1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ "مولا" کے معنی پر تحقیق

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از muslimengineer123, ‏جولائی 18، 2018۔

  1. ‏جولائی 18، 2018 #1
    muslimengineer123

    muslimengineer123 رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    37

    اسلام علیکم ورحمۃ اللھ وبرکاتہ
    مجھے آج واٹس ایپ پر درج ذیل تحریر موصول ہوئی اس پر تحقیق درکار ہے

    واقعہ غدیر کا تذکرہ ہوتے ہی مؤمنين کے اذہان میں حدیثِ غدیر "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" تازہ ہوجاتی ہے.
    یہ حدیث شیعہ سنی طرق سے تواتر کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دشمن اسے چھپانے میں ناکام رہا لیکن دوسری طرف اس کے معنی و مفہوم میں ردو بدل کرکے حقیقی پیغامِ محمدی کو پس پشت ڈال دیا گیا.

    چونکہ لفظ مولا عربی زبان کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے ایک سے زیادہ معانی ہیں.
    ابن اثیر نے النھایہ میں لفظ مولا کے تقریبا 17 معانی ذکر کیے ہیں جن میں سردار، دوست، آزاد کرنے والا اور محبت کرنے والا وغیرہ شامل ہیں. اس کے معانی میں سے ایک حاکم اور "اولی باالتصرف" بھی ہے یعنی تمام امور میں سب سے زیادہ حق تصرف رکھنے والا.
    یہ بات مشہور کر دی گئی ہے کہ حدیث غدیر میں مولا سے مراد دوست ہے اور نبی فرما رہے ہیں کہ جس کا میں دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں. پس اس میں کوئی اہم پیغام نہیں ہے.
    اس مضمون میں ہم ثابت کریں گے کہ حدیث غدیر میں لفظ مولا کا معنی دوست نہیں ہے بلکہ اس سے مراد حاکم اور اولی باالتصرف ہے اور پیغمبر اپنے بعد علی کو امور دینی میں اپنا جانشین اور حاکم بنانے کا اعلان فرما رہے ہیں ناکہ دوستی کا اعلان.
    یہ ایک قاعدہ ہے کہ جب کسی کلام میں کوئی لفظ مشترک (ایسا لفظ جس کے ایک سے زائد معانی ہوں) استعمال ہو تو وہاں معنئ مراد سمجھنے کے لیے کلام کے سیاق سباق اور حالت کلام میں موجود قرائن حالیہ پرکھے جاتے ہیں.
    یہ بات واضح ہے کہ حدیث غدیر میں مولا سے مراد دوست نہیں کیونکہ
    اولا:
    کوئی ایسا واضح قرینہ موجود نہیں جس سے ثابت ہوکہ مولا سے مراد دوست ہے.
    ثانیا:
    ایسے عقلی و نقلی دلائل موجود ہیں کہ جن کی طرف توجہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ یہاں مولا سے دوست مراد لینا انتہائی نامعقول بات ہے.

    اب ہم چند قرائن ذکر کرتے ہیں:
    1_آیت تبلیغ
    جب پیغمبر اسلام حج بجا لا کر واپسی میں خم غدیر کے مقام پہ پہنچے تو یہ آیت نازل ہوئی:
    (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ)
    ترجمہ:
    اے رسول! پہنچا دیجئے وہ حکم جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر یہ کام نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام نہ کیا اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا بے شک اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا. (مائدہ-67)

    اس ایت میں جملہ "اگر یہ کام نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام نہ کیا" قابل توجہ ہے اس جملے کا انداز بتاتا ہے کہ کسی ایسے حکم کی تبلیغ کا کہا گیا ہے کہ جس پر کار رسالت کا انحصار ہے. پس اگر یہ فقط علی سے دوستی کا اعلان ہوتا تو اس قدر سخت لہجہ اختیار نہ کیا جاتا. پس یہ کوئی ایسا کام تھا کہ اگر نہ کیا جاتا تو رسالت کی ساری محنت ضائع ہوجاتی اور اس کام سے کار رسالت کی حفاظت مدنظر تھی اور وہ تب ہے جب رسول اپنے بعد علی کو امور دینی میں حاکم بنائیں کیونکہ یہ مقصد فقط اعلان دوستی سے حاصل ہونے والا نہیں ہے.

    2_جبرئیل کا بار بار نزول:
    احتجاج طبرسی کے مطابق نبی فرماتے ہیں کہ اس دن جبرائیل مجھ پر تین بار وحی لے کر نازل ہوا.
    فرشتہ وحی کا بار بار نزول بتاتا ہے کہ یہاں دین کو علی جیسے ہادی کے سپرد کرنے کا اہتمام تھا ورنہ فقط علی سے دوستی کا اعلان کرنے کے لیے جبرئیل کو بار بار خدا سے ہدایات لانے کی ضرورت نہ تھی.

    3_خطبۂ پیغمبر:
    پیغمبر نے ولایت علی کا اعلان کرنے سے قبل ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا اور اسی خطبہ میں حاضرین سے یوں سوال کیا:
    "ألست اولی بکم من انفسکم"
    کیا میں تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا؟
    قالوا بلی
    سب نے کہا یقینا آپ کو یہ حق حاصل ہے.
    پس فورا نبی نے علی کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا
    "فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ"
    پس جس جس کا میں مولا اس اس کا یہ علی مولا ہے.

    اب مولا سے دوست مراد لینے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اولی اور مولا کا مادہ اصلی ایک ہی ہے اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب نبی نے اولی کہا تو مراد حکومت اور حق تصرف تھا کیونکہ وہاں دوستی کا معنی کر ہی نہیں سکتے تو پھرجب فورا بعد مولا کہا تو اس سے دوستی کہاں سے مراد لے لی گئ؟؟؟
    کیا یہ کھلا تضاد نہیں...؟؟؟

    4_کفار کی مایوسی:
    اعلان غدیر ختم ہونے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی:
    (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ......(مائدہ 3)
    آج کے دن کفار آپ کے دین سے مایوس ہوگئے.
    کفار نے کون سی امیدیں لگا رکھی تھیں جن سے وہ آج مایوس ہوگئے. ان کی امید دین کے مٹ جانے کی امید تھی کیونکہ نبی کا کوئی بیٹا موجود نہ تھا جو ان کا وارث بنتا لہذا کفار نے وفات پیغمبر کے ساتھ ان کے دین کے مٹ جانے کی امیدیں لگا رکھی تھیں کیونکہ بظاہر دین کا کوئی وارث نظر نہیں آرہا تھا لیکن اعلان غدیر کے بعد خدا نے خود خبر دی کہ آج کافروں کی امیدیں ٹوٹ گئی ہیں وہ سمجھ گئے ہیں کہ اب یہ دین مٹنے والا نہیں کیونکہ نبی نے علی کو اپنے بعد جانشین مقرر کر کے دین کو ولایت کے مستحکم نظام کے سپرد کردیا ہے. پس واضح ہوا کہ پیغمبر نے میدان غدیر میں علی کو اپنا دوست نہیں بلکہ دینی امور میں اپنا جانشین بنایا.

    5_اکمال دین:
    گزشتہ آیت میں ناصرف خدا نے کفار کی مایوسی کی خبر دی بلکہ اکمال دین کی خوشخبری بھی کچھ یوں سنائی:
    "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ "
    ترجمہ:
    آج کے دن تیرے دین کو مکمل کردیا تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے.

    پس اگر مولا سے دوست مراد تھا تو علی و نبی کی دوستی اور علی کی دوستی کے اعلان سے اکمال دین کا کیا تعلق؟
    کیا اس دوستی کے بغیر دین ناقص تھا؟
    بلکہ یہ واضح ہے کہ اس وقت پیغمبر تمام احکام دین پہنچا چکے تھے لیکن اپنے بعد اپنا جانشین کسی کو نہیں بنایا تھا پس جب غدیر میں علی کو اپنا جانشین بنادیا تو خدا نے بھی فرمادیا کہ اب تیرا دین مکمل ہوگیا ہے.

    6_حارث بن نعمان فہری پر نزول عذاب:
    قرآن کی آیت
    "سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ"
    (معارج1)
    کی شان نزول میں کئی مفسرین نے لکھا ہے کہ اعلان غدیر کے بعد حارث بن نعمان رسول کے پاس آکر کہنے لگا...
    آپ نے اپنی نبوت کا کہا ہم نے اقرار کیا اور نماز، زکواۃ، حج وغیرہ جیسے تمام احکام پر عمل کیا اور اب آپ نے اپنے چچا زاد کو ہم ہر مسلط کردیا ہے کیا یہ حکم خدا کی طرف سے ہے یا تیری طرف سے؟
    پیغمبر نے فرمایا یہ حکم خدا ہے.
    تو اس نے کہا اے اللہ اگر محمد سچ کہ رہے ہیں تو مجھ پر آسمان سے عذاب نازل فرما پس فورا ایک پتھر آیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا...
    پس جب اس نے کہا کہ
    اب آپ نے اپنے چچا زاد کو ہم ہر مسلط کردیا ہے
    تو اس سے معلوم ہوا کہ سب سمجھ گئے تھے کہ یہ علی کو دوست نہیں بلکہ امور دینی میں ولی و حاکم بنایا جارہا ہے.

    ان کے علاوہ بھی بہت سے نقلی دلائل مقالے کا حصہ ہیں مگر طوالت سے گریز کرتے ہوئے انہی پر اکتفاء کیا جاتا ہے.
    البتہ صاحبان عقل کے لیے چند عقلی دلائل بھی پیش خدمت ہیں.

    عقلی دلائل:
    1_رسول خدا ص نے تقریبا ایک لاکھ بیس ہزار یا بعض روایات کے مطابق اس سے بھی زائد افراد کو میدان غدیر میں جمع فرمایا اور جو آگے جاچکے تھے انھیں بھی واپس بلوایا اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار فرمایا. لق ودق صحرا, نہ کوئی سایہ تھا شدید گرمی کی حالت تھی روایت کے مطابق جب آپ ممبر سے اترے تو پسینے سے شرابور تھے.
    اب کوئی عقل مند بتائے کہ کیا فقط دوستی کا اعلان کرنے کے لیے اتنے جم غفیر کو گرمی میں کھڑا کرنا کوئی معقول بات ہے؟؟
    جبکہ پیغمبر تو رحمۃ للعلمین ہیں کیا وہ فقط دوستی کے اعلان کے لیے لوگوں کو اس قدر مشکل میں ڈالیں گے؟
    پس عقل سے کام لیا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یقینا یہ نہایت اہم فریضہ تھا جو علی کے سپرد کیا جارہا تھا اور لوگوں کو اس لیے جمع کیا گیا تاکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہ رہے کہ نبی اپنے بعد علی کو اپنا جانشین بناگئے ہیں.
    2_نبی نے اعلان ولایت علی کے بعد فرمایا
    فلیبلّغ الشاہد الغائب.
    کہ حاضرین یہ پیغام ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں.
    پس اگر دوستی کا اعلان ہوتا تو اس پیغام کو عام کرنے پر اتنا زور دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی.
    معلوم ہوا یہ ایسا پیغام تھا جس کا ہر شخص سے تعلق تھا ہر کسی تک پہنچانے کا اس لیے فرمایا تاکہ یہ بات ہر ایک کے علم میں رہے کہ نبی کہ بعد دینی امور میں حاکمیت و سرپرستی علی کی ہے.
    3_روایات میں حضرات شیخین کا مولا علی کو بخ بخ کہہ کر مبارک باد دینا بھی موجود ہے. اب فقط دوستی کا اعلان کوئی اتنی بڑی بات نہ تھی کہ جس پر اس جوش سے مبارکباد دی جاتی بلکہ وہ سب لوگ بھی سمجھ گئے تھے کہ علی کو منصب ولایت و حکومت نصیب ہوا ہے.

    پس مذکورہ عقلی و نقلی دلائل سے واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث غدیر میں مولا سے مراد دوست نہیں بلکہ حاکم سرپرست اور اولی بالتصرف ہے اور یہ دوستی کا اعلان نہیں بلکہ نبی کے بعد علی کی دینی امور میں ولایت و حکومت کا اعلان تھا.
    والسلام علی من اتبع الھدی.

    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
    @مقبول احمد سلفی
    @کفایت اللہ
     
  2. ‏جولائی 19، 2018 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اہل سنت کی کتب سے اس حدیث کو سیاق وسباق کے ساتھ نقل کردیجیئے!
    پھر دیکھتے ہیں کہ:
    ان کا یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح ہے یا غلط!
     
    Last edited: ‏جولائی 19، 2018
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 19، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    دراصل یہ مضمون ایک شیعہ نے دو سال قبل سے " قلم کار " سائیٹ پر پوسٹ کیا تھا ؛
    http://www.qalamkar.pk/research-on-meaning-of-word-mola/
    ـــــــــــــــــ
    محترم بھائی @ابن داود صاحب اگر آپ کے پاس وقت ہو تو اس کا جواب ضرور لکھیئے ،
    جزاکم اللہ تعالی خیراً
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 19، 2018 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی ان شاء اللہ اس پر لکھتا ہوں!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں