ایسی چیز ثابت کی جائے جو جائز نہیں بلکہ گمراہی اور ہلاکت کا باعث ہے ۔
    سعودی فتوی کمیٹی سے یہی فتوٰی پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:
    کہ جو یہ کہے میں اللہ سے عشق کرتا ہوں, اللہ کا عاشق ہوں تو وہ اللہ کے ساتھ بے ادبی کرتا ہے ۔ ... (دیکھئے : فتاوی لجنۃ الدائمۃ فتویٰ نمبر: 8842)
    اور اللہ کے شان میں بے ادبی کوئی ادنی سا مومن نہیں کرسکتا۔
    امام ابن قیم کہتے ہیں : عشق اور شرک شئی متلازم ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک : قوم لوط اور عزیز مصر کی بیوی کے بارے ہیں قرآن کریم میں بیان کیا ہے ۔ ( إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان : ج:1ص: 64 )
    • وطن عزیز ، وغیرہ کے لئے بھی محبت کا استعال ہوتا ہے نا کہ عشق کا ۔ جیسے ہم کہتے ہیں محب وطن ، حب الوطنی وغیرہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے دلی محبت جو تھی اس تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " ما اطیبک من بلد واحب الی" (سنن ترمذی : 3926 صححہ الالبانی ) ۔ جبل احد سے آپ کو شدید محبت تھی اس کا دلی اظہار یوں فرماتے ہیں: " احد جبل یحبنا ونحبہ " (صحیح بخاری: 1482) ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے مدینہ واپس ہوتے ، اور آپ کی سواری مدینہ کے قریب پہونچنے کو ہوتی جہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ نظر آنے لگتا ، تو آپ اپنی سواری کو مدینہ کی محبت میں تیزی کے ساتھ چلنے کے لئے حرکت دیتے ۔ (صحیح بخاری: 1886)
    اللہ ہمیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بچائے جو ترے عمدہ صفات میں نقص کا باعث ہو۔ تری شان میں بے ادبی کا سبب بنے ، اور تیرے اور تیرے رسول اور نیک کاموں میں ہمیں قرآن و سنت میں مذکور الفاظ استعمال کرنے کی توفیق دے آمین .
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 30، 2016 #2
    الطاف الرحمن

    الطاف الرحمن رکن
    جگہ:
    مہادیو ، کپل وستو نیپال
    شمولیت:
    ‏جنوری 13، 2013
    پیغامات:
    62
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    اصلاح شدہ
    لفظ "عشق" اللہ یا اللہ کے رسول یا اعمال صالحہ کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے؟ ​
    ....................
    از قلم : الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی
    سب سے پہلے یہ جان لیں کہ "عشق" کی تعریف کیا ہے ۔ پھر آگے بات کرتے ہیں ۔
    عشق اس شدید محبت کو کہتے ہیں جس کے ساتھ شہوت کی بو پائی جائے، جیسا کہ ابن ابی العز الحنفی (وغیرہ) نے عشق کی تعریف کی ہے ۔ ( دیکھئے: اعتراضات ابن ابی العز الحنفی علی قصدیدۃ ابم ایبک)
    اور عشق کا لفظ عورت کے ساتھ شدید محبت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ در اصل یہ لفظ عورتوں کے متعلق استعمال کے لئے بنا ہی ہے ۔
    جب یہ بات اچھے سے ذہن نشین ہوگئی کہ لفظ عشق یہ عورتوں کے لئے خاص ہے ، اور اس لفظ میں شہوت کی بو ٹپکتی ہے تو معلوم ہوا ایسا لفظ جس میں بری شہوت ، بری خواہشات کی بو آتی ہو ہم اللہ یا اس کے رسول یا نیک اعمال کے لئے قطعا استعمال نہیں کرسکتے ۔ معلمولی عقل رکھنے والا اس کو اچھے سے سمجھ سکتا ہے ۔
    اگر ہم اللہ کے لئے جائز سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تو ایک سوال اٹھتا ہے کہ پھر لفظ عشق اپنے ماں باپ کے لئے کیوں نہیں استعمال کیا جاتا ، یا ماں باپ اپنے بچوں کے لئے بولنا کیوں عیب تصور کرتے ہیں ۔۔ اور ایسا ماحول کیوں نہیں کہ سب ماں باپ اپنی بچیوں کو بولتے: "میں تم سے عشق کرتا ہوں" ، وغیرہ / اسی لئے نا : کہ لفظ عشق سے گندگی کی بو آتی ہے ؟ ۔ تو اس لفظ کو اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے کیوں کر استعمال کو جائز سمجھاجاتا ہے ۔۔ نعوذ باللہ ۔
    اگر ایسا ماحول بنانا , یا عشق کا لفظ بولنا جب اپنے خونی رشتوں کے لئے عجیب لگتا ہے ، عیب سمجھا جاتا ہے ، تو کس اصول کے تحت یا کس طرح اللہ کے لئے یا اس کے رسول کے لئے یا نیک عبادات کے لئے استعمال کو جائز تصور کرکے عام کیا جاتا ہے ، بلکہ ایسا بولنا نعوذ باللہ عبادت جیسا سمجھا جاتا ہے ۔
    آئے ہم شریعت کا مطالعہ کرتے ہیں کہ کیا ایسا لفظ شریعت میں کہیں استعمال ہوا ہے ؟
    تو جواب ملے گا : قرآن حدیث کے جملہ نصوص میں کہیں ایسا نہیں جہاں لفظ عشق کا ذکر ہو ۔ اور نا ہی صحابہ کرام نے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ ہاں جو لفظ قرآن و حدیث میں ہے اور جس کا دل میں ہونا مومن کی پہچان ہے ، وہ محبت ہے جو شریعت میں مطلوب ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " والذین آمنوا اشد حبا للہ " (المائدۃ : 54) مومن اللہ سے بڑا شدید محبت کرتے ہیں ۔
    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت کرنا مطلوب ہے نا کہ عشق کرنا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ّّ کہ کوئی مومن اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے مال اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب نا ہو جاوں ٗٗ ۔ (بخاری: 12 مسلم: 44)
    اور یہ واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا دین کا سب سے اہم حصہ ہے ۔، لہذا اس مسئلہ کے متعلق اللہ اور اس کے رسول نے بیان بھی کیا ہے ، ایسا نہیں کہ اتنے اہم مسئلہ کو بیان نا کیا ہو من مانی بولنے کی اجازت دی ہو ،وہ اس طرح بیان کیا کہ : اللہ اور اس کے رسول اور تمام مومنوں سے محبت کرنا واجب ہے نا کہ عشق کرنا جیسا کے قرآن وحدیث میں مذکور ہے ۔ اور صحابہ اور سلف صالحین نے بھی اللہ سے محبت ہی کی تھی عشق نہیں ۔ جب کہ یہی لوگ اصل متبع سنت ہیں ۔ انہیں کی زبان میں انہیں کے سامنے قرآن کریم کا نزول ہوا ، وحی الہی کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مطلوبہ محبت کے لئے ایسا کبھی نہیں استعمال کیا کہ : ہم اللہ سے عشق کرتے ہیں ، اور اللہ ہم سے عشق کرتا ہے ، یا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کرتے ہیں۔۔۔ نعوذ باللہ۔ بلکہ امت کے سب سے بہتریں لوگ صحابہ وسلف صالحین "محبت" کا لفظ استعمال کرتے تھے۔
    لہذا قرآن وحدیث میں مذکور الفاظ "محبت" کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول اور نیک کام کے لئے عشق کا لفظ استعمال کرنا شریعت سے ہٹ کر دوسروں کی باتوں پر دھیان دینا ہے ۔ جو اس بات کی صاف دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو قرآن وحدیث سے محبت نہیں . تو کیا اللہ اور اس کے رسول سے سچی محبت کر پائیں گے ۔
    یاد رہے اللہ اور اس کے رسول اور نیک اعمال سے محبت کو عشق سے تعبیر کرنے کا رواج گمراہ قسم کے صوفیوں کا ایجاد کردہ ہے ۔ جس کی تقلید کرتے ہوئے قرآن وحدیث اور لغت کے علم سے جاہل طبقہ ایسا ہی بولنے لگا ہے ، اللہ ان کی اصلاح فرمائے ۔
    امام جوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ کے لئے لفظ عشق کا استعمال کرنا جہالت پنے کی دلیل ہے ، کیونکہ : نام کے اعتبار سے عشق کا لفظ اہل لٖغت کے یہاں صرف اسی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے نکاح کی جاتی ہو، اور ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کے تمام نام منقولہ ہیں یعنی کہ سب قرآن و حدیث میں ذکر کئے گئے ہیں ۔، اللہ کے لئے وہی لفظ بول سکتے ہیں جو اس نے اپنے لئے استعمال کیا ہے ، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بارے میں بیان کیا ہو۔ اور اللہ نے اپنے لئے تو محبت کا لفظ استعمال کیا ہے کہ وہ مومنوں سے محبت کرنا ہے ، یہ نہیں کہا کہ وہ مومنوں سے عشق کرتا ہے ، ( دیکھئے : " تلبيسِ إبليس " (3/1011 – 1013)
    شارح طحاویہ ابن ابی العز رحمہ اللہ کہتے ہیں: عشق محبت کی اس شدید کیفیت کا نام ہے جس میں خود عاشق کے لئے خطرہ ہے اسی وجہ سے اللہ کو اس صفت سے موصوف کیا جانا درست نہیں ہے. اور نہ ہی اللہ کے تئیں بندے کی محبت کو عشق کہا جائے گا. اگر چہ کچھ لوگوں نے اس جیسی محبت پر لفظ عشق استعمال کیا ہے ، ممنوعیت کی اصل وجہ کیا ہے؟ علماء کا اختلاف ہے ،کسی نے اس کی علت توقیفی نہ ہونا بتلایا ہے اور کسی نے اس کے علاوہ دوسری بات کہی ہے بہر حال ممنوعیت کی اصل وجہ شاید عشق میں محبت کے ساتھ شہوت کی شمولیت ہے. ( دیکھئے: شرحُ الطحاوية (1/166)
    ابوبکر زید رحمہ اللہ لکھتے ہیں : " عاشق اللہ" اللہ کا عاشق کہنے کا رواج ہندوستان اور دیگر عجمیوں میں عام ہے۔ جبکہ اس طرح بولنے سے اللہ سبحانہ تعالی کی شان میں بے ادبی لازم آتی ہے ، لہذا اس طرح کہنا جائز نہیں ہے ۔ مخلوق کی طرف سے اللہ کے لئے عشق کا لفظ اللہ کی محبت کے معنی پر اطلاق نہیں ہوتا۔ باین وجہ اللہ کو اس لفظ کے ذریعہ متصف نہیں کیا جائے گا ۔ (معجم المناھی اللفظیۃ : ص: 863)
    ابو عبداللہ محمد بن خفیف (متوفی: 371ھ ) کہتے ہیں: اللہ کے لئے لفظ " عشق " کے استعمال کا سب سے کم تر حکم یہ ہے کہ :ایسا کہنا بدعت اور گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ( عشق کے بجائے ) محبت کا جو ذکر کیا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے۔ (مجموع الفتاوی: ج:5ص: 08 ، بحوالہ اعتقاد التوحید باثبات الاسماء والصفات لابی عبد اللہ محمد خفیف)
    لہذا یاد رہے ان سارے خرافات میں آنے سے بچیں کہیں اللہ کے بارے میں یا اس کے رسول کے بارے میں کوئی ایسا لفظ نا استعمال کردیں جس سے اللہ کی نعوذ باللہ بے عزتی لازم آتی ہے ، اور اس کے لئے ایسی چیز ثابت کی جائے جو جائز نہیں بلکہ گمراہی اور ہلاکت کا باعث ہے ۔
    سعودی فتوی کمیٹی سے یہی فتوٰی پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:
    کہ جو یہ کہے میں اللہ سے عشق کرتا ہوں, اللہ کا عاشق ہوں تو وہ اللہ کے ساتھ بے ادبی کرتا ہے ۔ ... (دیکھئے : فتاوی لجنۃ الدائمۃ فتویٰ نمبر: 8842)
    اور اللہ کی شان میں بے ادبی کوئی ادنی سا مومن نہیں کرسکتا۔
    امام ابن قیم کہتے ہیں : عشق اور شرک شئی متلازم ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک : قوم لوط اور عزیز مصر کی بیوی کے بارے ہیں قرآن کریم میں بیان کیا ہے ۔ ( إغاثة اللهفان من مصايد الشيطان : ج:1ص: 64 )
    وطن عزیز ، وغیرہ کے لئے بھی محبت کا استمعال ہوتا ہے نا کہ عشق کا ۔ جیسے ہم کہتے ہیں محب وطن ، حب الوطنی وغیرہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے دلی محبت جو تھی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " ما اطیبک من بلد واحب الی" (سنن ترمذی : 3926 صححہ الالبانی ) ۔ جبل احد سے آپ کو شدید محبت تھی اس کا دلی اظہار یوں فرماتے ہیں: " احد جبل یحبنا ونحبہ " (صحیح بخاری: 1482) ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے مدینہ واپس ہوتے ، اور آپ کی سواری مدینہ کے قریب پہونچنے کو ہوتی جہاں سے آپ کو مدینہ طیبہ نظر آنے لگتا ، تو آپ اپنی سواری کو مدینہ کی محبت میں تیزی کے ساتھ چلنے کے لئے حرکت دیتے ۔ (صحیح بخاری: 1886)
    اللہ ہمیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے بچائے جو ترے عمدہ صفات میں نقص کا باعث ہو۔ تری شان میں بے ادبی کا سبب بنے ، اور تیرے اور تیرے رسول اور نیک کاموں میں ہمیں قرآن و سنت میں مذکور الفاظ استعمال کرنے کی توفیق دے آمین۔
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 01، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ماشاءاللہ ، بہترین علمی تحریر ۔
    کچھ مفید مواد یہاں بھی ہے ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں