1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ ’محبت‘ کا صحیح تلفظ

'بلاغت' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی عبداللہ, ‏جنوری 06، 2012۔

  1. ‏جنوری 06، 2012 #1
    مفتی عبداللہ

    مفتی عبداللہ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 21، 2011
    پیغامات:
    518
    موصول شکریہ جات:
    2,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    171

    عام طور پر لوگ کھتے ھیں کہ میرا اللہ اور اس کی رسول کی ساتھ محبت ھےًمُحبَـت ھے میم کی پیش کی ساتھ یہ لفظ غلط ھے صحیح لفظ ھے مَحَبَـت میم کی
    زبر کی ساتھ کیونکہ لفط مصدر میمی ھے اور مصدرمیمی میم کی زبر کی ساتھ آتا ھے میم کی پیش کی ساتھ کبھی نھی آتا قرآن مجید میں بھی یہ لفظ والقیت علیک محبۃ منی میم کی زبر کی ساتھ ھے
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 06، 2012 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مفتی صاحب لفظ ( مَحَبَّت ) كى تلفظ بیان کرنے پر تو آپ کا شکریہ ادا کرتےہیں کہ آپ نے دلیل کے ساتھ وضاحت فرمادی ۔۔۔ لیکن آپ نےمصدر میمی کے حوالے سے مطلقا قاعدہ بیان کیا ہے اس کے بارے میں آپ سے اتفاق نہیں ہے حتی کہ آپ دلیل بیان کردیں ۔
    مصدر میمی کی م ہمیشہ مفتوح ہوتی ہے یہ قاعدہ کس کتاب میں لکھا ہوا ہے ؟ وضاحت فرمائیں ۔۔۔
    قاعدہ یہ ہے کہ ثلاثی مجرد سے مصدر میمی مَفعل کے وزن پر آتا ہے جبکہ غیر ثلاثی مجر د سے اسم مفعول ( جو کہ ہمیشہ مضموم المیم ہوتا ہے ) وغیر ہ کے وزن پر آتا ہے نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ثلاثی مجرد سے مصدر میمی کی میم پر فتح ( زبر ) ہوتی ہے جبکہ غیر ثلاثی مجرد سے میم پر ضمہ ( پیش ) ہوتی ہے ۔
    ثلاثی مجر د کی مثالیں : إلی اللہ مرجعکم و ھو علی کل شیء قدیر(سورہ ھود ) ۔۔ ذلک خیرمَقاما و أحسن ندیا ( سورہ مریم ) ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ ( البقرۃ )
    غیر ثلاثی مجرد کی مثالیں : وإذا تتلی علیہم آیاتنا بینات تعرف فی وجوہ الذین کفروا المُنکر ( الحج ) إذا مزقتم کل مُمزق ( سبا ) قرآن کی سورہ المُمتحنۃ کا نام بھی اسی قبیل سے ہے اسی لیےاسے سورۃ الامتحان بھی کہا جاتاہے ـ واللہ أعلم ۔

    ( تفصیل شرح شافیۃ ابن الحاجب للاستراباذی (جلد ١ ص ٣٠٢ وما بعدہا) اور دیگر لغت کی کتب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔
     
  3. ‏جنوری 06، 2012 #3
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,066
    موصول شکریہ جات:
    4,413
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    مفتی عبداللہ صاحب نے جو بات کی مصدرمیمی کے حوالے سے مشہور ہے اور کئی ایک اہل علم سے بات ہوئی تو وہ مصدر میمی مفتوح ہی بتاتے ہیں لیکن یہ مشہور بات درست نہیں ہے بلکہ جو بات بھائی خضر حیات نے کہی ہے وہی درست ہے النحو الوافی وغیرہ میں بھی خضر حیات بھائی والی بات موجود ہے اور اس پر بے شمار مثالیں بھی موجود ہیں
     
  4. ‏جنوری 24، 2012 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    بات اگر اردو زبان و ادب کے حوالہ سے ہو رہی ہے تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بیشتر اردو لغات میں لفظ مُحَبَّت میں میم پر پیش ہی ہے، زبر نہیں۔ اگر کسی صاحب علم کو اصرار ہے کہ اردو میں بھی مُحَبَّت کی میم پر زبر ہونا چاہئے تو اس کی سند کے لئے اردو ادب سے حوالہ یا اردو کے اساتذہ و محققین کی رائے پیش کیجئے۔
     
  5. ‏جنوری 25، 2012 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم المقام یوسف ثانی بھائی : لفظ محبت کی میم پر زبر پڑہنے کی دلیل یہ ہے کہ یہ لفظ عربی سے مأخوذ ہے اور عربی میں یہ لفظ میم کے فتح کے ساتھ ہی ہے جیساکہ اوپر بیان کردیا گیا ہے ۔
    اور آپ نے جو فرمایا اس کے لیے آپ کو دو میں سے ایک امر اختیارکرنا پڑے گا یاتو آپ سند کے ساتھ اردو دان حضرات سے اس کا غیر عربی لفظ ہونا ثابت کردیں یا صرف اتنا ثابت کردیں کہ یہ لفظ باوجودیکہ عربی سے لیا گیا ہے لیکن اردو میں اس کا تلفظ اہل علم کےنزدیک پیش کیساتھ ہے ۔
    دونوں میں سےکوئی بھی صورت آپ مستند حوالے سے ثابت کردیں ۔
     
  6. ‏جنوری 25، 2012 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    برادرم خضر حیات! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    یہ تو آپ کے علم میں ہوگا ہی کہ اردو ایک ’’لشکری زبان‘‘ ہے، جس کا آغاز و سرپرستی انگریزوں نے مسلمانان ہند کو ان کی مقامی علمی و ادبی زبان فارسی سے محروم کرنے کی غرض سے کیا تھا۔ یہان کے مسلمانوں کی دینی زبان عربی تھی، جبکہ مقامی علمی و ادبی اور سرکاری زبان فارسی تھی۔ ہندوستان کے ہندوؤں کی زبان سنسکرت نما ہندی تھی۔ اور یہ سب لوگ مل جل کر ایک ’’مخلوط قسم کی بولی‘‘ بولا کرتے تھے جس میں، عربی، فارسی اور ہندی کی نمایاں آمیزش تھی۔ اس ’’ کھچڑی نما بولی ‘‘ نے انگریزوں کے دور حکومت میں سرکاری سرپرستی میں ایک زبان کی صورت اختیار کی اور اس میں بتدریج انگریزی زبان، علوم و فنون کے الفاظ بھی مستعمل ہونے لگے۔ خدا کی شان دیکھئے کہ ہندوستانی مسلمانوں سے حکومت چھیننے والے کافر انگریز حکمران تو یہاں کے مسلمانوں سے ان کی زبان (فارسی) چھین کر اور انہیں ’’اردو زبان کا لولی پاپ‘‘ دے کر انہیں عملا" ’’جاہل‘‘ بنانا چاہتے تھے، مگر ہندوستانی مسلمانوں نے اس ’’اردو زبان‘‘ کواتنی زیادہ ترقی دے دی کہ یہ دنیا کی بہترین زبانوں میں سے ایک بن گئی اورآج عربی کے بعد اسلامی تعلیم کا دوسرا بڑا ذخیرہ اردومیں موجود ہے۔
    جب اردو کی باقاعدہ ’’تشکیل‘‘ ہوئی اور اس کے قواعد مرتب ہوئے تو ’’طے‘‘ یہ پایا کہ اردو میں بولے جانے والے الفاظ کا ’’تلفظ‘‘ وہی ہوگا جس طرح یہ لفظ یہان بولا جاتا رہا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ الفاظ کس زبان سے آیا ہے، اور اُس زبان میں اس لفظ کا اصل تلفظ کیا ہے۔ اس تدریجی عمل میں بہت سے دیگر زبانوں کے ہجے اور تلفظ ’’مشرف بہ اردو‘‘ ہو کر اپنی اصل زبان سے قدرے مختلف ہوگئے اور اردو زبان کے ادب میں اسی طرح رائج ہوگئے۔ چنانچہ آج یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اردو زبان کے کسی لفظ کا تلفظ، اس کی اصل زبان مین کیا تھا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اردو کے ’’اہل زبان‘‘ اسے کس طرح برت رہے ہیں اور اردو کے ادیب ، شاعر اور اساتذہ کسی لفظ کو کس طرح درست قرقر دے رہے ہیں۔

    اس طویل تمہید کی معذرت کہ آپ یقینا" اس پس منظر سے آگاہ ہونگے، مگر اس تمہید سے دیگر خاموش قارئین کے علم میں یقینا" اضافہ ہوگا۔ جہاں تک آپ کی جانب سے پیش کردہ دو ’’ شرائط‘‘ کا تععلق ہے تو اگر آپ نے میرا درج بالا جواب غور سے پڑھا ہوتا تو اس میں آپ کے دوسرے ’’شرط‘‘ کا جواب موجود ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

    اردو لغات سے زیادہ مستند حوالہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ انہی اردو لغات میں لفظ مُحَبَّت کے آگے ’’ع‘‘ بھی لکھا ہوتا ہے یعنی یہ لفظ اصلا" اور نسلا" عربی زبان کا ہے۔ اردو لغت میں موجود الفاظ ، ان کے تلفظ اور معنی اردو قواعد و ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں، نہ کہ ان زبانوں کے مطابق، جہاں سے یہ الفاظ آئے ہیں۔
     
  7. ‏جنوری 25، 2012 #7
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ہماری لائبریری میں فیروز اللغات اردو، فیروز اللغات فارسی ، آئینہ اردو لغت موجود ہیں، ان تینوں میں یہ لفظ مَحبّت (میم کے زبر کے ساتھ) ہی لکھا ہوا ہے۔
    جہاں تک اصولی بات ہے کہ عربی سے ماخوذ الفاظ کو اردو دان اپنی مرضی تبدیل کر سکتے ہیں ؟؟
    میری اس سلسلے میں رائے یہ ہے کہ جو لفظ جس زبان سے ماخوذ ہوتا ہے وہ لفظ ویسے ہی پڑھا جائے گا، جیسے اس زبان میں ہوتا ہے۔ مثلاً اشٹام پیپرز وغیرہ میں ’من مسمی‘ کو عام طور پر دوسرے میم کی زیر کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جو فاش غلطی ہے، جسے اصل میں من مُسمّیٰ پڑھنا چاہئے کیونکہ مسمِّی کا مطلب تو نام رکھنے والا ہے (عربی زبان میں) جبکہ مسمّیٰ کا معنیٰ ہے کہ میں جس کا نام رکھا گیا، اور یہی صحیح ہے۔
    میری اس سلسلے میں ایک دفعہ محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب﷫ سے تفصیلی بات ہوئی تھی۔
    جس کا نتیجہ یہی تھا کہ عربی سے اردو میں دَر آنے والے الفاظ کا تلفظ عربی والا ہوگا، البتہ ان کا لہجہ عربی سے فرق ہو سکتا ہے۔
    جس کی مثال صدیقی صاحب﷫ نے اَحمد، اَحسن وغیرہ کی دی تھی۔ کہ عربی میں تو میں أفَعَلُ وزن پر ہے، لہٰذا اَحد کے ہمزہ کی طرح بالکل منہ کھول کر پڑھا جائے گا، لیکن اردو میں انہیں تھوڑا منہ جھکا کر پڑھا جاتا ہے، جیسے ہم لفظ ’بَیر‘ کو پڑھتے ہیں۔ (واضح رہے کہ میری مراد کھانے والا ’بیر‘ نہیں بلکہ خدا واسطے کے ’بیر‘ والا ’بیر‘ ہے) جس طرح انگریزی میں
    Hen پڑھا جاتا ہے۔
    واللہ اعلم!
     
  8. ‏جنوری 25، 2012 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام یوسف ثانی بھائی !
    مفید معلومات کے لیے شکریہ ۔

    اصل میں آپ نے مجہول لفظ بولا تھا کہ ’’بیشتراردو لغات ‘‘ کسی خاص لغت کی طرف اشارہ نہیں فرمایا تھا ۔۔۔ میں نے یہ سوچ کر آپ سے دلیل کا مطالبہ کیا تھا کہ شاید کسی کتاب کا نام لیں تاکہ آسانی ہو جائے ۔
    بہر صورت اب مسئلہ یہاں تک آگیا ہے کہ عربی میں اگرچہ لفظ (محبت ) زبر کیساتھ ہے لیکن اردو والوں نے اس کو پیش کے سا تھ استعمال کیا ہے اور دلیل اس کی اردو لغات ہیں ۔
    تو بھائی آپ سے گزارش ہے کہ کسی لغت کی طرف رہنمائی کریں جس میں اس کے میم پر پیش ضبط کی گئی ہو ۔ ۔ کیونکہ میں تو آپ کو سیدھی سیدھی بات عرض کروں اس حوالے سے تقریبا ’’ کورا ‘‘ ہوں یہ جو تھوڑا بہت نوک جھوک ہو جاتی ہے یہ عربی کی بناء پر ’’ اٹکل پچو ‘‘ لگا لیتا ہوں ۔
    میرے پاس کوئی اردو لغت نہیں ہے البتہ کچھ دن پہلے ایک بھائی نے آن لائن اردو لغت کا دہاگہ دیا تھا اس میں اس طرح کے معاملات اس میں دیکھتا ہوں ۔ اس میں میں نے لفظ ( محبت ) دیکھا ہے تو انہوں نے ( محبت ) اور اس کے مشتقات کو چار پانچ دفعہ ضبط کیا ہوا صرف ایک دفعہ اس پر پیش ہے باقی ہر جگہ زبر ڈالی ہوئی ہے ۔ آپ خود ملاحظہ فرمالیں

    یہاں سوائے اس کے کوئی اور مقصد نہیں کہ آپ جیسے صاحب فن لوگوں کے ساتھ گفتگو غلط ہو یا صحیح ہر دو حال میں فائدہ سےخالی نہیں ۔ اللہ آپ کوجزائے خیر دے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 25، 2012 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ
    استاذ جی ! یہ کتابیں کہاں ہیں میں نے ’’ اردو زبان و ادب ‘‘ کے زمرہ میں دیکھا ہے کہیں نظر نہیں آئیں ۔ ۔
     
  10. ‏جنوری 25، 2012 #10
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    خضر حیات بھائی!
    اس قسم کے بحث و مباحثہ میں میری دلچسپی صرف اور صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اس طرح خود میرے علم میں اضافہ ہوتا ہے، اور اکثر اوقات سابقہ غلط فہمیاں بھی دور ہوجاتی ہیں۔ اس وقت چونکہ میں اپنے ہوم ٹاؤن سے سینکڑوں کلو میٹر دور ہوں اس لئے کتابی لغات کے حوالہ دینے سے معذور ہوں۔ البتہ رابعہ بک ہاؤس لاہور کی طبع استوڈنٹس ڈکشنری (اردو سے انگریزی) میں محبت اور اس سے متعلقہ جملہ الفاظ کا رومن تلفظ ایم یو سے دیا ہوا ہے جو میم پر پیش کو طاہر کرتا ہے۔ چند آن لائن چند لغات کے لنکس پیش ہیں۔ اگر آپ انہیں دیکھیں تو آپ کو ’’اکثر‘‘ جگہ محبت کی میم پر پیش ہی ملے گا۔ البتہ کہیں کہیں زبر ہی ملتا ہے۔ اسی لئے میں نے ’’اکثر لغات‘‘ کہا تھا۔
    Online Urdu Dictionary

    Urdu to English Dictionary | English to Urdu Dictionary | ama in Urdu | Page 25

    Urdu to English Dictionary | English to Urdu Dictionary | AM in Urdu | Page 29

    Coitus Meaning - Urdu Meaning of Coitus - Coitus Meaning in Urdu

    Meaning of AMATORY - urdu english dictionary

    برادرم انس خضر!
    السلام و علیکم، حوالہ جات اور آپ کی رائے کا بہت بہت شکریہ۔ لیکن میری اب بھی یہی رائے ہے کہ اکثر اہل زبان (ادیب، شاعر، اساتذہ وغیرہ) میم پر پیش کے ساتھ ہی محبت کا تلفظ ادا کرتے ہیں۔ چونکہ اردو میں عموما" اعراب نہیں لگائے جاتے لہٰذا ادبی و شعری تخلیقات میں بھی میم پر پیش لکھا ہوا نہیں ملتا۔ البتہ مندرجہ بالا آن لائن لغات سمیت بیشتر لغات میں محبت کی میم پر پیش ہی لکھا ہو ملے گا۔ اور جہاں کہیں زبر نظر آتا ہے، وہاں اسے اصل زبان عربی کا لفظ (بمع تلفظ ) ظاہرکرنے کے لئے کیا گیا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں